مندرجات کا رخ کریں

"جمادی الثانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«تصغیر|بائیں| جمادی الثانی، جسے جمادی الآخر بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں آٹھواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں کئی تاریخی اور مذہبی واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت ہے، جو بعثت کے پ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:جمادی الثانی کو جمادی الثانی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:جمادی الثانی.jpg |تصغیر|بائیں|]]
[[فائل:جمادی الثانی.jpg |تصغیر|بائیں|]]


جمادی الثانی، جسے جمادی الآخر بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں آٹھواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں کئی تاریخی اور مذہبی واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت ہے، جو بعثت کے پانچویں سال جمادی الثانی کی بیسویں تاریخ کو ہوئی۔ اسی مناسبت سے اس دن کو یومِ خواتین قرار دیا گیا ہے، اور یہ ایک بابرکت اور بافضیلت دن ہے جس میں خیرات و صدقات دینا، روزہ رکھنا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرنا مستحب ہے۔
جمادی الثانی، جسے جمادی الآخر بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں آٹھواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں کئی تاریخی اور مذہبی واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] کی ولادت ہے، جو [[بعثت]] کے پانچویں سال جمادی الثانی کی بیسویں تاریخ کو ہوئی۔ اسی مناسبت سے اس دن کو یومِ خواتین قرار دیا گیا ہے، اور یہ ایک بابرکت اور بافضیلت دن ہے جس میں خیرات و صدقات دینا، روزہ رکھنا اور [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا]] کی زیارت کرنا مستحب ہے۔


اس مہینے کا ایک اور اہم واقعہ اس مظلومہ بی بی کی شہادت ہے، جسے ایک روایت کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے پچانوے دن بعد، گیارہ ہجری میں جمادی الاولی کی تیسری تاریخ کو قرار دیا گیا ہے۔
اس مہینے کا ایک اور اہم واقعہ اس مظلومہ بی بی کی شہادت ہے، جسے ایک روایت کے مطابق [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی رحلت کے پچانوے دن بعد، گیارہ ہجری میں جمادی الاولی کی تیسری تاریخ کو قرار دیا گیا ہے۔


اس کے علاوہ اس مہینے کے دیگر واقعات میں تیرہ ہجری میں ابو بکر کا انتقال، ایک سو ترانوے ہجری میں ہارون الرشید کا انتقال، اور تہتر ہجری میں حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں عبداللہ بن زبیر کا قتل شامل ہے۔
اس کے علاوہ اس مہینے کے دیگر واقعات میں تیرہ ہجری میں ابو بکر کا انتقال، ایک سو ترانوے ہجری میں ہارون الرشید کا انتقال، اور تہتر ہجری میں حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں عبداللہ بن زبیر کا قتل شامل ہے۔
سطر 37: سطر 37:


اس روایت میں آیا ہے کہ جو شخص اس نماز کو اس طریقے سے ادا کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ذات، اس کے مال، اس کی زوجہ، اس کی اولاد، اور اس کے دین و دنیا کو ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے، اور اگر وہ اس سال کے دوران وفات پا جائے تو اسے شہیدوں کا اجر عطا فرمایا جاتا ہے۔<ref> اقبال، صفحه 622</ref>
اس روایت میں آیا ہے کہ جو شخص اس نماز کو اس طریقے سے ادا کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ذات، اس کے مال، اس کی زوجہ، اس کی اولاد، اور اس کے دین و دنیا کو ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے، اور اگر وہ اس سال کے دوران وفات پا جائے تو اسے شہیدوں کا اجر عطا فرمایا جاتا ہے۔<ref> اقبال، صفحه 622</ref>


=== تیسرا دن ===
=== تیسرا دن ===


اس دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے آپ کی زیارت کرنا مناسب اور مستحب ہے۔ مرحوم سید بن طاؤوس نے کتاب اقبال میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی یہ زیارت نقل کی ہے:
اس دن [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] کی شہادت کی مناسبت سے آپ کی زیارت کرنا مناسب اور مستحب ہے۔ مرحوم سید بن طاؤوس نے کتاب اقبال میں [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا]] کی یہ زیارت نقل کی ہے:


اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا سَیِّدَةَ نِسآءِ الْعالَمینَ،   
اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا سَیِّدَةَ نِسآءِ الْعالَمینَ،   
سطر 58: سطر 57:
اس کے بعد مرحوم سید بن طاؤوس فرماتے ہیں:
اس کے بعد مرحوم سید بن طاؤوس فرماتے ہیں:


