ابی بن کعب
| ابی بن کعب | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | ابوطُفَیل (ابومنذر) اُبَیّ بن کَعب انصاری معروف بہ (اُبَیّ بن کَعب) |
| دوسرے نام | سید القراء ابوالمنذر ابوالطفیل سید الانصار سید المسلمین |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | مدینه |
| وفات | 21 ق |
| وفات کی جگہ | مدینه |
| مذہب | اسلام، صحابه شیعه |
| مناصب | صحابه رسول خدا، کاتب وحی اور سید القراء، سقیفه بنی ساعده کے واقعه میں انهون نے ابوبکر بن ابی قحافه کی مخالفت کی اور خلافت کو علی کا حق سمجھتے تهے |
ابوطُفَیل (ابومنذر) اُبَیّ بن کَعب انصاری معروف بہ اُبَیّ بن کَعب اور سید القراء، صحابہ اور انصار میں سے تھے جو عقبہ دوم میں موجود تھے، اسلام لائے اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) سے بیعت کی۔ وہ صحابہ کے فقہاء میں سے تھے جو قرأت، کتابت اور قرآن کی جمع آوری کا کام کرتے تھے اور جنگ بدر، جنگ احد اور دیگر جنگوں میں شریک ہوئے ۔سقیفه بنی ساعده کے واقعه کے بعد، اُبی بن کعب ان چند افراد میں سے تھے جنہوں نے ابوبکر بن ابی قحافه کی مخالفت کی اور خلافت کو علی کا حق سمجھا۔ اُبَیّ بن کَعب کا انتقال آخر کار 21 ہجری قمری میں ہوا
تعارف
ان کا پورا نام اُبَیّ بن کَعب بن قیس بن عبید بن زید بن معاویہ ہے[1]۔ معاویہ بن عمرو کی نسب نجار تک پہنچتی ہے۔ اُبَیّ قبیلہ خزرج]کی شاخ بنینجار سے تعلق رکھتے ہیں جو قبیلہ ثعلبہ بن عمرو بن خزن تک جاتی ہے[2]. آپ صحابہ، کاتبان وحی اور امامانِ قرائت میں سے تھے اور ان کے پاس مصحف تھا۔ ان کی والدہ صہیلہ بنت اسود بن حرام بنینجار سے تھیں[3]۔ مصادر میں ان کے لیے کئی کنیے درج ہیں: ایک ابوالمنذر ہے جس کنیے سے پیغمبر اکرم نے انہیں پکارا[4]۔ مصادر نے اس کنیے کی وجہ بیان نہیں کی۔ دوسرا ابوطُفَیل ہے جس کنیے سے عمر بن خطاب نے انہیں پکارا کیونکہ ان کا ایک بیٹا طفیل نامی تھا[5]۔ یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم نے انہیں سیدالانصار کا لقب دیا تھا[6]۔ نیز عمر نے انہیں سیدالمسلمین کہا[7]۔ سیدالمسلمین کا لقب انہیں پیغمبر کی طرف سے نہیں بلکہ صحابہ کی طرف سے دیا گیا اور اصحاب خاص طور پر انصار کی توجہ کا مرکز بنا۔ یہ کہ پیغمبر نے بھی انہیں سیدالمسلمین کہا ہو، اس کے لیے صریح نص یا قرائن درکار ہیں جو دستیاب نہیں ہیں۔ کوئی شخص مسلمانوں کا سردار تب ہی ہو سکتا ہے جب پیغمبر اسے اپنا جانشین اور مسلمانوں کا امام قرار دیں۔
مصادر نے اُبَیّ بن کَعب کی تاریخ پیدائش کا ذکر نہیں کیا۔ وہ مدینہ میں خزرجیوں کی بستی میں پرورش پائے[8]۔ یہ کہ وہ اسلام سے قبل یہودی احبار اور علماء میں سے تھے، رجالی مصادر کی بنیاد پر ثابت نہیں ہے۔ نیز ان کا تورات، عہد عتیق اور یہودیوں کی مذہبی کتب پر احاطہ اور تورات کی پیغمبر اکرم کے بارے میں بشارتوں سے آگاہی کسی معتبر مصدر میں نہیں ملی۔
عہدِ رسالت (صلّیاللہ علیہ وآلہ) میں
اُبَیّ بیعت عقبہ دوم] میں تیرہویں سالِ بعثت میں موجود تھے جس میں مدینہ کے 70 سے زائد افراد نے پیغمبر اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) سے بیعت کی[9]۔ نیز ان کے قبیلے کے تمام افراد مدینہ میں پیغمبر اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے استقبال میں اوس کے ساتھ شریک تھے[10]۔ تاریخی مصادر اُبَیّ کے اسلام لانے کو عقبہ دوم سے جوڑتے ہیں؛ لیکن ابن ہشام نے ان کا نام عقبہ اول اور دوم والوں میں نہیں لکھا اور یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ وہ عقبہ اول کے بعد اور عقبہ دوم سے قبل مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے ہوں گے[11].
واقعہ مؤاخات (بھائی چارے) میں پیغمبر اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے ان کا بھائی چارہ طلحہ بن عبیداللہ سے کرایا[12]۔ بعض مصادر نے ان کا بھائی چارہ سعد بن زید بن عمرو بن نفیل سے بتایا ہے[13]۔ وہ زیادہ تر سریہ اور غزوات میں شریک رہے اور ابتدائی مسلم مجاہدین میں شمار ہوتے ہیں۔ پہلی سریہ جس کی قیادت پیغمبر اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے چچا حمزہ نے 30 جنگجوؤں کے ساتھ کی اور جسے سریہ حمزہ بن عبدالمطلب کہا جاتا ہے، وہ اس میں شامل تھے[14]۔ وہ غزوہ بدر[15]، احد[16] اور نیز پانچویں ہجری میں غزوہ بنیالمصطلق (المُریسیع) میں موجود تھے[17]۔ مورخین انہیں ان صحابہ میں شمار کرتے ہیں جو زیادہ تر غزوات میں شریک رہے[18]۔
رسول اللہ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور میں ذمہ داریاں
اُبی صحابہ کرام میں سے فتویٰ دینے والے اصحاب میں سے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ ان چھ افراد میں سے ہیں جن تک نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کا علم پہنچا[19]۔ کبھی وہ رسول اللہ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جانب سے زکوٰۃ اکٹھا کرنے کے ذمہ دار ہوتے تھے اور زکوٰۃ کی جمعآوری میں بہت احتیاط برتتے تھے[20]۔ کبھی کبھی وہ نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی طرف سے نئے مسلمانوں کو اسلامی احکام سکھانے کے لیے مامور کیے جاتے تھے؛ جن میں بنو عامر اور بنو حنیفہ کے وفود شامل ہیں جو مدینہ آئے تھے[21]۔
اُبی جنگوں میں رسول اللہ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے ہمراہ ہونے کے علاوہ کاتبان وحی اور قرآن کے قاری بھی تھے۔ اگرچہ دورِ جاہلیت میں عربوں میں لکھنے کا رواج نہیں تھا، لیکن اُبی بن کعب ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے اس دور میں لکھنا سیکھا تھا[22]۔ بعض مورخین انہیں مدینہ میں وحی کا پہلا کاتب مانتے ہیں[23] اور کہتے ہیں کہ جب اُبی موجود نہ ہوتے تو نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) دیگر کاتبان وحی جیسے زید بن ثابت کو بلواتے تھے[24]۔ تاہم مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کی کتابت علی بن ابیطالب (علیہالسّلام) اور زید بن ثابت کے ہاتھوں اُبی بن کعب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوئی ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ اُبی وحی کے ابتدائی کاتبین میں سے تھے، نہ کہ سب سے پہلے۔ طبری ان کی کتابت کو امام علی علیہ السلام اور عثمان کی غیر موجودگی میں ہونے والا عمل قرار دیتے ہیں[25]۔
وہ وحی کی کتابت کے علاوہ نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے خطوط کے کاتب بھی تھے اور آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے لیے آنے والے خطوط پڑھتے تھے۔ وہ ان خطوط کو چھپاتے تھے جو نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی ہدایت پر خفیہ رکھنے ہوتے تھے، جیسے جنگ احد سے قبل عباس بن عبدالمطلب کا ان کے نام خط[26]۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے خطوط کے آخر میں بطور کاتب اپنا نام لکھا[27]۔ نووی کی گنتی کے مطابق معتبر کتب میں اُبی کی احادیث کی تعداد 164 تک پہنچتی ہے[28]، جن میں سے 60 سے زائد احادیث صحاح ستہ میں اور تین احادیث مشترکہ طور پر صحیحین میں موجود ہیں[29]۔
اخلاقی خصوصیات
اُبی کی اخلاقی خصوصیات میں زہد اور پرہیزگاری شامل ہے۔ جابر بن عبدالله انصاری بیان کرتے ہیں کہ زہد اور دنیا سے اعراض کی حقیقت پر بات چیت ہوئی۔ ہم خلیفہ دوم کے پاس گئے تاکہ ان سے پوچھ سکیں۔ انہوں نے ہمیں سید المسلمین اُبی بن کعب کی طرف رجوع کیا[30]۔ ان کی دیگر اخلاقی خصوصیات میں معاملات اور رویوں میں سخت گیری شامل ہے۔ زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ آیا اور اُبی کے پاس گیا اور ان سے ہم پر کم لطفی کی شکایت کی[31]۔ نیز ان کی مسلسل نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے ساتھ رہائش اور آپ سے کثرت سے سوال کرنے کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اصحاب کی روایات کے مطابق وہ مختلف موضوعات پر نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) سے مسلسل سوال کرتے رہتے تھے[32]۔
واقعہ سقیفہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کی وفات اور سقیفه بنی ساعده کے واقعه کے بعد، اُبی بن کعب ان چند افراد میں سے تھے جنہوں نے ابوبکر بن ابی قحافه کی مخالفت کی اور خلافت کو علی کا حق سمجھا۔ وہ ان 12 افراد میں سے تھے جنہوں نے ابوبکر کی خلافت کی مخالفت کی اور ان کی جانشینی کا انکار کیا[33]۔ انہوں نے گواہی دی کہ نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے حضرت علی (علیہالسّلام) کو اپنا جانشین، امام اور امت کا خیر خواہ قرار دیا تھا[34]۔ وہ اہل بیت (علیہمالسلام) کے مخلص محبین میں سے تھے اور کہتے تھے: جس دن نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) زندہ تھے، سب کا نقطہ نظر ایک تھا؛ لیکن ان کی وفات کے بعد لوگ دائیں بائیں منحرف ہو گئے[35]۔ انہوں نے ابوبکر سے بیعت نہیں کی اور سقیفہ کی شوریٰ کو بے ارزش قرار دیا[36]۔ بعض محققین اس میں قبائلی تعصب، خزرجی ہونے اور سعد بن عباده سے تعلق کو مؤثر مانتے ہیں۔ ان سے نبی کریم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی یہ روایت منقول ہے: «یا أُبی! علیک بعلی فإنه الهادی المهدی الناصح لأُمتی»[37]۔ تاریخی مصادر انہیں خلفائے راشدین کے دور کے فقہاء میں شمار کرتے ہیں، خاص طور پر عمر اورعثمان کے دور میں[38]۔ جب خلیفہ دوم کی تجویز پر نماز تراویح باجماعت ادا کی جانے لگی تو اُبی نے 14 ہجری میں اس کی امامت کی ذمہ داری سنبھالی؛ لیکن کچھ عرصے بعد، گویا اس بدعت کی مخالفت کی وجہ سے، انہوں نے یہ چھوڑ دیا اور لوگ مسلسل کہتے رہے: «أین أُبی» یا «ابقِ أُبی»[39]۔
مصحف اُبی
اُبی کے پاس ایک مصحف تھا جو مسلمانوں کے درمیان رائج قرآن سے کچھ مختلف تھا۔ ان کے مصحف میں 115 سورتیں تھیں اور سورتوں کی ترتیب مصحف عبدالله بن مسعود کے مطابق تھی، سوائے اس کے کہ انہوں نے سورۂ انفال کو سورۂ توبہ سے پہلے لکھا تھا[40]۔ ان کے مصحف میں 'حَفد' اور 'خَلع' نامی دو سورتیں تھیں[41] جو دراصل دعائے قنوت ہیں اور ظاہراً غلطی سے قرآنی سورتوں میں شامل کر دی گئی تھیں۔ نیز سورۂ فیل اور سورۂ قریش کے درمیان «بسم اللہ الرحمٰن الرحیم» موجود نہیں تھا اور گویا ان دونوں کو ایک ہی سوره سمجھا گیا تھا[42]۔ البتہ اہل بیت کی روایات بھی اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں[43]، اگرچہ مصحف میں بسم اللہ ہونا چاہیے۔ اس مصحف میں سورۂ زمر کی ابتدا «حم» سے ہوتی تھی؛ یعنی حوامیم آٹھ سورتیں تھیں[44]۔ نیز بعض الفاظ کو ان کے مترادفات سے بدل دیا گیا تھا؛ مثلاً آیت متن قرآن |قَالُوا یا وَیلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَرقَدِنَا |سوره = یس |آیه = ۳۶، ۵۲ کو «مَن هَبَنَا مِن مَرقَدِنَا» کی صورت میں، یا آیت متن قرآن |کلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَشَوا فِیهِ |سوره = بقره |آیه =۲، ۲۰ کو «مَرُوا فِیہِ» یا «سَعَوا فِیہِ» کی صورت میں لکھا گیا تھا[45]۔ ابن ندیم نے فضل بن شاذان سے نقل کیا ہے کہ مصحف اُبی کے رواج کا سابقہ بصرہ کے ایک گاؤں 'قریۃ الانصار' میں پایا جاتا تھا، جسے محمد بن عبدالملک انصاری نے پیش کیا جو اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے تھے[46]۔ بعض روایات کے مطابق، حضرت عثمان کے دور میں مصاحف کی یکسان سازی کے موقع پر اُبی بن کعب کا مصحف زید بن ثابت کے کام کا بنیادی ماخذ تھا[47]۔ پھر یہ مصحف، ابن مسعود کے مصحف کے استثنا کے ساتھ، دیگر مصاحف کی طرح یکسان سازی کے بعد جلا دیا گیا یا اس کی تحریریں کھولتے ہوئے پانی اور سرکہ سے دھو کر مٹا دی گئیں[48]۔
درس کا حلقہ اور مدرسۂ تفسیر مدینہ
اُبی مسجد نبوی میں ایک حلقہ درس قائم کرتے تھے اور لوگوں کے لیے احادیث بیان فرماتے تھے۔ نیز اپنے گھر جمع ہونے والی بڑی تعداد کے لیے بھی حدیث نقل کرتے تھے[49]۔ انہیں مدرسۂ تفسیر مدینہ کا بانی شمار کیا جاتا ہے اور ان کی تفسیر ان کی اپنی تحریرات کے ذریعے جو ان کے مصحف کے حواشی میں تھیں، یا ان کے شاگردوں اور راویوں کے واسطے سے منتقل ہوئی ہے[50]۔ قرآن میں سورۂ مدنی اور سورۂ مکی]] کی پہچان کے طریقوں میں سے ایک طریقہ اُبی کی جانب سے مدنی سورتوں کی تعریف کو مانا جاتا ہے؛ کیونکہ وہ ہمیشہ مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس موجود رہتے تھے اور مدنی سورتوں کو مکمل طور پر جانتے تھے[51]۔
اُبی کا بعض مدنی آیات سے تعلق
قرآن کی چند آیات کے شأن نزول کا تعلق اُبی سے ہے۔ عکرمہ اور مقاتل کی روایت کے مطابق، دو یہودیوں نے اُبی اور مسلمانوں کے ایک گروہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان کا دین اسلام سے بہتر ہے۔ اس کے نتیجے میں آیت {{متن قرآن |كُنتُم خَیرَ أُمَّةٍ أُخرِجَت لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالمَعْرُوفِ وَتَنهَونَ عَنِ المُنكَرِ وَتُؤمِنُونَ بِاللهِ وَلَو آمَنَ أَهلُ الكِتَابِ لَكَانَ خَیرًا لَهُم مِنهُمُ المُؤمِنُونَّ وَأَكثَرُهَمُ الفَاسِقُونَّ |سوره =آل عمران |آیه = 110 نازل ہوئی اور دین اسلام کو برتر قرار دیا گیا۔ رویداد افک عایشہ پر تهمت) کے بارے میں ایک تاریخی روایت میں آیا ہے کہ جب ام طفیل نے یہ افواہ اپنے شوہر اُبی کو سنائی تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کی اور اسے جهوت قرار دیا، اور کہا: نبی کریم ﷺ کی ازواج ہماری بیویوں سے کہیں بہتر ہیں، اور جب یہ لوگ ایسا کام نہیں کرتیں تو نبی کریم ﷺ کی ازواج کا ایسا نہ کرنا زیادہ سزاوار ہے۔ پھر سورۂ نور کی آیت 12 نازل ہوئی: متن قرآن |لَولَا إِذ سَمِعتُمُوهُ ظَنَّ المُؤمِنُونَ وَالمُؤمِنَاتُ بِأَنفُسِهِم خَیرًا وَقَالُوا هَذَا إِفكٌ مُبِینٌ [52] نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے ان سے فرمایا: خداوند نے حکم دیا ہے کہ میں تم پر قرآن پڑھوں۔ جب انہوں نے خود کو رب کی توجہ کا مرکز پایا تو متاثر ہوئے اور نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: متن قرآن |قُل بِفَضلِ اللهِ وَبِرَحمَتِه فَبِذَلِك فَلیفرَحُوا هُوَ خَیرٌ مِمَّا یجمَعُونَ |سوره = یونس |آیه = 58 [53]۔ حضرت عثمان کے دور میں مصاحف کو یکساں بنانے کے لیے، پہلے گروہ کی ناکامی کے بعد اُبی دوسرے گروہ کے سربراہ بنے اور وہ املا کرواتے تھے جبکہ دیگر لکھتے تھے[54]۔ خلیفہ دوم حضرت علی (علیہ السلام) کو فیصلہ سازی میں اور اُبی کو قرآن کی قرائت میں سب سے برتر جانتے تھے؛ اگرچہ وہ خود کہتے تھے: کبھی کبھی میں اُبی کی قرائت کے مطابق عمل نہیں کرتا[55]۔ گویا انہیں اُبی کی قرائت میں برتری کا یقینِ کامل نہ تھا، یا ان کی قرائت کبھی کبھی خلیفہ کے عقائد اور عمل کے مطابق نہ ہوتی تھی، اس لیے وہ اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔
وفات
اُبی کی وفات کی تاریخ درست طور پر معلوم نہیں ہے۔ ان کی وفات کا سال 19 ہجری[56]، 20 ہجری[57] اور 22 ہجری خلافت عمر کے دور میں بتایا جاتا ہے[58]۔ بعض دیگر نے اسے 30 ہجری میں حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں بتایا ہے؛ لیکن زیادہ تر مورخین نے ان کی وفات حضرت عمر کے دورِ خلافت میں درج کی ہے[59]۔ مدائنی نے اُبی، عباس اور ابوسفیان بن حرب کی وفات کا زمانہ حضرت عثمان کی خلافت کے ابتدائی دور میں قریب قریب بتایا ہے[60]۔ قرآن کی جمع آوری اور یکسان سازی میں اُبی کی موجودگی، نیز حضرت عثمان کے دورِ خلافت میں زر بن حبیش کی ان سے ملاقات اور لوگوں کا ان سے حضرت عثمان کے دور کے فتنے کے بارے میں سوال کرنا، ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی وفات حضرت عثمان کی خلافت کے آخری ایام میں ہوئی[61]۔ ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔ بعض مصادر نے کہا ہے کہ دمشق کی قبرستانوں میں اُبی کی منسوب ایک قبر موجود ہے[62]۔
مزید دیکھیے
حوالہ جات
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص498؛ الطبقات، خلیفہ، ص157؛ الاصابہ، ج1، ص180.
- ↑ تہذیب الاسماء، ج1، ص108-109؛ تہذیب الکمال، ج2، ص262.
- ↑ الاستیعاب، ج1، ص65.
- ↑ اسد الغابہ، ج1، ص61.
- ↑ اسد الغابہ، ج1، ص61.
- ↑ سیر اعلام النبلاء، ج1، ص396.
- ↑ اسد الغابہ، ج1، ص61؛ الاصابہ، ج1، ص181.
- ↑ اسد الغابہ، ج1، ص61.
- ↑ اسد الغابہ، ج1، ص61؛ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص498؛ الاستیعاب، ج1، ص66.
- ↑ تہذیب الاسماء، ج1، ص109؛ نک: تہذیب الکمال، ج2، ص262.
- ↑ تفسیر الصحابی، ص13.
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص216؛ المحبّر، ص73؛ انساب الاشراف، ج1، ص271.
- ↑ السیرۃ النبویہ، ج1، ص505-506؛ المستدرک، ج3، ص303؛ رجال الطوسی، ص22.
- ↑ المغازی، ج1، ص9.
- ↑ المغازی، ج1، ص163؛ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص88؛ رجال الطوسی، ص22.
- ↑ المغازی، ج1، ص204؛ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص498.
- ↑ المغازی، ج1، ص405.
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص498؛ تہذیب الکمال، ج2، ص264.
- ↑ المعرفة و التاریخ، ج1، ص445.
