مندرجات کا رخ کریں

"سید مرتضی آوینی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:سید مرتضی آوینی کو سید مرتضی آوینی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 5 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبه اطلاعات شخصیت
 
| عنوان = سید مرتضی آوینی
{{Infobox person
| تصویر = سید مرتضی آوینی.jpg
| title = سید مرتضی آوینی  
| نام = سید مرتضی آوینی
| image = سید مرتضی آوینی.jpg
| نام‌های دیگر = {{فهرست جعبه افقی| کامران| سید شہداء اہل قلم}}
| name = سید مرتضی آوینی
| سال تولد = 1326 ہجری شمسی
| other names = کامران| سید شہداء اہل قلم  
| تاریخ تولد = 21 شہریور  
|brith year = 1326 ش
| محل تولد = [[ری|شہر ری]]
| brith date = 21 شہریور  
| سال درگذشت = 1372 ہجری شمسی
| birth place = شہر ری
| تاریخ درگذشت = 20 فروردین   
|death year = 1372ش 
| محل درگذشت = {{فهرست جعبه افقی|فکہ |[[استان خوزستان|خوزستان]]}}
| death date =20 فروردین   
| استادان =  
| death place = فکہ خوزستان
| شاگردان =  
| teachers =  
| دین = [[اسلام]]
| students =  
| مذهب = [[مذهب شیعه|شیعہ]]
| religion = [[اسلام]]  
| آثار = {{فهرست جعبه افقی|روایت فتح| مجلہ سورہ میں مغربی تہذیب پر تنقیدی مضامین| منتخب فلمیں}}
| faith = [[شیعہ]]
| فعالیت‌ها = {{فهرست جعبه افقی| دستاویزی فلم ساز| مصور| صحافی| مصنف اور اسلامی سنیما کے نظریہ ساز| مجموعہ مستند روایت فتح}}
| works = روایت فتح| مجلہ سورہ میں مغربی تہذیب پر تنقیدی مضامین| منتخب فلمیں
| وبگاه =
| known for = دستاویزی فلم ساز| مصور| صحافی| مصنف اور اسلامی سنیما کے نظریہ ساز| مجموعہ مستند روایت فتح  
}}  
}}


'''سید مرتضی آوینی'''، دستاویزی فلم ساز، مصور، صحافی، مصنف اور اسلامی سنیما کے نظریہ ساز، اور مجموعہ مستند «روایت فتح» کے ہدایت کار اور مصنف تھے جو 20 فروردین 1372 ہجری شمسی، کو [[استان خوزستان]] کے علاقے فکہ میں فلم بندی کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے سے [[شہادت]] پا گئے اور ان کی میت 22 فروردین کو [[سید علی حسینی خامنه‌ای|امام خامنہ‌ای]]، فنکاروں اور مصنفین کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئی اور گلزار شہداء بہشت زہرا میں دفن کیا گیا۔
'''سید مرتضی آوینی'''، دستاویزی فلم ساز، مصور، صحافی، مصنف اور اسلامی سنیما کے نظریہ ساز، اور مجموعہ مستند «روایت فتح» کے ہدایت کار اور مصنف تھے جو 20 فروردین 1372 ہجری شمسی، کو [[استان خوزستان]] کے علاقے فکہ میں فلم بندی کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے سے [[شہادت]] پا گئے اور ان کی میت 22 فروردین کو [[سید علی حسینی خامنه‌ای|امام خامنہ‌ای]]، فنکاروں اور مصنفین کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئی اور گلزار شہداء بہشت زہرا میں دفن کیا گیا۔
سطر 34: سطر 34:


===نظریاتی آثار===
===نظریاتی آثار===
[[پرونده: نوشته آوینی.jpg|بی‌قاب|چپ|]]
[[فا‏ئل: نوشته آوینی.jpg|تصغیر|بائیں|]]
آوینی کا دستخط شدہ خط جس پر لکھا تھا: '''ہمیں یہ وہم ہے کہ ہم باقی رہے لیکن شہداء چلے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت نے ہمیں اپنے ساتھ بہا لیا، لیکن شہداء باقی رہے'''.  
آوینی کا دستخط شدہ خط جس پر لکھا تھا: '''ہمیں یہ وہم ہے کہ ہم باقی رہے لیکن شہداء چلے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت نے ہمیں اپنے ساتھ بہا لیا، لیکن شہداء باقی رہے'''.


