مندرجات کا رخ کریں

"قربانقلی حیدرنژاد" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
« {{Infobox person | title = | image = قربانقلی حیدرنژاد.jpg | name = قربانقلی حیدرنژاد | other names = قربانقلی آخوند حیدرنژاد | brith year = 1342 ش | brth date = فروردین | birth place = ایران، مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) | death year = 1399 ش | death date = 17 آذر | death place = | teachers = {{افقی ب...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:قربانقلی حیدرنژاد کو قربانقلی حیدرنژاد کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 5 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 19: سطر 19:
}}
}}


قربانقلی حیدرنژاد ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی (تقریبِ مذاہب) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔
'''قربانقلی حیدرنژاد''' ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی ([[تقریب|تقریبِ مذاہب]]) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔


 
== سوانحِ حیات ==
 
سوانحِ حیات  
قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوری‌زادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔
قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوری‌زادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔


سرگرمیاں
== علمی سرگرمیاں ==
آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغ‌التحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔
آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغ‌التحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔


تبلیغ
== تبلیغ ==
وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔
وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔


تصانیف
== تصانیف ==
انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوری‌زادہ اور مولوی اسحاق مدنی، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ اہلِ سنت، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔
انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوری‌زادہ اور [[محمد اسحاق مدنی|مولوی اسحاق مدنی]]، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ [[اہل سنت|اہلِ سنت]]، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔
 
شاعری


آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔ شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔
== شاعری ==
آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔  


تقریبی سوچ
شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔


وہ تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، عالمی مرکز برای  تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔ انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔<ref>[https://www.turkmensesi.net/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1/9800-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D9%8A-%D8%A2%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AF- زندگینامه استاد فقید قربانقلی آخوند حیدرنژاد، وب‌سایت پایگاه خبری ترکمن سسی]. </ref>
== تقریبی سوچ ==
وہ [[تقریب|تقریبِ مذاہب]] کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی|عالمی مرکز برای  تقریبِ مذاہبِ اسلامی]] کی کانفرنسِ [[وحدت اسلامی|وحدتِ اسلامی]]، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔
انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔<ref>[https://www.turkmensesi.net/%D8%A7%D8%AE%D8%A8%D8%A7%D8%B1/9800-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D8%AF-%D9%81%D9%82%DB%8C%D8%AF-%D9%82%D8%B1%D8%A8%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D9%8A-%D8%A2%D8%AE%D9%88%D9%86%D8%AF- زندگینامه استاد فقید قربانقلی آخوند حیدرنژاد، وب‌سایت پایگاه خبری ترکمن سسی](زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۹/ دسمبر/ ۲۰۲۰ء اخذشده تاریخ: ۲۸/ جنوری/ ۲۰۲۶ء </ref>


نقطۂ نظر
== نقطۂ نظر ==
تقریبِ مذاہب، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت
===[[تقریب|تقریبِ مذاہب]]، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت ===
آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ [[اہل سنت|اہلِ سنت]] احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ [[تقریب|تقریبِ مذاہب]] کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔ 


آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبِ مذاہب کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔ 
انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔


گلستان کے اس ممتاز عالمِ اہلِ سنت نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اسلامی مشترکات پر انحصار ہی مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی کا بنیادی عامل ہے، کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی انسجام اختیار کرتے ہوئے ان اختلافات کو، جو باعثِ شرمندگی ہیں، مذاہبِ اسلامی کے اندرونی اختلافات سمجھنا چاہیے اور صرف وحدت کے عوامل پر توجہ دینی چاہیے۔   
گلستان کے اس ممتاز عالمِ [[اہل سنت|اہلِ سنت]] نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اسلامی مشترکات پر انحصار ہی مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی کا بنیادی عامل ہے، کہا کہ [[مسلمان|مسلمانوں]] کو اسلامی انسجام اختیار کرتے ہوئے ان اختلافات کو، جو باعثِ شرمندگی ہیں، مذاہبِ اسلامی کے اندرونی اختلافات سمجھنا چاہیے اور صرف [[وحدت اسلامی|وحدت]] کے عوامل پر توجہ دینی چاہیے۔  
   
انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت کے چاروں فقہی و کلامی مکاتب کے درمیان اختلافات موجود ہیں، لیکن باہمی برداشت کے ذریعے ان اختلافات کو مذهب کے اندر اجتہادی اختلافات شمار کیا جاتا ہے۔ حیدرنژاد کے مطابق، تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس میں اتحاد اور انسجام کو دیگر امور پر فوقیت دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت کے چاروں فقہی و کلامی مکاتب کے درمیان اختلافات موجود ہیں، لیکن باہمی برداشت کے ذریعے ان اختلافات کو مذهب کے اندر اجتہادی اختلافات شمار کیا جاتا ہے۔ حیدرنژاد کے مطابق، تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس میں اتحاد اور انسجام کو دیگر امور پر فوقیت دی جاتی ہے۔


حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیشان کے مدیر اور مدرس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافی امور نہایت کم ہیں، اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ تمام اسلامی مذاہب بہت سے بنیادی اور اصولی امور میں مشترک ہیں اور اختلافات نہایت جزوی نوعیت کے ہیں۔   
حوزۂ علمیہ [[اہل سنت|اہلِ سنت]] احمدیہ گمیشان کے مدیر اور مدرس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافی امور نہایت کم ہیں، اور [[مسلمان|مسلمانوں]] کو ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ تمام اسلامی مذاہب بہت سے بنیادی اور اصولی امور میں مشترک ہیں اور اختلافات نہایت جزوی نوعیت کے ہیں۔   
انہوں نے مزید کہا کہ آج تقریب کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، اور اسلامی اقوام کو اس مقدس امر کے ذریعے، جو خداوند متعال اور نبیِ مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مؤکد ہدایت ہے، مشترکہ محوروں کے گرد جمع ہونا چاہیے۔ 
آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر مسلمان صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔<ref>[https://rasanews.ir/0023QY تقریب مذاهب یعنی اینکه اتحاد و انسجام در اولویت باشد، وب‌سایت خبرگزاری رسا]. </ref>


وفات
انہوں نے مزید کہا کہ آج تقریب کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، اور اسلامی اقوام کو اس مقدس امر کے ذریعے، جو خداوند متعال اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|نبیِ مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی مؤکد ہدایت ہے، مشترکہ محوروں کے گرد جمع ہونا چاہیے۔ 
 
آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر [[مسلمان]] صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔<ref>[https://rasanews.ir/0023QY تقریب مذاهب یعنی اینکه اتحاد و انسجام در اولویت باشد، وب‌سایت خبرگزاری رسا](زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۶/ اپریل / 2017ء اخذشده تاریخ: 28/ جنوری/ 2026ء </ref>
 
== وفات ==
بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔
بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔


== تعزیتی پیغامات ==
=== [[ایران]] کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام ===


تعزیتی پیغام
شمال [[ایران]] میں واقع اسلامی مرکز  کے سربراه ، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات  کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها:
ایران کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام
 
مرکزِ بزرگِ اسلامی شمالِ کشور کے سرپرست، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات  کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها:


إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ  (البقرۃ: 156)
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ  (البقرۃ: 156)


نہایت رنج و الم کے ساتھ ممتاز عالمِ دینِ ، محقق، مصنف، شاعر اور ترکمن ادیب، مدرسۂ علومِ دینی احمدیہ گمیشان کے مدیر و مدرس، آخوند قربانقلی حیدرنژاد کے انتقال پر ترکمن صحرا کے تمام عوام، ضلع گمیشان، صوبۂ گلستان اور بالخصوص مرحوم کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔   
نہایت رنج و الم کے ساتھ ممتاز عالمِ دینِ ، محقق، مصنف، شاعر اور ترکمن ادیب، مدرسۂ علومِ دینی احمدیہ گمیشان کے مدیر و مدرس، آخوند قربانقلی حیدرنژاد کے انتقال پر ترکمن صحرا کے تمام عوام، ضلع گمیشان، صوبۂ گلستان اور بالخصوص مرحوم کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔   
میں خداوندِ متعال سے اس مرحومِ مغفور کے لیے وسیع رحمت و مغفرتِ الٰہی اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کرتا ہوں۔
میں خداوندِ متعال سے اس مرحومِ مغفور کے لیے وسیع رحمت و مغفرتِ الٰہی اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کرتا ہوں۔


مرحوم آخوند قربانقلی حیدرنژاد نے اپنی حیات کے دوران امتِ اسلامی کے درمیان وحدت و تقریب کے قیام اور قرآنِ کریم اور سنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سائے میں مسلمانوں کے پُرامن طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔   
مرحوم آخوند قربانقلی حیدرنژاد نے اپنی حیات کے دوران امتِ اسلامی کے درمیان [[وحدت اسلامی|وحدت و تقریب]] کے قیام اور [[قرآن|قرآنِ کریم]] اور سنتِ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے سائے میں [[مسلمان|مسلمانوں]] کے پُرامن طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔   
 
