"اویس قرنی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{Infobox person | |||
| title = اویس قرنی | |||
| image = اویس.jpg | |||
| name = اویس قرنی | |||
| other names = | |||
| brith year = 594ء | |||
| brith date = | |||
| birth place = قرن، ردمان ، [[یمن]] | |||
| death year = 657 م | |||
| death date = | |||
| death place = صفین | |||
| teachers = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[شیعہ]] | |||
| works = | |||
| known for = تابعی اور امام علی علیہ السلام خاص اصحاب میں سے ایک | |||
}} | |||
'''اویس قرنی'''، (وفات: ۳۷ ہجری) [[یمن]] سے تعلق رکھنے والے تابعین کے بزرگوں میں سے اور صدرِ [[اسلام]] کے مشہور زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ حیات ہی میں [[ایمان]] قبول کر لیا تھا، لیکن آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکے۔ اویس قرنی [[امام علی علیہ السلام]] کے وفادار اصحاب میں سے بھی تھے اور بالآخر جنگِ صفین میں شہید ہوئے۔ دنیا کی بے ثباتی اور موت کے قریب ہونے کے بارے میں ان سے کئی حکمت آموز اقوال بھی منقول ہیں۔ | '''اویس قرنی'''، (وفات: ۳۷ ہجری) [[یمن]] سے تعلق رکھنے والے تابعین کے بزرگوں میں سے اور صدرِ [[اسلام]] کے مشہور زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ حیات ہی میں [[ایمان]] قبول کر لیا تھا، لیکن آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکے۔ اویس قرنی [[امام علی علیہ السلام]] کے وفادار اصحاب میں سے بھی تھے اور بالآخر جنگِ صفین میں شہید ہوئے۔ دنیا کی بے ثباتی اور موت کے قریب ہونے کے بارے میں ان سے کئی حکمت آموز اقوال بھی منقول ہیں۔ | ||
| سطر 13: | سطر 32: | ||
جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شوق ان کے دل میں شدت اختیار کرگیا تو انہوں نے والدہ سے اجازت لے کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کے لیے [[مدینہ]] جانے کا ارادہ کیا۔ | جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شوق ان کے دل میں شدت اختیار کرگیا تو انہوں نے والدہ سے اجازت لے کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کے لیے [[مدینہ]] جانے کا ارادہ کیا۔ | ||
ان کی والدہ، جن کی خدمت کے لیے اویس کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہ تھا، نے کہا: اگر رسولِ خدا مدینہ میں موجود نہ ہوں تو وہاں ٹھہرنا نہیں بلکہ فوراً واپس آ | ان کی والدہ، جن کی خدمت کے لیے اویس کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہ تھا، نے کہا: اگر رسولِ خدا مدینہ میں موجود نہ ہوں تو وہاں ٹھہرنا نہیں بلکہ فوراً واپس آ جانا | ||
<ref>محمدرضا یکتایی/ اویس قرنی/ مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی/نوبت چاپ دوم/ ۱۳۷۹</ref>۔ | |||
اویس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے شوق میں مدینہ روانہ ہوئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے ہیں۔ | اویس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے شوق میں مدینہ روانہ ہوئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے ہیں۔ | ||
| سطر 138: | سطر 157: | ||
دنیا سے دھوکا نہ کھاؤ۔ اپنے آپ کو سنبھالو اور موت کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس طویل سفر کے لیے اپنی سواری تیار کرو، کیونکہ تمہارے سامنے ایک بہت طویل سفر ہے۔ تم بھی لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ اور خبردار کرو کہ کہیں دین سے خارج نہ ہوجاؤ۔ | دنیا سے دھوکا نہ کھاؤ۔ اپنے آپ کو سنبھالو اور موت کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس طویل سفر کے لیے اپنی سواری تیار کرو، کیونکہ تمہارے سامنے ایک بہت طویل سفر ہے۔ تم بھی لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ اور خبردار کرو کہ کہیں دین سے خارج نہ ہوجاؤ۔ | ||
پھر اویس نے مزید فرمایا کہ اے ہرم، جب تم سونے لگو تو موت کو اپنا تکیہ بنالو اور جب بیدار ہو تو موت کو اپنے سامنے | پھر اویس نے مزید فرمایا کہ اے ہرم، جب تم سونے لگو تو موت کو اپنا تکیہ بنالو اور جب بیدار ہو تو موت کو اپنے سامنے رکھو <ref>مجله گلبرگ فرودین ۱۳۸۴، شماره ۶۱ – ۱-یار یمنی(درگذشت اویس قرن)</ref>۔ | ||
== اویس قرنی اور علوی چاؤش == | |||
ایک دن اویس قرنی دریائے فرات کے کنارے وضو کر رہے تھے کہ انہیں ڈھول کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ حضرت علی مرتضیٰ کا لشکر [[معاویہ]] کے ساتھ [[جنگ]] کے لیے جارہا ہے۔ یہ چاؤش کی آواز ہے جو لوگوں کو میدان جنگ میں شرکت کی دعوت دے رہا ہے اور یہ حضرت علی کے لشکر کے ڈھول کی آواز ہے۔ | |||
