مندرجات کا رخ کریں

"محمد باقر مجلسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
« {{جعبه اطلاعات شخصیت | عنوان = محمد باقر مجلسی | تصویر = محمد تقی مجلسی.jpg | نام = محمد باقر بن محمدتقی مجلسی | نام‌های دیگر = علامہ مجلسی | سال تولد = 1037 ھ ق | تاریخ تولد = | محل تولد = اصفهان | سال درگذشت = 1110 ھ ق | تاریخ درگذشت = | محل در...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Sajedi نے صفحہ مسودہ:محمد باقر مجلسی کو محمد باقر مجلسی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 8 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
 
{{Infobox person
{{جعبه اطلاعات شخصیت
| title = محمد باقر مجلسی
| عنوان = محمد باقر مجلسی
| image = محمد تقی مجلسی.jpg
| تصویر = محمد تقی مجلسی.jpg
| name = محمد باقر مجلسی  
| نام = محمد باقر بن [[محمد تقی مجلسی|محمدتقی مجلسی]]
| other names = علامہ مجلسی  
| نام‌های دیگر = علامہ مجلسی
| brith year  = ۱۰۳۷ ق  
| سال تولد = 1037 ھ ق
| brith date =  
| تاریخ تولد =  
| birth place = اصفهان
| محل تولد = [[اصفهان]]
| death year = ۱۱۱۰ ق
| سال درگذشت = 1110 ھ ق
| death dat
| تاریخ درگذشت =
| death place =  
| محل درگذشت = اصفهان
| teachers = محمدتقی مجلسی، ملا صالح مازندرانی،فیض کاشانی، سید علی خان مدنی، ملا خلیل قزوینی
| استادان = {{فهرست جعبه عمودی |محمدتقی مجلسی |ملا صالح مازندرانی |[[فیض کاشانی]] |سید علی خان مدنی |ملا خلیل قزوینی }}
| students = افندی اصفهانی، سید نعمت الله جزایری، ملا محمد رفیع گیلانی، میر محمد حسین خاتون آبادی
| شاگردان = {{فهرست جعبه عمودی |افندی اصفهانی |[[سید نعمت اللہ جزایری]] |ملا محمد رفیع گیلانی |میر محمد حسین خاتون آبادی }}
| religion = [[اسلام]]
| دین = اسلام
| faith = [[شیعہ|شیعه]]
| مذهب = شیعہ
| works = بحارالانوار، مرآة العقول، حلیة المتقین، ملاذ الاخبار، جلاء العیون
| آثار = {{فهرست جعبه افقی |[[بحارالانوار]] |مرآة العقول |حلیة المتقین |ملاذ الاخبار |جلاء العیون }}
| known for = محقق، محدث، معروف شیعه عالم دین
| فعالیت‌ها =
| وبگاه =  
}}
}}


'''محمد باقر مجلسی''' (1110-1037 ھ ق) [[محمد تقی مجلسی|محمدتقی مجلسی]] کے فرزند اور علامہ مجلسی کے نام سے معروف، گیارہویں صدی ہجری کے مشہور [[مذهب شیعه|شیعہ]] عالم اور مختلف اسلامی علوم جیسے [[تفسیر]]، [[حدیث]]، [[کلام]]، [[فقه]]، [[اصول]]، تاریخ، [[رجال]] اور [[درایه]] میں صاحبِ نظر تھے۔
'''محمد باقر مجلسی'''، محمد تقی مجلسی کے فرزند اور علامہ مجلسی کے نام سے معروف، گیارہویں صدی ہجری کے مشہور [[شیعہ|شیعه]] عالم اور مختلف اسلامی علوم جیسے تفسیر، حدیث، کلام، فقه، اصول، تاریخ، رجال اور درایه میں صاحبِ نظر تھے۔


