مندرجات کا رخ کریں

مستحب

ویکی‌وحدت سے

مستحب، اس عمل کو کہتے ہیں جسے انجام دینا ترک کرنے سے بہتر ہو، اگرچہ اسے انجام دینا واجب نہ ہو۔ نمازِ شب، روزانہ کی نوافل، مستحب روزے، بالخصوص ماثور دعائیں، درود و صلوٰۃ اور بہت سے دیگر اعمال کو مستحب کہا گیا ہے۔

مفہوم شناسی

مستحب، محکوم بہ کی اقسام میں سے ہے؛ یعنی شارعِ مقدس مکلف کو کسی عمل کے انجام دینے کی ترغیب اور تشویق دیتا ہے، لیکن اس میں کوئی لازمی پن نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں، مستحب وہ عمل ہے جس کا انجام دینا پسندیدہ ہو، لیکن اسے ترک کرنا حرام نہ ہو۔ یعنی اسے انجام دینے والا قابلِ تعریف ہوتا ہے، لیکن اسے ترک کرنے والا قابلِ مذمت نہیں ہوتا؛ جیسے مستحب نماز اور مستحب روزہ۔[1][2]

فقہ میں مستحب اس عمل کو کہتے ہیں جس کا شرعی حکم استحباب ہو، اسے انجام دینا بہتر ہو، اور اس کے باوجود اسے ترک کرنے میں کوئی حرج نہ ہو۔[3] تاہم قرآنِ کریم اور معصومین کی احادیث میں اس لفظ کا استعمال اس کے لغوی معنی، یعنی پسندیدہ اور محبوب، کے لیے ہوا ہے۔[4]

ندب، نفل، سنت اور تطوع کی اصطلاحات بھی استحباب کے معنی پر دلالت کرتی ہیں۔[5]

بحث کی اہمیت

استحباب فقہی مباحث میں فقہ کے بیشتر ابواب میں پانچ شرعی احکام میں سے ایک حکم کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اصولِ فقہ میں اس پر مبحثِ اوامر، ضد اور مقدمۂ واجب کے ضمن میں بحث کی جاتی ہے۔

مستحب کی انواع

مستحب کی تین قسمیں ہیں:

  1. مستحب مؤکد: ایسا عمل جسے ترک کرنے پر عذاب نہیں ہوتا، لیکن اسے ترک کرنے والا مذمت اور عتاب کا مستحق ہوتا ہے؛ جیسے وہ اعمال جو دینی واجبات کی تکمیل کرتے ہیں، مثلاً نمازِ جماعت، اذان اور اقامت۔
  2. مستحب مشروع: ایسا عمل جسے انجام دینے والا ثواب پاتا ہے، لیکن اسے ترک کرنے والے کو نہ ملامت کی جاتی ہے اور نہ عذاب دیا جاتا ہے؛ جیسے فقیروں کو صدقہ دینا اور ہر ہفتے پیر اور جمعرات کے روزے رکھنا۔
  3. مستحب زائد: ایسا عمل جو مکلف کے کمالات میں شمار ہوتا ہے؛ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عام امور میں پیروی کرنا، مثلاً کھانے، پینے، چلنے اور سونے میں۔[6]

اقسام

مستحب عمل کی متعدد اقسام ہیں، جن میں سے بعض اہم اقسام درج ذیل ہیں:

مستحب نفسی یا مستحب ذاتی: وہ عمل جس کا مستحب اور مطلوب ہونا کسی دوسرے عمل کی وجہ سے نہ ہو؛ جیسے مستحب نمازیں اور روزے، مثلاً عیدِ غدیر کا روزہ۔

مستحب غیری: وہ عمل جو بذاتِ خود مستحب اور مطلوب نہ ہو، بلکہ کسی دوسرے عمل کی وجہ سے مستحب قرار پایا ہو؛ جیسے زیارت کے لیے غسل کرنا۔

مستحب عینی: وہ عمل جس کا استحباب ہر فرد کے لیے الگ الگ ثابت ہو اور دوسروں کے انجام دینے سے بھی اس کا استحباب باقی رہے؛ جیسے روزانہ کی نوافل یا مستحب روزے۔

مستحب کفائی: وہ عمل جسے کسی دوسرے شخص کے انجام دینے کے بعد دوسروں کے لیے انجام دینا مستحب نہ رہے؛ جیسے اعلان کے لیے اذان دینا۔[7]

مستحب مؤکد: وہ عمل جس کے انجام دینے پر شارع نے خاص تاکید کی ہو؛ جیسے نماز کے لیے اذان کہنا۔[8]

مستحب عمل کو ادھورا چھوڑ دینا

مستحب عبادی عمل شروع کرنے کے بعد اسے ترک کرنا مکروہ ہے، بالخصوص مستحب نماز کو ادھورا چھوڑ دینا اور مستحب روزہ دوپہر کے بعد توڑ دینا۔ تاہم بعض مستحب اعمال کو مکمل نہ کرنا حرام ہے اور اس عمل کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص مستحب حج یا عمرہ شروع کرے تو، مشہور قول کے مطابق، اس پر اسے مکمل کرنا واجب ہے۔