اویس نے کہا کہ میرے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کی مدد اور ان کی پیروی سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مولا کی مدد اور ہمراہی کے لیے امیرالمؤمنین کے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔ | |||
ان کے دل میں یہ امید تھی کہ جہاد اور [[شہادت]] کی بلند چوٹی پر اپنے مولا علی علیہ السلام سے ملاقات ہوگی اور علوی مسکراہٹ کی شیرینی چکھنے کا موقع ملے گا۔ | |||
== امام علی علیہ السلام اویس کے منتظر == | |||
حضرت علی علیہ السلام کا لشکر معاویہ کے خلاف جنگ کے لیے [[کوفہ]] سے [[شام]] کی طرف روانہ ہوا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام صفین کی طرف جاتے ہوئے ذی قار نامی مقام پر پہنچے اور وہاں قیام فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ آج کوفہ کی طرف سے ایک ہزار افراد میرے پاس آئیں گے، نہ ایک کم نہ ایک زیادہ، اور وہ آخری دم تک میرے ساتھ بیعت کریں گے۔ | |||
عبداللہ بن عباس جو حضرت علی علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے، کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کی تعداد گننے لگا جو بیعت کے لیے آرہے تھے۔ تعداد نو سو ننانوے تک پہنچ گئی اور اس کے بعد کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آیا۔ میں نے کہا کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ ہوئی کہ حضرت نے یہ بات فرمائی تھی۔ | |||
اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پشمینہ پہنے ہوئے تھا اور اپنے کندھے پر اسلحہ اٹھائے ہوئے کوفہ کی طرف سے آرہا تھا۔ وہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔ | |||
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم مجھ سے کس بات پر بیعت کرو گے۔ | |||
اس نے عرض کیا کہ میں آپ کی بات سننے، آپ کے احکامات کی پیروی کرنے اور آپ کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرنے پر بیعت کرتا ہوں جب تک میری موت نہ آجائے یا اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا نہ فرمائے۔ | |||
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے۔ | |||
اس نے عرض کیا کہ اویس قرنی۔ | |||
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ اکبر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ میں ان کی امت کے ایک ایسے شخص سے ملاقات کروں گا جسے اویس قرنی کہا جاتا ہے۔ | |||
وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں سے ہے۔ اس کی موت شہادت ہوگی اور آخرت میں وہ ربیعہ اور مضر کے دو قبائل کی تعداد کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔ | |||
اویس کی وجہ سے شام کے ایک سپاہی کا عراق کے لشکر میں شامل ہونا | |||
جنگ صفین میں اویس قرنی کا امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونا حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے لیے باعث مسرت ہوا۔ اویس کا حق کے محاذ پر باطل کے خلاف شامل ہونا معاویہ کے لشکر پر بھی اثر انداز ہوا۔ | |||
جنگ کے پہلے ہی دن معاویہ کے لشکر کے ایک جنگجو نے امام علی علیہ السلام کے سپاہیوں سے پوچھا کہ کیا اویس قرنی تمہارے لشکر میں موجود ہیں۔ | |||
اسے جواب دیا گیا کہ ہاں، وہ ہمارے لشکر میں موجود ہیں، تم ان سے کیا چاہتے ہو۔ | |||
اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اویس قرنی بہترین تابعین میں سے ہیں، یعنی وہ مسلمان جو اصحاب رسول کے بعد اسلام لائے۔ | |||
یہ سن کر وہ شخص فوراً حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوگیا<ref>[https://oghaf-kermanshah1.blogfa.com/post/2 مروري بر احوال و زندگي اويس قرني و مرقد او]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 ستمبر 2026ء</ref>۔ | |||
== مرقد اور مزار اویس == | |||
حمد اللہ مستوفی نے اپنی کتاب تاریخ گزیدہ میں اویس کی تدفین کا ذکر کیا ہے اور ان کی قبر کو کرمان شاہ صوبے کے روانسر شہر سے تقریباً سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر قرار دیا ہے۔ کرمان شاہ کے محکمہ ثقافتی ورثہ اور محکمہ اوقاف و امور خیریہ کے پاس بھی اس بارے میں درست معلومات موجود نہیں ہیں۔ | |||
قابل توجہ بات یہ ہے کہ تذکرۃ الاولیاء عطار کے ایک حصے کو، جس کا عنوان اویس قرنی ہے، اس مقبرے کے صحن میں بڑے بڑے تختوں کی صورت میں نصب کیا گیا ہے۔ | |||
