مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 17 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:تحقیقی 12.jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:زندگی آیت الله العظمی بروجردی (کتاب) -1.png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[امام زین علیہ السلام کی زندگی ایک تحقیقی مطالعہ( کتاب)|امام زین العابدین (ع)کی زندگی ایک تحقیقی مطالعہ]]''' اس کا کتاب کا مصنف [[ سید علی خامنہ ای|آیت اللہ سید علی خامنہ ای]] ہیں۔ [[علی بن حسین|امام زین العابدین علیہ السلام]] کی ذات اقدس کو موضوع سخن قرار دینا اور آپ کی سیرت طیبہ پر قلم اٹھانا نہایت ہی دشوار امر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عظیم امام کی معرفت و آشنائی سے متعلق مآخذ و مصادر بہت ہی ناقص اور نا مساعد ہیں ۔
'''[[زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی(کتاب)|زندگی آیت‌الله العظمیٰ بروجردی]]''' [[محمد واعظ زاده خراسانی|محمد واعظ زادہ خراسانی]] کی تالیف ہے جس میں آیت‌الله سید حسین بروجردیؒ کی زندگی، شخصیت اور فکری و علمی جہات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آیت‌الله بروجردی کے فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اکثر محققوں اور سیرت نگاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ یہ عظیم ہستی محض ایک گوشہ نشین عابد و زاہد جیسی زندگی گزارتی رہی جس کو سیاست میں ذرہ برابر دلچسپی اور دخل نہ تھا ۔ بعض تاریخ نویسوں او ر سیرت نگاروں نے تو اس چیز کو بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور وہ حضرات جنھوں نے صاف صاف وضاحت کے ساتھ یہ بات نہیں کہی انھوں نے بھی امام علیہ السلام کی زندگی سے جو نتائج اخذ کئے ہیں اس سے مختلف نہیں ہیں چنانچہ حضرت (ع) کو دیئے جانے والے القاب اور حضرت (ع) کے سلسلہ میں استعمال کی جانے والی تعبیرات سے یہ بات بہ آسانی درک کی جا سکتی ہے۔
مصنف ابتدا میں آیت‌الله بروجردی کے نسب، شجرۂ نسب اور حیاتِ مبارکہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد علمِ حدیث میں ان کے منہج کا اجمالی بیان آتا ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:43، 20 جنوری 2026ء

زندگی آیت‌الله العظمیٰ بروجردی محمد واعظ زادہ خراسانی کی تالیف ہے جس میں آیت‌الله سید حسین بروجردیؒ کی زندگی، شخصیت اور فکری و علمی جہات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آیت‌الله بروجردی کے فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف ابتدا میں آیت‌الله بروجردی کے نسب، شجرۂ نسب اور حیاتِ مبارکہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد علمِ حدیث میں ان کے منہج کا اجمالی بیان آتا ہے۔