مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے نوٹس اور تجزیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 32 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:اربعین زعیم امت اسلام و پیام امام خامنه‌ای (یادداشت).jpg|تصغیر|بائیں]]


[[فائل: موازنه برتری قدرت موشکی بر قدرت جنگنده‌ها (یادداشت).jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعمل(نوٹس اور تجزیے)|اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعمل]]'''یہ مضمون [[سید علی  خامنہ ای|امام خامنہ ای]] کے پیغام پر مختلف ردِعمل کا ذکر کرتا ہے، جو سید الشہداء انقلاب امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے چہلم کے موقع پر جاری ہوا۔ 
'''[[لڑاکا طیاروں کی طاقت پر میزائل طاقت کی برتری کا توازن(نوٹس )|لڑاکا طیاروں کی طاقت  پر میزائل طاقت کی برتری کا توازن]]'''ایک نوٹس اور یاد داشت  کا عنوان ہے جس میں "یہودی فاؤنڈیشن برائے قومی سلامتی امور" کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی میزائل طاقت کے توازن کو بیان کیا گیا ہے۔
پیغام کے بنیادی نکات ’’[[آبنائے ہرمز|تنگہ ہرمز]] کے انتظام کے نئے مرحلے‘‘، ’’جنگ اور شہداء کے خون کے نقصانات کا ازالہ‘‘، ’’حملہ آوروں سے انتقام‘‘، ’’محورِ مقاومت کی وحدت‘‘ اور ’’ایران کی کامیابی باوجود نقصانات‘‘ پر مرکوز تھے۔
[[فائل:  آمادگی حزب‌الله لبنان.webp|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[حزب اللہ لبنان کی تیاری( نوٹس اور تجزیے)|حزب اللہ لبنان کی تیاری]]''' لبنان میں ایک مضبوط اور مستحکم حیثیت حاصل ہے، جیسا کہ [[لبنان]] میں [[شیعہ]] آبادی بھی ایک مستحکم پوزیشن میں ہے۔ لبنان کی تقریباً 4.5 ملین کی آبادی میں سے 1.6 ملین شیعہ ہیں، جو کل آبادی کا تقریباً 35 فیصد بنتے ہیں۔ عیسائی اور [[سنی]] آبادی کے برعکس، یہ آبادی نہ صرف ایک کثیر تعداد میں ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی متحد ہے۔ اس صورتحال نے شیعہ برادری کو پچھلی کئی دہائیوں میں بہت سے طوفانوں کا سامنا کرنے اور ثابت قدم رہنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 16:09، 19 اپريل 2026ء

اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعملیہ مضمون امام خامنہ ای کے پیغام پر مختلف ردِعمل کا ذکر کرتا ہے، جو سید الشہداء انقلاب امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے چہلم کے موقع پر جاری ہوا۔ پیغام کے بنیادی نکات ’’تنگہ ہرمز کے انتظام کے نئے مرحلے‘‘، ’’جنگ اور شہداء کے خون کے نقصانات کا ازالہ‘‘، ’’حملہ آوروں سے انتقام‘‘، ’’محورِ مقاومت کی وحدت‘‘ اور ’’ایران کی کامیابی باوجود نقصانات‘‘ پر مرکوز تھے۔