روایت میں آیا ہے کہ جو شخص ان الفاظ کے ساتھ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرے اور اللہ سے مغفرت طلب کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے جنت میں داخل فرماتا ہے۔<ref> اقبال، صفحه 623</ref>
روایت میں آیا ہے کہ جو شخص ان الفاظ کے ساتھ [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا]] کی زیارت کرے اور اللہ سے مغفرت طلب کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے جنت میں داخل فرماتا ہے۔<ref> اقبال، صفحه 623</ref>


=== بیسواں دن ===
=== بیسواں دن ===


اس دن جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کے ساتھ مصادف ہے، چند اعمال مستحب اور مناسب ہیں:
اس دن جو [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] کی ولادت کے ساتھ مصادف ہے، چند اعمال مستحب اور مناسب ہیں:


الف) روزہ رکھنا۔   
الف) روزہ رکھنا۔   
ب) مؤمنین کو خیرات اور صدقہ دینا۔   
ب) مؤمنین کو خیرات اور صدقہ دینا۔   
ج) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کرنا۔<ref>مفاتیح نوین</ref>
ج) [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] کی زیارت کرنا۔<ref>مفاتیح نوین</ref>


== ماہِ جمادی الثانی کے وقعات ==
== ماہِ جمادی الثانی کے وقعات ==


=== تیسرا جمادی الثانی ===
=== تیسرا جمادی الثانی ===
==== حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت۔ ====
==== [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا]] کی شہادت۔ ====


امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:   
[[موسی بن جعفر|امام موسیٰ کاظم علیہ السلام]] فرماتے ہیں:   
اِنَّ فاطِمَةَ صِدِّیقَةٌ شَهِيدَةٌ   
اِنَّ [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|فاطِمَةَ]] صِدِّیقَةٌ شَهِيدَةٌ   
یعنی بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا سچی بھی ہیں اور شہیدہ بھی۔
یعنی بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا سچی بھی ہیں اور شہیدہ بھی۔


سطر 81: سطر 80:
==== حضرت عبداللہ اور آمنہ کا نکاح ====
==== حضرت عبداللہ اور آمنہ کا نکاح ====
    
    
انیس جمادی الثانی حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا نکاح ہوا، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز والدین ہیں۔ مناسب ہے کہ مؤمنین اس رات کی تعظیم کریں، احترام بجا لائیں اور عبادت کے ذریعے اس رات کو زندہ رکھیں۔
انیس جمادی الثانی حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا نکاح ہوا، جو [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے معزز والدین ہیں۔ مناسب ہے کہ مؤمنین اس رات کی تعظیم کریں، احترام بجا لائیں اور عبادت کے ذریعے اس رات کو زندہ رکھیں۔


==== ولادتِ حضرت فاطمہ زہرا ====
==== ولادتِ حضرت فاطمہ زہرا ====
سطر 87: سطر 86:


==== وفاتِ حضرت اُمِّ کلثوم ====
==== وفاتِ حضرت اُمِّ کلثوم ====
جناب اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا، کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد، اکیس جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں وفات پا گئیں۔ آپ کے والد مولیٰ الموحدین امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور والدہ حضرت زہرائے مرضیہ سلام اللہ علیہا ہیں۔
جناب اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا، [[کربلا]] سے واپسی کے چار ماہ بعد، اکیس جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں وفات پا گئیں۔ آپ کے والد مولیٰ الموحدین [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین علی علیہ السلام]] اور والدہ [[حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا|حضرت زہرائے مرضیہ سلام اللہ علیہا]] ہیں۔


صاحبِ ریاحین الشریعہ، اعیان الشیعہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کا نکاح عون بن جعفر طیار سے فرمایا تھا۔
صاحبِ ریاحین الشریعہ، اعیان الشیعہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کا نکاح عون بن جعفر طیار سے فرمایا تھا۔


حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کے عون بن جعفر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کے بارے میں جو باتیں نقل کی جاتی ہیں، وہ مخالفین کی گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ واقعۂ کربلا میں موجود تھیں اور امام حسین علیہ السلام، اہل بیت اور اصحاب کی شہادت کے بعد، اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ مل کر خواتین اور یتیموں کی حفاظت کرتی رہیں۔ کربلا میں بھائی کی جدائی پر کہے گئے آپ کے اشعار مشہور اور نہایت دردناک ہیں۔
حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کے عون بن جعفر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کے بارے میں جو باتیں نقل کی جاتی ہیں، وہ مخالفین کی گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ واقعۂ کربلا میں موجود تھیں اور [[حسین بن علی|امام حسین علیہ السلام]]، اہل بیت اور اصحاب کی شہادت کے بعد، اپنی بہن [[حضرت زینبؑ: صبر، عفت اور فصاحت کی مجسم تصویر(نوٹس اور تجزیے)|حضرت زینب سلام اللہ علیہا]] کے ساتھ مل کر خواتین اور یتیموں کی حفاظت کرتی رہیں۔ کربلا میں بھائی کی جدائی پر کہے گئے آپ کے اشعار مشہور اور نہایت دردناک ہیں۔