انہوں نے 1090 ھ ق میں [[ملا محمد باقر سبزواری]] کی وفات کے بعد منصبِ شیخ الاسلامی سنبھالا اور اس منصب پر فائز رہتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی میدانوں میں [[ایران]] اور [[مذهب شیعه|تشیع]] کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کے تعاون سے شیعہ احادیث کی عظیم موسوعہ [[بحار الانوار]] تألیف کی۔
انہوں نے 1090 ھ ق میں ملا محمد باقر سبزواری کی وفات کے بعد منصبِ شیخ الاسلامی سنبھالا اور اس منصب پر فائز رہتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی میدانوں میں [[ایران]] اور [[شیعہ|مذهب تشیع]] کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کے تعاون سے شیعہ احادیث کی عظیم موسوعہ بحار الانوار تألیف کی۔


== سوانح حیات محمد باقر مجلسی ==
== سوانح حیات محمد باقر مجلسی ==
1037 ھ ق میں، جو جملہ <big>جامع کتاب بحارالانوار.</big> کے عددِ ابجد کے برابر ہے<ref>
1037 ھ ق میں، جو جملہ <big>جامع کتاب بحارالانوار.</big> کے عددِ ابجد کے برابر ہے<ref>
ریحانة الادب، محمد علی مدرس تبریزی: ج 5، ص 196
ریحانة الادب، محمد علی مدرس تبریزی: ج 5، ص 196
.</ref>، شہر [[اصفهان]] میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد [[محمدتقی مجلسی]] [[شیخ بهایی]] کے شاگرد تھے اور [[علوم اسلامی]] میں اپنے زمانے کے اکابر میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دادا کا نام مقصود علی مجلسی تھا اور والدہ صدرالدین محمد عاشوری کی صاحبزادی تھیں۔
.</ref>، شہر اصفهان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدتقی مجلسی شیخ بهایی کے شاگرد تھے اور علوم اسلامی میں اپنے زمانے کے اکابر میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دادا کا نام مقصود علی مجلسی تھا اور والدہ صدرالدین محمد عاشوری کی صاحبزادی تھیں۔


چار سال کی عمر سے قبل ہی اپنے والد سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور مساجد میں [[نماز]] کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ جیسا کہ خود بیان کرتے ہیں: «الحمدلله رب العالمین کہ بنده در سن 4 سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی [[خدا]] و نماز و [[بهشت]] و [[دوزخ]] و [[نماز شب]] می‌کردم در [[مسجد]] صفا و [[نماز صبح]] را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه». انہوں نے مختصر مدت میں اپنے دور کے تمام رائج علوم حاصل کر لیے<ref>سید مصلح‌الدین مهدوی، زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج1، ص 55.</ref>۔
چار سال کی عمر سے قبل ہی اپنے والد سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور مساجد میں نماز کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ جیسا کہ خود بیان کرتے ہیں: «الحمدلله رب العالمین کہ بنده در سن 4 سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه».یعنی:«الحمدلله رب العالمین که بنده در سن ۴ سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه» انہوں نے مختصر مدت میں اپنے دور کے تمام رائج علوم حاصل کر لیے<ref>سید مصلح‌الدین مهدوی، زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج1، ص 55.</ref>۔


اگرچہ ان کے والد علوم نقلی میں مہارت رکھتے تھے، مگر بعد میں وہ زیادہ تر احادیث کی شرح و تفسیر کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ مجلسی نے [[علوم نقلی]] اپنے والد سے حاصل کیے اور [[علوم عقلی]] [[آقا حسین خوانساری]] سے سیکھے۔
اگرچہ ان کے والد علوم نقلی میں مہارت رکھتے تھے، مگر بعد میں وہ زیادہ تر احادیث کی شرح و تفسیر کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ مجلسی نے علوم نقلی اپنے والد سے حاصل کیے اور علوم عقلی آقا حسین خوانساری سے سیکھے۔


14 سال کی عمر میں [[ملاصدرا]] سے اجازتِ روایت حاصل کی۔ بعد ازاں [[علامه حسن علی شوشتری]]، [[امیرمحمد مومن استرآبادی]]، [[سید نعمت اللہ جزایری|میرزای جزایری]]، [[شیخ حرعاملی]]، [[ملا محسن استرآبادی]]، [[فیض کاشانی|ملا محسن فیض کاشانی]] اور [[ملا صالح مازندرانی]] جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و ریاضی، تاریخ و فلسفہ، حدیث و [[رجال]]، درایہ، اصول، [[فقه]] اور کلام پر مکمل عبور حاصل کیا۔
14 سال کی عمر میں ملاصدرا سے اجازتِ روایت حاصل کی۔ بعد ازاں علامه حسن علی شوشتری، امیرمحمد مومن استرآبادی، سید نعمت اللہ جزایری شیخ حرعاملی، ملا محسن استرآبادی، ملا محسن فیض کاشانی اور ملا صالح مازندرانی جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و ریاضی، تاریخ و فلسفہ، حدیث و رجال، درایہ، اصول، فقه اور کلام پر مکمل عبور حاصل کیا۔


1099 ھ ق میں [[آقا حسین خوانساری]] کی وفات کے بعد شاہ سلیمان صفوی کے دور میں ایران کے منصبِ ملاباشی پر فائز ہوئے، جو بادشاہ کے بعد ملک کا سب سے بڑا دینی منصب تھا۔ ان کی زندگی نہایت آراستہ تھی۔ [[سید نعمت اللہ جزایری]] نے لکھا ہے کہ ان کے خادماؤں کے لباس بھی قیمتی کشمیری کپڑے کے ہوتے تھے<ref>آشنایی با بحار الانوار، ص 22.</ref>۔
1099 ھ ق میں آقا حسین خوانساری کی وفات کے بعد شاہ سلیمان صفوی کے دور میں ایران کے منصبِ ملاباشی پر فائز ہوئے، جو بادشاہ کے بعد ملک کا سب سے بڑا دینی منصب تھا۔ ان کی زندگی نہایت آراستہ تھی۔ سید نعمت اللہ جزایری نے لکھا ہے کہ ان کے خادماؤں کے لباس بھی قیمتی کشمیری کپڑے کے ہوتے تھے<ref>آشنایی با بحار الانوار، ص 22.</ref>۔


یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ شاہ سلطان حسین کے دربار سے قربت کے باعث انہوں نے بعض اوقات عقلی و استدلالی علوم کی مخالفت کی اور خدا کی ذات و صفات اور قضا و قدر جیسے مسائل میں غور و فکر سے منع کیا۔ اسی دور میں ملا صدرا کی تکفیر اور ملا صادق اردستانی کی اصفہان سے جلاوطنی کا ذکر ملتا ہے<ref>حسین سینا، «نگاهی به اندیشهٔ سیاسی شیعی در گذر زمان»، احیا-دفتر پنجم، ص 51، تهران: نشر یادآوران، 1370.</ref>۔
یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ شاہ سلطان حسین کے دربار سے قربت کے باعث انہوں نے بعض اوقات عقلی و استدلالی علوم کی مخالفت کی اور خدا کی ذات و صفات اور قضا و قدر جیسے مسائل میں غور و فکر سے منع کیا۔ اسی دور میں ملا صدرا کی تکفیر اور ملا صادق اردستانی کی اصفہان سے جلاوطنی کا ذکر ملتا ہے<ref>حسین سینا، «نگاهی به اندیشهٔ سیاسی شیعی در گذر زمان»، احیا-دفتر پنجم، ص 51، تهران: نشر یادآوران، 1370.</ref>۔
سطر 41: سطر 39:
== شاگردان محمد باقر مجلسی ==
== شاگردان محمد باقر مجلسی ==
مندرجہ ذیل شخصیات علامہ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتی ہیں:
مندرجہ ذیل شخصیات علامہ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتی ہیں:
{{فهرست ستونی|2}}
{{کالم کی فہرست|2}}
# مولی ابراہیم جیلانی؛
# مولی ابراہیم جیلانی؛
# مولی محمد ابراہیم بواناتی؛  
# مولی محمد ابراہیم بواناتی؛  
سطر 63: سطر 61:
# مولی محمود طبسی؛  
# مولی محمود طبسی؛  
# محمد یوسف قزوینی و ...<ref>زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 2، ص 4 و 115.</ref>.
# محمد یوسف قزوینی و ...<ref>زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 2، ص 4 و 115.</ref>.
{{پایان}}
{{اختتام}}


