"زندگی آیتاللہ العظمی بروجردی (کتاب)" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Javadi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Javadi نے صفحہ زندگی آیت اللہ العظمی بروجردی(کتاب) کو زندگی آیتاللہ العظمی بروجردی (کتاب) کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 60: | سطر 60: | ||
== متعلقہ تلاشیں == | == متعلقہ تلاشیں == | ||
* | * [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی|مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی]] | ||
* عالمِ اسلام | * [[اسلام|عالمِ اسلام]] | ||
* سید حسین بروجردی | * [[سید محمد حسین بروجردی]] | ||
* محمد واعظ زادہ خراسانی | * [[محمد واعظ زاده خراسانی|محمد واعظ زادہ خراسانی]] | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:07، 21 جنوری 2026ء
| زندگی آیتالله العظمیٰ بروجردی | |
|---|---|
| نام | زندگیِ آیتالله العظمیٰ بروجردی اور ان کا فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب |
| مؤلفین/ مصنفین | آیتالله محمد واعظ زادہ خراسانی |
| زبان | فارسی |
| زبان اصلی | فارسی |
| ناشر | تحقیقاتی مرکز برای تقریبی مطالعات مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کا شاخ |
| شابک | 9789641671633 |
زندگی آیتالله العظمیٰ بروجردی محمد واعظ زادہ خراسانی کی تالیف ہے جس میں آیتالله سید حسین بروجردیؒ کی زندگی، شخصیت اور فکری و علمی جہات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں آیتالله بروجردی کے فقہی، اصولی، حدیثی اور رجالی مکتب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف ابتدا میں آیتالله بروجردی کے نسب، شجرۂ نسب اور حیاتِ مبارکہ کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں، اس کے بعد علمِ حدیث میں ان کے منہج کا اجمالی بیان آتا ہے۔ اس ضمن میں آیتالله بروجردی کی تالیف "جامع الاحادیث" کا تعارف، اجازاتِ اجتہاد و روایت، اور متعلقہ اسناد کا ذکر کیا گیا ہے۔ کتاب کے آخر میں ان کی اخلاقی و عرفانی خصوصیات، علمی آثار، طریقۂ کار اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی سے متعلق ان کے نظریات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آیتالله سید حسین بروجردی (1254–1340 شمسی) معاصر دور کے عظیم شیعہ مرجعِ تقلید، فقیہِ اصولی، محدث اور رجالی عالم تھے اور محمد کاظم خراسانی کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنی علمی زندگی میں بے شمار شاگرد تربیت کیے جن میں امام خمینیؒ بھی شامل ہیں۔ جب بھی اسلام اور مسلمانوں کو خطرہ لاحق ہوا، انہوں نے سیاسی میدان میں مؤثر کردار ادا کیا، جیسے کشفِ حجاب کی مخالفت اور بہائیت کے خلاف موقف۔ محمد واعظ زادہ خراسانی اسلامی علوم کے ممتاز محقق اور مصنف ہیں، جنہوں نے اس کتاب کے ذریعے اسلامی تاریخ و ثقافت کے طلبہ کے لیے قیمتی معلومات فراہم کی ہیں۔
اجمالی تعارف
آیتالله العظمیٰ بروجردی ان مراجعِ تقلید میں سے ہیں جنہوں نے علم و عمل، فکر و ابتکار، اصلاح پسندی اور عالمِ اسلام پر توجہ کو یکجا کیا۔ بالخصوص فقہ، حدیث اور علمِ رجالِ امامیہ میں انہوں نے نمایاں اور انقلابی تبدیلیاں پیدا کیں۔ یہ کتاب ان کی دو اہم علمی کاوشوں پر روشنی ڈالتی ہے: "موسوعہ جامع احادیث الشیعہ فی احکام الشریعہ" ان کی "رجالی تصانیف کا مجموعہ""، جو رواۃِ حدیث کی شناخت کے لیے ایک جامع اور جدید ماخذ ہے۔
کتاب کے ابواب
- پہلا حصہ: آیتالله العظمیٰ بروجردی کی زندگی، ان کے اصلاحی اقدامات، اور سیاسی و سماجی نظریات۔
- دوسرا حصہ: ان کے حدیثی اور رجالی مکتب کا تفصیلی تعارف اور کتاب جامع الاحادیث کی وضاحت۔
- تیسرا حصہ: ممتاز شیعہ علما و مراجع (جیسے آیتالله العظمیٰ دہکردی، آخوند خراسانی، شیخ الشریعہ اصفہانی وغیرہ) کی اجازاتِ اجتہاد و روایت کے خطی نسخے۔
- مزید مباحث:مصنف کے آیتالله بروجردی کو لکھے گئے خطوط (جامع الاحادیث کی تالیف سے قبل اور بعد)، ان کے رجالی مکتب اور آثار کا تعارف۔
- ایک مستقل باب: “آیتالله بروجردی، عظیم فقیدِ اسلام” کے عنوان سے، جس میں خاندان، دورۂ تحصیل، مرجعیتِ عامہ اور علمی و اخلاقی خدمات بیان کی گئی ہیں۔
- آخری حصہ:تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے بارے میں آیتالله بروجردی کے نظریات۔
- ضمیمہ:مصنف، استاد واعظ زادہ خراسانی کا مجلہ حوزہ میں شائع ہونے والا منتخب انٹرویو۔
کتاب میں زیرِ بحث موضوعات
- آیتالله بروجردی کا نسب و شجرہ
- ساداتِ طباطبائی
- تاریخِ ولادت و وفات
- مرجعیتِ تقلید
- فقہ اور تقریبِ مذاہب کا باہمی تعلق
حدیثی و رجالی مکتب
- علمِ حدیث میں ان کے منہج اور اثرات کا اجمالی جائزہ
- جامع الاحادیث پر مفصل بحث
- وسائل الشیعہ
- احادیث کی ضبط و تدوین
- کتاب کے امتیازات
- آیتالله بروجردی کی براہِ راست علمی مداخلت
اجازاتِ اجتہاد و روایت
- جامع الاحادیث سے متعلق آیتالله بروجردی کی اجازتِ حدیث
- اجازات کے اصل نسخوں تک رسائی
- آخوند خراسانی کے خطوط
رجالی آثار
- مرتب الاسانید
- مرتب رجال الاسانید
- سلسلۂ رجالی کتب اور ان کی اشاعت کی تاریخ
تقریبِ مذاہب اسلامی
- وحدتِ اسلامی سے ان کی وابستگی
- حدیثِ ثقلین پر ان کا موقف
- دارالتقریب (قاہرہ) سے تعلق
- مناسکِ حج کو یکساں بنانے کی تجویز
- ایک مصلح کے طور پر ان کا کردار[1]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ زندگی آیت الله العظمی بروجردی (ره)،تقریبی مطالعات کے ادارے کے ویب سائٹ پر- اخذ شدہ بہ تاریخ: 19 جنوری 2026ء