مرحوم استاد آخوند قربانقلی حیدرنژاد ایک محقق، مصنف، شاعر، ترکمن ادیب اور توانا خطیب تھے، جنہوں نے اپنی بابرکت عمر کے دوران تصانیف، کتب، خطابات اور نصائح کے ذریعے علاقے کے عوام میں اسلامی طرزِ زندگی کے فروغ اور توسعے کے لیے گراں قدر کوششیں کیں۔
مرحوم استاد آخوند قربانقلی حیدرنژاد ایک محقق، مصنف، شاعر، ترکمن ادیب اور توانا خطیب تھے، جنہوں نے اپنی بابرکت عمر کے دوران تصانیف، کتب، خطابات اور نصائح کے ذریعے علاقے کے عوام میں اسلامی طرزِ زندگی کے فروغ اور توسعے کے لیے گراں قدر کوششیں کیں۔


ایک بار پھر اس المناک سانحے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، میں خداوندِ سبحان سے اس عظیم عالم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان، بالخصوص صوبۂ گلستان کے معزز اہلِ سنت عوام کے لیے صبرِ جزیل کی دعا کرتا ہوں۔<ref>
ایک بار پھر اس المناک سانحے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، میں خداوندِ سبحان سے اس عظیم عالم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان، بالخصوص صوبۂ گلستان کے معزز [[اہل سنت|اہلِ سنت]] عوام کے لیے صبرِ جزیل کی دعا کرتا ہوں۔<ref>
[https://turkmensnews.com/?p=86759 پیام تسلیت سرپرست مرکز بزرگ اسلامی شمال کشور در پی درگذشت آخوند قربانقلی حیدرنژاد، وب‌سایت ترکمن نیوز]. </ref>
[https://turkmensnews.com/?p=86759 پیام تسلیت سرپرست مرکز بزرگ اسلامی شمال کشور در پی درگذشت آخوند قربانقلی حیدرنژاد، وب‌سایت ترکمن نیوز]( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 8/ دسمبر/ 2020ء اخذشده تاریخ: 28/ جنوری/ 2026ء </ref>
 


== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی]]
* [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی]]
* [[وحدت اسلامی]]
* [[وحدت اسلامی]]
* [[اہل السنۃ والجماعت|محمد اسحاق مدنی]]
* [[اہل السنۃ والجماعت]]
* [[محمد اسحاق مدنی]]
* [[محمد اسحاق مدنی]]
* [[تقریب]]
* [[تقریب]]
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}


[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]

حالیہ نسخہ بمطابق 10:22، 28 جنوری 2026ء

قربانقلی حیدرنژاد
پورا نامقربانقلی حیدرنژاد
دوسرے نامقربانقلی آخوند حیدرنژاد
ذاتی معلومات
پیدائش1342 ش، 1964 ء، 1382 ق
پیدائش کی جگہایران، مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان)
وفات1399 ش، 2021 ء، 1441 ق
یوم وفات17 آذر
اساتذہ
  • نورمحمد آخوند نوریزاده
مذہباسلام، اہل سنت
اثرات
  • اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری، صحیح بخاری کی فارسی شرح
مناصب
  • حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر

قربانقلی حیدرنژاد ایک خطیب اور شاعر تھے، جو فرقہ جاتی ہم آہنگی (تقریبِ مذاہب) کے میدان میں سرگرم تھے۔ وہ حوزۂ علمیہ احمدیہ کے مدیر، بانی اور استاد تھے اور ترکمن صحرا کے نمایاں علما میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی تصانیف میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری شامل ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔

سوانحِ حیات

قربانقلی آخوند حیدرنژاد اپریل 1963ء میں مغربی ترکمن صحرا کے شہر گمیش تپہ (گمیشان) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر گمیش تپہ میں حاصل کی۔ علومِ دینی کے حصول سے گہری محبت اور شوق کے باعث وہ گنبدِ کاووس شہر گئے، جہاں انہوں نے استاد نورمحمد آخوند نوری‌زادہ کی خدمت میں حاضری دی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک انہوں نے ان کے علم و دانش کے چشمے سے فیض حاصل کیا اور بالآخر آخوند کے منصب پر فائز ہوئے۔