===مضامین===  
===مضامین===  
سطر 82: سطر 82:
== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[شہادت]]
* [[شہادت]]
* [[صوبہ خوزستان]]
* [[جنگ |جنگ ایران و عراق]]
* [[جنگ ایران و عراق]]
* [[سید علی خامنہ ای|سید علی حسینی خامنہ‌ای]]
* [[سید علی حسینی خامنہ‌ای]]
== حوالہ جات ==
 
== حواشی ==
== ماخذ ==
* [https://www.aviny.com/%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8C/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%E2%80%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8A/%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B2% شہید کی سوانح حیات کا مختصر تعارف، شہید آوینی فکر و فن انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: بدون تاریخ، مواد دیکھنے کی تاریخ: 20 فروردین 1404 ہجری شمسی۔   
* [https://www.aviny.com/%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8C/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%E2%80%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8A/%D9%85%D8%AE%D8%AA%D8%B5%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%B2% شہید کی سوانح حیات کا مختصر تعارف، شہید آوینی فکر و فن انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: بدون تاریخ، مواد دیکھنے کی تاریخ: 20 فروردین 1404 ہجری شمسی۔   
* [https://www.mfpa.ir/fa/news/8368/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%DB%8C%DB%8C-%D8%A8%D8%A7-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8A شہید مرتضی آوینی کی سوانح حیات سے آگاہی، پیام آزادگان فرهنگی و هنری انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: بدون تاریخ، مواد دیکھنے کی تاریخ: 20 فروردین 1404 ہجری شمسی۔   
* [https://www.mfpa.ir/fa/news/8368/%D8%A2%D8%B4%D9%86%D8%A7%DB%8C%DB%8C-%D8%A8%D8%A7-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%B4%D9%87%DB%8C%D8%AF-%D9%85%D8%B1%D8%AA%D8%B6%DB%8C-%D8%A2%D9%88%DB%8C%D9%86%DB%8A شہید مرتضی آوینی کی سوانح حیات سے آگاہی، پیام آزادگان فرهنگی و هنری انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ]، اشاعت کی تاریخ: بدون تاریخ، مواد دیکھنے کی تاریخ: 20 فروردین 1404 ہجری شمسی۔   
سطر 93: سطر 90:
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:ایران]]
[[زمرہ:ایران]]
[[fa:سید مرتضی آوینی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 18:08، 1 اگست 2026ء

سید مرتضی آوینی
پورا نامسید مرتضی آوینی
دوسرے نامکامران
ذاتی معلومات
پیدائش1326 ش
یوم پیدائش21 شہریور
پیدائش کی جگہشہر ری
وفات1372ش
یوم وفات20 فروردین
وفات کی جگہفکہ خوزستان
مذہباسلام، شیعہ
اثراتروایت فتح
مناصبدستاویزی فلم ساز

سید مرتضی آوینی، دستاویزی فلم ساز، مصور، صحافی، مصنف اور اسلامی سنیما کے نظریہ ساز، اور مجموعہ مستند «روایت فتح» کے ہدایت کار اور مصنف تھے جو 20 فروردین 1372 ہجری شمسی، کو استان خوزستان کے علاقے فکہ میں فلم بندی کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے سے شہادت پا گئے اور ان کی میت 22 فروردین کو امام خامنہ‌ای، فنکاروں اور مصنفین کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئی اور گلزار شہداء بہشت زہرا میں دفن کیا گیا۔

سوانح حیات

سید مرتضی آوینی 21 شہریور 1326 ہجری شمسی، کو شہر ری میں، تہران کے جنوب میں، ایک مسلمان متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

انہوں نے ابتدائی اور ہائی اسکول کی تعلیم زنجان، کرمان اور تہران میں حاصل کی اور 1344 ہجری شمسی میں یونیورسٹی میں داخل ہوئے اور دانشگاه تهران سے معماری میں ماسٹر ڈگری کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے۔

فنکارانہ سرگرمیاں

ایران کے اسلامی انقلاب کے دوران، آوینی نے دستاویزی فلموں کے ہدایت کار کے طور پر اپنی فنکارانہ سرگرمیاں شروع کیں اور وہ جنگی فلم سازوں میں سے ایک ممتاز شخصیت تھے۔ انہوں نے جنگ ایران و عراق کے بارے میں 80 سے زیادہ فلمیں بنائیں اور فلم بندی کے بنیادی طریقے ایجاد کیے اور شیعہ کے عرفانی خیالات کی بنیاد پر ایران عراق جنگ کے باطنی پہلو کو تصویر میں ڈھالا۔ ان کے زیادہ تر کام بسیجیوں کی جنگ کی تفہیم اور اس میں ان کے کردر کی عکاسی کے لیے وقف تھے۔ ان کا مشہور ترین اثر مجموعہ مستند روایت فتح ہے جو ایران عراق جنگ کے دوران فلمایا گیا۔

آثار

روایت فتح

روایت فتح جنگ ایران و عراق کی ایک لامحدود دستاویزی فلم تھی جو ایرانی فوجیوں کی روزمرہ کی زندگی پر مرکوز تھی۔ اس سیریز میں پانچ سیریز شامل تھیں اور یہ جنگ کے روحانی پہلوؤں سے نمٹتی تھی۔ اس فلم نے اپنی نظریاتی روایت کے ذریعے ایک لامحدود روحانی تجربے کو تصویر میں ڈھالا۔

نظریاتی آثار

آوینی کا دستخط شدہ خط جس پر لکھا تھا: ہمیں یہ وہم ہے کہ ہم باقی رہے لیکن شہداء چلے گئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وقت نے ہمیں اپنے ساتھ بہا لیا، لیکن شہداء باقی رہے.

