مندرجات کا رخ کریں

"مصطفی جنگی زهی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:مصطفی جنگی زهی کو مصطفی جنگی زهی کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 39: سطر 39:


'''دہشت گردی کی مذمت:''' وہ دہشت گرد گروپوں کے اقدامات کو غیر شرعی سمجھتے اور انہیں «عالمی استکبار اور صہیونیزم» کے مقاصد کے تابع قرار دے کر سختی سے مذمت کرتے تھے۔
'''دہشت گردی کی مذمت:''' وہ دہشت گرد گروپوں کے اقدامات کو غیر شرعی سمجھتے اور انہیں «عالمی استکبار اور صہیونیزم» کے مقاصد کے تابع قرار دے کر سختی سے مذمت کرتے تھے۔
وہابیت کے خلاف افشاگری: وہ انتہا پسندانہ نظریات اور وہابیت کے خطرے سے خبردار کرتے اور مانتے تھے کہ علماء کا فریضہ ہے کہ آل سعود اور آل خلیفة کے دہشت گردی کی حمایت کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔
[[وہابیت]] کے خلاف افشاگری: وہ انتہا پسندانہ نظریات اور [[وہابیت]] کے خطرے سے خبردار کرتے اور مانتے تھے کہ علماء کا فریضہ ہے کہ آل سعود اور آل خلیفة کے دہشت گردی کی حمایت کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔


'''اعتقاد پر استقامت:''' حتیٰ کہ ان کے بیٹے کے دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں اغوا ہونے کے باوجود وہ فرقہ وارانہ تحریکوں کے خلاف جدوجہد اور اسلامی وحدت و نظام کے دفاع سے باز نہ آئے۔
'''اعتقاد پر استقامت:''' حتیٰ کہ ان کے بیٹے کے دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں اغوا ہونے کے باوجود وہ فرقہ وارانہ تحریکوں کے خلاف جدوجہد اور اسلامی وحدت و نظام کے دفاع سے باز نہ آئے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 23:54، 29 دسمبر 2025ء

مصطفی جنگی زهی
پورا ناممصطفی جنگی زهی
دوسرے ناممولوی مصطفی جنگی زهی، شهید جنگی زهی
ذاتی معلومات
پیدائش1332 ش، 1954 ء، 1372 ق
پیدائش کی جگہایران، سیستان وبلوچستان
وفات1390 ش، 2012 ء، 1432 ق
مذہباسلام، اہل سنت

مصطفی جنگی‌زهی، بلوچستان کے صوبے سیستان و بلوچستان کے اہل سنت کے ایک روشن خیال اور ممتاز عالم تھے، جو اپنی مضبوط موقف کی وجہ سے مشہور تھے۔ انہوں نے شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد کی حمایت کی، جمہوری اسلامی ایران کے نظام کا دفاع کیا، اور تکفیری اور وہابی تحریکوں کے خلاف سخت مزاحمت کی۔ ان کے یہی موقف انہیں شہادت تک لے گیا۔ شہید مولوی مصطفی جنگی‌زهی راسک شہر کے عارضی امام جمعہ اور گشت (سراوان) میں اہل سنت کے علمی مرکز کے مدیر بھی تھے۔

زندگی‌نامہ

مولوی جنگی‌زهی ۱۳۳۲ ہجری شمسی میں سراوان، صوبہ سیستان و بلوچستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پاکستان کا سفر کیا اور وہاں کئی سالوں تک دینی مدارس میں علم حاصل کیا۔ وہ فقه، اصول، تفسیر اور حدیث میں فضیلت کی سند (جو کہ ڈاکٹریٹ کے برابر ہے) حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور خطے کے علمی مراجع میں شمار ہونے لگے۔ ایران واپس آنے کے بعد، انہوں نے سراوان میں علمی اور تربیتی سرگرمیاں شروع کیں اور دینی مدارس میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔

سرگرمیاں

حوزه علمیہ کی قیادت: وہ گشت (سراوان) میں حوزه علمیہ کے مدیر تھے اور انہوں نے بہت سے شاگردوں کی تربیت کی۔ امامت جمعہ: اپنی زندگی کے آخری سالوں میں، تدریس کے علاوہ، وہ راسک شہر کے عارضی امام جمعہ بھی تھے اور اس منصب سے شیعہ و سنی کے درمیان اتحاد کو فروغ دیتے رہے۔