خصوصاً [[سید نعمت اللہ جزایری]] کی ذہانت اور محنت نے علامہ کو متاثر کیا، چنانچہ انہوں نے ان کی مالی مدد کی اور چار سال تک اپنے گھر میں قیام دیا<ref>نابغه فقه و حدیث، ص 94.</ref>۔ بعد میں انہیں مدرس مقرر کیا گیا<ref>زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 1، ص 180.</ref>۔
خصوصاً سید نعمت اللہ جزایری کی ذہانت اور محنت نے علامہ کو متاثر کیا، چنانچہ انہوں نے ان کی مالی مدد کی اور چار سال تک اپنے گھر میں قیام دیا<ref>نابغه فقه و حدیث، ص 94.</ref>۔ بعد میں انہیں مدرس مقرر کیا گیا<ref>زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 1، ص 180.</ref>۔


== زہد اور پارسائی ==
== زہد اور پارسائی ==
اگرچہ وہ [[حکومت صفوی]] کے شیخ الاسلام تھے اور ریاستی وسائل ان کے اختیار میں تھے، مگر ان کی ذاتی زندگی سادگی اور زہد سے عبارت تھی<ref>«علامه مجلسی مداح حکومت صفویه یا مروج تعالیم دینی»، سؤال 13396.</ref>۔
ایک نہایت اہم خصوصیت اس بزرگ مرد کی زندگی میں اُس کا زہد، پارسائی اور سادہ زیستی ہے۔ علامہ عہدِ صفوی میں زندگی گزار رہے تھے اور حکومتِ صفوی کے شیخ الاسلام تھے، یعنی ایک جملے میں کہیں تو پوری سلطنت کی سہولتیں ان کے اختیار میں تھیں، لیکن ان سب کے باوجود علامہ کی ذاتی زندگی نہایت زہد اور کامل سادگی میں گزرتی تھی۔<ref>«علامه مجلسی مداح حکومت صفویه یا مروج تعالیم دینی»، سؤال 13396.</ref>۔


== منتقدین محمد باقر مجلسی ==
== منتقدین محمد باقر مجلسی ==
[[علی شریعتی]] کو ان کے ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے<ref>عبدالهادی حائری، نخستین رویارویی اندیشه گران ایران، ص 178-179.</ref>۔ تاہم [[محمدرضا حکیمی]] نے بعد میں بیان کیا کہ شریعتی کا مؤقف بدل گیا تھا<ref>خدایا زین معما پرده بردار، هفته نامه صبح، 15 اسفند 1375.</ref>۔
علی شریعتی کو محمد باقر مجلسی کے بڑے مخالفین میں شمار کیا گیا ہے<ref>عبدالهادی حائری، نخستین رویارویی اندیشه گران ایران، ص 178-179.</ref>۔ تاہم شریعتی کے تام الاختیار وصی، محمدرضا حکیمی نے ان کی وفات کے بعد دعویٰ کیا کہ: میں نے شریعتی کو بحارالانوار کے بعض حصے دکھائے، جس کے بعد بحارالانوار اور علامہ مجلسی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل گیا، اور انہوں نے مجھ سے اپنی کتب کی تدوین و اصلاح کی درخواست کی<ref>خدایا زین معما پرده بردار، هفته نامه صبح، 15 اسفند 1375.</ref>۔


[[سید محسن امین]] اور [[سید محمدحسین طباطبایی]] بھی ان پر تنقید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ [[بحارالانوار]] عظیم کتاب ہونے کے باوجود تنقیح کی محتاج ہے<ref>Brunner، Rainer. «مجلسی، محمدباقر». دانشنامه ایرانیکا.</ref>۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران 1,200,000 سے زیادہ سطور تحریر کیں، جو اگر ان کی عمر کے برسوں پر تقسیم کی جائیں تو ہر سال تقریباً 20,000 سطور بنتی ہیں<ref>ملک الشعرابهار سبک‌شناسی جلد ۳.</ref>۔ علی شریعتی کے علاوہ، سید محسن امین اور [[سید محمدحسین طباطبایی]] بھی ان کے ناقدین میں شامل تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگرچہ بحارالانوار شیعہ کی عظیم ترین کتبِ حدیث میں شمار ہوتی ہے، تاہم اس کی تدوین کو نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، اور مؤلف نے قلیل و مفید مواد کو بہت سے غیر معتبر اور کم ارزش مطالب کے ساتھ ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کتاب ایسی آمیزش بن گئی ہے جس میں صحیح و غلط اس طرح مخلوط ہیں کہ ان کی تمییز اور استناد مشکل ہو جاتا ہے<ref>Brunner، Rainer. «مجلسی، محمدباقر». دانشنامه ایرانیکا.</ref>۔


