"ابن ملجم" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابن ملجم کو ابن ملجم کی جانب بدون رجوع مکرر منتقل کیا |
||
| (2 صارفین 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | |||
| title = ابن ملجم | |||
| image = ابن ملجم - 1.jpg | |||
| name = عبدالرحمن بن عمرو بن مُلجَم مرادی | |||
| other names = اَشقَی الاَولّینَ وَ الآخرین | |||
| brith year = | |||
| brith date = 1 جون | |||
| birth place = انڈونیشیا | |||
| death year = 30 ق | |||
| death date = | |||
| death place = کوفه | |||
| teachers = | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[خوارج]] | |||
| works = | |||
| known for = [[خوارج |خوارج نہروان]] میں سے تھا اور حضرت [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابیطالب]]، شیعون کے پهلے امام کا قاتل ہے }} | |||
'''عبدالرحمن بن عمرو بن مُلجَم مرادی''' معروف به '''ابن مُلجَم مرادی''' [[خوارج |خوارج نہروان]] میں سے تھا اور حضرت [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابیطالب]]، [[شیعہ|شیعون]] کے پهلے امام کا قاتل ہے ۔ ابن ملجم نے علی (علیہ السلام) کی خلافت پر پہنچنے کے بعد ان سے بیعت کی، جنگ جمل میں ان کے ساتھ لڑا اور جنگ صفین اور حکمیت کے خاتمے کے بعد [[خوارج]] میں شامل ہو گیا۔ اس نے جنگ نہروان میں علی (علیہ السلام) کے خلاف لڑائی کی اور اس جنگ سے بچ جانے والے چند افراد میں سے تھا۔ اس نے 19 [[رمضان]] کی صبح سویرے [[مسجد]] کوفہ میں امام علی (علیہ السلام) پر وار کیا جس کے نتیجے میں اس امام راستین کی شہادت واقع ہوئی۔ روایات اهل بیت (علیہ السلام) کے مطابق شیعوں کے ہاں وہ «اَشقَی الاَولّینَ وَ الآخرین» اور «اشقی الاشقیاء» کے نام سے مشہور ہے۔ | |||
== ابن ملجم مرادی کون تھا == | == ابن ملجم مرادی کون تھا == | ||
عبدالرحمن بن عمرو بن ملجم مرادی، معروف بہ ابن ملجم، [[خوارج]] میں سے ایک تھا جو حضرت علی (علیہ السلام) کو | عبدالرحمن بن عمرو بن ملجم مرادی، معروف بہ ابن ملجم، [[خوارج]] میں سے ایک تھا جو حضرت علی (علیہ السلام) کو شہید کرنے کے ارادے سے [[کوفہ]] آیا اور قطام کے اکسانے پر اس کام پر زیادہ مائل ہوا اور آخر کار انیسویں رمضان کے صبح اپنا شوم منصوبہ عملی جامہ پہنایا، لیکن گویا اس کی خوشی زیادہ دیر نہ چلی اور تھوڑی ہی مدت میں وہ اپنے عمل کی سزا کو پہنچا، یہاں تک کہ موت کے بعد بھی ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہا!؟ | ||
ابن ملجم مرادی کا نسب عربی تھا اور وہ قبیلہ بنی مراد سے تھا، اس نے [[قرآن]] اور [[اسلام]] معاذ بن جبل سے سیکھا اور اس کے بعد | ابن ملجم مرادی کا نسب عربی تھا اور وہ قبیلہ بنی مراد سے تھا، اس نے [[قرآن]] اور [[اسلام]] معاذ بن جبل سے سیکھا اور اس کے بعد عمرو بن عاص کی قرآن کی تعلیم میں مدد کی اور [[مصر]] کی فتح میں عمرو عاص کے ساتھ رہا۔ | ||
مصر کی فتح کے بعد ابن ملجم نے کچھ عرصہ وہاں قرآن اور [[فقہ]] کی تعلیم دی اور علی (علیہ السلام) کی خلافت پر پہنچنے کے بعد اس نے حضرت سے بیعت کی اور جنگ جمل میں حاضر تھا، لیکن حکمیت کے واقعے کے بعد خوارج میں شامل ہو گیا | |||