مضامین

انہوں نے مجلہ سورہ میں مغربی تہذیب پر تنقید کے بارے میں مضامین کا ایک سلسلہ لکھا، جو بعد میں ان کی فلم (سراب) کا موضوع بنا۔

منتخب فلمیں

  • ترکمن صحرا میں چھ دن؛
  • خوزستان کا سیلاب؛
  • خان گزیدہ ہا؛
  • حقیقت؛
  • بشاگرد میں ڈاکٹر جہاد کے ساتھ؛
  • بلوچستان کی سات کہانیاں؛
  • محور رأس‌البیشہ میں ٹیپ المہدی کے ساتھ؛
  • خدا کے شیر مرد! کرب و بلا انتظار میں ہے؛
  • آسمان میں ایک شہر۔

کتب

بی‌قاب|چپ|

  • ہر وہ جو خود کے سوا؛

| جادوئی آئینہ؛

  • ترقی اور مغربی تہذیب کے بنیادی اصول؛
  • آسمانی خزانہ؛
  • ایک پائیدار تجربہ؛
  • ایک اور کل؛
  • گھر سے چپکنے والے گھونگھے؛
  • جان کی قیامت؛
  • ایک اختتام کا آغاز؛
  • خون کی فتح؛
  • امام اور انسان کی باطنی زندگی؛
  • مجھ سے بات کرو دوکوہہ؛
  • آسمان کا مرکز؛
  • زندگی کی نسیم؛
  • نور کی سرزمین کا سفر؛
  • انفطار صورت (فن کے نظریاتی بنیادوں کے بارے میں)۔

شہادت

سید مرتضی آوینی، 20 فروردین 1372 ہجری شمسی کو، استان خوزستان کے علاقے فکہ میں فلم بندی کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے سے شہادت پا گئے اور ان کی میت 22 فروردین کو مقام معظم رہبری، فنکاروں اور مصنفین کی موجودگی میں سپرد خاک کی گئی اور گلزار شہداء بہشت زہرا میں دفن کیا گیا[1]۔

یوم شہادت کی نامزدگی

امام خامنہ‌ای نے آوینی کی شہادت کے بعد، انہیں «سید شہداء اہل قلم» قرار دیا اور ان کی شہادت کی مناسبت سے، ایران کے کیلنڈر اسلامی جمہوریہ ایران میں ان کی یاد میں بیسواں روز فروردین «یوم اسلامی انقلاب فن» کے نام سے منسوب کیا گیا ہے[2]۔

امام خامنہ‌ای کی زبانی شہید آوینی

نہیں چاہیے کہ ان کے کام (شہید آوینی) ادھورے رہ جائیں۔ یہ کام بہت قیمتی تھے۔ ظاہر ہے کہ ان میں بہت زیادہ صلاحیت تھی کہ انہوں نے اتنا کام اور یہ سب کچھ اتنی اچھی طرح انجام دیا۔ خاص طور پر یہ روایت فتح بہت اہم چیز ہے۔ جن راتوں کو یہ نشر ہوتا تھا، میں سنتا تھا۔ ظاہراً تین سے چار قسطیں ہی نشر ہو سکیں۔ اب ایک مسئلہ یہ ہے کہ ان کے کیے ہوئے اور تیار شدہ کام سے کیسے فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کام جاری رہے۔ اس روز جب ہم ان حضرات سے درخواست کر رہے تھے اور میں زور دے رہا تھا کہ یہ روایت فتح جاری رہے، مجھے درست طور پر معلوم نہیں تھا کہ یہ کیسے جاری رہے گا۔ بعد جب پروگرام نشر ہوئے تو دیکھا کہ یہی بات ہے۔ یعنی یادوں میں دفاع مقدس کی اقدار کو زندہ کرنا۔ ان یادوں کو ایک ایک کر کے زبانوں سے نکالنا۔ اور انہیں تصویر میں ڈھالنا اور جنگ کے اس ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنا۔ یہی وہ کام تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اور جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، بہتر ہوتا گیا۔ یعنی پختہ تر ہوتا گیا۔ کیونکہ یہ ایک ان کیا کام تھا۔ یہ اس بات سے مختلف تھا کہ جنگ کے میدان میں جائیں اور مجاہدین سے بات کریں۔ وہ کام بہت آسان تھا۔ یہ کام زیادہ فنکارانہ اور دشوار تھا اور زیادہ فکری و فنکارانہ کوشش کا متقاضی تھا۔ ابتدا انہوں نے شروع کیا اور پھر آہستہ آہستہ بہتر اور پختہ تر ہوتا گیا۔ میں قیاس کرتا ہوں کہ اگر وہ زندہ رہتے اور جاری رکھتے تو یہ کام بہت عروج پاتا۔ اب بھی اس پروگرام کو جاری رکھنا چاہیے۔ تازہ یہ اسی میدان تک محدود نہیں ہے۔ یعنی یادوں کے ذریعے اس ماحول کی دوبارہ تخلیق کاموں میں سے ایک ہے۔ جنگ کے بارے میں اور روایت فتح کو جاری رکھنے کے حوالے سے شاید دیگر کام بھی کیے جا سکیں۔ افسوس ہوگا اگر یہ کام بند ہو جائے۔ مجھے آپ سے ملاقات کر کے بہت خوشی ہوئی[3].

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات