مرجع تقلید

مرجع تقلید، مذہب شیعہ اثنا عشری میں اس دینی عالم کو کہتے ہیں جو اجتہاد کے درجے پر فائز ہو اور شیعہ گروہ اپنے زندگی کے معاملات میں اس کے فقہی نظریات اور فتاویٰ کے مطابق عمل کرے۔ فتویٰ جاری کرنے کی بنیاد مرجع تقلید کے لیے آیات، روایات اور سیرتِ آئمہ ہے۔ مرجعیت شیعہ اثنا عشری میں سب سے بڑا مذہبی مقام ہے۔ یہ مقام انتصابی نہیں ہے اور عام طور پر شیعہ علماء اور دینی ماہرین سے تحقیق کے ذریعے ان افراد کی شناخت کرتے ہیں جو اس صلاحیت کے حامل ہوں۔ اس منصب کے حصول کی سب سے اہم شرط دیگر مجتہدین پر علمی برتری ہے۔ مرجع تقلید کے پیروکاروں کو ان کے مقلد کہا جاتا ہے۔ مراجع تقلید کے فقہی نظریات ایک کتاب میں شائع ہوتے ہیں جسے رسالہ توضیح المسائل کہا جاتا ہے۔
مرجعیت کا مقام
مرجعیت یا مرجع تقلید ہونا، شیعہ اثنا عشری معاشرے میں سب سے اہم مذہبی، سیاسی اور سماجی مقام ہے۔ مرجع تقلید وہ مجتہد ہے جس کی تقلید کچھ شیعہ کرتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اعمال[1] کا مجموعہ اس مجتہد کے فتاویٰ[2] کی بنیاد پر انجام دیتے ہیں اور عام طور پر اپنی وجوہات شرعی انہیں یا ان کے نمائندوں کو ادا کرتے ہیں۔ یہ مالی ارتکاز مراجع کے اقتدار کے عوامل میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ [۱] ایک دینی عالم کی اس طرح پیروی کو تقلید کہا جاتا ہے۔
مرجع تقلید کی شرائط
مرجع تقلید صرف وہی مجتہد ہو سکتا ہے جو تقلید کی شرائط کا حامل ہو۔ یعنی دوسروں کے لیے اس کے فقہی نظریات پر عمل کرنا جائز ہو۔ اس مقام تک پہنچنا کچھ شرائط پر منحصر ہے جن میں سب سے اہم دیگر جامع الشرائط مجتہدین پر علمی برتری، اخلاقی شائستگی (عدالت)، مرد ہونا، بلوغ اور عقل ہے۔ رسالہ توضیح المسائل میں مرجع تقلید کو پہچاننے کے کچھ طریقے متعارف کرائے گئے ہیں۔ یہ طریقے درج ذیل ہیں:
- مقلد کا ذاتی علم
- مرجعیت کی شرائط کے لیے بینہ شرعی[3]
- اعلمیت میں شہرت یا یہ کہ علماء کا ایک گروہ کسی شخص کو متعارف کرائے اور ان کی بات سے مقلد کو علم حاصل ہو جائے۔
مرجع تقلید کے انتخاب کا طریقہ
مرجع تقلید کا عہدہ انتصابی نہیں ہے۔ مرجع وہ بنتا ہے جسے شیعہ، دو ایسے عادل دینی علماء کے ذریعے متعارف کرائیں جن کی عدالت ثابت ہو۔
مرجع تقلید کے فرائض
مرجعیت کا سب سے اہم کام دینی اور مذہبی امور میں مقلدین کے لیے فتویٰ جاری کرنا ہے۔ تاہم، مرجعیت کا مقام صرف فتویٰ تک محدود نہیں ہے۔ عام طور پر مراجع حوزاتِ علمیہ کے مشہور اور معروف اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں اور حوزاتِ علمیہ ان کی نگرانی میں چلائے جاتے ہیں۔
مالی وسائل
ادارہ مرجعیت مالی طور پر اوقاف کے انتظام، سہم امام اور دیگر وجوہات شرعی نیز عوامی عطیات اور نذرانوں پر منحصر ہے۔[4]
شیعہ مراجع کی طاقت اور اثر و رسوخ
شیعہ مراجع تقلید عام طور پر اپنے مقلدین و پیروکاروں بلکہ دیگر شیعوں پر بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور اسی ذریعے سے وہ اپنے سماجی اور سیاسی نظریات کو شیعوں کے درمیان مستحکم کر سکتے ہیں۔[5] مثال کے طور پر سید محمد مجاہد کے فتوے سے شیعوں کا ایک بڑا گروہ روس کے خلاف جنگ کے لیے نکلا۔[6] میرزای شیرازی کی جانب سے تمباکو کے تحریم کے فتوے نے ایران میں تمباکو کے کنسیشن کو ختم کروا دیا۔[7] ایران میں تحریک مشروطہ آخوند خراسانی اور نجف کے دیگر علماء کے فتوے سے کامیاب ہوئی۔[8] اور ایران میں ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ش کا قیام جو آیت اللہ خمینی کی گرفتاری کے احتجاج میں ہوا تھا۔[9]۔ انقلاب کے بعد کے برسوں میں ایران کے عوام ایک مرجع تقلید (آیت اللہ خمینی) کی قیادت میں کامیاب ہوئے۔[10]
اہل سنت کی نظر میں مرجع تقلید کا اثر و رسوخ
اہل سنت عالم محمد رشید رضا کے مطابق، کسی بھی سنی عالم کو، چاہے وہ تنہا ہو یا گروہ کی صورت میں، شیعہ مجتہدین بالخصوص حوزہ نجف کے فارغ التحصیل علماء جیسا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے۔ وہ اسی سلسلے میں شاہ فیصل کے دور میں عراق میں انتخابات کے بائیکاٹ اور میرزای شیرازی کی جانب سے تمباکو کے تحریم کی مثال دیتے ہیں۔[11] سیموئل بنجامین جو ایران میں امریکہ کا سفیر تھا، ایک جگہ کہتا ہے کہ تہران کا سب سے اہم مجتہد اگرچہ نقل و حرکت کے لیے خچر استعمال کرتا ہے اور اس کا ایک سے زیادہ ملازم نہیں ہے؛ لیکن ایک لفظ سے شاہ کو تخت سے اتار سکتا ہے۔[12]
حوالہ جات
- ↑ جن میں سیاسی، سماجی، عبادی اور تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں
- ↑ فقہی نظریات
- ↑ یہ کہ دو عادل افراد کسی کو اعلم کے طور پر متعارف کرائیں
- ↑ فتح اللہ پور، روحانیان شیعہ در ایران؛ علل نفوذ و اقتدار، ص۱۳۹-۱۴۲
- ↑ دیکھیں: نقیب زادہ اور امانی، نقش روحانیت شیعہ در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۸۱-۸۲
- ↑ نقیب زادہ اور امانی، نقش روحانیت شیعہ در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۹۹-۱۰۰
- ↑ نقیب زادہ اور امانی، نقش روحانیت شیعہ در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۲
- ↑ ذبیح زادہ، مرجعیت و سیاست در عصر غیبت، ج۳، ص۳۰۰
- ↑ نقیب زادہ اور امانی، نقش روحانیت شیعہ در پیروزی انقلاب اسلامی، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۳
- ↑ فتح اللہ پور، روحانیان شیعہ در ایران؛ علل نفوذ و اقتدار، ص۱۴۹
- ↑ رشید رضا، الخلافۃ او الامامۃ العظمیٰ، ۱۹۹۶م، ص۹۰
- ↑ آبراہامیان، تاریخ ایران مدرن، ۱۳۹۲ش، ص۴۱