مندرجات کا رخ کریں

"آمال عشماوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:آمال عشماوی کو آمال عشماوی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{جعبہ معلومات شخصیت
 
| عنوان =  
{{Infobox person
| تصویر = آمال عشماوی.jpg
| title =
| نام =
| image = آمال عشماوی.jpg
| دیگر نام =  
| name =
| سال پیدائش =  
| other names =
| تاریخ پیدائش =  
| brith year =1995 ء
| مقام پیدائش = مصر
| brith date = 9اکتوبر
| سال وفات = 1995ء
| birth place = [[مصر]]
| تاریخ وفات =  
| death year = 1966 ء
| مقام وفات = مصر
| death date =
| اساتذہ =  
| death place = مصر
| شاگرد =  
| teachers =  
| مذہب = [[اسلام]]
| students =  
| مکتب فکر = [[اہل سنت]]
| religion = [[اسلام]]
| تصانیف =  
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]]
| سرگرمیاں = {{فہرست جعبہ افقی |مختلف ادوار میں وزیر تعلیم | [[اخوان المسلمین]] کے ساتھ تعاون|}}  
| works =  
| ویب سائٹ =
| known for = مختلف ادوار میں وزیر تعلیم ، [[اخوان المسلمین]] کے ساتھ تعاون   
}}
}}


'''آمال عشماوی'''، مصر کے نواحی علاقے منیہ میں ایک مرفہ اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ وہ مختلف ادوار میں وزیر تعلیم رہیں اور اسلام کے لیے اپنی غیرت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے مصر میں نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے کوششیں کیں لیکن فوج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ [[جمال عبدالناصر]] کی حکومت میں 1954ء میں بغیر کسی وجہ کے، ساٹھ سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا اور تب تک رہا نہیں کیا گیا جب تک ان کے بیٹے ''حسن عشماوی'' نے خود کو حوالے نہیں کر دیا۔ ان کے بیٹے [[اخوان المسلمین|اخوان]] کے رہنماؤں میں سے ایک اور ادارہ ارشاد کے رکن تھے، جن کا نام ایک عرصے تک حسن الہدیبی کے طور پر جانا جاتا تھا۔
'''آمال عشماوی'''، [[مصر]] کے نواحی علاقے منیہ میں ایک مرفہ اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ وہ مختلف ادوار میں وزیر تعلیم رہیں اور [[اسلام]] کے لیے اپنی غیرت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے مصر میں نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے کوششیں کیں لیکن فوج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ [[جمال عبدالناصر]] کی حکومت میں 1954ء میں بغیر کسی وجہ کے، ساٹھ سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا اور تب تک رہا نہیں کیا گیا جب تک ان کے بیٹے ''حسن عشماوی'' نے خود کو حوالے نہیں کر دیا۔ ان کے بیٹے [[اخوان المسلمین|اخوان]] کے رہنماؤں میں سے ایک اور ادارہ ارشاد کے رکن تھے، جن کا نام ایک عرصے تک حسن الہدیبی کے طور پر جانا جاتا تھا۔
 
 


== تعلیم ==
== تعلیم ==
انہوں نے تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے اور قانون کی فیکلٹی سے فارغ التحصیل ہونے تک کوشش جاری رکھی؛ تاہم منیرالدلہ سے شادی اور اخوان کی دعوت سے وابستگی کے بعد انہوں نے خود کو گھریلو خدمات اور [[اخوان المسلمین|اخوان]] کی تحریک کی دعوت کے لیے وقف کر دیا۔
انہوں نے تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے اور قانون کی فیکلٹی سے فارغ التحصیل ہونے تک کوشش جاری رکھی؛ تاہم منیرالدلہ سے شادی اور اخوان کی دعوت سے وابستگی کے بعد انہوں نے خود کو گھریلو خدمات اور [[اخوان المسلمین|اخوان]] کی تحریک کی دعوت کے لیے وقف کر دیا۔


== سیکشن الاخوات میں سرگرمیاں ==
وہ سیکشن الاخوات میں فعال تھیں اور اس پر ان کا نمایاں اثر تھا، یہاں تک کہ 1944ء میں آمنہ علی، زینب عبدالمجید اور فاطمہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کی صدر کے طور پر منتخب ہوئیں، جو اس ادارے کی نگرانی کرتی تھی۔


== سیکشن الاخوات میں سرگرمیاں ==
انہوں نے فاطمہ عبدالہادی کی سرپرستی میں یتیموں کے لیے ایک اسکول قائم کرنے کا تجویز بھی پیش کیا۔ انہیں اپنے والد کی سربراہی میں وزارت تعلیم سے اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور اسکول میں کام کرنے کی تجویز بھی دی، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی یتیم بچوں کے لیے مختص کی جاتی۔
وہ سیکشن الاخوات میں فعال تھیں اور اس پر ان کا نمایاں اثر تھا، یہاں تک کہ 1944ء میں آمنہ علی، زینب عبدالمجید اور فاطمہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کی صدر کے طور پر منتخب ہوئیں، جو اس ادارے کی نگرانی کرتی تھی۔ انہوں نے فاطمہ عبدالہادی کی سرپرستی میں یتیموں کے لیے ایک اسکول قائم کرنے کا تجویز بھی پیش کیا۔ انہیں اپنے والد کی سربراہی میں وزارت تعلیم سے اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور اسکول میں کام کرنے کی تجویز بھی دی، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی یتیم بچوں کے لیے مختص کی جاتی۔
   
   
== اخوان کے ساتھ تعاون ==
1948ء میں قیدیوں کے حوالے سے ان کے کردار کو کوئی نہیں بھولا۔ انہوں نے اپنی قربانیوں کو صرف اسی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کا گھر تاریخی اجلاسوں کا مرکز بنا جو 1950ء کی دہائی کے اوائل میں [[حسن البنا]] کے جانشین کے انتخاب کے لیے منعقد ہوئے۔


[[حسن البنا]] کی جانشینی کے لیے چار اخوانی امیدوار تھے: صالح عشماوی (گروپ کے نمائندے)، عبدالرحمن البنا (امام البنا کے بھائی)، احمد حسن الباقوری، اور عبدالحکیم عبدین (گروپ کے سیکرٹری)۔ اہم اجلاس گھر میں ہوتے تھے، امام [[حسن البنا]] کے جانشین کا انتخاب بھی گھر میں ہی ہوا، اس طرح مشکل اوقات میں گھر اخوان کے ملاقات کا مرکز بن گیا اور محترمہ آمال عشماوی موجود افراد کی خدمت کر کے خوش ہوتی تھیں۔


== اخوان کے ساتھ تعاون ==
وہ اپنے دیانتدار رویے اور سادگی کے لیے مشہور تھیں، نیز مشکل اوقات میں دعوت کی توسیع اور اخوانی خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے ان کی بلند ہمتی کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔
1948ء میں قیدیوں کے حوالے سے ان کے کردار کو کوئی نہیں بھولا۔ انہوں نے اپنی قربانیوں کو صرف اسی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کا گھر تاریخی اجلاسوں کا مرکز بنا جو 1950ء کی دہائی کے اوائل میں [[حسن البنا]] کے جانشین کے انتخاب کے لیے منعقد ہوئے۔ [[حسن البنا]] کی جانشینی کے لیے چار اخوانی امیدوار تھے: صالح عشماوی (گروپ کے نمائندے)، عبدالرحمن البنا (امام البنا کے بھائی)، احمد حسن الباقوری، اور عبدالحکیم عبدین (گروپ کے سیکرٹری)۔ اہم اجلاس گھر میں ہوتے تھے، امام [[حسن البنا]] کے جانشین کا انتخاب بھی گھر میں ہی ہوا، اس طرح مشکل اوقات میں گھر اخوان کے ملاقات کا مرکز بن گیا اور محترمہ آمال عشماوی موجود افراد کی خدمت کر کے خوش ہوتی تھیں۔


وہ اپنے دیانتدار رویے اور سادگی کے لیے مشہور تھیں، نیز مشکل اوقات میں دعوت کی توسیع اور اخوانی خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے ان کی بلند ہمتی کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔
[[حسن البنا]] نے انہیں تعلیم یافتہ، واعظ اور جہادی خواتین کی بہترین مثال قرار دیا، جنہوں نے مخلصانہ طور پر یہ ذمہ داری اٹھائی اور اپنا تمام وقت، جذبات اور سرمایہ منفرد انداز میں دوسروں کے لیے وقف کر دیا۔
[[حسن البنا]] نے انہیں تعلیم یافتہ، واعظ اور جہادی خواتین کی بہترین مثال قرار دیا، جنہوں نے مخلصانہ طور پر یہ ذمہ داری اٹھائی اور اپنا تمام وقت، جذبات اور سرمایہ منفرد انداز میں دوسروں کے لیے وقف کر دیا۔


== جیل میں صبر اور استقامت ==
== جیل میں صبر اور استقامت ==
وہ مالی لذت کو صرف [[خدا]] کی راہ میں قربان کرنے کا ذریعہ سمجھتی تھیں، انہوں نے اپنے شوہر کا خزانہ کھول دیا تاکہ مشکل اوقات میں قیدی بھائیوں کے خاندانوں کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ وہ ایک صابر خاتون کی مثال تھیں، جن کے شوہر کو واقعہ المنشیہ کے بعد عمر قید اور سخت محنت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ مایوس نہیں ہوئیں اور خواتین آمنہ علی، نعیمہ خطاب، زینب غزالی اور خالدہ کے ساتھ رابطہ رکھتی رہیں۔
وہ مالی لذت کو صرف [[خدا]] کی راہ میں قربان کرنے کا ذریعہ سمجھتی تھیں، انہوں نے اپنے شوہر کا خزانہ کھول دیا تاکہ مشکل اوقات میں قیدی بھائیوں کے خاندانوں کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔  


انہوں نے اپنی جہاد جاری رکھی یہاں تک کہ دیگر اخوانیوں کی طرح [[جمال عبدالناصر]] کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنیں اور قناطرہ جیل منتقل کر دی گئیں، جہاں وہ قید خواتین کے دکھ درد کو کم کرنے کا باعث بنیں۔ جیل انتظامیہ کے ساتھ اپنے رویے کی وجہ سے، جب بہن فاطمہ عبدالہادی خون بہا رہی تھیں تو انہوں نے جیل انتظامیہ پر چیخ کر کہا: "تم اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہو جیسے وہ مر چکی ہے۔"
وہ ایک صابر خاتون کی مثال تھیں، جن کے شوہر کو واقعہ المنشیہ کے بعد عمر قید اور سخت محنت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ مایوس نہیں ہوئیں اور خواتین آمنہ علی، نعیمہ خطاب، زینب غزالی اور خالدہ کے ساتھ رابطہ رکھتی رہیں۔


انہوں نے اپنی [[جہاد]] جاری رکھی یہاں تک کہ دیگر اخوانیوں کی طرح [[جمال عبدالناصر]] کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنیں اور قناطرہ جیل منتقل کر دی گئیں، جہاں وہ قید خواتین کے دکھ درد کو کم کرنے کا باعث بنیں۔


جیل انتظامیہ کے ساتھ اپنے رویے کی وجہ سے، جب بہن فاطمہ عبدالہادی خون بہا رہی تھیں تو انہوں نے جیل انتظامیہ پر چیخ کر کہا: "تم اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہو جیسے وہ مر چکی ہے۔"


== وفات ==
== وفات ==
جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ راستہ جاری رکھا اور [[انور سادات]] کے دور میں 1995ء میں انتقال کر گئیں۔
جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ راستہ جاری رکھا اور [[انور سادات]] کے دور میں 1995ء میں انتقال کر گئیں۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
سطر 61: سطر 58:
[[زمرہ:اخوان المسلمین]]
[[زمرہ:اخوان المسلمین]]
[[زمرہ:مصر]]
[[زمرہ:مصر]]
[[fa:آمال عشماوی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 20:47، 11 مئی 2026ء

آمال عشماوی
ذاتی معلومات
پیدائش1995 ء
یوم پیدائش9اکتوبر
پیدائش کی جگہمصر
وفات1966 ء
وفات کی جگہمصر
مذہباسلام، سنی
مناصبمختلف ادوار میں وزیر تعلیم ، اخوان المسلمین کے ساتھ تعاون

آمال عشماوی، مصر کے نواحی علاقے منیہ میں ایک مرفہ اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ وہ مختلف ادوار میں وزیر تعلیم رہیں اور اسلام کے لیے اپنی غیرت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے مصر میں نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے کوششیں کیں لیکن فوج نے انہیں گرفتار کر لیا۔ جمال عبدالناصر کی حکومت میں 1954ء میں بغیر کسی وجہ کے، ساٹھ سال سے زائد عمر ہونے کے باوجود انہیں گرفتار کر لیا گیا اور تب تک رہا نہیں کیا گیا جب تک ان کے بیٹے حسن عشماوی نے خود کو حوالے نہیں کر دیا۔ ان کے بیٹے اخوان کے رہنماؤں میں سے ایک اور ادارہ ارشاد کے رکن تھے، جن کا نام ایک عرصے تک حسن الہدیبی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

تعلیم

انہوں نے تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے اور قانون کی فیکلٹی سے فارغ التحصیل ہونے تک کوشش جاری رکھی؛ تاہم منیرالدلہ سے شادی اور اخوان کی دعوت سے وابستگی کے بعد انہوں نے خود کو گھریلو خدمات اور اخوان کی تحریک کی دعوت کے لیے وقف کر دیا۔

سیکشن الاخوات میں سرگرمیاں

وہ سیکشن الاخوات میں فعال تھیں اور اس پر ان کا نمایاں اثر تھا، یہاں تک کہ 1944ء میں آمنہ علی، زینب عبدالمجید اور فاطمہ کے ساتھ مشترکہ طور پر ایگزیکٹو کمیٹی کی صدر کے طور پر منتخب ہوئیں، جو اس ادارے کی نگرانی کرتی تھی۔

انہوں نے فاطمہ عبدالہادی کی سرپرستی میں یتیموں کے لیے ایک اسکول قائم کرنے کا تجویز بھی پیش کیا۔ انہیں اپنے والد کی سربراہی میں وزارت تعلیم سے اجازت نامہ حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور اسکول میں کام کرنے کی تجویز بھی دی، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی یتیم بچوں کے لیے مختص کی جاتی۔

اخوان کے ساتھ تعاون

1948ء میں قیدیوں کے حوالے سے ان کے کردار کو کوئی نہیں بھولا۔ انہوں نے اپنی قربانیوں کو صرف اسی تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کا گھر تاریخی اجلاسوں کا مرکز بنا جو 1950ء کی دہائی کے اوائل میں حسن البنا کے جانشین کے انتخاب کے لیے منعقد ہوئے۔

حسن البنا کی جانشینی کے لیے چار اخوانی امیدوار تھے: صالح عشماوی (گروپ کے نمائندے)، عبدالرحمن البنا (امام البنا کے بھائی)، احمد حسن الباقوری، اور عبدالحکیم عبدین (گروپ کے سیکرٹری)۔ اہم اجلاس گھر میں ہوتے تھے، امام حسن البنا کے جانشین کا انتخاب بھی گھر میں ہی ہوا، اس طرح مشکل اوقات میں گھر اخوان کے ملاقات کا مرکز بن گیا اور محترمہ آمال عشماوی موجود افراد کی خدمت کر کے خوش ہوتی تھیں۔

وہ اپنے دیانتدار رویے اور سادگی کے لیے مشہور تھیں، نیز مشکل اوقات میں دعوت کی توسیع اور اخوانی خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے ان کی بلند ہمتی کے لیے بھی جانی جاتی تھیں۔

حسن البنا نے انہیں تعلیم یافتہ، واعظ اور جہادی خواتین کی بہترین مثال قرار دیا، جنہوں نے مخلصانہ طور پر یہ ذمہ داری اٹھائی اور اپنا تمام وقت، جذبات اور سرمایہ منفرد انداز میں دوسروں کے لیے وقف کر دیا۔

جیل میں صبر اور استقامت

وہ مالی لذت کو صرف خدا کی راہ میں قربان کرنے کا ذریعہ سمجھتی تھیں، انہوں نے اپنے شوہر کا خزانہ کھول دیا تاکہ مشکل اوقات میں قیدی بھائیوں کے خاندانوں کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔

وہ ایک صابر خاتون کی مثال تھیں، جن کے شوہر کو واقعہ المنشیہ کے بعد عمر قید اور سخت محنت کی سزا سنائی گئی تھی۔ وہ مایوس نہیں ہوئیں اور خواتین آمنہ علی، نعیمہ خطاب، زینب غزالی اور خالدہ کے ساتھ رابطہ رکھتی رہیں۔

انہوں نے اپنی جہاد جاری رکھی یہاں تک کہ دیگر اخوانیوں کی طرح جمال عبدالناصر کی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنیں اور قناطرہ جیل منتقل کر دی گئیں، جہاں وہ قید خواتین کے دکھ درد کو کم کرنے کا باعث بنیں۔

جیل انتظامیہ کے ساتھ اپنے رویے کی وجہ سے، جب بہن فاطمہ عبدالہادی خون بہا رہی تھیں تو انہوں نے جیل انتظامیہ پر چیخ کر کہا: "تم اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہو جیسے وہ مر چکی ہے۔"

وفات

جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ راستہ جاری رکھا اور انور سادات کے دور میں 1995ء میں انتقال کر گئیں۔

حوالہ جات

  • دیکھیں: ویکی اخوان میں آمال عشماوی کا مدخل؛ ikhwanwiki.com..