سماجی خدمات: شہید جنگی‌زهی ایک دین پرور عالم کے طور پر راسک میں بسیج کے ایک مزاحمتی مرکز کے فعال رکن اور کمانڈر بھی تھے اور اپنی موجودگی کو بسیج میں باعث فخر سمجھتے تھے۔

نظریات

شہید جنگی‌زهی کی سب سے اہم میراث ان کے واضح اور جراتمندانہ موقف ہیں جو انہوں نے اسلامی اتحاد کے فروغ اور نظام کی حمایت کے لیے اختیار کیے، اور یہی موقف ان کے قتل کا بنیادی سبب بنا۔

ولایت فقیہ اور نظام کی حمایت:

مولوی جنگی‌زهی ہمیشہ جمہوری اسلامی ایران کے نظام اور ولایت فقیہ کے مضبوط حامی رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ «رہبرِ انقلاب (امام خامنہ‎ای) کی اطاعت اہل سنت کے لیے ایک شرعی فریضہ ہے» اور وہ لوگوں کو ولایت کی پیروی کی ترغیب دیتے تھے۔ وہ صراحت کے ساتھ کہتے تھے: «یہی امام خامنہ‎ ای کی بصیرت ہے جو ہمیں شیاطین کے شر سے محفوظ رکھتی ہے» اور ملکی سلامتی کو رہنمائی کی تدبیر کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔

انتہا پسندی اور وہابیت کے خلاف مزاحمت

مولوی جنگی‌زهی مکمل بہادری کے ساتھ داخلی اور خارجی تکفیری اور فرقہ وارانہ تحریکوں کے خلاف موقف اختیار کرتے تھے:

دہشت گردی کی مذمت: وہ دہشت گرد گروپوں کے اقدامات کو غیر شرعی سمجھتے اور انہیں «عالمی استکبار اور صہیونیزم» کے مقاصد کے تابع قرار دے کر سختی سے مذمت کرتے تھے۔ وہابیت کے خلاف افشاگری: وہ انتہا پسندانہ نظریات اور وہابیت کے خطرے سے خبردار کرتے اور مانتے تھے کہ علماء کا فریضہ ہے کہ آل سعود اور آل خلیفة کے دہشت گردی کی حمایت کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔

اعتقاد پر استقامت: حتیٰ کہ ان کے بیٹے کے دہشت گرد عناصر کے ہاتھوں اغوا ہونے کے باوجود وہ فرقہ وارانہ تحریکوں کے خلاف جدوجہد اور اسلامی وحدت و نظام کے دفاع سے باز نہ آئے۔

تقریب مذاهب

ان کے نزدیک، وحدت کا مطلب فقہی عقائد کا یکجا ہونا نہیں تھا، بلکہ مشترکہ دشمن کے خلاف ہم آہنگی قائم کرنا تھا: دینی مشترکات: وہ ہمیشہ مسلمانوں کے بنیادی اصولوں (اللہ، قرآن، نبی، اور قبلہ) پر زور دیتے اور ثانوی اختلافات کو وحدت میں رکاوٹ نہیں سمجھتے تھے۔ دشمن کے خلاف اتحاد: وہ وحدت کو یوں بیان کرتے تھے کہ «مسلمانوں کی انگلیاں دشمنان اسلام کے خلاف یکجا ہو جائیں»، یعنی سب ایک مضبوط اور متحد محاذ قائم کریں۔

شہادت

مولوی مصطفی جنگی زہی کو 24 دی 1390 شمسی (مطابق جنوری 2012) کو راستک سے چاہ بہار جاتے ہوئے انتہاپسند دہشت گرد گروہوں کے افراد نے نشانہ بنایا اور وہ شہید ہو گئے۔ ملزمان کے اقرار کے مطابق، وہ اپنی ولایت سے وابستگی، اتحادِ امت کی ترویج،اور وہابیت کی فکر کے خلاف جدوجہد کی وجہ سے دہشت گردوں کے بغض و عناد کا نشانہ بنے تھے۔[1]

بیرونی روابط

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات