"احمد حسن البکر" کے نسخوں کے درمیان فرق
Halimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:احمد حسن البکر کو احمد حسن البکر کی جانب منتقل کیا |
||
| (2 صارفین 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 17: | سطر 17: | ||
| known for = عراقی حزب بعث پارٹی کے سینئر رہنما جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔}} | | known for = عراقی حزب بعث پارٹی کے سینئر رہنما جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔}} | ||
'''احمد حسن البکر،''' عراقی سیاست دان اور فوجی افسر جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ احمد حسن البکر | '''احمد حسن البکر،''' عراقی سیاست دان اور فوجی افسر جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ احمد حسن البکر عراقی بعث پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۶۸ عیسوی کا وہ بغاوت جسے بعث پارٹی کی حمایت حاصل تھی، انہیں اقتدار تک لے گیا۔ ان کی حکمرانی کا دور عراق میں بعث پارٹی کی آمرانہ حکومت کا آغاز تھا جو ۲۰۰۳ عیسوی تک جاری رہی۔ | ||
== سوانح حیات == | == سوانح حیات == | ||
| سطر 23: | سطر 23: | ||
== سیاسی اور فوجی سرگرمیاں == | == سیاسی اور فوجی سرگرمیاں == | ||
احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ ۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے [[عبد الکریم قاسم]] کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ | احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔ | ||
۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے [[عبد الکریم قاسم]] کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ | |||
۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔ | |||
1971 میں عراق اور [[امریکہ]] کے تعلقات خراب ہونے لگے اور ۱۹۷۲ عیسوی میں عراق اور سابق سوویت یونین کے درمیان ۱۵ سالہ دوستی کے معاہدے پر دستخط نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے پہلے نصف میں، عراقی کرد جو البکر کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے، بادشاہی [[ایران]] کی طرف سے ہتھیاروں سے لیس کیے جا رہے تھے۔ اس مسئلے نے ایران اور عراق کے تعلقات کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ آخرکار ۱۹۷۵ عیسوی کے الجزائر معاہدے پر دستخط سے ان کشیدگیوں میں کافی کمی آئی۔ | |||
== اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار == | == اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار == | ||
| سطر 29: | سطر 35: | ||
== وفات == | == وفات == | ||
اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے [[اسلامی انقلاب ایران]] کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔ | اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے [[انقلاب اسلامی|اسلامی انقلاب ایران]] کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔ | ||
== مزید دیکھیں == | == مزید دیکھیں == | ||
*[[اسلامی | *[[انقلاب اسلامی]] | ||
*[[سید محمد باقر صدر]] | *[[سید محمد باقر صدر]] | ||
*[[بعث | *[[حزب بعث]] | ||
*[[عراق]] | *[[عراق]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 19:13، 20 مئی 2026ء
| احمد حسن البکر | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | احمد حسن البکر |
| دوسرے نام | حسن البکر |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1913 م |
| پیدائش کی جگہ | تکریت، عراق |
| وفات | 1982 م |
| یوم وفات | 03 اكتبر |
| وفات کی جگہ | بغداد، عراق |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | عراقی حزب بعث پارٹی کے سینئر رہنما جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ |
احمد حسن البکر، عراقی سیاست دان اور فوجی افسر جو ۱۹۶۸ سے ۱۹۷۹ عیسوی تک اس ملک کے صدر رہے۔ احمد حسن البکر عراقی بعث پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور ۱۹۶۸ عیسوی کا وہ بغاوت جسے بعث پارٹی کی حمایت حاصل تھی، انہیں اقتدار تک لے گیا۔ ان کی حکمرانی کا دور عراق میں بعث پارٹی کی آمرانہ حکومت کا آغاز تھا جو ۲۰۰۳ عیسوی تک جاری رہی۔
سوانح حیات
احمد حسن البکر ۱۹۱۴ عیسوی میں شہر تکریت، عراق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ۱۹۳۶ عیسوی میں وہ عراقی فوج میں شامل ہوئے اور بتدریج فوجی عہدوں پر ترقی پاتے رہے۔ ۱۹۵۳ عیسوی سے انہوں نے فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی قدم رکھا۔
سیاسی اور فوجی سرگرمیاں
احمد حسن البکر ان سینئر عراقی فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ۱۹۵۸ عیسوی کی بغاوت میں عراقی ایئر بیسز پر قبضہ کر کے بادشاہ فیصل کی بادشاہت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس بغاوت نے عراق میں بادشاہت کے نظام کا خاتمہ کر دیا۔
۱۹۶۳ عیسوی میں انہوں نے عبد الکریم قاسم کے خلاف بغاوت میں بھی حصہ لیا۔ عبدالسلام عارف کی حکومت کے دوران وہ کچھ عرصے تک عراق کے وزیر اعظم رہے اور عبدالرحمن عارف کی صدارت کے دوران وہ نائب صدر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
۱۹۶۸ عیسوی میں، احمد حسن البکر نے عراقی بعث پارٹی کی حمایت سے دوبارہ بغاوت کی اور اس بار خود اقتدار سنبھال لیا۔ یہ بغاوت ایک آمرانہ اور خونریز حکومت کا آغاز تھا جس نے تقریباً ۳۵ سال تک عراق کو داخلی جبر، علاقائی جنگوں اور وسیع انسانی بحرانوں میں الجھاے رکھا۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد، البکر نے عراق میں شدید دہشت کا ماحول پیدا کیا اور ہر قسم کی سیاسی مخالفت کو سختی سے کچل دیا۔
1971 میں عراق اور امریکہ کے تعلقات خراب ہونے لگے اور ۱۹۷۲ عیسوی میں عراق اور سابق سوویت یونین کے درمیان ۱۵ سالہ دوستی کے معاہدے پر دستخط نے اس کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی کے پہلے نصف میں، عراقی کرد جو البکر کی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے، بادشاہی ایران کی طرف سے ہتھیاروں سے لیس کیے جا رہے تھے۔ اس مسئلے نے ایران اور عراق کے تعلقات کو جنگ کے دہانے تک پہنچا دیا۔ آخرکار ۱۹۷۵ عیسوی کے الجزائر معاہدے پر دستخط سے ان کشیدگیوں میں کافی کمی آئی۔
اقتدار سے دستبرداری اور صدام حسین کا کردار
احمد حسن البکر کی حکمرانی کے آغاز سے ہی، ان کے نائب صدام حسین نے عملی طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور بتدریج مطلق اقتدار حاصل کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ ۱۹۷۹ عیسوی میں، ۱۹۵۸ کی بغاوت کی سالگرہ کی تقریبات کے موقع پر، صدام حسین نے ایک منظم سازش کے ذریعے احمد حسن البکر کو اقتدار سے دستبردار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس سازش کے تحت، صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان التکریتی نے احمد حسن البکر کے بیٹے ہیثم کو یرغمال بنا کر اس وقت کے عراقی صدر پر دباؤ ڈالا۔ البکر مجبور ہو گئے کہ ایک ٹیلی ویژن تقریر میں، طے شدہ متن کے مطابق، صدام حسین کو نئے صدر کے طور پر متعارف کرائیں اور اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
وفات
اقتدار سے دستبرداری کے بعد، احمد حسن البکر کو مکمل طور پر عراقی سیاست سے خارج کر دیا گیا اور اپنی زندگی کے آخری مہینے وہ مکمل تنہائی میں گزارے۔ ان کا عراق سے باہر کا ہر رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ اس دوران، انہوں نے اسلامی انقلاب ایران کو تسلیم کرنے اور ایران کے نئے رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی کا مطالبہ کیا، لیکن بعث پارٹی کی قیادت میں صدام کے دھڑے نے اس موقف کی مخالفت کی۔ احمد حسن البکر آخر کار ۴ اکتبر ۱۹۸۲ عیسوی کو، ۶۸ سال کی عمر میں، تنہائی میں انتقال کر گئے۔
مزید دیکھیں
حوالہ جات
- ایک آمر کا انجام/ صدام حسین کے اقتدار میں آنے کی بغاوت، دفاع مقدس نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ، اشاعت کی تاریخ: ۲۶ تیر ۱۳۹۲ شمسی، مشاہدے کی تاریخ: ۳ اسفند ۱۴۰۴ شمسی۔