==== ابوبکر کی وفات ====  
==== ابوبکر کی وفات ====  
سطر 97: سطر 96:
https://www.hawzahnews.com › news
https://www.hawzahnews.com › news
</ref>.
</ref>.


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:قمری مهینے ]]
[[زمرہ:قمری مهینے ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 11:29، 31 جنوری 2026ء

جمادی الثانی، جسے جمادی الآخر بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں آٹھواں مہینہ ہے۔ اس مہینے میں کئی تاریخی اور مذہبی واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت ہے، جو بعثت کے پانچویں سال جمادی الثانی کی بیسویں تاریخ کو ہوئی۔ اسی مناسبت سے اس دن کو یومِ خواتین قرار دیا گیا ہے، اور یہ ایک بابرکت اور بافضیلت دن ہے جس میں خیرات و صدقات دینا، روزہ رکھنا اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرنا مستحب ہے۔

اس مہینے کا ایک اور اہم واقعہ اس مظلومہ بی بی کی شہادت ہے، جسے ایک روایت کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے پچانوے دن بعد، گیارہ ہجری میں جمادی الاولی کی تیسری تاریخ کو قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس مہینے کے دیگر واقعات میں تیرہ ہجری میں ابو بکر کا انتقال، ایک سو ترانوے ہجری میں ہارون الرشید کا انتقال، اور تہتر ہجری میں حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں عبداللہ بن زبیر کا قتل شامل ہے۔

نام گذاری کی وجه

جمادی الآخر یا جمادی الثانی یا جمادی الثانیہ یا جمادی الآخرة، ہجری قمری سال کا چھٹا مہینہ ہے۔ لفظ جمادی، مادہ جَمُدَ سے نکلا ہے جس کے معنی جمنے، شدید سردی اور برف بن جانے کے ہیں۔ اس مہینے کو جمادی اس لیے کہا گیا ہے کہ جس زمانے میں ان مہینوں کے نام رکھے گئے تھے، اس دوران اس مہینے میں پانی جم جایا کرتا تھا۔[1]

ماہِ جمادی الثانی کے اعمال

پہلا دن

مرحوم سید بن طاؤوس نے کتاب اقبال میں اس مہینے کے پہلے دن کے لیے ایک دعا نقل کی ہے۔[2]

اس کے بعد چار رکعت نماز پڑھی جائے۔ مرحوم سید فرماتے ہیں کہ اس مہینے میں کسی بھی وقت یہ نماز پڑھی جا سکتی ہے،اگرچہ پہلے دن پڑھنا افضل ہے۔ نماز دو دو رکعت کرکے ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائے۔

پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ آیۃ الکرسی اور پچیس مرتبہ سورہ اِنّا اَنزلناہ پڑھے۔ دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ تکاثر اور پچیس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ تیسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ قُل یا ایہا الکافرون اور پچیس مرتبہ سورہ فلق پڑھے۔ چوتھی رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک مرتبہ سورہ نصر اور پچیس مرتبہ سورہ ناس پڑھے۔

نماز مکمل کرنے کے بعد ستر مرتبہ یہ ذکر کہے: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر

پھر ستر مرتبہ کہے: اللہم صل علی محمد و آل محمد

اس کے بعد تین مرتبہ کہے: اللہم اغفر للمؤمنین والمؤمنات

پھر سجدے میں جا کر تین مرتبہ کہے: یا حی یا قیوم، یا ذا الجلال والاکرام، یا اللہ یا رحمن یا رحیم، یا ارحم الراحمین

اس کے بعد اپنی ہر حاجت اللہ عزوجل کی بارگاہ میں طلب کرے۔

اس روایت میں آیا ہے کہ جو شخص اس نماز کو اس طریقے سے ادا کرے، اللہ تعالیٰ اس کی ذات، اس کے مال، اس کی زوجہ، اس کی اولاد، اور اس کے دین و دنیا کو ایک سال تک محفوظ رکھتا ہے، اور اگر وہ اس سال کے دوران وفات پا جائے تو اسے شہیدوں کا اجر عطا فرمایا جاتا ہے۔[3]

