مندرجات کا رخ کریں

"محمد مکرم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:محمد مکرم کو محمد مکرم کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 18: سطر 18:
}}
}}


'''محمد مکرم احمد''' اسلامی دنیا کے نامور شخصیات میں سے ہیں  ان کا تعلق مصر سے ہے، ان  کے عہدے میں صحافت ، سیاست اور میڈیا کی دنیا شامل ہے۔ وہ ایک نویسندہ، صحافی، سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن، مصر کے صحافیوں کے اتحاد کے سابق صدر اور عرب صحافیوں کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل ہیں۔
'''محمد مکرم احمد''' اسلامی دنیا کے نامور شخصیات میں سے ہیں  ان کا تعلق [[مصر]] سے ہے، ان  کے عہدے میں صحافت ، سیاست اور میڈیا کی دنیا شامل ہے۔ وہ ایک نویسندہ، صحافی، سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن، [[مصر]] کے صحافیوں کے اتحاد کے سابق صدر اور عرب صحافیوں کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل ہیں۔


ان کے ماضی کے اہم عہدوں میں دمشق میں الاحرام روزنامے کے ایڈیٹر، الاحرام کے تحقیقی ادارے کے چیئرمین، الاحرام کے معاون تحریریہ، الهلال انتشارات کے ڈائریکٹر اور المصور ماہنامے کے تحریریہ کے چیئرمین شامل ہیں۔
ان کے ماضی کے اہم عہدوں میں دمشق میں الاحرام روزنامے کے ایڈیٹر، الاحرام کے تحقیقی ادارے کے چیئرمین، الاحرام کے معاون تحریریہ، الهلال انتشارات کے ڈائریکٹر اور المصور ماہنامے کے تحریریہ کے چیئرمین شامل ہیں۔


ان کے کئی مقالات روزناموں اور خبری ویب سائٹس پر شائع ہوئے ہیں، جن میں "فروش اسحلہ"، "امریکا کے ممالک سے تعلقات کا بنیادی اصول"، "نظریاتی معاہدوں کا خاتمہ"، اور "مقاومت: فلسطین کا سب سے محفوظ راستہ" شامل ہیں۔
ان کے کئی مقالات روزناموں اور خبری ویب سائٹس پر شائع ہوئے ہیں، جن میں "فروش اسحلہ"، "[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکا]] کے ممالک سے تعلقات کا بنیادی اصول"، "نظریاتی معاہدوں کا خاتمہ"، اور "مزاحمت: [[فلسطین]] کا سب سے محفوظ راستہ" شامل ہیں۔
== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==
محمد مکرم احمد 25 جون 1935ء کو مصر کے نیل ڈیلٹا کے صوبہ منوفیہ کے شہر منوف میں پیدا ہوئے۔
محمد مکرم احمد 25 جون 1935ء کو [[مصر]] کے نیل ڈیلٹا کے صوبہ منوفیہ کے شہر منوف میں پیدا ہوئے۔
== تعلیم: ==
== تعلیم: ==
انہوں نے 1957ء میں قاہرہ یونیورسٹی سے فلسفہ میں آرٹس (فنون) میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے 1957ء میں قاہرہ یونیورسٹی کے فلسفہ  شعبے سے آرٹس (فنون) میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔


== صحافت کا آغاز ==
== صحافت کا آغاز ==


مکرم نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز روز نامه الاخبار کے ایڈیٹر کے طور پر کیا، پھر وہ شام کے شہر دمشق میں الاحرام کے دفتر کے ڈائریکٹر بنے۔ 1967 ء میں، انہوں نے یمن میں فوجی نمائندے اور الاحرام میں تحقیقاتی صحافت کے شعبے کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں، اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف اور پھر الاحرام کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بنے۔
مکرم نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز روز نامه الاخبار کے ایڈیٹر کے طور پر کیا، پھر وہ [[شام]] کے شہر دمشق میں الاحرام کے دفتر کے ڈائریکٹر بنے۔ 1967 ء میں، انہوں نے یمن میں فوجی نمائندے اور الاحرام میں تحقیقاتی صحافت کے شعبے کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں، اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف اور پھر الاحرام کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بنے۔


1980ء میں، وہ دار الہلال فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف بنے۔ انہوں نے 1989ء سے 1991ء تک اور پھر دوبارہ 1991ء سے 1993ء تک مصری صحافیوں کے یونین کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
1980ء میں، وہ دار الہلال فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف بنے۔ انہوں نے 1989ء سے 1991ء تک اور پھر دوبارہ 1991ء سے 1993ء تک مصری صحافیوں کے یونین کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
سطر 39: سطر 39:


*  سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن۔
*  سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن۔
*  مصر کے روزنامه‌نگاروں کی یونین کے سنڈیکیٹ کے سابق صدر۔
[[مصر]] کے روزنامه‌نگاروں کی یونین کے سنڈیکیٹ کے سابق صدر۔
*  عرب صحافیوں  کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل۔
*  عرب صحافیوں  کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل۔
*  دمشق میں الاہرام اخبار کے ڈائریکٹر۔
*  دمشق میں الاہرام اخبار کے ڈائریکٹر۔
سطر 46: سطر 46:
*  الہلال پبلی کیشنز کے شعبے کے چیئرمین۔
*  الہلال پبلی کیشنز کے شعبے کے چیئرمین۔
*  المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف۔<ref>[http://scc.gov.eg/profile/%D9%85%D9%83%D8%B1%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A3%D8%AD%D9%85%D8%AF/ استاد محمد مکرم احمد، وب‌سایت شورای عالی فرهنگ ۲۰۱۹]. درج شده تاریخ:... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/ 2026ء</ref>
*  المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف۔<ref>[http://scc.gov.eg/profile/%D9%85%D9%83%D8%B1%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A3%D8%AD%D9%85%D8%AF/ استاد محمد مکرم احمد، وب‌سایت شورای عالی فرهنگ ۲۰۱۹]. درج شده تاریخ:... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/ 2026ء</ref>
== نظریات ==
== نظریات ==
=== ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد===
=== ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد===
محمد مکرم احمد اپنے ایک مضمون "ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد" میں لکھتے ہیں:
محمد مکرم احمد اپنے ایک مضمون "ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے تعلقات کی بنیاد" میں لکھتے ہیں:


ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی پالیسی اپنائی ہے جو امریکی اسلحہ سازی کی صنعت کی حمایت کی ضرورت پر زور دیتی ہے، یہاں تک کہ اسلحے کے معاہدے اس کی دیگر ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات اور پالیسیوں کا ایک اہم حصہ اور بنیادی پتھر بن چکے ہیں، اور انہیں امریکی بین الاقوامی تعلقات قائم کرنے میں اہم ترین عنصر سمجھا جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی پالیسی اپنائی ہے جو امریکی اسلحہ سازی کی صنعت کی حمایت کی ضرورت پر زور دیتی ہے، یہاں تک کہ اسلحے کے معاہدے اس کی دیگر ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات اور پالیسیوں کا ایک اہم حصہ اور بنیادی پتھر بن چکے ہیں، اور انہیں امریکی بین الاقوامی تعلقات قائم کرنے میں اہم ترین عنصر سمجھا جاتا ہے۔
سطر 63: سطر 64:
اب سیاسی یا نظریاتی قطب بندیوں کی بنیاد معاہدے کرنے کے لیے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ وہ دور جب دنیا کیمپوں میں تقسیم ہوتی تھی اور طاقت اور اثر و رسوخ کے مراکز پر مقابلہ کرتی تھی، ختم ہو چکا ہے۔ برلن کی دیوار کے گرنے، سوویت یونین کے زوال، مارکسزم کے کمزور پڑنے، اور عالمگیریت (Globalization) کے خلاف عالمی غصے کے ٹھنڈا پڑنے کے بعد، وحشی سرمایہ داری نے ہماری دنیا کو تبدیل کر دیا ہے اور ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم بازار پر حکمرانی کے تمام قوانین کو تسلیم کریں اور موسمیاتی مسائل، منظم جرائم، اور ترقی کے لیے ممالک کے حق جیسے منفی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کا اعتراف کریں۔
اب سیاسی یا نظریاتی قطب بندیوں کی بنیاد معاہدے کرنے کے لیے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ وہ دور جب دنیا کیمپوں میں تقسیم ہوتی تھی اور طاقت اور اثر و رسوخ کے مراکز پر مقابلہ کرتی تھی، ختم ہو چکا ہے۔ برلن کی دیوار کے گرنے، سوویت یونین کے زوال، مارکسزم کے کمزور پڑنے، اور عالمگیریت (Globalization) کے خلاف عالمی غصے کے ٹھنڈا پڑنے کے بعد، وحشی سرمایہ داری نے ہماری دنیا کو تبدیل کر دیا ہے اور ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم بازار پر حکمرانی کے تمام قوانین کو تسلیم کریں اور موسمیاتی مسائل، منظم جرائم، اور ترقی کے لیے ممالک کے حق جیسے منفی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کا اعتراف کریں۔


=== فلسطین کا واحد راستہ مزاحمت (مقاومت)===
=== [[فلسطین]] کا واحد راستہ مزاحمت (مقاومت)===
محمد مکرم احمد اپنے مضمون "نتن یاہو حکومت کے مسلسل اقدامات کے ساتھ، مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں" میں لکھتے ہیں:
محمد مکرم احمد اپنے مضمون "نتن یاہو حکومت کے مسلسل اقدامات کے ساتھ، مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں" میں لکھتے ہیں:


فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلیوں کے ہاتھوں تصادم اور قتل عام جاری ہے، اور ہر بار وہ فلسطینیوں کو اذیت دینے، تکلیف پہنچانے اور قتل کرنے کے لیے زیادہ زبردستی والے آلات اور جدید طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اب بھی بضد ہیں کہ وہ غلط راستے پر آخری حد تک چلتے رہیں گے، اور فلسطینیوں کے سامنے یہ راستہ چھوڑتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جبر کو قبول کریں اور اپنی زمینوں کے قبضے کی قیمت ادا کریں—ایک ایسا قبضہ جو انسانیت کی بدترین شکل میں توہین کرتا ہے۔
فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلیوں کے ہاتھوں تصادم اور قتل عام جاری ہے، اور ہر بار وہ فلسطینیوں کو اذیت دینے، تکلیف پہنچانے اور قتل کرنے کے لیے زیادہ زبردستی والے آلات اور جدید طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، [[اسرائیل|اسرائیلی]] وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اب بھی بضد ہیں کہ وہ غلط راستے پر آخری حد تک چلتے رہیں گے، اور فلسطینیوں کے سامنے یہ راستہ چھوڑتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جبر کو قبول کریں اور اپنی زمینوں کے قبضے کی قیمت ادا کریں—ایک ایسا قبضہ جو انسانیت کی بدترین شکل میں توہین کرتا ہے۔


اب فلسطینی قوم کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اس صیہونی جبر اور طاقت کے سامنے ہر اس آلے کو استعمال کرے جس سے وہ اسرائیل کے ظلم کا بدلہ لے سکے اور انہیں اپنی سرزمین، حقوق اور وقار پر مزید دشمنی جاری رکھنے کی اجازت نہ دے۔<ref>[http://irdiplomacy.ir/fa/person/574/%D9%85%DA%A9%D8%B1%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF?page=3&per-page=9 مکرم محمد احمد، وب‌سایت دیپلماسی ایرانی]. درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/1016ء </ref>
اب فلسطینی قوم کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اس صیہونی جبر اور طاقت کے سامنے ہر اس آلے کو استعمال کرے جس سے وہ [[اسرائیل]] کے ظلم کا بدلہ لے سکے اور انہیں اپنی سرزمین، حقوق اور وقار پر مزید دشمنی جاری رکھنے کی اجازت نہ دے۔<ref>[http://irdiplomacy.ir/fa/person/574/%D9%85%DA%A9%D8%B1%D9%85-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF?page=3&per-page=9 مکرم محمد احمد، وب‌سایت دیپلماسی ایرانی]. درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/1016ء </ref>


== متعلقه تلاشیں ==
== متعلقه تلاشیں ==

حالیہ نسخہ بمطابق 14:50، 18 جنوری 2026ء

محمد مکرم
دوسرے ناممحمد مکرم احمد
ذاتی معلومات
پیدائش1935 ء، 1313 ش، 1353 ق
یوم پیدائش25 جنوری
پیدائش کی جگہمصر کے نیل ڈیلٹا کے صوبہ منوفیہ کے شہر منوف
مذہباسلام، اهل سنت
اثرات"فروش اسحلہ"، "امریکا کے مختلف ممالک سے تعلقات کا بنیادی اصول"، "ایڈیولوگیکل معاہدوں کا خاتمہ"، "مقاومت" اور "فلسطین کا سب سے محفوظ راستہ"
مناصب
  • سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن
  • مصر کے روزنامه‌نگاروں کی یونین کے سنڈیکیٹ کے سابق صدر۔
  • عرب صحافیوں کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل۔

محمد مکرم احمد اسلامی دنیا کے نامور شخصیات میں سے ہیں ان کا تعلق مصر سے ہے، ان کے عہدے میں صحافت ، سیاست اور میڈیا کی دنیا شامل ہے۔ وہ ایک نویسندہ، صحافی، سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن، مصر کے صحافیوں کے اتحاد کے سابق صدر اور عرب صحافیوں کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل ہیں۔

ان کے ماضی کے اہم عہدوں میں دمشق میں الاحرام روزنامے کے ایڈیٹر، الاحرام کے تحقیقی ادارے کے چیئرمین، الاحرام کے معاون تحریریہ، الهلال انتشارات کے ڈائریکٹر اور المصور ماہنامے کے تحریریہ کے چیئرمین شامل ہیں۔

ان کے کئی مقالات روزناموں اور خبری ویب سائٹس پر شائع ہوئے ہیں، جن میں "فروش اسحلہ"، "امریکا کے ممالک سے تعلقات کا بنیادی اصول"، "نظریاتی معاہدوں کا خاتمہ"، اور "مزاحمت: فلسطین کا سب سے محفوظ راستہ" شامل ہیں۔

سوانح حیات

محمد مکرم احمد 25 جون 1935ء کو مصر کے نیل ڈیلٹا کے صوبہ منوفیہ کے شہر منوف میں پیدا ہوئے۔

تعلیم:

انہوں نے 1957ء میں قاہرہ یونیورسٹی کے فلسفہ شعبے سے آرٹس (فنون) میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔

صحافت کا آغاز

مکرم نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز روز نامه الاخبار کے ایڈیٹر کے طور پر کیا، پھر وہ شام کے شہر دمشق میں الاحرام کے دفتر کے ڈائریکٹر بنے۔ 1967 ء میں، انہوں نے یمن میں فوجی نمائندے اور الاحرام میں تحقیقاتی صحافت کے شعبے کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں، اور ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف اور پھر الاحرام کے ایگزیکٹو ایڈیٹر بنے۔

1980ء میں، وہ دار الہلال فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اور المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف بنے۔ انہوں نے 1989ء سے 1991ء تک اور پھر دوبارہ 1991ء سے 1993ء تک مصری صحافیوں کے یونین کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

انہیں حسنی مبارک اور ان کی پالیسیوں کے ہر شعبے میں حامی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 2007ء میں، انہوں نے سینٹرل نیوز ایجنسی (Middle East News Agency - MENA) کے اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف راگائی المیرغانی کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا اور 3582 مصری صحافیوں کے 70 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

سرگرمیاں (عہدے):

  • سابق مصری پارلیمنٹ کے رکن۔
  • مصر کے روزنامه‌نگاروں کی یونین کے سنڈیکیٹ کے سابق صدر۔
  • عرب صحافیوں کے اتحاد کے سیکرٹری جنرل۔
  • دمشق میں الاہرام اخبار کے ڈائریکٹر۔
  • الاہرام کے تحقیقاتی شعبے کے چیئرمین۔
  • الاہرام کے اسسٹنٹ ایڈیٹر انچیف۔
  • الہلال پبلی کیشنز کے شعبے کے چیئرمین۔
  • المصور میگزین کے ایڈیٹر انچیف۔[1]

نظریات

ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد

محمد مکرم احمد اپنے ایک مضمون "ہتھیاروں کی فروخت، دنیا کے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کی بنیاد" میں لکھتے ہیں:

ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی پالیسی اپنائی ہے جو امریکی اسلحہ سازی کی صنعت کی حمایت کی ضرورت پر زور دیتی ہے، یہاں تک کہ اسلحے کے معاہدے اس کی دیگر ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات اور پالیسیوں کا ایک اہم حصہ اور بنیادی پتھر بن چکے ہیں، اور انہیں امریکی بین الاقوامی تعلقات قائم کرنے میں اہم ترین عنصر سمجھا جاتا ہے۔

اب یہ حال ہو گیا ہے کہ کوئی بھی ملک جتنی مقدار میں امریکی ہتھیار خریدتا ہے، وہ اس ملک کی طاقت کا ذریعہ بنتا ہے، خاص طور پر امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں۔ یہ اس اہم کردار کے علاوہ ہے جو امریکی صدر اسلحے کے معاہدوں کو آسان بنانے میں ادا کرتے ہیں۔

مزید برآں، ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی پالیسی کی بنیادی لکیروں کی ضمانت ہے جس میں امریکہ کے اتحادیوں اور دوستوں کو جدید ہتھیاروں کی برآمد پر پابندیاں کم کی گئی ہیں، خاص طور پر ڈرون (پہپاد) کے معاملے میں، جس پر تمام بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس قسم کے ہتھیاروں کی برآمد کے مقاصد میں کوئی توسیع نہیں ہوئی ہے—جو مسئلہ پہلے ان کے امریکی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کی شکایت کا باعث تھا۔

نظریاتی معاہدوں کے دور کا اختتام

اپنے مضمون "نظریاتی معاہدوں کے دور کا اختتام" میں وہ لکھتے ہیں:

ایسا لگتا ہے کہ قطب بندیوں کا دور ختم ہو گیا ہے اور وہ زمانہ گزر چکا ہے جب مختلف ممالک کی فلکی گردشوں کو نظریاتی حسابات کی بنیاد پر اپنے گرد جمع کیا جاتا تھا۔ اس کے باوجود، متضاد عقائد کا تسلسل نئے زمانے میں پھیل گیا ہے۔ یہاں تک کہ چین اور روس نے اپنے مفادات کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ قریبی اور گہرے تعلقات استوار کیے ہیں۔

اب سیاسی یا نظریاتی قطب بندیوں کی بنیاد معاہدے کرنے کے لیے بالکل مختلف ہو چکی ہے۔ وہ دور جب دنیا کیمپوں میں تقسیم ہوتی تھی اور طاقت اور اثر و رسوخ کے مراکز پر مقابلہ کرتی تھی، ختم ہو چکا ہے۔ برلن کی دیوار کے گرنے، سوویت یونین کے زوال، مارکسزم کے کمزور پڑنے، اور عالمگیریت (Globalization) کے خلاف عالمی غصے کے ٹھنڈا پڑنے کے بعد، وحشی سرمایہ داری نے ہماری دنیا کو تبدیل کر دیا ہے اور ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم بازار پر حکمرانی کے تمام قوانین کو تسلیم کریں اور موسمیاتی مسائل، منظم جرائم، اور ترقی کے لیے ممالک کے حق جیسے منفی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کا اعتراف کریں۔

فلسطین کا واحد راستہ مزاحمت (مقاومت)

محمد مکرم احمد اپنے مضمون "نتن یاہو حکومت کے مسلسل اقدامات کے ساتھ، مزاحمت کے سوا کوئی راستہ نہیں" میں لکھتے ہیں:

فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلیوں کے ہاتھوں تصادم اور قتل عام جاری ہے، اور ہر بار وہ فلسطینیوں کو اذیت دینے، تکلیف پہنچانے اور قتل کرنے کے لیے زیادہ زبردستی والے آلات اور جدید طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اب بھی بضد ہیں کہ وہ غلط راستے پر آخری حد تک چلتے رہیں گے، اور فلسطینیوں کے سامنے یہ راستہ چھوڑتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جبر کو قبول کریں اور اپنی زمینوں کے قبضے کی قیمت ادا کریں—ایک ایسا قبضہ جو انسانیت کی بدترین شکل میں توہین کرتا ہے۔

اب فلسطینی قوم کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اس صیہونی جبر اور طاقت کے سامنے ہر اس آلے کو استعمال کرے جس سے وہ اسرائیل کے ظلم کا بدلہ لے سکے اور انہیں اپنی سرزمین، حقوق اور وقار پر مزید دشمنی جاری رکھنے کی اجازت نہ دے۔[2]

متعلقه تلاشیں

حوالہ جات

  1. استاد محمد مکرم احمد، وب‌سایت شورای عالی فرهنگ ۲۰۱۹. درج شده تاریخ:... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/ 2026ء
  2. مکرم محمد احمد، وب‌سایت دیپلماسی ایرانی. درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 17/ جنوری/1016ء