"جنوبی افریقہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «{{خانہ معلومات ملکی | عنوان = جنوبی افریقہ | تصویر = آفریقای جنوبی 1.png | سرکاری نام = جنوبی افریقہ | پورا نام = جمهوریه جنوبی افریقہ |منطقه زمانی | data-type="authorfatherName" |UTC+05:30 | طرز حکمرانی = وفاقی جمهوریه | دارالحکومت = صدارت پریٹوریا -پارلیمنٹ کیپ ٹاؤن- عد...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:جنوبی افریقہ کو جنوبی افریقہ کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 2: | سطر 2: | ||
| عنوان = جنوبی افریقہ | | عنوان = جنوبی افریقہ | ||
| تصویر = آفریقای جنوبی 1.png | | تصویر = آفریقای جنوبی 1.png | ||
| نقشہ کی تصویر = آفریقای جنوبی.png | |||
| سرکاری نام = جنوبی افریقہ | | سرکاری نام = جنوبی افریقہ | ||
| پورا نام = جمهوریه جنوبی افریقہ | | پورا نام = جمهوریه جنوبی افریقہ | ||
| سطر 13: | سطر 14: | ||
}} | }} | ||
جنوبی افریقہ، جسے سرکاری طور پر "جمہوریہ جنوبی افریقہ" کہا جاتا ہے، براعظم افریقہ کے جنوبی ترین حصے میں واقع ایک ملک ہے جو اپنے چیلنجنگ سیاسی تاریخ، وسیع معدنی وسائل، صنعتی معیشت، اور لسانی و نسلی تنوع کی وجہ سے براعظم افریقہ اور گلوبل ساؤتھ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ | '''جنوبی افریقہ،''' جسے سرکاری طور پر "جمہوریہ جنوبی افریقہ" کہا جاتا ہے، براعظم افریقہ کے جنوبی ترین حصے میں واقع ایک ملک ہے جو اپنے چیلنجنگ سیاسی تاریخ، وسیع معدنی وسائل، صنعتی معیشت، اور لسانی و نسلی تنوع کی وجہ سے براعظم افریقہ اور گلوبل ساؤتھ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ | ||
== تاریخ == | == تاریخ == | ||
ابتدائی رہائشی افراد سان اور خوئخوئی اقوام تھے جو ماقبل تاریخ سے اس علاقے میں موجود تھے۔ 1497ء میں، پرتگالی جہاز ران واسکو ڈی گاما نے پہلی بار "دماغه طوفان ہا" (کیپ آف سٹورمز) کو عبور کیا، جسے بعد میں "دماغه امید نیک" (کیپ آف گڈ ہوپ) کا نام دیا گیا۔ 1652ء تک، پرتگالی ہی واحد غیر ملکی تھے جب تک کہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیپ ٹاؤن میں ایک تجارتی اڈا قائم نہ کیا۔ | ابتدائی رہائشی افراد سان اور خوئخوئی اقوام تھے جو ماقبل تاریخ سے اس علاقے میں موجود تھے۔ 1497ء میں، پرتگالی جہاز ران واسکو ڈی گاما نے پہلی بار "دماغه طوفان ہا" (کیپ آف سٹورمز) کو عبور کیا، جسے بعد میں "دماغه امید نیک" (کیپ آف گڈ ہوپ) کا نام دیا گیا۔ 1652ء تک، پرتگالی ہی واحد غیر ملکی تھے جب تک کہ ڈچ ایسٹ [[ہندوستان|انڈیا]] کمپنی نے کیپ ٹاؤن میں ایک تجارتی اڈا قائم نہ کیا۔ | ||
برطانیہ نے 1795ء اور 1806ء میں فوجی حملوں کے ذریعے کیپ پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ڈچ نژاد افراد (بوئرز) اندرونی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ 19ویں صدی میں سونا اور ہیرا دریافت ہونے پر برطانیہ کی موجودگی میں مزید اضافہ ہوا، جس سے بوئیر جنگوں کا آغاز ہوا۔ بوئرز پہلی جنگ (1880–1881) جیت گئے لیکن دوسری جنگ (1899–1902) میں شکست کھا گئے اور ملک مکمل طور پر برطانوی تسلط میں متحد ہو گیا۔ جنوبی افریقہ نے 1934ء میں باضابطہ طور پر برطانوی سلطنت کی زیر سرپرستی سے آزادی حاصل کی اور دونوں عالمی جنگوں میں برطانیہ کے ساتھ شرکت کی۔ | برطانیہ نے 1795ء اور 1806ء میں فوجی حملوں کے ذریعے کیپ پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ڈچ نژاد افراد (بوئرز) اندرونی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ 19ویں صدی میں سونا اور ہیرا دریافت ہونے پر برطانیہ کی موجودگی میں مزید اضافہ ہوا، جس سے بوئیر جنگوں کا آغاز ہوا۔ بوئرز پہلی جنگ (1880–1881) جیت گئے لیکن دوسری جنگ (1899–1902) میں شکست کھا گئے اور ملک مکمل طور پر برطانوی تسلط میں متحد ہو گیا۔ جنوبی افریقہ نے 1934ء میں باضابطہ طور پر برطانوی سلطنت کی زیر سرپرستی سے آزادی حاصل کی اور دونوں عالمی جنگوں میں برطانیہ کے ساتھ شرکت کی۔ | ||
