مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحهٔ اصلی/منتخب تصویر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(3 صارفین 68 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
 
<div class="mp-h2">'''منتخب تصویر'''</div>
<div class="mp-h2"><span>'''منتخب تصویر'''</span></div>
[[فائل:واقعه غدیر.jpg|بدون_چوکھٹا|وسط]]
[[فائل: کلنا بفداک یا زینب.jpeg|بدون_چوکھٹا|وسط]]
<center>  
<center> [[سید علی خامنہ ای]] : انشاء اللہ [[زینب بنت علی|زینب]] کا اسوہ ہمیشہ ہمارے مردوں اور عورتوں کی نگاہوں کے سامنے زندہ و مجسم رہے۔</center>
[[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] :"'''عیدِ غدیر''' کا دن وہ دن ہے جس میں '''[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبرِ اسلام (صلّی‌الله علیه وآله)]]''' نے حکومت کی ذمہ داری کو معین فرمایا اور قیامت تک کے لیے '''اسلامی حکومت''' کے نمونے کو طے کر دیا۔”
</div>
</center>
</div>
<div id="mp-sidebar">
<div id="mp-sidebar-box">
<div id="mp-badge">
<div class="mp-h2"><span>'''رویداد'''</span></div>
*  '''[[ربیع الثانی]]''' ربیع الثانی جسے ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے ہجری سال کا چوتھا مہینہ ہے۔ اس مہینے کا سب سے اہم واقعہ [[حسن بن علی بن محمد|امام حسن عسکری علیہ السلا]]م کا یوم ولادت ہے جو 8 ربیع الثانی 232 قمری مہینے کو پیش آیا اور اس دن روزہ رکھنا مستحب ہے۔
'''[[موسی مبرقع]]''' حضرت موسیٰ مبرقع علیہ السلام، [[محمد بن علی بن موسی|امام محمد تقی علیہ السلام]] کے فرزند اور [[علی بن محمد|امام علی نقی علیہ السلام]] کے بھائی تھے۔ آپ واجب التعظیم امامزادہ، عالمِ باعمل اور ساداتِ برقعی کے جدِ امجد ہیں، جنہوں نے شہرِ قم میں علم، تقویٰ اور خدمتِ [[اہل بیت|اہلِ بیتؑ]] کی روشن مثال قائم کی۔
'''[[حسن بن علی بن محمد|امام حسن عسکری علیہ السلام اثنا عشری]]''' [[شیعہ|شیعوں]] کے گیا رہویں امام ہیں جو 232 ھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد [[امام ہادی علیہ السلام]] کو اس وقت کے خلیفہ نے سامرہ بلوایا ۔  وہ بھی اپنے والد کے ساتھ اس شہر میں چلے آئے اور اپنی شہادت تک عباسی خلفاء کے کارندوں کی نگرانی میں رہے۔
<div id="mp-sidebar">
<div id="mp-sidebar-box">
<div id="mp-badge">
</div>

حالیہ نسخہ بمطابق 14:03، 3 جون 2026ء

منتخب تصویر

امام خمینی :"عیدِ غدیر کا دن وہ دن ہے جس میں پیغمبرِ اسلام (صلّی‌الله علیه وآله) نے حکومت کی ذمہ داری کو معین فرمایا اور قیامت تک کے لیے اسلامی حکومت کے نمونے کو طے کر دیا۔”