== وفات ==
== وفات ==
محمد باقر مجلسی 27 [[رمضان]] 1110 ھ ق کو 73 برس کی عمر میں اصفہان میں وفات پا گئے<ref>قمی، الکنی و الالقاب، ج3، ص149.</ref>۔ [[آقا جمال خوانساری]] نے نمازِ جنازہ پڑھائی<ref>روضاتی، ص61.</ref>۔ انہیں [[مسجد جامع اصفهان]] کے قریب اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا<ref>قمی، همان.</ref>۔
محمد باقر مجلسی 27 [[رمضان]] 1110 ھ ق کو 73 برس کی عمر میں اصفہان میں وفات پا گئے<ref>قمی، الکنی و الالقاب، ج3، ص149.</ref>۔ آقا جمال خوانساری نے نمازِ جنازہ پڑھائی<ref>روضاتی، ص61.</ref>۔ انہیں مسجد جامع اصفهان کے قریب اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا<ref>قمی، همان.</ref>۔
 
== متعلقہ مضامین ==
* [[محمد تقی مجلسی]]
* [[علی شریعتی]]
* [[مسجد]]
* [[صفویه]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{پانویس}}
{{حوالہ جات}}


[[رده:علماء]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[رده:علماء شیعہ]]
[[زمرہ:علما]]
[[رده:محدثین شیعہ]]
[[زمرہ:شیعه علما]]
[[رده:ایران]]
[[زمرہ:ایران]]
[[fa: محمد باقر مجلسی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 16:43، 22 اپريل 2026ء

محمد باقر مجلسی
پورا ناممحمد باقر مجلسی
دوسرے نامعلامہ مجلسی
ذاتی معلومات
پیدائش۱۰۳۷ ق، 1628 ء، 1007 ش
پیدائش کی جگہاصفهان
وفات۱۱۱۰ ق، 1699 ء، 1078 ش
اساتذہمحمدتقی مجلسی، ملا صالح مازندرانی،فیض کاشانی، سید علی خان مدنی، ملا خلیل قزوینی
شاگردافندی اصفهانی، سید نعمت الله جزایری، ملا محمد رفیع گیلانی، میر محمد حسین خاتون آبادی
مذہباسلام، شیعه
اثراتبحارالانوار، مرآة العقول، حلیة المتقین، ملاذ الاخبار، جلاء العیون
مناصبمحقق، محدث، معروف شیعه عالم دین

محمد باقر مجلسی، محمد تقی مجلسی کے فرزند اور علامہ مجلسی کے نام سے معروف، گیارہویں صدی ہجری کے مشہور شیعه عالم اور مختلف اسلامی علوم جیسے تفسیر، حدیث، کلام، فقه، اصول، تاریخ، رجال اور درایه میں صاحبِ نظر تھے۔

انہوں نے 1090 ھ ق میں ملا محمد باقر سبزواری کی وفات کے بعد منصبِ شیخ الاسلامی سنبھالا اور اس منصب پر فائز رہتے ہوئے مختلف سیاسی و سماجی میدانوں میں ایران اور مذهب تشیع کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کے تعاون سے شیعہ احادیث کی عظیم موسوعہ بحار الانوار تألیف کی۔

سوانح حیات محمد باقر مجلسی

1037 ھ ق میں، جو جملہ جامع کتاب بحارالانوار. کے عددِ ابجد کے برابر ہے[1]، شہر اصفهان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدتقی مجلسی شیخ بهایی کے شاگرد تھے اور علوم اسلامی میں اپنے زمانے کے اکابر میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے دادا کا نام مقصود علی مجلسی تھا اور والدہ صدرالدین محمد عاشوری کی صاحبزادی تھیں۔

چار سال کی عمر سے قبل ہی اپنے والد سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور مساجد میں نماز کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ جیسا کہ خود بیان کرتے ہیں: «الحمدلله رب العالمین کہ بنده در سن 4 سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه».یعنی:«الحمدلله رب العالمین که بنده در سن ۴ سالگی همه این‌ها را می‌دانستم؛ یعنی خدا و نماز و بهشت و دوزخ و نماز شب می‌کردم در مسجد صفا و نماز صبح را به جماعت می‌کردم و اطفال را نصیحت می‌کردم به آیت و حدیث، به تعلیم پدرم رحمةالله علیه» انہوں نے مختصر مدت میں اپنے دور کے تمام رائج علوم حاصل کر لیے[2]۔

اگرچہ ان کے والد علوم نقلی میں مہارت رکھتے تھے، مگر بعد میں وہ زیادہ تر احادیث کی شرح و تفسیر کی طرف مائل ہوگئے، چنانچہ مجلسی نے علوم نقلی اپنے والد سے حاصل کیے اور علوم عقلی آقا حسین خوانساری سے سیکھے۔

14 سال کی عمر میں ملاصدرا سے اجازتِ روایت حاصل کی۔ بعد ازاں علامه حسن علی شوشتری، امیرمحمد مومن استرآبادی، سید نعمت اللہ جزایری شیخ حرعاملی، ملا محسن استرآبادی، ملا محسن فیض کاشانی اور ملا صالح مازندرانی جیسے اساتذہ سے استفادہ کیا۔ انہوں نے صرف و نحو، معانی و بیان، لغت و ریاضی، تاریخ و فلسفہ، حدیث و رجال، درایہ، اصول، فقه اور کلام پر مکمل عبور حاصل کیا۔

1099 ھ ق میں آقا حسین خوانساری کی وفات کے بعد شاہ سلیمان صفوی کے دور میں ایران کے منصبِ ملاباشی پر فائز ہوئے، جو بادشاہ کے بعد ملک کا سب سے بڑا دینی منصب تھا۔ ان کی زندگی نہایت آراستہ تھی۔ سید نعمت اللہ جزایری نے لکھا ہے کہ ان کے خادماؤں کے لباس بھی قیمتی کشمیری کپڑے کے ہوتے تھے[3]۔

یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ شاہ سلطان حسین کے دربار سے قربت کے باعث انہوں نے بعض اوقات عقلی و استدلالی علوم کی مخالفت کی اور خدا کی ذات و صفات اور قضا و قدر جیسے مسائل میں غور و فکر سے منع کیا۔ اسی دور میں ملا صدرا کی تکفیر اور ملا صادق اردستانی کی اصفہان سے جلاوطنی کا ذکر ملتا ہے[4]۔

شاگردان محمد باقر مجلسی

مندرجہ ذیل شخصیات علامہ کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتی ہیں:

  1. مولی ابراہیم جیلانی؛
  2. مولی محمد ابراہیم بواناتی؛
  3. میرزا ابراہیم حسینی نیشابوری؛
  4. ابوالبرکات بن محمد اسماعیل خادم مشهدی؛
  5. مولی ابوالبقاء؛
  6. ابو اشرف اصفهانی؛
  7. مولی محمد باقر جزی؛
  8. ملا محمد باقر لاهیجی؛
  9. شیخ بهاءالدین کاشی؛
  10. مولی محمد تقی رازی؛
  11. میرزا محمد تقی الماسی؛
  12. مولی حبیب اللہ نصرآبادی؛
  13. ملا حسین تفرشی؛
  14. محمد رضا اردبیلی؛
  15. محمد طاہر اصفهانی؛
  16. عبدالحسین مازندرانی؛
  17. سید عزیز اللہ جزائری؛
  18. ملا محمد کاظم شوشتری؛
  19. شیخ بهاءالدین محمد جیلی؛
  20. مولی محمود طبسی؛
  21. محمد یوسف قزوینی و ...[5].