لیکن دیگر منابع میں اویس قرنی کا مرقد شام کے شہر رقہ میں عمار یاسر کی قبر کے بائیں جانب بیان کیا گیا ہے۔ ان کا مقدس مزار گنبد، بارگاہ، ایک چھوٹے حرم اور صحن پر مشتمل ہے۔ قبر کے نصف حصے کو ڈھانپنے والے پتھر پر، جو قبر کے سرہانے کی جانب رکھا گیا ہے، خط کوفی میں اویس کا نام لکھا ہوا ہے۔ | |||
جو لوگ رقہ شہر سے شام کی طرف جاتے ہوئے اویس کے مطہر مرقد کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، انہیں ان کی سادہ زندگی اور حقیقی زہد یاد آتا ہے اور اپنے مولا حضرت علی علیہ السلام کی رکاب میں ان کی جانفشانی اور قربانی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، جس کے باعث بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ | |||
اے اویس قرنی، تم پر سلام اور درود ہو۔ اے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے جانباز، تم پر سلام ہو۔ اے مخلص مجاہد، تم پر سلام ہو۔ اے بارگاہ کبریائی کے پاکیزہ بندے، تم پر سلام ہو۔ | |||
== مرقد اویس شیعہ اور سنی اتحاد کا مرکز == | |||
کرمان شاہ کے نواح میں ایک مقبرہ موجود ہے جو بقعہ ویس قرنی کے نام سے مشہور ہے۔ حال ہی میں کرمان شاہ اور سنندج کے سنی کرد باشندوں نے اس کی سادہ عمارت میں مزید تعمیرات کی ہیں اور بعض لوگ اس مقبرے میں مدفون شخصیت کو وہی ویس قرنی سمجھتے ہیں جو رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگ اصحاب میں سے تھے۔ | |||
اس علاقے کے لوگوں نے اس آرام گاہ کو اویس قرنی کی بلند اور پاکیزہ روح سے توسل اور تمسک کا ذریعہ بنایا ہے اور یہ ایک نہایت خوب صورت اور پسندیدہ امر ہے۔ یہاں تک کہ اویس کی محبت اور خوشبو کردی گیتوں میں بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے۔ | |||
آؤ ویس کے پاس چلیں تاکہ تمہارے کام آئیں | |||
تمہیں پھولوں کی طرح کھلائیں اور دل داری کے سوا کچھ نہ کریں | |||
آؤ ویس پیر و پیمانہ کے پاس چلیں | |||
ویس سے پوچھیں کہ ہمارے گناہوں کی مقدار کتنی ہے | |||
شیعہ امامیہ کے نزدیک بھی اویس قرنی کو امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ شیخ مفید نے اویس کا نام ان افراد میں ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے بیعت کی تھی۔ عرفان کے بزرگ عالم سید حیدر آملی نے بھی اویس کا نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص اصحاب، جیسے سلمان، ابوذر، عمار اور اصحاب صفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ | |||
چونکہ اویس بن عامر قرنی تابعین کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور بعض جلیل القدر علماء نے انہیں سید التابعین کے لقب سے یاد کیا ہے، اس لیے درویشوں کے نزدیک بھی انہیں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ روانسر کے بیشہ کوہ میں واقع ان کا مقبرہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد، اتفاق اور باہمی یکجہتی کے مراکز میں سے ایک کے طور پر توجہ کا مرکز ہے۔ | |||
موجودہ دور میں بھی اویس قرنی کا یہ مقبرہ ایک متولی کمیٹی کے ذریعے اور کرمان شاہ کے علاقے نمبر ایک کے محکمہ اوقاف و امور خیریہ کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے۔ ہر سال مختلف مواقع پر یہ مقام بڑی تعداد میں زائرین اور مسافروں کی میزبانی کرتا ہے۔ | |||
==حوالہ جات== | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:صحابہ]] | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | |||
[[زمرہ:یمن]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 21:52، 11 ستمبر 2026ء
| اویس قرنی | |
|---|---|
| پورا نام | اویس قرنی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 594ء |
| پیدائش کی جگہ | قرن، ردمان ، یمن |
| وفات | 657 م |
| وفات کی جگہ | صفین |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | تابعی اور امام علی علیہ السلام خاص اصحاب میں سے ایک |
اویس قرنی، (وفات: ۳۷ ہجری) یمن سے تعلق رکھنے والے تابعین کے بزرگوں میں سے اور صدرِ اسلام کے مشہور زاہدوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانۂ حیات ہی میں ایمان قبول کر لیا تھا، لیکن آپؐ کی زیارت کا شرف حاصل نہ کرسکے۔ اویس قرنی امام علی علیہ السلام کے وفادار اصحاب میں سے بھی تھے اور بالآخر جنگِ صفین میں شہید ہوئے۔ دنیا کی بے ثباتی اور موت کے قریب ہونے کے بارے میں ان سے کئی حکمت آموز اقوال بھی منقول ہیں۔
اویس قرنی عہدِ رسولِ اکرمؐ میں
اُویس بن عامر قَرَنی یمن کے علاقے قَرَن میں پیدا ہوئے۔ ان کا نسب یمن کے ایک قبیلے مذحج سے ملتا ہے۔ دسویں ہجری میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو اسلام کی تبلیغ کے لیے یمن روانہ فرمایا۔
حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ یمن کو اسلام کی دعوت دی اور لوگ جوق در جوق دینِ حق کو قبول کرنے لگے۔ اویس قرنی بھی معرفت و ہدایت کے نور کے مشتاق تھے اور جہالت و نادانی کی تاریکی انہیں اذیت دیتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے انتہائی شوق و جذبے کے ساتھ اسلام قبول کیا اور اسلام کے بہترین مبلغین میں شمار ہونے لگے۔
اویس کا رسولِ اکرمؐ سے ملاقات کے لیے سفر
اویس کی والدہ ایک بوڑھی، بیمار اور نابینا خاتون تھیں۔ اویس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایات کے مطابق اپنی والدہ کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک اور محبت سے پیش آتے اور ان کی خدمت کرتے تھے۔
جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کا شوق ان کے دل میں شدت اختیار کرگیا تو انہوں نے والدہ سے اجازت لے کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کے لیے مدینہ جانے کا ارادہ کیا۔
ان کی والدہ، جن کی خدمت کے لیے اویس کے علاوہ کوئی دوسرا موجود نہ تھا، نے کہا: اگر رسولِ خدا مدینہ میں موجود نہ ہوں تو وہاں ٹھہرنا نہیں بلکہ فوراً واپس آ جانا [1]۔ اویس رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے شوق میں مدینہ روانہ ہوئے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تشریف لے گئے ہیں۔
اویس جانتے تھے کہ رسولِ اکرمؐ اس بات سے راضی نہیں ہوں گے کہ ان کی ملاقات کے لیے ایک ماں کی خدمت اور اس کے حق کو نظرانداز کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مٹی کے گھر کی طرف آخری بار نگاہ ڈالی اور بڑی مشکل سے مدینہ سے واپس روانہ ہوگئے۔
جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ واپس تشریف لائے تو آپؐ سے عرض کیا گیا: یمن سے اویس نامی ایک چرواہا یہاں آیا تھا، اس نے آپؐ کو سلام پہنچایا اور واپس چلا گیا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، یہ اویس کا نور ہے جو ہمارے گھر میں اپنی امانت رکھ کر خود واپس چلا گیا ہے۔"
رسولِ اکرمؐ کی نظر میں اویس
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اویس قرنی کی فضیلت اور تکریم کے بارے میں متعدد احادیث منقول ہوئی ہیں۔ ایک حدیث میں آپؐ نے اویس کو اپنا دوست اور ساتھی اور بہترین و نیک تابعین میں سے قرار دیا ہے۔
رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہا اویس سے ملاقات کی خواہش کا اظہار فرماتے اور ارشاد فرماتے:"جو شخص اسے دیکھے، اسے میرا سلام پہنچائے۔"
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی یمن کی طرف رخ کرکے فرماتے:"میں یمن کی جانب سے اللہ کی خوشبو محسوس کرتا ہوں۔"
سلمان فارسیؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یمن سے آنے والی یہ خوشبو جس شخص کی ہے، وہ کون ہے؟ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
"یمن میں ایک شخص ہے جس کا نام اویس قرنی ہے۔ قیامت کے دن وہ اٹھایا جائے گا اور وہ ربیعہ اور مُضَر جیسے کثیر تعداد والے دو قبائل کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔"
ایک دوسری روایت میں منقول ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص اویس قرنی سے ملاقات کرے، وہ اسے میری طرف سے سلام پہنچائے اور اس سے اپنے لیے استغفار کی درخواست کرے۔
اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اویس قرنی کون ہے؟ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"اویس کی آنکھیں سیاہ مائل بہ نیلا ہیں، دونوں کندھوں کے درمیان ماہ گرفتگی کا نشان ہے، اس کا رنگ گندمی اور ٹھوڑی لمبی ہے، قد درمیانہ ہے... وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے اور اس کی آنکھوں سے ہمیشہ خوفِ خدا کے باعث آنسو جاری رہتے ہیں۔
اس کے پاس دو پرانے کپڑے ہیں۔ وہ زمین والوں میں گمنام ہے، لیکن آسمان والے اسے پہچانتے ہیں۔ اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اس کی قسم کو قبول فرماتا ہے۔ قیامت کے دن دوسرے لوگوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، لیکن اویس سے کہا جائے گا کہ ٹھہرو اور شفاعت کرو۔ اللہ تعالیٰ ربیعہ اور مُضَر کے دو قبیلوں کی تعداد کے برابر لوگوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا۔"
اویس قرنی عہدِ امام علیؑ میں
امیرالمؤمنینؑ اویس کے منتظر
منقول ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا لشکر معاویہ کے خلاف جنگ کے لیے کوفہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام صفین کی طرف جاتے ہوئے ذی قار نامی مقام پر پہنچے اور وہاں قیام فرمایا۔ آپؑ نے فرمایا:
