مندرجات کا رخ کریں

جنگ و صلح در اسلام، سیرۂ نبوی صلی‌الله علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں (کتاب)

ویکی‌وحدت سے
((کتاب) سے رجوع مکرر)
جنگ و صلح در اسلام، سیرۂ نبوی صلی‌الله علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں (کتاب)
نامجنگ و صلح در اسلام، سیرۂ نبوی صلی‌الله علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں
مؤلفین/ مصنفینمحمد رحمانی
زبانفارسی
زبان اصلیفارسی
ناشرتحقیقاتی مرکز برای تقریبی مطالعات مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کا شاخ
شابک3 - 387 - 167 - 964 - 978

جنگ و صلح در اسلام، سیرۂ نبوی صلی‌الله علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میںایک ایسی کتاب کا عنوان ہے جو جنگ اور صلح کے موضوع پر بحث کرتی ہے۔ اسلام کے نقطۂ نظر سے اگر جنگ کسی ملک کی شناخت اور بقا کے دفاع کے لیے ہو تو وہ نہایت پسندیدہ اور ضروری ہے، لیکن جنگ طلبی اور بلا وجہ جنگ کی ابتدا کرنا اسلام میں ہرگز پسند نہیں کیا گیا۔ اسی لیے اسلام صلح اور سکون کا دین ہے، اور یہ سکون اس وقت تک مطلوب اور قابلِ قبول ہے جب تک مسلمانوں کی عزت اور مجموعی طور پر انسانیت کی شرافت کو نقصان نہ پہنچے۔

مختصر تعارف

اسلام کے نزدیک اگر جنگ دفاعِ وطن اور دفاعِ ہویت کے لیے ہو تو پسندیدہ اور ضروری ہے، لیکن جنگ جُوئی اور حملہ آور بننا ہرگز مطلوب نہیں۔ لہٰذا اسلام صلح، آشتی اور امن کا دین ہے، بشرطیکہ یہ صلح مسلمانوں کی عزت اور انسانوں کی کرامت کو مجروح نہ کرے۔

اسلامی تعلیمات میں ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ [1]۔ اور غیر مسلم کے بارے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ وہ ان کا محافظ اور خیرخواہ ہے: “جس نے کسی ذمی (غیر مسلم شہری) کو آزار پہنچایا، میں قیامت کے دن اُس کا دشمن ہوں۔” حتیٰ کہ اگر کوئی مسلمان کسی کافر کی توہین کرے تو اس پر حدِ الٰہی جاری ہوتی ہے: “جس نے کسی ذمی پر تہمت لگائی، قیامت کے دن اسے آگ کے کوڑے مارے جائیں گے۔”

لہٰذا اسلام فطرت کا دین ہے اور انسانی احساسات کے خلاف نہیں۔ اسلام کی ثقافت میں صلح کو جنگ پر ترجیح حاصل ہے، اور جب تک دشمن جنگ پر آمادہ نہ ہو، مسلمانوں کو صلح و امن ہی میں رہنا چاہیے۔ امام علی علیہ السّلام نے فرمایا:

“دشمن کی جانب سے دی جانے والی وہ صلح جس میں خدا کی رضا ہو، اسے کبھی رد نہ کرو، کیونکہ اس میں تمہارے لشکر کو آرام، تمہیں راحت، تمہارے غموں میں کمی اور تمہارے شہروں کے لیے حفاظت ہے۔”

بخشِ اول کے ابواب

جنگ یا صلح • اصالتِ صلح یا جنگ • نظریۂ اصالتِ جنگ • نظریۂ اصالتِ صلح

بخشِ دوم کے ابواب

صلح آمیز معاہدے • مقدمہ • یہود کی تین معروف قبائل کے ساتھ صلح کا متن • تین یہودی گروہوں کے ساتھ معاہدات • یہودی قبائل کے ساتھ عدمِ تعرض کا معاہدہ • غزوۂ بدر میں پیش کی گئی صلح • یہودِ تیماء کے ساتھ صلح • دومۃ الجندل کے مسیحیوں سے معاہدہ • دیگر معاہدات • وغیرہ

بخشِ سوم کے ابواب

صلح آمیز رویّے • قریش کے کافروں کے ساتھ رسول کا طرزِ عمل • مدینہ کے یہودی قبائل سے سلوک • یمن کے یہود و نصاریٰ سے برتاؤ • اور دیگر

بخش چہارم

جنگ خشِ کے استثنائی موارد اور اسلام میں جنگ کے اہداف • تجاوز کی دفع • فتنہ کا خاتمہ • معاہدہ شکنوں، سازش کرنے والوں اور جنگ شروع کرنے والوں کی روک تھام • مظلوموں سے استضعاف کا خاتمہ • سرزمین کا دفاع

بخشِ پنجم

جنگ سے پیشگیرانہ اقدامات • جنگ کی ابتدا سے ممانعت • قریش کی جانب سے دھمکیوں کی ابتدا • جنگ کے بجائے گفتگو • دشمن کی طرف سے جنگ کی شروعات • رسول خدا کی جنگ میں تاخیر • اور دیگر

بخشِ ششم

جنگ افروزی کی سازشوں کا خاتمہ • خیبر کے یہودیوں سے صلح میں دشمن کی رکاوٹیں • صلح کی راہ میں مختلف طرح کی رکاوٹیں • ایمان کی کمزوری پیدا کرنا • اختلاف ڈالنا • وغیرہ

بخشِ ہفتم

جنگ میں انسانی اقدار کی حفاظت • قیدیوں کو قتل نہ کرنا • قیدیوں کو مارنے پیٹنے سے منع • قیدیوں سے مہربانی • قیدیوں کی آزادی • وغیرہ

بخشِ ہشتم

جنگ کے اسلامی بنیاد ی اصول • تکلیف مداری کا اصول • حتی الامکان جنگ سے گریز • دشمن کے لیے بھی خیرخواہی • حق پر مبنی ہونا • وغیرہ

بخشِ نہم

جنگ میں انسانی حقوق کی حفاظت کرنے والے فقہی و قانونی احکام • غیر جنگجو افراد کے شرکت سے روکنے کے احکام • بچوں کو جنگ میں شامل کرنے کی ممانعت • عورتوں کی شرکت کی ممانعت • غلاموں کی شرکت کی ممانعت • ناتوان افراد کو جنگ میں شامل کرنے کی ممانعت • خلاصہ

غیر جنگجو افراد کے قتل سے روکنے والے فقہی احکام • بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت • عورتوں کے قتل سے ممانعت • بوڑھوں کو قتل کرنے کی ممانعت • قیدیوں کو قتل کرنے سے منع • دیگر • وغیرہ

قتل کی کیفیت سے متعلق فقہی احکام • مُثلہ (بدن کا ٹکڑے کرنا) سے ممانعت • اذیت دے کر قتل کرنے سے منع • جلانے کی ممانعت • قتل میں احسان و نرمی

جنگ میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق فقہی احکام • درخت کاٹنے سے ممانعت • درخت جلانے سے ممانعت • درخت ڈبونے سے ممانعت • وغیرہ

قیدیوں کے حقوق کے محافظ فقہی احکام • قیدیوں سے نیکی • پانی پلانا • خوراک دینا • وغیرہ

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. سورۂ حجرات آیۂ 10