| سطر 101: | سطر 102: | ||
== ثقافت (Culture) == | == ثقافت (Culture) == | ||
جنوبی افریقہ "رینبو نیشن" (Rainbow Nation) کے نام سے مشہور ہے۔ رگبی، فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل ملکی شناخت کے ستون ہیں۔ نسل پرستی کے خاتمے کے بعد قومی رگبی ٹیم (اسپرنگ بکس) قومی اتحاد کی علامت بن گئی۔ مذہبی لحاظ سے، آبادی کا اسی فیصد عیسائی، دو فیصد | جنوبی افریقہ "رینبو نیشن" (Rainbow Nation) کے نام سے مشہور ہے۔ رگبی، فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل ملکی شناخت کے ستون ہیں۔ نسل پرستی کے خاتمے کے بعد قومی رگبی ٹیم (اسپرنگ بکس) قومی اتحاد کی علامت بن گئی۔ مذہبی لحاظ سے، آبادی کا اسی فیصد عیسائی، دو فیصد [[مسلمان]]، 0.1 فیصد یہودی ہیں، اور باقی یا تو بے مذہب ہیں یا مقامی روایات کے پیروکار ہیں۔ [[مسلمان]] تقریباً 1 ملین کی آبادی پر مشتمل ہیں اور سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ [[ایران|ایرانی]] کمیونٹی چھوٹی، منتشر اور قالینوں اور دستکاریوں کے کاروبار میں فعال ہے، اور معاشی طور پر متوسط درجے پر ہے۔ <ref>[https://hawzah.net/fa/Article/View/80944/%D9%86%DA%AF%D8%A7%D9%87%DB%8C-%D8%A8%D9%87-%D8%A2%D9%81%D8%B1%DB%8C%D9%82%D8%A7%DB%8C-%D8%AC%D9%86%D9%88%D8%A8%DB%8C نگاهی به آفریقای جنوبی، وبسایت پایگاه اطلاعرسانی حوزه].درج شده تاریخ:۲۳/ستمبر/ 2009M اخذشده تاریخ: 18/ جنوری/ 2026ء</ref> | ||
== تعلیم (Education) == | == تعلیم (Education) == | ||
| سطر 117: | سطر 118: | ||
* فضائیہ (Air Force)؛ | * فضائیہ (Air Force)؛ | ||
* بحریہ (Navy)؛ | * بحریہ (Navy)؛ | ||
* فوجی طبی خدمات (Military Health Service)۔ | * فوجی طبی خدمات (Military Health Service)۔<ref>[https://pretoria.mfa.ir/portal/GeneralCategoryServices/17055 درباره آفریقای جنوبی، وبسایت سفارت ج.ا.ا در پرتوریا]درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 18/ جنوری/ 2026.</ref> | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:52، 18 جنوری 2026ء
جنوبی افریقہ، جسے سرکاری طور پر "جمہوریہ جنوبی افریقہ" کہا جاتا ہے، براعظم افریقہ کے جنوبی ترین حصے میں واقع ایک ملک ہے جو اپنے چیلنجنگ سیاسی تاریخ، وسیع معدنی وسائل، صنعتی معیشت، اور لسانی و نسلی تنوع کی وجہ سے براعظم افریقہ اور گلوبل ساؤتھ میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
تاریخ
ابتدائی رہائشی افراد سان اور خوئخوئی اقوام تھے جو ماقبل تاریخ سے اس علاقے میں موجود تھے۔ 1497ء میں، پرتگالی جہاز ران واسکو ڈی گاما نے پہلی بار "دماغه طوفان ہا" (کیپ آف سٹورمز) کو عبور کیا، جسے بعد میں "دماغه امید نیک" (کیپ آف گڈ ہوپ) کا نام دیا گیا۔ 1652ء تک، پرتگالی ہی واحد غیر ملکی تھے جب تک کہ ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیپ ٹاؤن میں ایک تجارتی اڈا قائم نہ کیا۔
برطانیہ نے 1795ء اور 1806ء میں فوجی حملوں کے ذریعے کیپ پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں ڈچ نژاد افراد (بوئرز) اندرونی علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ 19ویں صدی میں سونا اور ہیرا دریافت ہونے پر برطانیہ کی موجودگی میں مزید اضافہ ہوا، جس سے بوئیر جنگوں کا آغاز ہوا۔ بوئرز پہلی جنگ (1880–1881) جیت گئے لیکن دوسری جنگ (1899–1902) میں شکست کھا گئے اور ملک مکمل طور پر برطانوی تسلط میں متحد ہو گیا۔ جنوبی افریقہ نے 1934ء میں باضابطہ طور پر برطانوی سلطنت کی زیر سرپرستی سے آزادی حاصل کی اور دونوں عالمی جنگوں میں برطانیہ کے ساتھ شرکت کی۔
1948ء میں نیشنل پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں نسل پرستی کا نظام (آپارتھائیڈ) نافذ کیا گیا، جس نے نسلی تفریق اور جبر کو مستحکم کیا۔ اقوام متحدہ نے 1966ء میں اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا، 1973ء میں آپارتھائیڈ مخالف کنونشن منظور ہوا اور 1976ء میں نافذ ہوا۔ مزید برآں، 1974ء میں اقوام متحدہ میں جنوبی افریقہ کی رکنیت معطل کی گئی اور 1977ء میں اس ملک کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی عائد کی گئی۔
1991ء میں مفاہمت کے مذاکرات شروع ہوئے، نیلسن منڈیلا جیل سے رہا ہوئے اور 1994ء میں پہلی آزادانہ انتخابات منعقد ہوئے، جس میں افریقی نیشنل کانگریس (ANC) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہوا، منڈیلا صدر بنے اور قومی اتحاد کی حکومت قائم ہوئی۔ اب تک سات آزاد قومی انتخابات منعقد ہو چکے ہیں۔
سیاسی نظام
جنوبی افریقہ ایک پارلیمانی جمہوریہ ہے جہاں صدر کا انتخاب پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ صدر ریاست اور حکومت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے، اور وہ بالواسطہ طور پر 5 سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ دو مدت تک اس عہدے پر رہ سکتا ہے۔
ملک کی تین طاقتیں مختلف شہروں میں قائم ہیں: انتظامیہ (قوۀ مجریه) پریٹوریا میں، مقننہ (قوۀ مقننه) کیپ ٹاؤن میں، اور عدلیہ (قوۀ قضاییه) بلوم فونٹین میں۔ ملک کے ہر 9 صوبے کے پاس نیم خودمختار قانون ساز ادارے موجود ہیں۔
صدارت( قوه مجریه)
سیریل رامافوسا 2018 سے صدر ہیں، 2019 میں منتخب ہوئے اور 2024 میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔ 2024 کے انتخابات کے بعد، وہ 50%+1 کی اکثریت حاصل نہیں کر سکے، لہذا 10 جماعتوں کے اشتراک سے قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دی گئی۔
قانون سازاسمبلی(پارلمینٹ)
پارلیمنٹ میں دو ایوان ہیں:
- قومی اسمبلی (National Assembly): 400 نمائندے۔
- صوبوں کی قومی کونسل (National Council of Provinces): 90 نمائندے (ہر صوبے سے 10)۔
2024 کے انتخابات میں 18 جماعتیں پارلیمنٹ میں پہنچیں۔ نشستوں کی اہم تقسیم یہ ہے:
- افریقی نیشنل کانگریس (ANC): 40.52% ووٹ، 159 نشستیں؛
- ڈیموکریٹک الائنس (DA): 22.21% ووٹ، 87 نشستیں؛
- اُمخونتُو سیزوِلّے (MK): 14.63% ووٹ، 58 نشستیں؛
- ای-ایف-ایف (EFF): 9.86% ووٹ، 39 نشستیں۔
عوام کی شرکت کا تناسب 58.64% تھا۔
عدالت عظمی
عدالتی نظام میں یہ شامل ہیں:
- آئینی عدالت (Constitutional Court)؛
- سپریم کورٹ آف اپیل (Supreme Court of Appeal)؛
- ہائی کورٹس (اعلیٰ عدالتیں)؛
- ڈسٹرکٹ کورٹس (محاکم دادرسی)۔
جغرافیہ
جنوبی افریقہ کے شمال میں موزمبیق، زمبابوے، بوٹسوانا اور نمیبیا، مشرق میں اسواتینی، اور جنوب و مغرب میں بحر ہند اور بحرِ اوقیانوس سے سرحدیں رکھتا ہے۔ ملک لیسوتھو بھی مکمل طور پر جنوبی افریقہ کے اندر واقع ہے۔
ملک کا رقبہ 1,219,090 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی 52 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ اہم قدرتی علاقوں میں ہائی ویلڈ (Highveld) سطح مرتفع، دراکنزبرگ پہاڑی سلسلے اور کالاہاری صحرا شامل ہیں۔
آبادی
