"توحید" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Sajedi نے صفحہ مسودہ:توحید کو توحید کی جانب منتقل کیا |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
'''توحید''' اصولِ دین کے بنیادی ترین ارکان میں سے ہے اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ کی یکتائی کے ہیں۔ توحید پر ایمان بندے کے معبود کے بارے میں تصور کو بدل دیتا ہے اور اسے اس ہستی کے سامنے سراپا تسلیم کر دیتا ہے جس کے حکم کے تحت پوری کائنات ہے۔ ہر زاویے سے دیکھا جائے تو توحید عرفان کی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ مسئلہ دوسرے مذاہب خصوصاً ادیانِ ابراہیمی میں بھی ایک بنیادی اصل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر توحید پر ایمان رکھنے والوں کو موحد کہا جاتا ہے۔ فلسفہ اور علمِ کلام کی رو سے توحید کو توحیدِ ذاتی، توحیدِ صفاتی، توحیدِ افعالی اور توحید فی العبادت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ | '''توحید'''ُ اصولِ دین کے بنیادی ترین ارکان میں سے ہے اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ کی یکتائی کے ہیں۔ توحید پر ایمان بندے کے معبود کے بارے میں تصور کو بدل دیتا ہے اور اسے اس ہستی کے سامنے سراپا تسلیم کر دیتا ہے جس کے حکم کے تحت پوری کائنات ہے۔ ہر زاویے سے دیکھا جائے تو توحید عرفان کی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ مسئلہ دوسرے مذاہب خصوصاً ادیانِ ابراہیمی میں بھی ایک بنیادی اصل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر توحید پر ایمان رکھنے والوں کو موحد کہا جاتا ہے۔ فلسفہ اور علمِ کلام کی رو سے توحید کو توحیدِ ذاتی، توحیدِ صفاتی، توحیدِ افعالی اور توحید فی العبادت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ | ||
== توحید کے معنی و مفہوم پر ایک بحث == | == توحید کے معنی و مفہوم پر ایک بحث == | ||
| سطر 7: | سطر 7: | ||
لفظ «توحید» باب تفعیل کا مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں “کسی کو ایک ماننا”۔ اس لفظ کی جڑ «وحد» ہے جس کے معنی انفراد کے ہیں، اسی وجہ سے «واحد» اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے اجزا نہ ہوں۔ <ref>کریمی، توحید از دیدگاه آیات و روایات، ۱۳۷۹ش، ص ۱۹–۲۰</ref> | لفظ «توحید» باب تفعیل کا مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں “کسی کو ایک ماننا”۔ اس لفظ کی جڑ «وحد» ہے جس کے معنی انفراد کے ہیں، اسی وجہ سے «واحد» اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے اجزا نہ ہوں۔ <ref>کریمی، توحید از دیدگاه آیات و روایات، ۱۳۷۹ش، ص ۱۹–۲۰</ref> | ||
یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لغت میں توحید کا معنی کسی چیز کے ایک ہونے کا حکم لگانا اور اس کی یکتائی کا علم حاصل کرنا ہے۔ میر سید شریف جرجانی، التعریفات، ص 96، واژه التوحید | یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لغت میں توحید کا معنی کسی چیز کے ایک ہونے کا حکم لگانا اور اس کی یکتائی کا علم حاصل کرنا ہے۔<ref> میر سید شریف جرجانی، التعریفات، ص 96، واژه التوحید</ref> | ||
== توحید کا اصطلاحی معنی == | == توحید کا اصطلاحی معنی == | ||
| سطر 198: | سطر 198: | ||
[[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]] | [[زمرہ:مفاہیم اور اصطلاحات]] | ||
[[fa: توحید]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 11:34، 10 مئی 2026ء
توحیدُ اصولِ دین کے بنیادی ترین ارکان میں سے ہے اور اس کے معنی اللہ تعالیٰ کی یکتائی کے ہیں۔ توحید پر ایمان بندے کے معبود کے بارے میں تصور کو بدل دیتا ہے اور اسے اس ہستی کے سامنے سراپا تسلیم کر دیتا ہے جس کے حکم کے تحت پوری کائنات ہے۔ ہر زاویے سے دیکھا جائے تو توحید عرفان کی بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ مسئلہ دوسرے مذاہب خصوصاً ادیانِ ابراہیمی میں بھی ایک بنیادی اصل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر توحید پر ایمان رکھنے والوں کو موحد کہا جاتا ہے۔ فلسفہ اور علمِ کلام کی رو سے توحید کو توحیدِ ذاتی، توحیدِ صفاتی، توحیدِ افعالی اور توحید فی العبادت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
توحید کے معنی و مفہوم پر ایک بحث
معنیاتی اعتبار سے توحید کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: عرفانی، فلسفی اور کلامی۔ توحیدِ عرفانی خداوند کی وحدانیت کے مشاہدہ اور اس تک روحانی رسائی پر مبنی ہے۔ توحیدِ فلسفی خداوند کی وحدانیت پر عقلی یقین پر مبنی ہے، جبکہ توحیدِ کلامی خداوند کی احدیت کو تسلیم کرنے پر قائم ہے۔ [1]
توحید کے لغوی معنی
لفظ «توحید» باب تفعیل کا مصدر ہے اور اس کے معنی ہیں “کسی کو ایک ماننا”۔ اس لفظ کی جڑ «وحد» ہے جس کے معنی انفراد کے ہیں، اسی وجہ سے «واحد» اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کے اجزا نہ ہوں۔ [2]
یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لغت میں توحید کا معنی کسی چیز کے ایک ہونے کا حکم لگانا اور اس کی یکتائی کا علم حاصل کرنا ہے۔[3]
توحید کا اصطلاحی معنی
علمِ کلام کی اصطلاح میں توحید سے مراد اللہ تعالیٰ کی یکتائی کا اقرار کرنا اور اس کی صفات میں کسی شریک کے نہ ہونے کا عقیدہ رکھنا ہے۔[4]
توحید کی اقسام
توحیدِ ذاتی: توحیدِ ذاتی سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہر قسم کے شریک، مثل اور جزء کی نفی کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات یکتا ہے، اس کی کوئی مثال اور مانند نہیں، اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ اس کی مخلوق ہے۔ قرآن کریم کی آیات «لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ» اور «وَلَمْ یَکُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ» اسی توحیدِ ذاتی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ [5][6]
توحیدِ صفاتی: توحیدِ صفاتی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات جیسے علم، قدرت، حیات اور ارادہ، اس کی ذات ہی کا عین ہیں اور اسی کی طرف لوٹتی ہیں۔
علی بن ابی طالب نے اس بارے میں فرمایا: «کل عزیز غیره ذلیل و کل قوی غیره ضعیف، و کل مالک غیره مملوک و کل عالم غیره متعلم و کل قادر غیره یقدر و یعجز» یعنی اللہ کے سوا ہر عزت والا ذلیل ہے، ہر طاقتور کمزور ہے، ہر مالک مملوک ہے، ہر عالم سیکھنے والا ہے اور ہر قادر کبھی طاقتور اور کبھی عاجز ہو جاتا ہے۔ [7]
اس روایت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خداوند کی صفات اس کی ذات ہی کا عین ہیں اور کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں ہو سکتی۔
توحیدِ افعالی: توحیدِ افعالی سے مراد یہ ہے کہ کائنات کے تمام افعال و تغیرات، حتیٰ کہ انسان کے افعال بھی، اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔ جس طرح تمام موجودات اللہ کی مخلوق ہیں اسی طرح ان کے افعال بھی اسی کے پیدا کردہ ہیں، اور درحقیقت اللہ کے سوا کوئی مستقل فاعل اور مؤثر نہیں۔
ملا صدرا اس بارے میں کہتے ہیں: «لا مؤثر فی الوجود إلا الله» یعنی وجود میں اللہ کے سوا کوئی مؤثر نہیں۔[8]
البتہ توحید کی یہ قسم اسلامی مذاہب کے درمیان ایک اہم علمی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اس سلسلے میں مشہور نظریات جیسے امر بین الامرین، کسب اور خلق افعال عباد پیش کیے گئے ہیں؛ پہلا نظریہ امامیہ سے، دوسرا اشاعرہ اور ماتریدیہ سے، اور تیسرا اہلِ حدیث سے منسوب ہے۔
توحید فی العبادت: توحید فی العبادت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ امام علی علیہ السلام سے اذان کے بعض فقروں کی تفسیر میں نقل ہوا ہے کہ انہوں نے فرمایا:
«اما قوله اشهد ان لا اله الا الله کأنه یقول اعلم انه لا معبود الا الله (عز وجل) و ان کل معبود باطل سوی الله»
یعنی جب کوئی شخص کہتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کے علاوہ ہر معبود باطل ہے۔ [9]
اسلام میں توحید کا مقام
اگرچہ لفظِ توحید قرآن میں براہِ راست نہیں آیا، لیکن قرآن مجید میں بہت سی آیات ایسی ہیں جو توحید کے اثبات اور شرک کی نفی کے بارے میں ہیں۔ [10]
قرآن کی تصریح کے مطابق تمام انبیاء کا پیغام بھی توحید پر ایمان تھا۔ [11]
یہ مفہوم مختلف تعبیرات اور عبارات کے ساتھ قرآن کریم میں بارہا بیان ہوا ہے؛ مثال کے طور پر سورہ توحید میں اللہ تعالیٰ کو «احد» یعنی یکتا کہا گیا ہے۔ [12]
دیگر معبودوں کی نفی، خدا کی وحدانیت، سب انسانوں کے لیے ایک ہی خدا، تمام جہانوں کا رب ہونا، متعدد خداؤں کے عقیدے کی مذمت، کثرتِ خدائی کے تصور کی تردید، تثلیث کے قائلین کے دعوے کا رد، اور خدا کے لیے ہر قسم کی مثال اور مانند کی نفی—یہ سب مفاہیم قرآن مجید میں توحید کے ذیل میں بیان ہوئے ہیں۔[13]
خدا کی یکتائی کی گواہی دینا اور شرک سے بچنا وہ پہلا پیغام تھا جو رسولِ اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے اپنی علانیہ دعوت کے آغاز میں اہلِ مکہ کے سامنے پیش کیا۔ [14]
پیغمبر اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے نمائندے، جیسے معاذ بن جبل، جب اسلام کی تبلیغ کے لیے مختلف علاقوں میں جاتے تھے تو لوگوں کو سب سے پہلے اللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ [15]
بعض [[مسلم]] علما نے اسلام میں توحید کی خاص اہمیت کے پیشِ نظر مسلمانوں کو «اہل التوحید» کہا ہے.[16]
اور اسے مسلمان ہونے کی بنیادی علامت قرار دیا ہے۔ [17]
امام علی علیہ السلام نے خدا کی معرفت کی بنیاد توحید اور اللہ کی یکتائی پر ایمان کو قرار دیا ہے۔ [18]
ملا صدرا کے مطابق قرآن کریم کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی توحید کو ثابت کرنا ہے۔[19]
اسلامی تعلیمات میں توحید کا مقام
خدا شناسی کے مباحث میں توحید، یعنی یکتاپرستی، اسلام اور تمام ادیانِ ابراہیمی کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔ اس اصول کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ بہت سے مسلمان متکلمین کے نزدیک اسلام کے دیگر اصولِ دین بھی اصلِ توحید ہی پر قائم ہیں۔
اسی بنا پر امام علی علیہ السلام نے رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے روایت نقل کی ہے کہ: "التوحید نصف الدین" یعنی توحید دین کا نصف ہے۔[20]
ایک شخص نے رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے پوچھا کہ علم کی بنیاد کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: «معرفة الله حق معرفته» یعنی اللہ کو اس طرح پہچاننا جیسا کہ اسے پہچاننے کا حق ہے۔ [21]
اس شخص نے دوبارہ پوچھا کہ خدا کی صحیح معرفت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ انسان جان لے کہ اللہ کا نہ کوئی مثل ہے نہ کوئی شبیہ؛ اور اسے معبودِ واحد، خالق، قادر، اول و آخر، ظاہر و باطن کے طور پر پہچانے—جو بے مثل و بے مانند ہے۔ یہی خدا کی حقیقی معرفت ہے۔
اسلامی مذاہب کے نقطۂ نظر سے توحید
توحید اور اس سے متعلق مباحث امامیہ، معتزلہ، اشاعرہ اور اہلِ حدیث جیسے اسلامی مکاتب کے درمیان علمی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ تاہم ان تمام مذاہب کے درمیان توحیدِ ذاتی اور توحید فی العبادت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
اسلامی مکاتبِ فکر میں توحیدِ ذاتی اور توحید فی العبادت تمام فکری رجحانات کے نزدیک قطعی طور پر مسلم ہیں، البتہ توحیدِ صفاتی اور توحیدِ افعالی کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اشاعرہ توحیدِ صفاتی کے قائل نہیں جبکہ معتزلہ توحیدِ افعالی کے منکر ہیں۔
شہید مرتضیٰ مطہری اس بارے میں لکھتے ہیں: «توحید اصول پنجگانه معتزله میں بھی شامل ہے اور اشاعرہ کے اصولوں میں بھی؛ فرق یہ ہے کہ معتزلہ کے نزدیک جو توحید بنیادی حیثیت رکھتی ہے وہ توحیدِ صفاتی ہے جسے اشاعرہ قبول نہیں کرتے، جبکہ اشاعرہ کے نزدیک جو توحید نمایاں ہے وہ توحیدِ افعالی ہے جسے معتزلہ قبول نہیں کرتے۔» [22]
امامیہ کے نقطۂ نظر سے توحید
امامیہ کے متکلمین توحید کے بارے میں وسیع نظریہ رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک توحید صرف توحیدِ ذاتی اور توحید فی العبادت تک محدود نہیں بلکہ اس میں توحیدِ صفاتی اور توحیدِ افعالی بھی شامل ہیں۔
البتہ توحیدِ صفاتی کے بارے میں امامیہ کا نظریہ معتزلہ سے مختلف ہے، اور توحیدِ افعالی کے بارے میں ان کا نظریہ اشاعرہ سے مختلف ہے؛ کیونکہ معتزلہ کے نزدیک ذاتِ الٰہی ہر قسم کی صفات سے خالی ہے، جبکہ امامیہ کے نزدیک صفاتِ الٰہی عینِ ذاتِ الٰہی ہیں۔ [23]
شہید مطہری کے نزدیک شرک اور توحید کی حد
توحید اور شرک مسلمانوں کے بنیادی اعتقادی اصول ہیں۔ شریعت کے تمام احکام اور معارف اسی بنیادی اور اساسی اصل پر قائم ہیں، اور اس کی ہر قسم کی تفسیر معتقدین کے فکری اور عملی طرزِ عمل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔
وهابیت نے اس اصل کی نادرست تفسیر کرتے ہوئے بہت سے مسلمانوں کو تکفیر کا نشانہ بنایا اور خود کو حقیقی موحد قرار دیا۔ ذیل کی تحریر میں توحید اور شرک کی سرحد کے بارے میں شہید مطہری کے نظریے اور اس مسئلے میں وہابیت اور دیگر مسلمانوں کے درمیان اختلاف کو بیان کیا گیا ہے۔
توحید اور شرک کی توضیح میں شہید مطہری کا نقطۂ نظر
شہید مطہری کے نزدیک توحید اور شرک کے بارے میں بنیادی اصول درج ذیل ہیں:
- توحید کے مراتب و درجات
وہ فرماتے ہیں کہ قرآنِ کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور شرک دونوں کے درجات اور مراتب ہیں۔
توحید کے مختلف درجات ہیں، اسی طرح شرک — جو توحید کے مقابل ہے — اس کے بھی مختلف درجے ہیں۔ انسان جب تک توحید کے تمام مراحل طے نہ کر لے، حقیقی موحد نہیں بنتا۔ اس کے بعد وہ توحید کے مراتب کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
- توحیدِ ذاتی
توحیدِ ذاتی سے مراد ذاتِ حق کو وحدت اور یگانگی کے ساتھ پہچاننا ہے۔ یعنی یہ حقیقت کسی قسم کی دوئی اور تعدد کو قبول نہیں کرتی، اس کا کوئی مثل و مانند نہیں: «لَیْسَ کَمِثْلِهِ شَیْءٌ» اور اس کے مرتبۂ وجود میں کوئی اس کا ہمسر نہیں: «وَ لَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُوًا أَحَدٌ»
کائنات نہ متعدد اصولوں سے پیدا ہوئی ہے اور نہ متعدد اصولوں کی طرف لوٹتی ہے؛ بلکہ ایک ہی اصل اور ایک ہی حقیقت سے پیدا ہوئی ہے: «قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ» اور اسی اصل اور حقیقت کی طرف پلٹتی ہے: «أَلَا إِلَى اللّٰهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ»
دوسرے الفاظ میں، نظامِ ہستی ایک قطبی، ایک مرکزی اور ایک محوری نظام ہے۔
- توحیدِ صفاتی
وہ توحیدِ صفاتی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
توحیدِ صفاتی کا مطلب یہ ہے کہ ذاتِ حق کو اس کی صفات کے ساتھ عینی یگانگی میں پہچانا جائے، اور صفات کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ متحد سمجھا جائے۔ توحیدِ ذاتی کا مطلب دوسرے کی نفی اور مثل و مانند کی نفی ہے، جبکہ توحیدِ صفاتی کا مطلب خود ذات کے اندر ہر قسم کی کثرت اور ترکیب کی نفی ہے۔
جس طرح لا متناہی وجود کے لیے دوسرے کا تصور ممکن نہیں، اسی طرح اس کے اندر کثرت، ترکیب اور ذات و صفات کے اختلاف کا تصور بھی ممکن نہیں۔
- توحیدِ افعالی
توحیدِ افعالی سے مراد یہ ہے کہ انسان اس حقیقت کو سمجھے کہ کائنات اپنے تمام نظاموں، قوانین، اسباب و مسببات اور علل و معلولات سمیت اللہ کا فعل ہے اور اسی کے ارادے سے صادر ہوئی ہے۔
جس طرح مخلوقات اپنی ذات میں مستقل نہیں بلکہ سب کے سب اسی پر قائم اور اسی کے محتاج ہیں — اور وہ قرآن کی تعبیر کے مطابق تمام جہان کا «قیوم» ہے — اسی طرح تاثیر اور علیت کے مقام پر بھی وہ مستقل نہیں۔
پس جس طرح اللہ کی ذات میں کوئی شریک نہیں، اسی طرح اس کی فاعلیت میں بھی کوئی شریک نہیں۔ ہر فاعل اور سبب اپنی حقیقت، وجود، تاثیر اور فاعلیت اسی سے پاتا ہے اور اسی پر قائم ہے۔ تمام قوتیں اور توانائیاں اسی سے وابستہ ہیں: «ما شاء الله و لا قوّة الّا به، لا حول و لا قوّة الّا باللّه»
- توحید فی العبادت
آیت «ایّاکَ نَعْبُدُ» (ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں) کی تفسیر میں وہ لکھتے ہیں:
عبادت میں توحید کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بھی دوسرے موجود یا کسی اور حکم کے مقابلے میں بندگی اور تسلیم کی کیفیت نہ رکھے، بلکہ غیرِ خدا کے مقابلے میں سرکشی اور انکار کی حالت اختیار کرے۔
پس انسان کے اندر دو متضاد کیفیتیں ہونی چاہئیں: اللہ کے سامنے مکمل تسلیم، اور غیرِ خدا کے مقابلے میں مکمل انکار۔ یہی «ایّاکَ نَعْبُدُ» کا مفہوم ہے — اے خدا! ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ [24]
وہ مزید لکھتے ہیں کہ:
توحیدِ ذاتی، صفاتی اور افعالی نظری توحید ہیں اور معرفت و شناخت سے تعلق رکھتے ہیں؛ جبکہ توحید فی العبادت عملی توحید ہے اور «ہونے» اور «بننے» سے متعلق ہے۔
نظری توحید صحیح فکر اور درست اندیشہ ہے، جبکہ عملی توحید صحیح وجود اور صحیح سیرت ہے۔ نظری توحید کمال کی بصیرت ہے اور عملی توحید کمال کی طرف حرکت۔ نظری توحید خدا کی یکتائی کو دیکھنا ہے، اور عملی توحید خود کو یگانہ بنانا ہے۔ نظری توحید «دیکھنا» ہے اور عملی توحید «چلنا» ہے۔[25]
- خدای واحد کی معرفت اور عبادت کا لازمہ
خدا کو کامل ترین ذات اور کامل ترین صفات کے ساتھ پہچاننا — جو ہر نقص سے پاک ہے — اور اس کا کائنات کے ساتھ تعلق (یعنی خالقیت، ربوبیت، فیاضیت، رحمت اور عطوفت) کو سمجھنا، انسان کے اندر ایک خاص ردِ عمل پیدا کرتا ہے جسے «عبادت» کہا جاتا ہے۔[26]
- عبادت کا معنی
وہ عبادت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
عبادت ایک ایسا خاضعانہ، ستائش آمیز اور سپاس گزارانہ تعلق ہے جو انسان اپنے خدا کے ساتھ قائم کرتا ہے۔ یہ تعلق انسان صرف اپنے خدا کے ساتھ قائم کر سکتا ہے، اور صرف خدا کے بارے میں ہی صادق ہے؛ غیرِ خدا کے بارے میں نہ یہ درست ہے اور نہ جائز۔[27]
- عبادت کی انحصاریت
قرآن کریم اس بات پر بہت زور دیتا ہے کہ عبادت صرف خدا کے لیے مخصوص ہونی چاہیے، اور شرک سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔[28]
- عبادت میں توحید کا تحقق
ان کے نزدیک توحید فی العبادت اس وقت محقق ہوتی ہے جب عبادت گزار یہ جان لے کہ:
- اس کے سوا کوئی کاملِ مطلق نہیں؛
- اس کے سوا کوئی ذات ہر نقص سے پاک نہیں؛
- اس کے سوا کوئی حقیقی منعم اور نعمتوں کا اصل سرچشمہ نہیں؛
- اس کے سوا کوئی بھی مطاعِ مطلق اور مکمل اطاعت کے لائق نہیں۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہر اطاعت — جیسے رسول، امام، اسلامی شرعی حاکم، والدین یا استاد کی اطاعت — آخرکار خدا کی اطاعت اور اس کی رضا کی طرف منتهی ہونی چاہیے، ورنہ جائز نہیں۔
یہی وہ ردِ عمل ہے جو ایک بندے کے لیے خدا کے سامنے مناسب ہے، اور یہ کیفیت خدا کے سوا کسی اور کے بارے میں نہ درست ہے نہ جائز۔ [29]
- توحیدِ ذاتی اور توحید فی العبادت کی بنیادی حیثیت
توحیدِ ذاتی اور توحید فی العبادت اسلام کے ابتدائی اور بنیادی اعتقادی اصولوں میں سے ہیں۔
اگر کسی کے عقیدے میں ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی خلل ہو تو وہ مسلمانوں میں شمار نہیں ہوگا۔ تمام مسلمان ان دونوں اصولوں پر متفق ہیں۔ [30]
- وہابیت اور دیگر مسلمانوں کا اختلاف
ان کے نزدیک وهابیت اور دیگر مسلمانوں کے درمیان اصل اختلاف مفہومِ توحید یا عبادت میں نہیں، بلکہ مصادیق میں ہے۔
اختلاف اس بات میں نہیں کہ عبادت کے لائق صرف خدا ہے یا غیرِ خدا (مثلاً انبیا اور اولیا بھی عبادت کے لائق ہیں) — اس میں کوئی شک نہیں کہ غیرِ خدا عبادت کے لائق نہیں۔
اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا استشفاع اور توسل عبادت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں؟ لہٰذا یہ نزاع کبروی نہیں بلکہ صغروی ہے۔[31]
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ ر۔ک: طباطبائی فاطمہ، توحیدِ شہودی از منظر امام خمینی، ص ۱۰۴
- ↑ کریمی، توحید از دیدگاه آیات و روایات، ۱۳۷۹ش، ص ۱۹–۲۰
- ↑ میر سید شریف جرجانی، التعریفات، ص 96، واژه التوحید
- ↑ قاضی عبدالجبار معتزلی، شرح الاصول الخمسه، ص 80
- ↑ سورۂ شوریٰ، آیت 11
- ↑ سورۂ اخلاص، آیت 4
- ↑ نہج البلاغہ، خطبہ 65
- ↑ صدرالمتألهین، الحکمه المتعالیه فی الاسفار العقلیه، ج 6، ص 387
- ↑ شیخ صدوق، معانی الاخبار، ص 39
- ↑ ر۔ک: رمضانی، حسن، «مبحث توحید»، سائٹ دانشنامہ موضوعی قرآن
- ↑ ر۔ک: رمضانی، حسن، «مبحث توحید»، سائٹ دانشنامہ موضوعی قرآن
- ↑ شریعتمداری، توحید از دیدگاه قرآن و نهجالبلاغه، ص 48
- ↑ طارمیراد، توحید، ص 406–407
- ↑ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، نشر دار صادر، ج 2، ص 24
- ↑ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، نشر دار صادر، ج 2، ص 76 و 81
- ↑ طارمیراد، توحید، ص 406
- ↑ مصباح یزدی، خداشناسی (مجموعہ کتب آموزشی معارف قرآن 1)، 1394ش، ص 180
- ↑ نہج البلاغہ، تحقیق صبحی صالح، خطبہ اول، ص 39
- ↑ ملاصدرا، تفسیر القرآن الکریم، سال 1366شمسی، ج 4، ص 54
- ↑ شیخ صدوق، التوحید، قم، نشر جامعه مدرسین، چاپ اول، ص 68، ح 24
- ↑ مذکوره حواله، ص 285
- ↑ مرتضیٰ مطہری، آشنایی با علوم اسلامی، ص 35
- ↑ مطہری مرتضیٰ، آشنایی با علوم اسلامی، ص 35
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، ج 26، ص 101–102
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، ج 26، ص 99–103
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، جهانبینی توحیدی، ج 2، ص 96–97
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، جهانبینی توحیدی، ج 2، ص 96–97
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، جهانبینی توحیدی، ج 2، ص 96–97
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، جهانبینی توحیدی، ج 2، ص 96–97
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، ج 3، ص 71
- ↑ مطہری مرتضیٰ، مجموعه آثار، ج 3، ص 71