امیر حاتمی
| امیر حاتمی | |
|---|---|
| پورا نام | امیر حاتمی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1967 ء |
| پیدائش کی جگہ | زنجان ایران |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج کے سربراہ، وزیر دفاع و معاونتِ افواج، جانشینِ وزیر دفاع، فوجی انٹیلیجنس کے معاون، افواج کے کمانڈر اِن چیف کے مشیر |
امیر حاتمی، ایک فوجی شخصیت اور ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج کے سینئر کمانڈروں میں سے ہیں۔ وہ سن ۱۳۴۵ ش میں زنجان میں پیدا ہوئے۔ حاتمی نے ایران۔عراق جنگ کے دوران محاذوں پر شرکت کی اور بعد میں ایران کی فوج، مسلح افواج کے مشترکہ اسٹاف اور وزارتِ دفاع میں مختلف ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ دولتِ دوازدهم میں وزیرِ دفاع و معاونتِ افواج کے طور پر سرگرم رہے اور ۲۳ خرداد ۱۴۰۴ ش کو امام خامنهای کے حکم سے ایران کی اسلامی جمہوریہ کی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے۔
زندگینامه
امیر حاتمی سن ۱۳۴۵ ش میں شہرِ زنجان میں پیدا ہوئے۔ انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے ساتھ ہی وہ بسیج اور ایران کی فوج میں شامل ہوگئے اور ایران۔عراق جنگ کے برسوں میں محاذوں پر موجود رہے۔ انہوں نے مختلف کارروائیوں میں، خصوصاً عملیات مرصاد میں شرکت کی۔ حاتمی نے شمال مغربی و مغربی ایران کے عملیاتی علاقوں میں ضدِ انقلاب گروہوں، مجاہدینِ خلق (منافقین) اور نفوذی ٹیموں کے خلاف سرگرم کردار ادا کیا اور ملک کے دفاع میں خدمات کے باعث رہبرِ معظم انقلاب اسلامی سے تقدیرنامہ بھی حاصل کیا۔
فعالیتها
فعالیتهای نظامی
امیر حاتمی نے دورانِ خدمت ایران کی مسلح افواج میں متعدد ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں شامل ہیں:
- شمال مغرب اور مغرب کے عملیاتی علاقوں میں فوجی یونٹوں کی کمان، تقریباً ۷۰ ماہ؛
- ایران کی فوج کے معاونِ اطلاعات، تقریباً سات برس؛
- ایران کی فوج کے بینالمللی روابط کے دفتر کے سربراہ؛
- کمانڈر اِن چیف کے اعلیٰ مشاورتی گروہ کے سربراہ؛
- مسلح افواج کے مشترکہ اسٹاف میں معاونِ انسانی وسائل، تقریباً پانچ برس؛
- وقت کے ارکان و امورِ مشترکِ افواج کے جانشین؛
- قرارگاه مرکزی خاتمالانبیاء(ص) میں وقت کے مشترکہ اسٹاف کے سربراہ کے سینئر مشیر؛
- دولتِ یازدهم میں وزیر دفاع کے جانشین۔
وزارت دفاع
سن ۱۳۹۶ ش میں، وقت کے صدر نے انہیں وزیر دفاع و معاونتِ افواج کے طور پر نامزد کیا۔ مجلس شورای اسلامی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد وہ اس منصب پر فائز ہوئے۔
فرماندهی کل ارتش
۲۰ بهمن ۱۴۰۰ ش کو وہ کمانڈر اِن چیف کے مشیر برائے امورِ ارتش مقرر ہوئے۔ ۲۳ خرداد ۱۴۰۴ ش کو امام خامنهای کے حکم سے وہ ایران کی فوج کے سربراہ بنائے گئے۔
اقدامات و فعالیتها
امیر حاتمی کی اہم فوجی سرگرمیوں میں شامل ہیں:
- ضدِ انقلاب گروہوں، منافقین اور نفوذی ٹیموں کے خلاف سرگرم شرکت؛
- مختلف فوجی رزمایشوں میں شرکت، خصوصاً رزمایش ’’پیروان ولایت‘‘؛
- افغانستان اور عراق پر امریکہ و اتحادیوں کے حملے کے دوران ایران کی فوج کی اطلاعات و عملیات کی ہدایت میں حصہ، بطور رئیس اداره دوم و معاون اطلاعات ارتش؛
- بیرونی ممالک کے ساتھ فوجی روابط کی تقویت اور علاقائی تعاون کی وسعت کے لیے سرگرمی، بطور سربراہ دفتر روابط بینالملل ارتش۔
مزید دیکھیں
حواله جات
با حکم رهبر انقلاب؛ فرمانده ارتش جمهوری اسلامی ایران منصوب شد، وبسایت همشهری آنلاین، تاریخ درج مطلب: بیتا، تاریخ مشاهده:11/جون/2026ء.