مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 14 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: بُهره بررسی افکار، عقاید، آداب و رسوم بُهره اسماعیلیه (کتاب).png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:زندگی آیت الله العظمی بروجردی (کتاب) -1.png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[بُهره: افکار، عقائد اور رسومِ بُهرہ اسماعیلیہ کا جائزہ(کتاب)|بُهره: افکار، عقائد اور رسومِ بُهرہ اسماعیلیہ کا جائزہ]]'''، [[اسماعیلیہ|اسماعیلی]] مذہب کے ایک معروف شاخ فرقۂ بُهرہ (یا مستعلویہ) پر تحقیقی مطالعہ ہے۔
'''[[زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی(کتاب)|زندگی آیت‌الله العظمیٰ بروجردی]]''' [[محمد واعظ زاده خراسانی|محمد واعظ زادہ خراسانی]] کی تالیف ہے جس میں آیت‌الله سید حسین بروجردیؒ کی زندگی، شخصیت اور فکری و علمی جہات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آیت‌الله بروجردی کے فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
یہ فرقہ دراصل اسماعیلیہ کی مستعلوی شاخ سے تعلق رکھتا ہے، اور آج کے زمانے میں ان کے ماننے والے زیادہ تر ہندوستان اور یمن میں آباد ہیں۔ ان کی آبادی کا اندازہ تقریباً دو ملین (بیالیس لاکھ) کے قریب لگایا گیا ہے۔
مصنف ابتدا میں آیت‌الله بروجردی کے نسب، شجرۂ نسب اور حیاتِ مبارکہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد علمِ حدیث میں ان کے منہج کا اجمالی بیان آتا ہے۔
بُهرہ جماعت کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کا مذہب باطنی اور رازدارانہ نوعیت کا ہے، اسی وجہ سے ان کے عقائد تک رسائی ہمیشہ مشکل رہی ہے۔
مصنف نے میدانی تحقیقات، بُهرہ علمائے دین اور رہنماؤں سے ملاقاتوں، اور ان کے فقہی، حدیثی اور کلامی مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے ان کے تاریخ، عقائد، [[فقہ]] اور معاشرتی آداب کا جامع و مستند جائزہ پیش کیا ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:43، 20 جنوری 2026ء

زندگی آیت‌الله العظمیٰ بروجردی محمد واعظ زادہ خراسانی کی تالیف ہے جس میں آیت‌الله سید حسین بروجردیؒ کی زندگی، شخصیت اور فکری و علمی جہات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آیت‌الله بروجردی کے فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف ابتدا میں آیت‌الله بروجردی کے نسب، شجرۂ نسب اور حیاتِ مبارکہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد علمِ حدیث میں ان کے منہج کا اجمالی بیان آتا ہے۔