علمی سرگرمیاں

آخوند حیدرنژاد نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے آبائی شہر واپسی اختیار کی اور شہر گمیش تپہ میں حوزۂ علمیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی، جہاں وہ طلبہ کی تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں اس حوزۂ علمیہ سے ترکمن صحرا کے علاقے میں رائج دینی مدارس کے روایتی طرز پر دو ادوار کے فارغ‌التحصیل طلبہ معاشرے کے حوالے کیے گئے۔

تبلیغ

وہ ایک توانا خطیب اور مؤثر مقرر تھے۔ عوامی محافل اور مختلف مواقع پر وہ گوناگوں موضوعات پر خطاب کرتے تھے، جن میں سیاسی و سماجی افکار، دینی و اسلامی طرزِ زندگی اور روزمرہ سماجی مسائل شامل تھے۔ وہ ہمیشہ علاقے کے عوام کی آگاہی میں اضافہ اور سماجی سرمائے کے فروغ کے لیے کوشاں رہے۔

تصانیف

انہوں نے علمی و مذہبی جرائد اور رسائل میں متعدد مقالات پیش کرنے کے علاوہ چند تصانیف بھی یادگار چھوڑیں۔ ان میں اصولِ عقائدِ اسلامی اور توفیق الباری قابلِ ذکر ہیں، جو صحیح بخاری کی فارسی شرح ہے۔ یہ کتب استادِ محترم محمد آخوند نوری‌زادہ اور مولوی اسحاق مدنی، سابق مشیرِ صدرِ مملکت برائے امورِ اہلِ سنت، کی تقریظات کے ساتھ اساتذہ اور دینی علوم کے طلبہ و محققین کے لیے شائع کی گئیں۔

شاعری

آخوند حیدرنژاد ایک شاعر اور ادیب تھے۔ ان کے جاننے والے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات مطالعہ اور تحقیق میں مشغول رہتے تھے۔ وہ فارسی، ترکمنی اور عربی ادب میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ ان کی شاعری اور تصنیف کا آغاز مسجد سے متعلق ایک خواب کے ساتھ ہوا۔

شعر کہنے اور یاد رکھنے میں ان کی قوتِ حافظہ غیر معمولی تھی؛ وہ چوبیس اشعار پر مشتمل ایک نظم کو صرف ایک بار پڑھ کر حفظ کر لیتے تھے۔ شعر کہنے کے لیے وہ چند لمحے خاموش رہتے، پھر اچانک بامعنی اور طویل نظم ایک ادبی قالب میں کہہ دیتے، گویا شعر ان پر الہام کی صورت میں نازل ہوتا تھا۔

تقریبی سوچ

وہ تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم شخصیات میں سے تھے۔ عوامی محافل میں خطابات کے ذریعے اور نیز تقریبِ مذاہب سے متعلق علمی و تحقیقی مقالات کی پیش کش کے ساتھ، تقریبِ مذاہب کے کانفرنسوں، عالمی مرکز برای تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی کانفرنسِ وحدتِ اسلامی، اور مختلف مذہبی و سیاسی اجتماعات میں فعال شرکت کرتے رہے۔ انہوں نے برسوں تک معاشرے میں وحدت اور باہمی ہم دلی کے اصول کے تحقق اور استحکام کے لیے مسلسل کوشش کی۔[1]

نقطۂ نظر

تقریبِ مذاہب، اتحاد اور انسجام کی اوّلیت

آخوند قربانقلی حیدرنژاد، حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیش تپہ (گمیشان) کے مدیر اور مدرس، نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تقریبِ مذاہب کا مطلب اتحاد اور انسجام کو اوّلیت دینا ہے، کہا کہ اسلامی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے باہم جمع ہوں اور مسئلۂ تقریب کو اپنے لیے ایک بنیادی مسئلہ سمجھیں اور اسے اپنی عمومی اور انفرادی پالیسیوں کی بنیاد قرار دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتہاپسندانہ اقدامات کی مذمت اور بعض افراطی گروہوں کے غیر انسانی اعمال کی روک تھام اسلامی ممالک میں عملی طور پر نافذ ہونی چاہیے۔