خصوصاً سید نعمت اللہ جزایری کی ذہانت اور محنت نے علامہ کو متاثر کیا، چنانچہ انہوں نے ان کی مالی مدد کی اور چار سال تک اپنے گھر میں قیام دیا[6]۔ بعد میں انہیں مدرس مقرر کیا گیا[7]۔

زہد اور پارسائی

ایک نہایت اہم خصوصیت اس بزرگ مرد کی زندگی میں اُس کا زہد، پارسائی اور سادہ زیستی ہے۔ علامہ عہدِ صفوی میں زندگی گزار رہے تھے اور حکومتِ صفوی کے شیخ الاسلام تھے، یعنی ایک جملے میں کہیں تو پوری سلطنت کی سہولتیں ان کے اختیار میں تھیں، لیکن ان سب کے باوجود علامہ کی ذاتی زندگی نہایت زہد اور کامل سادگی میں گزرتی تھی۔[8]۔

منتقدین محمد باقر مجلسی

علی شریعتی کو محمد باقر مجلسی کے بڑے مخالفین میں شمار کیا گیا ہے[9]۔ تاہم شریعتی کے تام الاختیار وصی، محمدرضا حکیمی نے ان کی وفات کے بعد دعویٰ کیا کہ: میں نے شریعتی کو بحارالانوار کے بعض حصے دکھائے، جس کے بعد بحارالانوار اور علامہ مجلسی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بدل گیا، اور انہوں نے مجھ سے اپنی کتب کی تدوین و اصلاح کی درخواست کی[10]۔

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے دوران 1,200,000 سے زیادہ سطور تحریر کیں، جو اگر ان کی عمر کے برسوں پر تقسیم کی جائیں تو ہر سال تقریباً 20,000 سطور بنتی ہیں[11]۔ علی شریعتی کے علاوہ، سید محسن امین اور سید محمدحسین طباطبایی بھی ان کے ناقدین میں شامل تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگرچہ بحارالانوار شیعہ کی عظیم ترین کتبِ حدیث میں شمار ہوتی ہے، تاہم اس کی تدوین کو نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، اور مؤلف نے قلیل و مفید مواد کو بہت سے غیر معتبر اور کم ارزش مطالب کے ساتھ ملا دیا ہے، جس کے نتیجے میں کتاب ایسی آمیزش بن گئی ہے جس میں صحیح و غلط اس طرح مخلوط ہیں کہ ان کی تمییز اور استناد مشکل ہو جاتا ہے[12]۔

وفات

محمد باقر مجلسی 27 رمضان 1110 ھ ق کو 73 برس کی عمر میں اصفہان میں وفات پا گئے[13]۔ آقا جمال خوانساری نے نمازِ جنازہ پڑھائی[14]۔ انہیں مسجد جامع اصفهان کے قریب اپنے والد کے پہلو میں دفن کیا گیا[15]۔

حوالہ جات

  1. ریحانة الادب، محمد علی مدرس تبریزی: ج 5، ص 196 .
  2. سید مصلح‌الدین مهدوی، زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج1، ص 55.
  3. آشنایی با بحار الانوار، ص 22.
  4. حسین سینا، «نگاهی به اندیشهٔ سیاسی شیعی در گذر زمان»، احیا-دفتر پنجم، ص 51، تهران: نشر یادآوران، 1370.
  5. زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 2، ص 4 و 115.
  6. نابغه فقه و حدیث، ص 94.
  7. زندگی‌نامه علامه مجلسی، ج 1، ص 180.
  8. «علامه مجلسی مداح حکومت صفویه یا مروج تعالیم دینی»، سؤال 13396.
  9. عبدالهادی حائری، نخستین رویارویی اندیشه گران ایران، ص 178-179.
  10. خدایا زین معما پرده بردار، هفته نامه صبح، 15 اسفند 1375.
  11. ملک الشعرابهار سبک‌شناسی جلد ۳.
  12. Brunner، Rainer. «مجلسی، محمدباقر». دانشنامه ایرانیکا.
  13. قمی، الکنی و الالقاب، ج3، ص149.
  14. روضاتی، ص61.
  15. قمی، همان.