اسی طرح اعتکاف میں اگر کوئی شخص پہلے دو دن کے روزے رکھے تو اسے تیسرے دن کا روزہ بھی رکھنا اور اعتکاف مکمل کرنا ضروری ہے؛ اس مرحلے پر اعتکاف چھوڑ دینا حرام ہے۔[9]

مشہور مستحبات

مستحب نمازیں

متعلقہ مضامین: روزانہ کی نوافل، نمازِ شب اور نمازِ جعفرِ طیار

چونکہ نماز سب سے خوب صورت اور کامل ترین عبادی عمل ہے، اس لیے واجب نمازوں کے علاوہ شائقین کے لیے بہت سی مستحب نمازیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ شاید ہی کوئی دینی موقع ایسا ہو جس کے لیے کوئی مخصوص نماز وارد نہ ہوئی ہو۔ مفاتیح الجنان میں ان نمازوں کی بڑی تعداد بیان ہوئی ہے۔ بعض اہم مستحب نمازیں درج ذیل ہیں:

  • روزانہ کی نوافل؛
  • نمازِ شب؛
  • نمازِ جعفرِ طیار؛
  • نمازِ استسقا؛
  • نمازِ عیدالفطر اور نمازِ عیدالاضحیٰ؛
  • نمازِ اولِ ماہ۔

مستحب روزے

سال کے تمام دنوں کے روزے، ان دنوں کے علاوہ جن میں روزہ رکھنا حرام یا مکروہ قرار دیا گیا ہے، مستحب ہیں۔ البتہ بعض دنوں میں روزہ رکھنے کی زیادہ تاکید وارد ہوئی ہے۔

مستند اور ماثور دعائیں

اگرچہ انسان کسی بھی زبان میں اللہ تعالیٰ سے دعا اور درخواست کر سکتا ہے، لیکن ان دعاؤں کا اثر زیادہ ہوتا ہے جو دعاؤں کی کتابوں میں معصومین کی زبان سے منقول ہوئی ہیں۔

حوالہ جات

  • آخوند خراسانی، ملا محمد کاظم، کفایۃ الاصول، قم، مؤسسۂ آل البیت، ۱۴۰۹ق۔
  • حکیم، محمد تقی، اصول العامۃ للفقہ المقارن، بیروت، مؤسسۃ آل البیت، دوسرا ایڈیشن، ۱۹۷۹ء۔
  • خوئی، سید ابوالقاسم، اجود التقریرات، محمد حسین نائینی کے دروس کی تقریرات، قم، مطبعۃ العرفان، ۱۳۵۲ش۔
  • شہیدِ اول (عاملی)، محمد بن مکی، القواعد والفوائد، تصحیح: سید عبدالہادی حکیم، قم، کتاب فروشیِ مفید، نجف کا آفسیٹ ایڈیشن۔
  • محقق حلی، جعفر بن حسن، المعتبر فی شرح المختصر، قم، مؤسسۂ سید الشہداء، ۱۴۰۷ق۔
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، تصحیح: عباس قوچانی اور علی آخوندی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ساتواں ایڈیشن، [بغیر تاریخ]۔
  • ہاشمی شاہرودی، سید محمود، فرہنگِ فقہ مطابقِ مذہبِ اہلِ بیت، قم، مؤسسۂ دائرۃ المعارفِ فقہِ اسلامی، ۱۴۲۶ق۔

متعلقہ ماخذ

فرہنگ نامۂ اصولِ فقہ، مرتبہ: مرکزِ اطلاعات و مدارکِ اسلامی، ص ۷۳۰، مضمون ’’مستحب‘‘ سے ماخوذ۔

حوالہ جات

  1. اصول الاستنباط، حیدری، علی نقی، ص ۸۳۔
  2. مبادیِ فقہ و اصول، فیض، علیرضا، ص ۱۱۱۔
  3. خوئی، اجود التقریرات، ۱۳۵۲ش، ج ۱، ص ۱۴۳؛ حکیم، اصول العامۃ للفقہ المقارن، ۱۹۷۹ء، ص ۶۲۔
  4. ہاشمی شاہرودی، فرہنگِ فقہ، ۱۴۲۶ق، ج ۱، ص ۳۹۷۔
  5. ہاشمی شاہرودی، فرہنگِ فقہ، ۱۴۲۶ق، ج ۱، ص ۳۹۶۔
  6. اصول الفقہ الاسلامی، زحیلی، وہبہ، ص ۷۸–۷۹۔
  7. نجفی، جواہر الکلام، دار احیاء التراث العربی، ج ۹، ص ۷۴۔
  8. حکیم، اصول العامۃ للفقہ المقارن، ۱۹۷۹ء، ص ۶۳۔
  9. شہیدِ اول، القواعد والفوائد، کتاب فروشیِ مفید، ج ۱، ص ۹۹؛ قاعدہ ۳۹۔