آج کوفہ کی طرف سے میرے پاس ایک ہزار افراد آئیں گے، نہ ایک کم نہ ایک زیادہ، اور وہ آخری دم تک میرے ساتھ بیعت کریں گے۔
عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں بیعت کرنے والوں کی تعداد گننے لگا۔ جب تعداد ۹۹۹ تک پہنچ گئی اور کوئی دوسرا شخص نظر نہ آیا تو میں نے کہا: "إِنّا لِلّهِ وَإِنّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ"۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ حضرت نے یہ بات فرمائی تھی؟
اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پشمینہ پہنے ہوئے تھا اور اپنے کندھے پر اسلحہ اٹھائے کوفہ کی سمت سے آ رہا تھا۔ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کس بات پر مجھ سے بیعت کرو گے؟ اس نے عرض کیا: آپ کی بات سننے، آپ کے احکامات کی پیروی کرنے اور آپ کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرنے پر جب تک میری موت واقع نہ ہوجائے یا اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا نہ فرمائے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: اویس قرنی۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
"اللہ اکبر! رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ میں ان کی امت کے ایک ایسے شخص سے ملاقات کروں گا جسے اویس قرنی کہا جاتا ہے۔ وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں سے ہے۔ اس کی موت شہادت ہوگی اور آخرت میں وہ ربیعہ اور مُضَر کے دو قبائل کی تعداد کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔"
جنگِ صفین میں اویس قرنی کا امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونا حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کے لیے باعثِ خوشی ہوا۔ حق کے لشکر میں اویس کی آمد نے باطل کے لشکر، یعنی معاویہ کے لشکر پر بھی اثر ڈالا۔
یہاں تک کہ جنگ کے پہلے ہی دن معاویہ کے لشکر کے ایک جنگجو نے امام علی علیہ السلام کے سپاہیوں سے پوچھا: کیا اویس قرنی تمہارے لشکر میں موجود ہیں؟
جواب دیا گیا: ہاں، وہ موجود ہیں، تم ان سے کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
"اویس قرنی بہترین تابعین میں سے ہیں۔" یہ کہہ کر وہ شخص فوراً حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوگیا۔
شہادت اویس
اویس قرنی جنگ صفین میں سب سے آگے بڑھ کر جہاد کرنے والوں میں شامل تھے اور اللہ کی راہ میں موت کا استقبال کرنے کے لیے آمادہ تھے۔ اویس اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اے اللہ مجھے ایسی شہادت عطا فرما جو میرے لیے جنت کا باعث بنے۔ بالآخر وہ معاویہ کے لشکر کے ساتھ ایک سخت معرکے میں شہید ہوگئے۔
آج شام کے شمالی علاقے رقہ میں جو صفین کے قریب واقع ہے، اویس قرنی سے منسوب ایک مزار عمار یاسر کی قبر کے قریب موجود تھا۔ ان کا یہ مقدس مزار گنبد، بارگاہ، ایک چھوٹے سے حرم اور صحن پر مشتمل تھا۔
قبر کے نصف حصے کو ڈھانپنے والے پتھر پر، جو قبر کے سرہانے کی جانب رکھا گیا تھا، خط کوفی میں اویس کا نام لکھا ہوا تھا۔ لیکن 24 اردی بہشت 1393 کو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اپنی غیر انسانی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شام کے شہر رقہ میں اویس قرنی اور عمار یاسر کے مزارات کو مسمار کردیا۔
اویس کی خصوصیات اور حکمت آموز اقوال
اویس قرنی مسلمانوں میں زہد و تقویٰ کی ابتدائی مثالوں میں شمار ہوتے ہیں اور بعد میں صوفیا کے نزدیک بھی انہیں بلند مقام حاصل ہوا۔ تابعین میں انہیں آٹھ بڑے زاہدوں میں شمار کیا گیا ہے۔
اویس حضرت علی کے حواریوں میں
اویس قرنی حضرت علی علیہ السلام کے صرف ایک عام ساتھی نہیں تھے بلکہ آپ کے خاص حواریوں میں شمار ہوتے تھے۔ حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا منادی ندا دے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ حواری کہاں ہیں جو ان کی پیروی سے دست بردار نہیں ہوئے اور اپنے عہد پر قائم رہے۔
اس وقت سلمان، ابوذر اور مقداد جیسے نورانی چہرے والے افراد اٹھیں گے اور اپنا تعارف کرائیں گے۔ پھر منادی دوبارہ ندا دے گا کہ علی کے حواری کہاں ہیں۔ اس وقت امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ممتاز اصحاب میں سے محمد بن ابی بکر، میثم تمار اور اویس قرنی اٹھیں گے اور دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں گے۔
زہد اور سادہ زندگی
اویس قرنی اپنی زندگی میں ایک زاہد اور عارف انسان تھے۔ وہ معاش کے لیے محنت کرنے کو عبادت سمجھتے تھے اور سستی، کاہلی اور عیش و آرام کی زندگی سے مبارزہ کرتے تھے۔