تیسرا دن

اس دن حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کی مناسبت سے آپ کی زیارت کرنا مناسب اور مستحب ہے۔ مرحوم سید بن طاؤوس نے کتاب اقبال میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی یہ زیارت نقل کی ہے:

اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا سَیِّدَةَ نِسآءِ الْعالَمینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یا والِدَةَ الْحُجَجِ عَلَی النّاسِ اَجْمَعینَ، اَلسَّلامُ عَلَیْکِ اَیَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَمْنُوعَةُ حَقُّها، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی اَمَتِکَ وَابْنَةِ نَبِیِّکَ، وَزَوْجَةِ وَصِیِّ نَبِیِّکَ، صَلاةً تُزْلِفُها فَوْقَ زُلْفی عِبادِکَ الْمُکَرَّمینَ، مِنْ اَهْلِ السَّمواتِ وَ اَهْلِ الاَْرَضینَ

سلام ہو آپ پر، اے تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار۔ سلام ہو آپ پر، اے تمام انسانوں پر اللہ کی حجتوں کی ماں۔ سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ، جن کا حق روکا گیا۔

اے اللہ، درود بھیج اپنی بندی پر، جو تیرے نبی کی بیٹی اور تیرے نبی کے وصی کی زوجہ ہے، ایسا درود جو اسے تیرے مکرم بندوں، آسمانوں والوں اور زمین والوں سب سے بلند مقام عطا کرے۔

اس کے بعد مرحوم سید بن طاؤوس فرماتے ہیں:

روایت میں آیا ہے کہ جو شخص ان الفاظ کے ساتھ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کرے اور اللہ سے مغفرت طلب کرے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور اسے جنت میں داخل فرماتا ہے۔[4]

بیسواں دن

اس دن جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کے ساتھ مصادف ہے، چند اعمال مستحب اور مناسب ہیں:

الف) روزہ رکھنا۔ ب) مؤمنین کو خیرات اور صدقہ دینا۔ ج) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کرنا۔[5]

ماہِ جمادی الثانی کے وقعات

تیسرا جمادی الثانی

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں: اِنَّ فاطِمَةَ صِدِّیقَةٌ شَهِيدَةٌ یعنی بے شک فاطمہ سلام اللہ علیہا سچی بھی ہیں اور شہیدہ بھی۔

اسی دن، سن 11 ہجری میں، پچانوے دن کے قول کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت واقع ہوئی۔

حضرت عبداللہ اور آمنہ کا نکاح

انیس جمادی الثانی حضرت عبداللہ اور حضرت آمنہ کا نکاح ہوا، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معزز والدین ہیں۔ مناسب ہے کہ مؤمنین اس رات کی تعظیم کریں، احترام بجا لائیں اور عبادت کے ذریعے اس رات کو زندہ رکھیں۔

ولادتِ حضرت فاطمہ زہرا

بیس جمادی الثانی کو حضرت حوراء انسیہ، عذراء بتول، اُمِّ ابیھا، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سنِ پنجمِ بعثت میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔

وفاتِ حضرت اُمِّ کلثوم

جناب اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا، کربلا سے واپسی کے چار ماہ بعد، اکیس جمادی الثانی کو مدینہ منورہ میں وفات پا گئیں۔ آپ کے والد مولیٰ الموحدین امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور والدہ حضرت زہرائے مرضیہ سلام اللہ علیہا ہیں۔

صاحبِ ریاحین الشریعہ، اعیان الشیعہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کا نکاح عون بن جعفر طیار سے فرمایا تھا۔

حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا کے عون بن جعفر کے علاوہ کسی اور سے نکاح کے بارے میں جو باتیں نقل کی جاتی ہیں، وہ مخالفین کی گھڑی ہوئی ہیں۔ آپ واقعۂ کربلا میں موجود تھیں اور امام حسین علیہ السلام، اہل بیت اور اصحاب کی شہادت کے بعد، اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ مل کر خواتین اور یتیموں کی حفاظت کرتی رہیں۔ کربلا میں بھائی کی جدائی پر کہے گئے آپ کے اشعار مشہور اور نہایت دردناک ہیں۔

ابوبکر کی وفات

سن 13 ہجری میں ابوبکر بن ابی قحافہ67 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔[6].

حوالہ جات

  1. مسعودی، مروج الذهب و معادن الجوهر، ج۲، ص۱۸۹
  2. اقبال، صفحه 621
  3. اقبال، صفحه 622
  4. اقبال، صفحه 623
  5. مفاتیح نوین
  6. وقایع ماه جمادی الثانی - خبرگزاری حوزه https://www.hawzahnews.com › news