گلستان کے اس ممتاز عالمِ اہلِ سنت نے اس امر کا اعتراف کرتے ہوئے کہ اسلامی مشترکات پر انحصار ہی مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی کا بنیادی عامل ہے، کہا کہ مسلمانوں کو اسلامی انسجام اختیار کرتے ہوئے ان اختلافات کو، جو باعثِ شرمندگی ہیں، مذاہبِ اسلامی کے اندرونی اختلافات سمجھنا چاہیے اور صرف وحدت کے عوامل پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت کے چاروں فقہی و کلامی مکاتب کے درمیان اختلافات موجود ہیں، لیکن باہمی برداشت کے ذریعے ان اختلافات کو مذهب کے اندر اجتہادی اختلافات شمار کیا جاتا ہے۔ حیدرنژاد کے مطابق، تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا مفہوم بھی یہی ہے کہ اس میں اتحاد اور انسجام کو دیگر امور پر فوقیت دی جاتی ہے۔

حوزۂ علمیہ اہلِ سنت احمدیہ گمیشان کے مدیر اور مدرس نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلافی امور نہایت کم ہیں، اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنا چاہیے، کیونکہ تمام اسلامی مذاہب بہت سے بنیادی اور اصولی امور میں مشترک ہیں اور اختلافات نہایت جزوی نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج تقریب کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں، اور اسلامی اقوام کو اس مقدس امر کے ذریعے، جو خداوند متعال اور نبیِ مکرم اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مؤکد ہدایت ہے، مشترکہ محوروں کے گرد جمع ہونا چاہیے۔

آخوند حیدرنژاد کے بقول، ہر مسلمان صحیح اسلامی عقیدہ اور اپنے مخصوص مذہب کے ساتھ امتِ واحدۂ اسلامی کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔[2]

وفات

بالآخر قربانعلی آخوند حیدرنژاد ایک عمر دینی خدمات اور تقریبِ مذاہب کے میدان میں سرگرم رہنے کے بعد پیر کے روز 17 آذر 1399 شمسی کو 57 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

تعزیتی پیغامات

ایران کے شمال میں قائم مرکزِ بزرگِ اسلامی کے سرپرست کا تعزیتی پیغام

شمال ایران میں واقع اسلامی مرکز کے سربراه ، حجت الاسلام دیلم نے ان کے وفات کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام کها:

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 156)

نہایت رنج و الم کے ساتھ ممتاز عالمِ دینِ ، محقق، مصنف، شاعر اور ترکمن ادیب، مدرسۂ علومِ دینی احمدیہ گمیشان کے مدیر و مدرس، آخوند قربانقلی حیدرنژاد کے انتقال پر ترکمن صحرا کے تمام عوام، ضلع گمیشان، صوبۂ گلستان اور بالخصوص مرحوم کے اہلِ خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔

میں خداوندِ متعال سے اس مرحومِ مغفور کے لیے وسیع رحمت و مغفرتِ الٰہی اور تمام پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم کی دعا کرتا ہوں۔

مرحوم آخوند قربانقلی حیدرنژاد نے اپنی حیات کے دوران امتِ اسلامی کے درمیان وحدت و تقریب کے قیام اور قرآنِ کریم اور سنتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سائے میں مسلمانوں کے پُرامن طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔

مرحوم استاد آخوند قربانقلی حیدرنژاد ایک محقق، مصنف، شاعر، ترکمن ادیب اور توانا خطیب تھے، جنہوں نے اپنی بابرکت عمر کے دوران تصانیف، کتب، خطابات اور نصائح کے ذریعے علاقے کے عوام میں اسلامی طرزِ زندگی کے فروغ اور توسعے کے لیے گراں قدر کوششیں کیں۔

ایک بار پھر اس المناک سانحے پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، میں خداوندِ سبحان سے اس عظیم عالم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان، بالخصوص صوبۂ گلستان کے معزز اہلِ سنت عوام کے لیے صبرِ جزیل کی دعا کرتا ہوں۔[3]

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. زندگینامه استاد فقید قربانقلی آخوند حیدرنژاد، وب‌سایت پایگاه خبری ترکمن سسی(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۹/ دسمبر/ ۲۰۲۰ء اخذشده تاریخ: ۲۸/ جنوری/ ۲۰۲۶ء
  2. تقریب مذاهب یعنی اینکه اتحاد و انسجام در اولویت باشد، وب‌سایت خبرگزاری رسا(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۶/ اپریل / 2017ء اخذشده تاریخ: 28/ جنوری/ 2026ء
  3. پیام تسلیت سرپرست مرکز بزرگ اسلامی شمال کشور در پی درگذشت آخوند قربانقلی حیدرنژاد، وب‌سایت ترکمن نیوز( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 8/ دسمبر/ 2020ء اخذشده تاریخ: 28/ جنوری/ 2026ء