ملک کی آبادی تقریباً 64 ملین (6 کروڑ 40 لاکھ) ہے۔ عمر کی تقسیم: 28% 15 سال سے کم، 66% 15-64 سال کے درمیان، اور 6% 65 سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔ آبادی میں افزائش کی شرح 1.07% ہے۔
نسلی ساخت:
- 81.5% سیاہ فام (Black)؛
- 8% مخلوط نسل (Coloured)؛
- 8% سفید فام (White)؛
- 2.5% ہندوستانی/ایشیائی۔
زبانیں: 12 سرکاری زبانیں ہیں، جن میں انگریزی اور افریقی زبان (Afrikaans) قومی سطح پر رائج ہیں، جبکہ دیگر زبانیں اکثریت والے علاقوں میں سرکاری حیثیت رکھتی ہیں۔
معیشت (Economy)
سال 2023ء میں، مجموعی ملکی پیداوار (GDP) 378 بلین ڈالر تھی (مصر کے بعد افریقہ میں دوسرا درجہ)، اور 2024ء میں یہ تقریباً 403 بلین ڈالر (افریقہ میں پہلا درجہ) ریکارڈ کیا گیا۔
2024ء کے اعداد و شمار:
- برآمدات: 2039 بلین رینڈ $\approx$ 109.6 بلین ڈالر؛
- درآمدات: 1844 بلین رینڈ $\approx$ 99.1 بلین ڈالر؛
- پہلا تجارتی شراکت دار: چین، جس کے ساتھ 618.7 بلین رینڈ کی غیر ملکی تجارت ہوئی؛
- بے روزگاری کی شرح: 31.9%؛
- اقتصادی شرح نمو: 0.6%؛
- افراط زر (Inflation): 4.4%۔
اہم برآمدی اشیاء: قیمتی پتھر، معدنیات، گاڑیاں اور پرزے، اسٹیل اور آئرن سیکشنز؛ اہم درآمدات: مشینری، خام تیل اور مشتقات، پیٹرو کیمیکلز، کیمیکل مواد اور صنعتی آلات۔
خارجہ پالیسی (Foreign Policy)
جنوبی افریقہ 2010ء میں برکس (BRICS) میں شامل ہوا اور کثیرالجہتی (Multilateralism) کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر 'جنوبی دنیا' (Global South) کی نمائندگی کرنے کی کوشش میں ہے۔
یہ ملک بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت فلسطین کی حمایت کرتا ہے۔ 7 اکتوبر 2023ء کو ہونے والی جنگ کے بعد، اس نے 29 دسمبر 2023ء کو اسرائیل کے خلاف باضابطہ شکایت بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں دائر کی۔ عدالت نے جنوری، مارچ اور مئی 2024ء میں تین عبوری اقدامات کے احکامات جاری کیے، اور جنوبی افریقہ نے اکتوبر 2024ء میں غزہ میں نسل کشی کے الزامات پر مرکوز 750 صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھی اس عدالت میں پیش کی۔
ثقافت (Culture)
جنوبی افریقہ "رینبو نیشن" (Rainbow Nation) کے نام سے مشہور ہے۔ رگبی، فٹ بال اور کرکٹ جیسے کھیل ملکی شناخت کے ستون ہیں۔ نسل پرستی کے خاتمے کے بعد قومی رگبی ٹیم (اسپرنگ بکس) قومی اتحاد کی علامت بن گئی۔ مذہبی لحاظ سے، آبادی کا اسی فیصد عیسائی، دو فیصد مسلمان، 0.1 فیصد یہودی ہیں، اور باقی یا تو بے مذہب ہیں یا مقامی روایات کے پیروکار ہیں۔ مسلمان تقریباً 1 ملین کی آبادی پر مشتمل ہیں اور سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایرانی کمیونٹی چھوٹی، منتشر اور قالینوں اور دستکاریوں کے کاروبار میں فعال ہے، اور معاشی طور پر متوسط درجے پر ہے۔ [1]
تعلیم (Education)
ملک کے اہم یونیورسٹیاں:
- کیپ ٹاؤن یونیورسٹی (University of Cape Town)
- ویٹ واٹرس رینڈ یونیورسٹی (University of the Witwatersrand)
- پریٹوریا یونیورسٹی (University of Pretoria)
فوجی (Military)
قومی دفاعی افواج میں 4 شعبے شامل ہیں:
- فوج (Army)؛
- فضائیہ (Air Force)؛
- بحریہ (Navy)؛
- فوجی طبی خدمات (Military Health Service)۔[2]
متعلقه تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ نگاهی به آفریقای جنوبی، وبسایت پایگاه اطلاعرسانی حوزه.درج شده تاریخ:۲۳/ستمبر/ 2009M اخذشده تاریخ: 18/ جنوری/ 2026ء
- ↑ درباره آفریقای جنوبی، وبسایت سفارت ج.ا.ا در پرتوریادرج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 18/ جنوری/ 2026.