"آمنہ بنت وہب" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:آمنہ بنت وہب کو آمنہ بنت وہب کی جانب منتقل کیا |
(کوئی فرق نہیں)
| |
حالیہ نسخہ بمطابق 16:07، 11 مئی 2026ء
| حضرت آمنہ | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | آمنہ بنت وہب |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۵۵۷ ء، -65 ش، -67 ق |
| پیدائش کی جگہ | یثرب |
| مذہب | اسلام |
| مناصب | مادر گرامی رسول اکرم صل الله علیه وآله |
آمنہ بنت وہب بن عبدمناف والدہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں۔ وہ نسب، حیا، ادب اور پاکیزگی کے اعتبار سے قریش کی بافضیلت ترین دختروں میں سے تھیں۔ آمنہ نے سال سات عام الفیل کے بعد اپنے فرزند محمد کو اپنے والد عبد اللہ کی قبر کی زیارت اور بنو نجار سے تعلق رکھنے والے اپنے چچاؤں سے ملاقات کے لیے مدینہ لے گئیں۔ وہ اس سفر سے واپسی پر مدینہ کے قریب «ابواء» نامی مقام پر انتقال کر گئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔
آمنہ کا نسب
آمنہ بنت وہب بن عبدمناف ہیں اور ان کی والدہ محترمہ «برہ» بنت عبدالعزی[1] تھیں۔ یہ دونوں بزرگوار نسب شریف میں کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تک پہنچتے ہیں اور درحقیقت آمنہ کے والد اور والدہ چچازاد تھے جو مماثل خصوصیات کے حامل تھے۔
خاندان «بنو زہرہ» ہمیشہ قریش کے بڑے افتخارات اور مکہ کے پرتپاک واقعات میں شریک رہا ہے اور مکہ کی تاریخ کا ایک سنہری دور ان کے افتخار آفریں نام سے مزین ہے۔
عبدمناف، جو پیغمبر اسلام کے تیسرے جد امجد تھے، ان کا نام مغیرہ تھا اور انہیں «قمر البطحاء»[2] کہا جاتا تھا۔
ان کا لوگوں کے دلوں میں ایک خاص مقام تھا۔ مورخین ان کے بارے میں یوں لکھتے ہیں: «ان کا شعار پرہیزگاری، تقوا کی دعوت، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی تھا۔
حجاج مسجدالحرام کی سقایت اور مہمان نوازی کا منصب عبد مناف کی اولاد کے پاس تھا، اور یہ باعزت منصب پیغمبر کے دور تک برقرار رہا۔» آمنہ، «قمر البطحاء» (مکہ کا چاند) کی بیٹی ہونے کی وجہ سے نہ صرف چہرے کی خوبصورتی بلکہ پرہیزگاری، مردم نوازی جیسی خصوصیات بھی اپنے والد سے وراثت میں پائی تھیں۔
آمنہ کی والدہ «برہ» بھی شریف اور بزرگوار خاندان «بنو کلاب» سے تھیں۔ وہ نسب میں وہب بن عبدمناف کے ساتھ مشترک تھیں۔ برہ کی والدہ ام حبیبہ بھی اسی نسب سے تھیں اور «ارحام مطہرہ» کی خوبصورت ترین مثالوں میں شمار ہوتی ہیں۔
آمنہ کی بلند صفات
وہ چیز جو انسان کو سب سے زیادہ ہمیشہ زندہ رکھتی ہے، اس کی اچھی صفات اور شائستہ اخلاق ہیں۔ افراد کی اخلاقی خصوصیات ان کی شخصیت کی عظمت کی عکاس ہوتی ہیں۔
ان صفات میں سے نمایاں ترین صفات کا اظہار عبدالمطلب، پیر بطحاء کی زبان سے ہوا ہے۔ عبدالمطلب نے آمنہ سے منگنی سے قبل عبد اللہ جوان، ہوشیار اور خوبصورت بنو ہاشم کے پاس جا کر کہا:
«میرے بیٹے! آمنہ تمہارے رشتہ داروں میں سے ایک لڑکی ہے اور مکہ میں اس جیسی کوئی لڑکی نہیں ہے۔» پھر انہوں نے فرمایا: «فواللہ ما فی بنات اہل مکہ مثلہا لانہا محتشمہ فی نفسہا طاہرہ مطہرہ عاقلہ دینہ[3]؛ الله کی عزت و جلال کی قسم کہ مکہ میں اس (آمنہ) جیسی کوئی لڑکی نہیں ہے۔
کیونکہ وہ حیا اور ادب والی ہے، اس کا نفس پاکیزہ ہے، اور وہ عاقل، فہیم اور دین دار ہے۔» اس خاتون کی گہری بصیرت، عفت اور پاکیزگی اتنی تھی کہ تاریخ یوں لکھتی ہے:
«وہ (آمنہ) اس دور میں نسب اور ازدواج کے اعتبار سے قریش کی بافضیلت ترین دختران میں سے تھیں[4]۔» اس خاتون کی دیگر نمایاں صفات میں سادگی پسندی اور مادی ظاہر داری سے دوری شامل ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرماتے ہیں: «انما انا ابن امراءۃ من قریش تاکل القدید»[5] یعنی «میں قریش کی اس عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھاتی تھی۔»
آمنہ کی بعض نمایاں صفات
دین داری (دینہ)
پیغمبرِ گرامی اسلام کو «سید الناس ودیان العرب» کہا جاتا تھا۔ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی بھی اسی صفت کے ساتھ تعریف کی گئی ہے: «کان برخی دین را به معنای طاعت و گروهی به معنای هر آنچه باآن بندگی خدا میشود[6]، میدانند۔ بعض محدود النظر لوگ جو اپنے اردگرد کے معاملات کو مادی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں، یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ:
«چونکہ آمنہ اسلام کے ظہور سے قبل زندگی گزارتی تھیں، اس لیے وہ مؤمن نہیں ہو سکتیں اور انہیں مشرک عورتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔» لیکن مورخین اور محققین شیعہ کا یہ ماننا ہے کہ پیغمبر کے والدین اور اجداد ایمان رکھتے تھے۔
وہ اس بات کے اثبات کے لیے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اس قول کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں: «لم یزل ینقلنی الله من اصلاب الشامخه الی الارحام المطهرات حتی اخرجنی الی عالمکم هذا و لم یدسننی دنس الجاهلیه[7]؛ خداوند متعال نے مجھے ہمیشہ پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل کیا یہاں تک کہ میں تمہاری اس دنیا میں آیا اور کبھی جاہلیت کی نجاست اور خیالات سے آلودہ نہیں ہوا۔»
اس شریف حدیث سے، جو مختلف الفاظ میں بیان ہوئی ہے، آمنہ کی ذاتی پاکیزگی اور فکری طہارت ثابت ہوتی ہے۔ بہت سے اہل سنت علماء نے آمنہ کے ایمان کا اظہار کیا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے درج ذیل روایت کا حوالہ دیا ہے:
«کعب الاحبار نے معاویہ سے کہا: میں نے بہتر کتابوں میں پڑھا ہے کہ فرشتے صرف حضرت مریم اور آمنہ بنت وہب کی ولادت کے لیے زمین پر اترے ہیں اور صرف مریم اور آمنہ کے لیے ہی کسی عورت کے لیے جنتی حجاب قائم کیے گئے ہیں[8].» واقدی اور اہل سنت کے بعض علماء نے مذکورہ حدیث کے بعد کہا ہے: خداوند متعال کبھی بھی کسی کافرہ عورت کو مریم (سلام اللہ علیہا) جیسی باایمان عورت کے برابر نہیں ٹھہراتا۔ اگر آمنہ میں ایمان نہ ہوتا تو کبھی بھی مریم علیہا السلام کے مقامات ان کے لیے حاصل نہ ہوتے۔ کیونکہ ایمان اور کفر کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے اور یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے[9]. شیخ صدوق نے اپنی کتاب «اعتقادات» میں فرمایا ہے: «اعتقادنا فی آباء النبی انهم مسلمون من آدم الی ابیه و اباطالب و کذا آمنه بنت وهب ام رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم)[10] ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے آباؤ اجداد آدم سے لے کر عبداللہ اور ابوطالب تک اور اسی طرح آمنہ، پیغمبر کی والدہ، مسلمان تھے۔
امام صادق (علیہ السلام) بھی فرماتے ہیں: جبرائیل پیغمبر پر نازل ہوئے اور کہا:
«یا محمد ان الله جل جلاله یقرئک السلام و یقول انی قد حرمت النار علی صلب انزلک و بطن حملک و حجر کفلک ...»[11] اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، خداوند تعالیٰ نے آپ پر سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے: میں نے اس پشت پر جس نے آپ کو پیدا کیا، اس پیٹ پر جس نے آپ کو اٹھایا اور اس گود پر جس نے آپ کی پرورش کی، آتش کو حرام کر دیا ہے۔
مرحوم علامہ مجلسی لکھتے ہیں: یہ خبر عبداللہ، آمنہ اور ابوطالب کے ایمان پر دلالت کرتی ہے؛ کیونکہ خداوند متعال نے تمام مشرکین اور کفار پر آتش کو واجب کیا ہے اور اگر یہ لوگ مؤمن نہ ہوتے تو آتش ان پر حرام نہ ہوتی۔
باحیا اور شرمیلی (محتشمہ)
اس بزرگ خاتون کی ایک اور خصوصیت ان کی حیا اور ادب ہے، جس کی وجہ سے وہ عرب میں «محتشمہ» کے نام سے جانی جاتی تھیں۔
لغت کی کتابوں میں اس لفظ کی تعریف یوں کی گئی ہے:
«احتشام و هو افتعال من الحشمه بمعنی الانقباض و الاستحیاء و الحشمه الحیاء والادب[12]» احتشام حشمت سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب سکڑ جانا اور حیا کرنا ہے۔ حشمت کا مطلب ادب اور حیا ہے اور یہ وہ خوبصورت ترین صفت ہے جو کریم خواتین میں ہو سکتی ہے اور جس کے سایے میں وہ جسمانی اور نفسی سکون حاصل کرتی ہیں۔
عبدالمطلب کی اہلیہ «فاطمہ» کی آمنہ سے شادی کی خواستگاری کا واقعہ اور اس مجلس میں جو کچھ پیش آیا، وہ اس منتخب عرب لڑکی کی حیا اور ادب کو ظاہر کرتا ہے: جب عبدالمطلب کی اہلیہ وہب بن عبد مناف کے گھر پہنچیں، تو آمنہ ان کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ انہوں نے خیر مقدم کیا اور ان کا احترام کیا۔ جب فاطمہ نے آمنہ کی نیکیاں دیکھیں، تو انہوں نے اپنی ماں سے کہا: «میں نے پہلے بھی آمنہ کو دیکھا تھا، لیکن میں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ اتنی خوبصورت اور کامل ہوں گی[13].» پھر انہوں نے آمنہ سے بات چیت کی اور انہیں مکہ کی فصیح ترین عورت پایا۔ اس کے بعد وہ اپنی جگہ سے اٹھیں، عبداللہ کے پاس گئیں اور کہا: میرے بیٹے! میں نے عرب کی لڑکیوں میں ان جیسی کوئی نہیں دیکھی۔ میں انہیں پسند کرتی ہوں ... .
فرزانگی اور تہذیب (عاقلہ)
فہم و بصیرت اولیائے الہیٰ کی صفات اور خصوصیات میں سے ہے۔ عبدالمطلب نے آمنہ کی تعریف "عاقلہ" کے لفظ سے کی ہے۔ آمنہ عقیلہ عرب، فہم اور کمال کے لحاظ سے بے مثال تھیں۔ اس عظیم خاتون کے انتقال کے وقت کے کلمات ان کی حکمت اور درک کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے اپنے فرزند حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے فرمایا: "ہر زندہ مرتا ہے، ہر نیا پرانا ہو جاتا ہے، ہر جماعت فنا ہو جاتی ہے اور میں بھی مروں گی؛ لیکن میرا ذکر ہمیشہ رہے گا۔ میں نے خیر چھوڑا ہے اور ایک پاکیزہ فرزند [جیسے تم] کو جنم دیا ہے[14]۔"
فصاحت و بلاغت (ادیبہ)
مکہ کی لائق بیٹی کی دیگر صفات میں بیان کی مٹھاس اور کلام کی روانی شامل ہے۔ ان سے منسوب خوبصورت اشعار اس بات کی درست گواہی ہیں۔ انہوں نے اپنے فرزند حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں یوں شعر کہا[15]:
| ان صح ما ابصرت فی المنام | فانت مبعوث علی الانام |
| من عند ذی الجلال و الاکرام | تبعث فی الحل و فی الحرام تبعث |
| بالتحقیق و الاسلام دین ابیک البر ابراهام | فالله انهاک عن الاصنام ان لا تو الیها مع الاقوام |
شعر کا مختصر ترجمہ یہ ہے: اگر وہ خواب جو میں نے دیکھا درست ہے، تو لوگوں پر مبعوث کیے جاؤ گے۔ اس ذات کی طرف سے جو جلال و اکرام والا ہے۔ تم حلال اور حرام کے بیان کے لیے مبعوث کیے جاؤ گے۔ حق گوئی اور اسلام کے لیے برانگیختہ کیے جاؤ گے جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے۔ پس اللہ نے تمہیں بتوں کی پرستش اور قوم کی پیروی سے روک دیا ہے۔
پاکیزگی اور طہارت (طاہرہ، مطہرہ، عفیفہ)
آمنہ کی پاکیزگی اور طہارت اہل مکہ پر پوشیدہ نہ تھی۔ یہ طہارت مختلف مواقع پر عرب کے کلام اور اشعار میں بیان ہوئی ہے۔ اس کریمہ خاتون کی توصیف میں یوں لکھا گیا ہے: انها کان وجهها کفلقه القمر المضیئه و کانت من احسن النساء جمالا و کمالا وافضلهن حسبا و نسبا[16]۔ بے شک ان کا چہرہ (آمنہ کا) چمکتے ہوئے چاند کے ٹکڑے کی مانند تھا، وہ حسن و کمال کے اعتبار سے بہترین عورتوں میں شمار ہوتی تھیں اور اخلاق و نسب کے لحاظ سے بھی افضل ترین تھیں۔ ان میں ظاہری پاکیزگی کے ساتھ ساتھ معنوی پاکیزگی (عفت) بھی تھی۔
آمنہ کا نکاح
اس آسمانی نکاح میں چند اہم امور پر توجہ دینا ضروری ہے: انتخاب اور معیارِ انتخاب: "عبد اللہ" کے خاندان کی جانب سے انتخاب کے معیار یہ ظاہر ہوتے ہیں کہ عبدالمطلب اور ان کی اہلیہ کے نزدیک مکہ کے "چاند" عبد اللہ کے لیے موزوں زندگی ساتھی کے انتخاب کے معیار دو پہلوؤں میں سمٹ جاتے تھے:
- خاندانی اصالت اور انفرادی خصوصیات۔
- آمنہ کے خاندان کے معیار بھی مادیات پر مبنی نہ تھے، بلکہ وہ عبد اللہ کے خاندان کی روحانی اور معنوی عظمت و کمال کو دیکھتے تھے۔
مہر کی مقدار: تاریخ کی گواہی کے مطابق نکاح کی درخواست کے بعد آمنہ کے والد نے عبدالمطلب سے کہا: "میری بیٹی آپ کے بیٹے کے لیے تحفہ ہے؛ ہم کوئی مہر نہیں چاہتے۔" عبدالمطلب نے کہا: "اللہ تمہیں بہترین بدلہ دے، لڑکی کا مہر ہونا چاہیے اور ہمارے رشتہ داروں میں سے کچھ لوگ ہمارے درمیان گواہ بھی ہونے چاہئیں[17]۔"
"مہر" کوئی روحانی قیمت نہیں ہے اور یہ اکثر فرد کے روحانی اور سماجی مقام کی نشاندہی نہیں کر سکتا۔ اہل بیت (علیہم السلام) کی ثقافت میں مہر کی کمی لڑکی کی برتری کی علامت ہے۔ بہرحال، یہ ازدواج مہر اور جہیز جیسی مشکلات کے بغیر عمل میں آیا اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ولادت کے اسباب فراہم ہوئے۔
مادری آئینے میں آمنہ
آمنہ کا پہلا فرزند ابھی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا کہ ان کے مہربان شوہر کے انتقال کی خبر نے انہیں غم میں ڈبو دیا۔ اللہ کا لطف، صبر، شوہر کی جدائی میں کہے گئے اشعار، دورانِ حمل کے خواب اور وہ فرزند جو پیدائش سے پہلے ان سے بات کرتا تھا، اس پاک دامن عورت کا واحد سرمایہ تھا؛ اسی سایے میں انہوں نے اپنے فرزند کو جنم دیا۔
شاید اسی وجہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی طرح ان کی محترمہ والدہ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ "جارود" جب رسول اللہ کے پاس سے واپس لوٹے تو اپنی قوم کے لیے یوں شعر پڑھا: اتیتک یابن آمنه الرسولا لکی بک اهتدی النهج السبیلا[18] اے آمنہ کے بیٹے، اے رسول! میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے ذریعے سیدھے راستے کی ہدایت پاؤں۔
حوالہ جات
- ↑ ریاحین الشریعہ، ذبیح اللہ محلاتی، ج 2، ص 386۔
- ↑ فرازهایی از تاریخ پیامبر اسلام، جعفر سبحانی، ص 38۔
- ↑ بحارالانوار، علامہ مجلسی، ج 15، ص 99۔
- ↑ مادر پیامبر، ڈاکٹر بنت الشاطی، ترجمہ ڈاکٹر احمد بہشتی، ص 99۔
- ↑ وہی، ص 18۔
- ↑ منجد الطلاب، ص 231.
- ↑ ریاحین الشریعه، ج 2، ص 388.
- ↑ بحارالانوار، ج 15، ص 117.
- ↑ وہی۔
- ↑ وہی۔
- ↑ وہی۔
- ↑ وہی، ص 100 و99.
- ↑ ریاحین الشریعه، ج 2، ص 387.
- ↑ همان.
- ↑ همان.
- ↑ خصایص فاطمیه، ملاباقر واعظ کجوری، ص 292.
- ↑ زنان نامدار، دکتر احمد بهشتی، ص 19.
- ↑ بحارالانوار، ج 15، ص 247.