- ↑ مسند احمد، ج5، ص142؛ المستدرک، ج1، ص399؛ السنن الکبری، ج4، ص96.
- ↑ تاریخ ابن خلدون، ج2، ص475-476.
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص498.
- ↑ الاستیعاب، ج1، ص68؛ اسد الغابه، ج1، ص62؛ الاصابه، ج1، ص181.
- ↑ الاستیعاب، ج1، ص68؛ اسد الغابه، ج1، ص62.
- ↑ تاریخ طبری، ج6، ص179.
- ↑ المغازی، ج1، ص204؛ انساب الاشراف، ج1، ص383.
- ↑ اسد الغابه، ج1، ص62.
- ↑ تهذیب الاسماء، ص109.
- ↑ سیر اعلام النبلاء، ج1، ص401.
- ↑ مرآة الحرمین، ص۴۲۰.
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج۳، ص۴۹۹؛ تاریخ دمشق، ج۷، ص۳۳۹؛ تهذیب الکمال، ج۲، ص۲۶۹.
- ↑ جامع البیان، ج۲، ص۸؛ تفسیر ثعلبی، ج۴، ص۲۰۹؛ الدر المنثور، ج۱، ص۱۴۵.
- ↑ کتاب سلیم بن قیس، ص۱۳۸-۱۴۰؛ بحار الانوار، ج۲۸، ص۱۹۹-۲۰۰.
- ↑ نک: تحف العقول، ص۴۲۸؛ الاحتجاج، ج۱، ص۱۰۲.
- ↑ حلیة الاولیاء، ج۱، ص۲۵۴.
- ↑ نک: کتاب سلیم بن قیس، ص۱۳۸-۱۴۰؛ شرح نهجالبلاغه، ج۲، ص۵۱-۵۲.
- ↑ الاحتجاج، ج۱، ص۱۵۷؛ بحار الانوار، ج۲۹، ص۸۷-۸۸.
- ↑ تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۶۱، ۱۷۳.
- ↑ سنن ابی داود، ج۱، ص۳۲۲؛ سیر اعلام النبلاء، ج۱، ص۴۰۰.
- ↑ الاتقان، ج۱، ص۱۷۵۔
- ↑ الاتقان، ج۱، ص۱۷۸۔
- ↑ الاتقان، ج۱، ص۱۷۹۔
- ↑ وسائل الشیعہ، ج۶، ص۵۶۔
- ↑ الاتقان، ج۱، ص۱۷۵۔
- ↑ مجمع البیان، ج۸، ص۲۸۰؛ المحرر الوجیز، ج۴، ص۴۵۸۔
- ↑ الفہرست، ص۲۹۔
- ↑ المصاحف، ص۳۰-۳۱، ۶۳-۶۴۔
- ↑ تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۷۰۔
- ↑ ابی بن کعب، عیساوی، ص۷۱۔
- ↑ ابی بن کعب، زغلول، ص۸۶-۸۸۔
- ↑ ابی بن کعب، عیساوی، ص۷۶۔
- ↑ سوره = نور |آیه = 12
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج2، ص341؛ الاستیعاب، ج1، ص67؛ اسد الغابہ، ج1، ص62۔
- ↑ الطبقات، ابن سعد، ج3، ص502۔
- ↑ الاستیعاب، ج1، ص68۔
- ↑ تہذیب الکمال، ج۲، ص۲۷۱؛ تقریب التہذیب، ج۱، ص۷۱۔
- ↑ تہذیب الکمال، ج۲، ص۲۷۱۔
- ↑ الاستیعاب، ج۱، ص۶۹؛ اسد الغابہ، ج۱، ص۶۳؛ الاصابہ، ج۱، ص۱۸۱۔
- ↑ اسد الغابہ، ج۱، ص۶۳؛ الاصابہ، ج۱، ص۱۸۱۔
- ↑ الاستیعاب، ج۱، ص۶۹۔
- ↑ اسد الغابہ، ج۱، ص۶۳؛ تہذیب الکمال، ج۲، ص۲۷۱-۲۷۲۔
- ↑ تاریخ دمشق، ج۷، ص۳۴۷؛ منہاج السنہ، ج۷، ص۴۳۔
ماخذ
- اُبی بن کعب - پژوهشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، تاریخ درج مطلب: نامعلوم، تاریخ مشاہدہ: 19 شہریور 1401 ہجری شمسی۔