کبھی اونٹ چراتے اور کبھی کھجور کی گٹھلیاں جمع کرتے، پھر رات کے وقت انہیں فروخت کرتے تھے۔ اپنی محنت کی کمائی سے اپنے لیے اور اپنی ناتواں والدہ کے لیے ایک سادہ زندگی کا انتظام کرتے اور اپنی اجرت میں سے جو کچھ بچ جاتا اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کردیتے تھے۔
وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے اور کبھی اپنا لباس بھی ضرورت مندوں کو دے دیتے تھے۔ اویس قرنی گوشہ نشین اور معاشرے سے الگ تھلگ رہنے والے زاہد نہیں تھے بلکہ ان کا زہد اللہ کی محبت، مادی وابستگیوں سے آزادی اور معاشرے کے محروم افراد کے لیے ہمدردی کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا۔
وہ اپنے آپ کو اللہ اور معاشرے کے سامنے ذمہ دار اور متعہد سمجھتے تھے اور حق کے دفاع اور ضرورت مندوں کی مدد میں کسی کوشش سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ ایک شخص نے جب ان کے حالات دریافت کیے تو اویس نے فرمایا کہ خدا کی قسم، موت اور اس کے غم و تکالیف اور قیامت کے دن کا خوف کسی صاحب ایمان کے لیے خوشی کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا۔
ہم نے اللہ کے حقوق ادا کرنے کے بعد ایک درہم و دینار بھی جمع نہیں کیا۔ حق و حقیقت کی حمایت نے ہمارے لیے لوگوں میں ایک بھی دوست باقی نہیں چھوڑا، کیونکہ جب ہم انہیں نیکیوں کی دعوت دیتے اور برائیوں سے روکتے ہیں تو وہ ہم سے ناراض ہوجاتے ہیں اور ہم پر ہزاروں عیب اور گناہوں کی تہمتیں لگاتے ہیں۔
بعض بے ایمان لوگ بھی اس کام میں ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، لیکن یہ لوگ ہمیں حق کے قیام اور باطل کے خاتمے کی جدوجہد سے کبھی نہیں روک سکتے۔
اویس قرنی سے اکثر ایسے حکمت آموز اقوال منقول ہیں جن میں دنیا کی بے اعتباری اور موت کی نزدیکی کا ذکر ملتا ہے۔
ایک شخص نے اویس قرنی سے نصیحت اور موعظہ طلب کیا۔ اویس نے اسے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں کتاب اللہ یعنی قرآن، رسولوں کی سنت اور صالح مومن حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کی وصیت کرتا ہوں۔
تم پر لازم ہے کہ موت کی یاد کو فراموش نہ کرو اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنے دل کو اللہ کی یاد سے غافل نہ ہونے دو۔ امت کے خیرخواہ بنو اور مسلمانوں کی جماعت سے جدائی اور تنہائی سے بچو، کیونکہ یہ دین سے جدائی کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ تم اس جدائی کے برے انجام سے آگاہ نہیں ہو اور اس کے نتیجے میں جہنم میں داخل ہوجاؤ گے۔
فضیلت کی تلاش
اویس قرنی نے فضیلت حاصل کرنے کے بارے میں ایک حکمت آموز بات بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایمان کتنا اچھا ہے جسے علم زینت عطا کرے، علم کتنا اچھا ہے جسے عمل زینت بخشے، عمل کتنا اچھا ہے جسے حلم و بردباری زینت عطا کرے اور حلم و صبر کتنا اچھا ہے جب وہ علم کے ساتھ مل جائے۔
اویس کے نزدیک ایمان کے ساتھ علم، علم کے ساتھ عمل، عمل کے ساتھ حلم اور آخر میں حلم کے ساتھ علم کا امتزاج انسان کو فضیلت اور کمال عطا کرتا ہے۔
اویس کے کلام میں قرآن سے انس و صحبت
اویس قرنی قرآن کریم کے ساتھ انس و صحبت کے اثرات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کوئی شخص قرآن کا ہم نشین نہیں بنتا مگر یہ کہ جب وہ اٹھتا ہے تو اس کے کمال میں اضافہ ہوچکا ہوتا ہے یا اس کی کوردلی اور گمراہی میں کمی آچکی ہوتی ہے۔ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت کا ذریعہ ہے، لیکن ظالموں کے لیے نقصان اور خسارے کے سوا کچھ نہیں۔
اویس کے نزدیک قرآن مومنوں کے لیے رشد، قوت اور کمال کا ذریعہ ہے، جبکہ ظالموں کے لیے کمزوری، تباہی اور شکست کا سبب بنتا ہے۔ اویس نے قرآن کریم کو اپنا بہترین ساتھی اور مونس بنا رکھا تھا۔ اسی لیے جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اویس کی نشانیاں بیان فرماتے تو یہ بھی فرماتے کہ اویس قرآن پڑھتا ہے اور اپنے حال پر روتا ہے۔
لوگوں کی تین گروہوں میں تقسیم
ایک دن اویس قرنی ایک مجلس میں موجود لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اس مجلس میں موجود لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہیں۔ ایک باخبر مومن، دوسرا بے خبر مومن اور تیسرا منافق۔
باخبر مومن اس بارش کی مانند ہے جو ایک سرسبز اور پھل دار درخت پر برستی ہے اور اس کی خوب صورتی اور تازگی میں اضافہ کرتی ہے۔
بے خبر مومن اس بارش کی مانند ہے جو ایسے درخت پر برستی ہے جس میں پھل نہیں ہوتا اور اس کے باوجود اس کی تازگی، خوب صورتی اور شاخوں اور پتوں کی سرسبزی میں اضافہ کردیتی ہے۔
منافق اس بارش کی مانند ہے جو خشک اور ٹوٹے ہوئے پودے پر برستی ہے اور اسے مزید توڑ پھوڑ کر بکھیر دیتی ہے۔
اویس کے کلام میں ناپائیدار دنیا
اویس قرنی نے ہرم بن حیان سے خطاب کرتے ہوئے موت کو ایک عالمگیر حقیقت قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اے ہرم بن حیان، کیا تم نہیں دیکھتے کہ لوگ ایک کے بعد ایک دنیا سے رخصت ہورہے ہیں۔ رسول اللہ، جو تمام مخلوقات میں سب سے افضل تھے، اس کمزور اور ناپائیدار دنیا سے رخصت ہوگئے۔
تمہارے والد آدم بھی وفات پاگئے۔ تمہاری والدہ حوا بھی وفات پاگئیں۔ حضرت نوح، اللہ کے نبی، بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ حضرت ابراہیم، خلیل اللہ، بھی وفات پاگئے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت داؤد، جو اللہ کے خلیفہ تھے، وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ میں اور تم بھی کل مردوں میں شامل ہوجائیں گے۔
دنیا سے دھوکا نہ کھاؤ۔ اپنے آپ کو سنبھالو اور موت کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اس طویل سفر کے لیے اپنی سواری تیار کرو، کیونکہ تمہارے سامنے ایک بہت طویل سفر ہے۔ تم بھی لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراؤ اور خبردار کرو کہ کہیں دین سے خارج نہ ہوجاؤ۔
پھر اویس نے مزید فرمایا کہ اے ہرم، جب تم سونے لگو تو موت کو اپنا تکیہ بنالو اور جب بیدار ہو تو موت کو اپنے سامنے رکھو [2]۔
اویس قرنی اور علوی چاؤش
ایک دن اویس قرنی دریائے فرات کے کنارے وضو کر رہے تھے کہ انہیں ڈھول کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ کیسی آواز ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ حضرت علی مرتضیٰ کا لشکر معاویہ کے ساتھ جنگ کے لیے جارہا ہے۔ یہ چاؤش کی آواز ہے جو لوگوں کو میدان جنگ میں شرکت کی دعوت دے رہا ہے اور یہ حضرت علی کے لشکر کے ڈھول کی آواز ہے۔
اویس نے کہا کہ میرے نزدیک حضرت علی علیہ السلام کی مدد اور ان کی پیروی سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے مولا کی مدد اور ہمراہی کے لیے امیرالمؤمنین کے لشکر کی طرف روانہ ہوگئے۔
ان کے دل میں یہ امید تھی کہ جہاد اور شہادت کی بلند چوٹی پر اپنے مولا علی علیہ السلام سے ملاقات ہوگی اور علوی مسکراہٹ کی شیرینی چکھنے کا موقع ملے گا۔
امام علی علیہ السلام اویس کے منتظر
حضرت علی علیہ السلام کا لشکر معاویہ کے خلاف جنگ کے لیے کوفہ سے شام کی طرف روانہ ہوا۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام صفین کی طرف جاتے ہوئے ذی قار نامی مقام پر پہنچے اور وہاں قیام فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ آج کوفہ کی طرف سے ایک ہزار افراد میرے پاس آئیں گے، نہ ایک کم نہ ایک زیادہ، اور وہ آخری دم تک میرے ساتھ بیعت کریں گے۔
عبداللہ بن عباس جو حضرت علی علیہ السلام کے چچا زاد بھائی تھے، کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کی تعداد گننے لگا جو بیعت کے لیے آرہے تھے۔ تعداد نو سو ننانوے تک پہنچ گئی اور اس کے بعد کوئی دوسرا شخص نظر نہیں آیا۔ میں نے کہا کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ ہوئی کہ حضرت نے یہ بات فرمائی تھی۔
اچانک میں نے ایک شخص کو دیکھا جو پشمینہ پہنے ہوئے تھا اور اپنے کندھے پر اسلحہ اٹھائے ہوئے کوفہ کی طرف سے آرہا تھا۔ وہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ سے بیعت کروں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم مجھ سے کس بات پر بیعت کرو گے۔ اس نے عرض کیا کہ میں آپ کی بات سننے، آپ کے احکامات کی پیروی کرنے اور آپ کے ساتھ اس وقت تک جنگ کرنے پر بیعت کرتا ہوں جب تک میری موت نہ آجائے یا اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا نہ فرمائے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا نام کیا ہے۔
اس نے عرض کیا کہ اویس قرنی۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ اکبر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے خبر دی تھی کہ میں ان کی امت کے ایک ایسے شخص سے ملاقات کروں گا جسے اویس قرنی کہا جاتا ہے۔
وہ اللہ اور اس کے رسول کے گروہ میں سے ہے۔ اس کی موت شہادت ہوگی اور آخرت میں وہ ربیعہ اور مضر کے دو قبائل کی تعداد کے برابر لوگوں کی شفاعت کرے گا۔
اویس کی وجہ سے شام کے ایک سپاہی کا عراق کے لشکر میں شامل ہونا
جنگ صفین میں اویس قرنی کا امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونا حضرت علی علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کے لیے باعث مسرت ہوا۔ اویس کا حق کے محاذ پر باطل کے خلاف شامل ہونا معاویہ کے لشکر پر بھی اثر انداز ہوا۔