اور اس کے بعد ابن ملجم، عمرو بن بکیر اور برک بن عبداللہ اکٹھے ہوئے اور مکہ میں فیصلہ کیا کہ شب قدر میں علی، معاویہ اور عمرو عاص کو قتل کریں گے اور اسی لیے ابن ملجم کوفہ روانہ ہوا اور وہاں ایک خوبصورت لڑکی قطام سے محبت ہو گیا<ref>حوادث الایام: ۲۲۱۔</ref>. | |||
== قطام کون تھی == | == قطام کون تھی == | ||
تاریخی مصادر میں ذکر ہے کہ قطام علقمہ بن شحنہ عدی کی بیٹی تھی جو قبیلہ تیم الرباب سے تھی، اس کا دلکش چہرہ اور دلربا صورت اسے شہر میں مشہور کر چکی تھی یہاں تک کہ اسے «ماہ روی کوفہ» کا لقب دیا گیا تھا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھی جو | تاریخی مصادر میں ذکر ہے کہ قطام علقمہ بن شحنہ عدی کی بیٹی تھی جو قبیلہ تیم الرباب سے تھی، اس کا دلکش چہرہ اور دلربا صورت اسے شہر میں مشہور کر چکی تھی یہاں تک کہ اسے «ماہ روی کوفہ» کا لقب دیا گیا تھا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھی جو جنگ نہروان کے بعد اور اپنے بھائی اور باپ کے قتل کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) کے مخالفین میں شامل ہو گئی۔ | ||
وہ ایک مکار اور حیلہ ساز لڑکی تھی جو ہمیشہ اپنے باپ اور بھائی کے قاتلوں سے خون کا بدلہ لینے کی کوشش میں رہتی تھی اور ایک روایت کے مطابق وہ حزب قائم کے ساتھ تھی جو عبداللہ بن وہب راسبی کی قیادت میں تھا، جو علی (علیہ السلام) کے خلاف لڑائی کو [[جہاد]] اور ان کا خون بہانا جائز سمجھتے تھے۔ اسی لیے ابن ملجم سے ملاقات کے بعد قطام نے اسے ترغیب دی اور وعدوں کے ذریعے اسے اپنے کام میں مزید مضبوط کیا<ref>تاریخ خمیس: ۲۸۱؛ خوارج: ۱۰۲۔</ref>. | |||
== ابن ملجم کے لیے ایک عجیب لعنت == | |||
[[امام صادق علیہ السلام|مام صادق (علیہ السلام)]] کی ایک روایت میں ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ)]] نے فرمایا: شب معراج میں جب میں پانچویں آسمان پر پہنچا تو میں نے وہاں علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی صورت دیکھی۔ میں نے کہا: اے جبرئیل؛ یہ کون سی صورت ہے؟ | |||
اس نے عرض کیا: اے محمد؛ فرشتوں نے درخواست کی کہ وہ حضرت علی (علیہ السلام) کے جمال کے دیدار سے فیض یاب ہوں اور عرض کیا: اے اللہ! دنیا میں بنی آدم ہر صبح و شام علی (علیہ السلام) کے جمال کے دیدار میں مشغول رہتے ہیں، پس ہمیں بھی زیارت اور ان کے چہرے کے دیدار کی توفیق عطا فرما جتنی دنیا والوں کو حاصل ہے۔ | |||
پس حق تعالیٰ نے اس حضرت کی صورت اپنے مقدس نور سے پیدا کی اور علی (علیہ السلام) کی صورت ان کے پاس ہے جسے وہ رات اور دن زیارت کرتے ہیں اور ہر صبح ان کے چہرے کے دیدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ | پس حق تعالیٰ نے اس حضرت کی صورت اپنے مقدس نور سے پیدا کی اور علی (علیہ السلام) کی صورت ان کے پاس ہے جسے وہ رات اور دن زیارت کرتے ہیں اور ہر صبح ان کے چہرے کے دیدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ | ||
پھر امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جب ابن ملجم نے اس حضرت کے مبارک سر پر اپنا وار کیا تو وہی وار فرشتوں کے پاس موجود اس صورت پر بھی نقش ہو گیا اور اس کے بعد ہر صبح و شام جب | |||
پھر امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جب ابن ملجم نے اس حضرت کے مبارک سر پر اپنا وار کیا تو وہی وار فرشتوں کے پاس موجود اس صورت پر بھی نقش ہو گیا اور اس کے بعد ہر صبح و شام جب ملائکہ اس صورت کی زیارت کرتے ہیں تو ابن ملجم پر لعنت بھیجتے ہیں اور یہ سلسلہ روز قیامت تک جاری رہے گا<ref>حیات القلوب: ۲۸۲؛ قطرہ ای از معجزات چہاردہ معصوم: ۱۲۱۔</ref>۔ | |||
== امام علیؑ کے قاتل سے قصاص لینے کا طریقہ == | == امام علیؑ کے قاتل سے قصاص لینے کا طریقہ == | ||
تاریخی روایات میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے فرزندوں کو ابنِ ملجم کے ساتھ نرمی برتنے کی | تاریخی روایات میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے فرزندوں کو ابنِ ملجم کے ساتھ نرمی برتنے کی وصیت فرمائی۔ امیرالمومنین علیؑ کی شہادت کے بعد ابنِ ملجم کو قصاص کے لیے [[امام حسن مجتبی علیہ السلام|امام حسنؑ]] کے پاس لایا گیا، | ||
چنانچہ آپؑ نے بھی اسے ایک ہی تلوار کے وار سے قصاص کیا۔ یہ واقعہ [[21 رمضان|21 رمضان]] کو پیش آیا۔ جیسا کہ مشہور ہے، اسود نخعی کی بیٹی امِ ہثیم نے اس کی لاش اٹھائی اور اسے آگ میں جلا دیا<ref>ارشاد، ج۱: ۲۲؛ بحارالانوار، ج۴۲: ۲۳۲، ۲۴۶، ۲۹۸۔</ref>۔ | |||
لیکن قطام، جسے کوفہ کی خوبصورت ترین عورت کہا جاتا تھا، کا انجام بھی ابنِ ملجم سے بہتر نہ ہوا۔ روایت ہے کہ ابنِ ملجم کے قتل کے بعد لوگ اس ملعونہ اور فاسقہ عورت قطام پر ٹوٹ پڑے، اسے تلواروں سے ہلاک کر دیا اور اس کی لاش کو کوفہ کے باہر جلا دیا<ref>بحارالانوار، ج۴۲: ۲۹۸؛ انوار العلویہ: ۳۹۰؛ نفائح العلام: ۴۱۰۔</ref>۔ | لیکن قطام، جسے کوفہ کی خوبصورت ترین عورت کہا جاتا تھا، کا انجام بھی ابنِ ملجم سے بہتر نہ ہوا۔ روایت ہے کہ ابنِ ملجم کے قتل کے بعد لوگ اس ملعونہ اور فاسقہ عورت قطام پر ٹوٹ پڑے، اسے تلواروں سے ہلاک کر دیا اور اس کی لاش کو کوفہ کے باہر جلا دیا<ref>بحارالانوار، ج۴۲: ۲۹۸؛ انوار العلویہ: ۳۹۰؛ نفائح العلام: ۴۱۰۔</ref>۔ | ||
== ابنِ ملجم کی قبر کا مقام == | == ابنِ ملجم کی قبر کا مقام == | ||
ابنِ ملجم کی قبر کے مقام و ٹھکانے کے بارے میں مشہور سیاح | ابنِ ملجم کی قبر کے مقام و ٹھکانے کے بارے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ سے منقول ہے کہ: "جب میں کوفہ گیا تو کوفہ کے قبرستان کے مغربی جانب ایک بالکل سفید زمین میں ایک بہت سیاہ زمین دیکھی۔ تجسس میں میں نے اس کی وجہ پوچھی تو تحقیق کرنے پر وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت علیؑ کے قاتل ابنِ ملجم کی قبر ہے۔ | ||
کوفہ والوں کا یہ دستور ہے کہ وہ ہر سال اس کی قبر پر بہت سی لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور سات دن تک انہیں یہاں جلاتے ہیں"<ref>رحلہ ابن بطوطہ: ۱۴۷؛ نفائح العلام: ۴۰۹؛ تقویم الشیعہ: ۲۹۳۔</ref>۔ | |||
== ابنِ ملجم کے عذاب کو دیکھ کر ایک راہب کا مسلمان ہونا == | == ابنِ ملجم کے عذاب کو دیکھ کر ایک راہب کا مسلمان ہونا == | ||
ابنِ ملجم پر نازل ہونے والے عذابوں میں سے ایک عذاب، جو اس کی | ابنِ ملجم پر نازل ہونے والے عذابوں میں سے ایک عذاب، جو اس کی موت کے بعد [[خدا|خداوند متعال]] کی طرف سے بھیجا گیا، ایک پرندے کے ذریعے ظاہر ہوا۔ شیخ راوندی نے حسن بن محمد المعروف بہ ابنِ رفا سے کوفہ میں یہ روایت نقل کی ہے: "ایک دن جب میں مسجدالحرام میں تھا تو میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت ابراہیمؑ کے مقام پر جمع ہیں اور وہاں ایک شخص بیٹھا ہے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک راہب ہے جو مسلمان ہو گیا ہے۔" | ||
راوی کہتا ہے: "میں اس کے قریب گیا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص اوننی چادر اوڑھے حضرت ابراہیمؑ کے مقام پر بیٹھا ہے۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: میں | راوی کہتا ہے: "میں اس کے قریب گیا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص اوننی چادر اوڑھے حضرت ابراہیمؑ کے مقام پر بیٹھا ہے۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: میں صومعہ میں راہبوں کا سردار تھا۔ ایک دن میں نے ایک عقاب جیسا پرندہ دیکھا جو کسی شخص کے جسم کا ایک حصہ اس کے حلقوم سے باہر نکال رہا تھا، پھر دوسرا حصہ نکالا یہاں تک کہ وہ مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہو گیا۔ میں نے اس شخص سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تمہیں پیدا کیا، مجھے بتاؤ تم کون ہو؟" | ||
اس نے کہا: "میں ابنِ ملجم مرادی ہوں۔" میں نے پوچھا: "تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے کہ یہ پرندہ مسلسل تمہارے جسم کے ٹکڑے نکالتا ہے، پھر انہیں الگ کر کے نگل جاتا ہے؟" | اس نے کہا: "میں ابنِ ملجم مرادی ہوں۔" میں نے پوچھا: "تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے کہ یہ پرندہ مسلسل تمہارے جسم کے ٹکڑے نکالتا ہے، پھر انہیں الگ کر کے نگل جاتا ہے؟" | ||
اس نے جواب دیا: "میں | اس نے جواب دیا: "میں علی بن ابیطالب کا قاتل ہوں، اور اسی وجہ سے خداوند متعال نے اس پرندے کو مقرر کیا ہے تاکہ وہ ہر روز اس عمل کے ذریعے مجھے عذاب دے۔" | ||
راہب کہتا ہے: "ہم باتیں ہی کر رہے تھے کہ اچانک وہی پرندہ آیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا لے گیا، یہاں تک کہ اس کے تمام اجزاء لے گیا۔ میں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ پرندہ نیچے اترا، اسے لایا اور پھر اس کے جسم سے ٹکڑے نکالے۔ میں نے اس سے پوچھا: علی بن ابیطالب کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: علی بن ابیطالب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور وصی ہیں"<ref>مدینۃ المعاجز، ج۱: ۵۴۴، حدیث ۵۴۰۔</ref>۔ | راہب کہتا ہے: "ہم باتیں ہی کر رہے تھے کہ اچانک وہی پرندہ آیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا لے گیا، یہاں تک کہ اس کے تمام اجزاء لے گیا۔ میں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ پرندہ نیچے اترا، اسے لایا اور پھر اس کے جسم سے ٹکڑے نکالے۔ میں نے اس سے پوچھا: علی بن ابیطالب کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: علی بن ابیطالب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور وصی ہیں"<ref>مدینۃ المعاجز، ج۱: ۵۴۴، حدیث ۵۴۰۔</ref>۔ | ||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
== | |||
* [[خوارج]] | * [[خوارج]] | ||
* [[ | * [[کوفه]] | ||
* [[جنگ جمل]] | * [[جنگ جمل]] | ||
* [[جنگ صفین]] | * [[جنگ صفین]] | ||
* [[عراق]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{ | {{حوالہ جات}} | ||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ:خوارج]] | |||
[[زمرہ:عراق]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 13:52، 14 مئی 2026ء
| ابن ملجم | |
|---|---|
| پورا نام | عبدالرحمن بن عمرو بن مُلجَم مرادی |
| دوسرے نام | اَشقَی الاَولّینَ وَ الآخرین |
| ذاتی معلومات | |
| یوم پیدائش | 1 جون |
| پیدائش کی جگہ | انڈونیشیا |
| وفات | 30 ق |
| وفات کی جگہ | کوفه |
| مذہب | اسلام، خوارج |
| مناصب | خوارج نہروان میں سے تھا اور حضرت علی بن ابیطالب، شیعون کے پهلے امام کا قاتل ہے |
عبدالرحمن بن عمرو بن مُلجَم مرادی معروف به ابن مُلجَم مرادی خوارج نہروان میں سے تھا اور حضرت علی بن ابیطالب، شیعون کے پهلے امام کا قاتل ہے ۔ ابن ملجم نے علی (علیہ السلام) کی خلافت پر پہنچنے کے بعد ان سے بیعت کی، جنگ جمل میں ان کے ساتھ لڑا اور جنگ صفین اور حکمیت کے خاتمے کے بعد خوارج میں شامل ہو گیا۔ اس نے جنگ نہروان میں علی (علیہ السلام) کے خلاف لڑائی کی اور اس جنگ سے بچ جانے والے چند افراد میں سے تھا۔ اس نے 19 رمضان کی صبح سویرے مسجد کوفہ میں امام علی (علیہ السلام) پر وار کیا جس کے نتیجے میں اس امام راستین کی شہادت واقع ہوئی۔ روایات اهل بیت (علیہ السلام) کے مطابق شیعوں کے ہاں وہ «اَشقَی الاَولّینَ وَ الآخرین» اور «اشقی الاشقیاء» کے نام سے مشہور ہے۔
ابن ملجم مرادی کون تھا
عبدالرحمن بن عمرو بن ملجم مرادی، معروف بہ ابن ملجم، خوارج میں سے ایک تھا جو حضرت علی (علیہ السلام) کو شہید کرنے کے ارادے سے کوفہ آیا اور قطام کے اکسانے پر اس کام پر زیادہ مائل ہوا اور آخر کار انیسویں رمضان کے صبح اپنا شوم منصوبہ عملی جامہ پہنایا، لیکن گویا اس کی خوشی زیادہ دیر نہ چلی اور تھوڑی ہی مدت میں وہ اپنے عمل کی سزا کو پہنچا، یہاں تک کہ موت کے بعد بھی ہمیشہ کے لیے عذاب میں مبتلا رہا!؟
ابن ملجم مرادی کا نسب عربی تھا اور وہ قبیلہ بنی مراد سے تھا، اس نے قرآن اور اسلام معاذ بن جبل سے سیکھا اور اس کے بعد عمرو بن عاص کی قرآن کی تعلیم میں مدد کی اور مصر کی فتح میں عمرو عاص کے ساتھ رہا۔
مصر کی فتح کے بعد ابن ملجم نے کچھ عرصہ وہاں قرآن اور فقہ کی تعلیم دی اور علی (علیہ السلام) کی خلافت پر پہنچنے کے بعد اس نے حضرت سے بیعت کی اور جنگ جمل میں حاضر تھا، لیکن حکمیت کے واقعے کے بعد خوارج میں شامل ہو گیا
اور اس کے بعد ابن ملجم، عمرو بن بکیر اور برک بن عبداللہ اکٹھے ہوئے اور مکہ میں فیصلہ کیا کہ شب قدر میں علی، معاویہ اور عمرو عاص کو قتل کریں گے اور اسی لیے ابن ملجم کوفہ روانہ ہوا اور وہاں ایک خوبصورت لڑکی قطام سے محبت ہو گیا[1].
قطام کون تھی
تاریخی مصادر میں ذکر ہے کہ قطام علقمہ بن شحنہ عدی کی بیٹی تھی جو قبیلہ تیم الرباب سے تھی، اس کا دلکش چہرہ اور دلربا صورت اسے شہر میں مشہور کر چکی تھی یہاں تک کہ اسے «ماہ روی کوفہ» کا لقب دیا گیا تھا، لیکن وہ ان لوگوں میں سے تھی جو جنگ نہروان کے بعد اور اپنے بھائی اور باپ کے قتل کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) کے مخالفین میں شامل ہو گئی۔
وہ ایک مکار اور حیلہ ساز لڑکی تھی جو ہمیشہ اپنے باپ اور بھائی کے قاتلوں سے خون کا بدلہ لینے کی کوشش میں رہتی تھی اور ایک روایت کے مطابق وہ حزب قائم کے ساتھ تھی جو عبداللہ بن وہب راسبی کی قیادت میں تھا، جو علی (علیہ السلام) کے خلاف لڑائی کو جہاد اور ان کا خون بہانا جائز سمجھتے تھے۔ اسی لیے ابن ملجم سے ملاقات کے بعد قطام نے اسے ترغیب دی اور وعدوں کے ذریعے اسے اپنے کام میں مزید مضبوط کیا[2].
ابن ملجم کے لیے ایک عجیب لعنت
مام صادق (علیہ السلام) کی ایک روایت میں ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ)]] نے فرمایا: شب معراج میں جب میں پانچویں آسمان پر پہنچا تو میں نے وہاں علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کی صورت دیکھی۔ میں نے کہا: اے جبرئیل؛ یہ کون سی صورت ہے؟
اس نے عرض کیا: اے محمد؛ فرشتوں نے درخواست کی کہ وہ حضرت علی (علیہ السلام) کے جمال کے دیدار سے فیض یاب ہوں اور عرض کیا: اے اللہ! دنیا میں بنی آدم ہر صبح و شام علی (علیہ السلام) کے جمال کے دیدار میں مشغول رہتے ہیں، پس ہمیں بھی زیارت اور ان کے چہرے کے دیدار کی توفیق عطا فرما جتنی دنیا والوں کو حاصل ہے۔
پس حق تعالیٰ نے اس حضرت کی صورت اپنے مقدس نور سے پیدا کی اور علی (علیہ السلام) کی صورت ان کے پاس ہے جسے وہ رات اور دن زیارت کرتے ہیں اور ہر صبح ان کے چہرے کے دیدار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
پھر امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: جب ابن ملجم نے اس حضرت کے مبارک سر پر اپنا وار کیا تو وہی وار فرشتوں کے پاس موجود اس صورت پر بھی نقش ہو گیا اور اس کے بعد ہر صبح و شام جب ملائکہ اس صورت کی زیارت کرتے ہیں تو ابن ملجم پر لعنت بھیجتے ہیں اور یہ سلسلہ روز قیامت تک جاری رہے گا[3]۔
امام علیؑ کے قاتل سے قصاص لینے کا طریقہ
تاریخی روایات میں آیا ہے کہ حضرت علیؑ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں اپنے فرزندوں کو ابنِ ملجم کے ساتھ نرمی برتنے کی وصیت فرمائی۔ امیرالمومنین علیؑ کی شہادت کے بعد ابنِ ملجم کو قصاص کے لیے امام حسنؑ کے پاس لایا گیا،
چنانچہ آپؑ نے بھی اسے ایک ہی تلوار کے وار سے قصاص کیا۔ یہ واقعہ 21 رمضان کو پیش آیا۔ جیسا کہ مشہور ہے، اسود نخعی کی بیٹی امِ ہثیم نے اس کی لاش اٹھائی اور اسے آگ میں جلا دیا[4]۔
لیکن قطام، جسے کوفہ کی خوبصورت ترین عورت کہا جاتا تھا، کا انجام بھی ابنِ ملجم سے بہتر نہ ہوا۔ روایت ہے کہ ابنِ ملجم کے قتل کے بعد لوگ اس ملعونہ اور فاسقہ عورت قطام پر ٹوٹ پڑے، اسے تلواروں سے ہلاک کر دیا اور اس کی لاش کو کوفہ کے باہر جلا دیا[5]۔
ابنِ ملجم کی قبر کا مقام
ابنِ ملجم کی قبر کے مقام و ٹھکانے کے بارے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ سے منقول ہے کہ: "جب میں کوفہ گیا تو کوفہ کے قبرستان کے مغربی جانب ایک بالکل سفید زمین میں ایک بہت سیاہ زمین دیکھی۔ تجسس میں میں نے اس کی وجہ پوچھی تو تحقیق کرنے پر وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت علیؑ کے قاتل ابنِ ملجم کی قبر ہے۔
کوفہ والوں کا یہ دستور ہے کہ وہ ہر سال اس کی قبر پر بہت سی لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور سات دن تک انہیں یہاں جلاتے ہیں"[6]۔
ابنِ ملجم کے عذاب کو دیکھ کر ایک راہب کا مسلمان ہونا
ابنِ ملجم پر نازل ہونے والے عذابوں میں سے ایک عذاب، جو اس کی موت کے بعد خداوند متعال کی طرف سے بھیجا گیا، ایک پرندے کے ذریعے ظاہر ہوا۔ شیخ راوندی نے حسن بن محمد المعروف بہ ابنِ رفا سے کوفہ میں یہ روایت نقل کی ہے: "ایک دن جب میں مسجدالحرام میں تھا تو میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت ابراہیمؑ کے مقام پر جمع ہیں اور وہاں ایک شخص بیٹھا ہے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے کہا: یہ ایک راہب ہے جو مسلمان ہو گیا ہے۔" راوی کہتا ہے: "میں اس کے قریب گیا تو دیکھا کہ ایک بوڑھا شخص اوننی چادر اوڑھے حضرت ابراہیمؑ کے مقام پر بیٹھا ہے۔ میں نے سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: میں صومعہ میں راہبوں کا سردار تھا۔ ایک دن میں نے ایک عقاب جیسا پرندہ دیکھا جو کسی شخص کے جسم کا ایک حصہ اس کے حلقوم سے باہر نکال رہا تھا، پھر دوسرا حصہ نکالا یہاں تک کہ وہ مکمل انسان کی شکل میں ظاہر ہو گیا۔ میں نے اس شخص سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تمہیں پیدا کیا، مجھے بتاؤ تم کون ہو؟" اس نے کہا: "میں ابنِ ملجم مرادی ہوں۔" میں نے پوچھا: "تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے کہ یہ پرندہ مسلسل تمہارے جسم کے ٹکڑے نکالتا ہے، پھر انہیں الگ کر کے نگل جاتا ہے؟" اس نے جواب دیا: "میں علی بن ابیطالب کا قاتل ہوں، اور اسی وجہ سے خداوند متعال نے اس پرندے کو مقرر کیا ہے تاکہ وہ ہر روز اس عمل کے ذریعے مجھے عذاب دے۔" راہب کہتا ہے: "ہم باتیں ہی کر رہے تھے کہ اچانک وہی پرندہ آیا اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اڑا لے گیا، یہاں تک کہ اس کے تمام اجزاء لے گیا۔ میں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ پرندہ نیچے اترا، اسے لایا اور پھر اس کے جسم سے ٹکڑے نکالے۔ میں نے اس سے پوچھا: علی بن ابیطالب کون ہیں؟ اس نے جواب دیا: علی بن ابیطالب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور وصی ہیں"[7]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ حوادث الایام: ۲۲۱۔
- ↑ تاریخ خمیس: ۲۸۱؛ خوارج: ۱۰۲۔
- ↑ حیات القلوب: ۲۸۲؛ قطرہ ای از معجزات چہاردہ معصوم: ۱۲۱۔
- ↑ ارشاد، ج۱: ۲۲؛ بحارالانوار، ج۴۲: ۲۳۲، ۲۴۶، ۲۹۸۔
- ↑ بحارالانوار، ج۴۲: ۲۹۸؛ انوار العلویہ: ۳۹۰؛ نفائح العلام: ۴۱۰۔
- ↑ رحلہ ابن بطوطہ: ۱۴۷؛ نفائح العلام: ۴۰۹؛ تقویم الشیعہ: ۲۹۳۔
- ↑ مدینۃ المعاجز، ج۱: ۵۴۴، حدیث ۵۴۰۔