جنگ کے پہلے ہی دن معاویہ کے لشکر کے ایک جنگجو نے امام علی علیہ السلام کے سپاہیوں سے پوچھا کہ کیا اویس قرنی تمہارے لشکر میں موجود ہیں۔
اسے جواب دیا گیا کہ ہاں، وہ ہمارے لشکر میں موجود ہیں، تم ان سے کیا چاہتے ہو۔
اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ اویس قرنی بہترین تابعین میں سے ہیں، یعنی وہ مسلمان جو اصحاب رسول کے بعد اسلام لائے۔ یہ سن کر وہ شخص فوراً حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہوگیا[3]۔
مرقد اور مزار اویس
حمد اللہ مستوفی نے اپنی کتاب تاریخ گزیدہ میں اویس کی تدفین کا ذکر کیا ہے اور ان کی قبر کو کرمان شاہ صوبے کے روانسر شہر سے تقریباً سولہ کلومیٹر کے فاصلے پر قرار دیا ہے۔ کرمان شاہ کے محکمہ ثقافتی ورثہ اور محکمہ اوقاف و امور خیریہ کے پاس بھی اس بارے میں درست معلومات موجود نہیں ہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ تذکرۃ الاولیاء عطار کے ایک حصے کو، جس کا عنوان اویس قرنی ہے، اس مقبرے کے صحن میں بڑے بڑے تختوں کی صورت میں نصب کیا گیا ہے۔
لیکن دیگر منابع میں اویس قرنی کا مرقد شام کے شہر رقہ میں عمار یاسر کی قبر کے بائیں جانب بیان کیا گیا ہے۔ ان کا مقدس مزار گنبد، بارگاہ، ایک چھوٹے حرم اور صحن پر مشتمل ہے۔ قبر کے نصف حصے کو ڈھانپنے والے پتھر پر، جو قبر کے سرہانے کی جانب رکھا گیا ہے، خط کوفی میں اویس کا نام لکھا ہوا ہے۔
جو لوگ رقہ شہر سے شام کی طرف جاتے ہوئے اویس کے مطہر مرقد کے پاس کھڑے ہوتے ہیں، انہیں ان کی سادہ زندگی اور حقیقی زہد یاد آتا ہے اور اپنے مولا حضرت علی علیہ السلام کی رکاب میں ان کی جانفشانی اور قربانی کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، جس کے باعث بے اختیار ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔
اے اویس قرنی، تم پر سلام اور درود ہو۔ اے اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے جانباز، تم پر سلام ہو۔ اے مخلص مجاہد، تم پر سلام ہو۔ اے بارگاہ کبریائی کے پاکیزہ بندے، تم پر سلام ہو۔
مرقد اویس شیعہ اور سنی اتحاد کا مرکز
کرمان شاہ کے نواح میں ایک مقبرہ موجود ہے جو بقعہ ویس قرنی کے نام سے مشہور ہے۔ حال ہی میں کرمان شاہ اور سنندج کے سنی کرد باشندوں نے اس کی سادہ عمارت میں مزید تعمیرات کی ہیں اور بعض لوگ اس مقبرے میں مدفون شخصیت کو وہی ویس قرنی سمجھتے ہیں جو رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگ اصحاب میں سے تھے۔
اس علاقے کے لوگوں نے اس آرام گاہ کو اویس قرنی کی بلند اور پاکیزہ روح سے توسل اور تمسک کا ذریعہ بنایا ہے اور یہ ایک نہایت خوب صورت اور پسندیدہ امر ہے۔ یہاں تک کہ اویس کی محبت اور خوشبو کردی گیتوں میں بھی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے۔
آؤ ویس کے پاس چلیں تاکہ تمہارے کام آئیں
تمہیں پھولوں کی طرح کھلائیں اور دل داری کے سوا کچھ نہ کریں
آؤ ویس پیر و پیمانہ کے پاس چلیں
ویس سے پوچھیں کہ ہمارے گناہوں کی مقدار کتنی ہے
شیعہ امامیہ کے نزدیک بھی اویس قرنی کو امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ شیخ مفید نے اویس کا نام ان افراد میں ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے بیعت کی تھی۔ عرفان کے بزرگ عالم سید حیدر آملی نے بھی اویس کا نام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص اصحاب، جیسے سلمان، ابوذر، عمار اور اصحاب صفہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
چونکہ اویس بن عامر قرنی تابعین کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور بعض جلیل القدر علماء نے انہیں سید التابعین کے لقب سے یاد کیا ہے، اس لیے درویشوں کے نزدیک بھی انہیں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ روانسر کے بیشہ کوہ میں واقع ان کا مقبرہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد، اتفاق اور باہمی یکجہتی کے مراکز میں سے ایک کے طور پر توجہ کا مرکز ہے۔
موجودہ دور میں بھی اویس قرنی کا یہ مقبرہ ایک متولی کمیٹی کے ذریعے اور کرمان شاہ کے علاقے نمبر ایک کے محکمہ اوقاف و امور خیریہ کی نگرانی میں چلایا جاتا ہے۔ ہر سال مختلف مواقع پر یہ مقام بڑی تعداد میں زائرین اور مسافروں کی میزبانی کرتا ہے۔
حوالہ جات
- ↑ محمدرضا یکتایی/ اویس قرنی/ مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی/نوبت چاپ دوم/ ۱۳۷۹
- ↑ مجله گلبرگ فرودین ۱۳۸۴، شماره ۶۱ – ۱-یار یمنی(درگذشت اویس قرن)
- ↑ مروري بر احوال و زندگي اويس قرني و مرقد او-اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 ستمبر 2026ء