"محمد علی تسخیری" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 18: سطر 18:
}}
}}


'''محمد علی تسخیری''' فرزند اسلامی امت وحدت تحریک کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور [[عالمی اسمبلی برائے تقرب اسلامی]] کے دوسرے سیکرٹری جنرل ہیں۔  انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم شہر نجف اشرف میں مکمل کی اور عظیم پروفیسروں کی موجودگی میں غیر ملکی علوم کے مرحلے تک مدرسے کے کورسز حاصل کیے۔ انہوں نے [[سید محمد باقر صدر]]، [[سید ابوالقاسم خوئی]]، [[سید محمد تقی حکیم]]، [[شیخ جواد تبریزی]]، شیخ کاظم تبریزی، سدرہ بدکوبی اور شیخ مجتبیٰ لنکرانی کی عظیم آیات کا مطالعہ کیا اور عربی ادب، فقہ اور اصولوں کے یونیورسٹی کورسز بھی حاصل کیے۔ انہوں نے [[نجف]] فیکلٹی آف فقہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایرانی اسلامی انقلاب کی شاندار فتح کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا سارا وقت ثقافتی امور اور ملک کے اندر اور باہر اسلامی تبلیغات پر صرف کیا۔
'''محمد علی تسخیری''' فرزند اسلامی امت وحدت تحریک کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور [[عالمی اسمبلی برائے تقریب اسلامی]] کے دوسرے سیکرٹری جنرل ہیں۔  انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم شہر نجف اشرف میں مکمل کی اور عظیم پروفیسروں کی موجودگی میں غیر ملکی علوم کے مرحلے تک مدرسے کے کورسز حاصل کیے۔ انہوں نے [[سید محمد باقر صدر]]، [[سید ابوالقاسم خوئی]]، [[سید محمد تقی حکیم]]، [[شیخ جواد تبریزی]]، شیخ کاظم تبریزی، سدرہ بدکوبی اور شیخ مجتبیٰ لنکرانی کی عظیم آیات کا مطالعہ کیا اور عربی ادب، فقہ اور اصولوں کے یونیورسٹی کورسز بھی حاصل کیے۔ انہوں نے [[نجف]] فیکلٹی آف فقہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایرانی اسلامی انقلاب کی شاندار فتح کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا سارا وقت ثقافتی امور اور ملک کے اندر اور باہر اسلامی تبلیغات پر صرف کیا۔
== تعلیم ==
== تعلیم ==
مدرسہ نجف اشرف میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مدرسہ کے عام کورس بھی پڑھاتے تھے۔ عربی شعر و ادب کے میدان میں انہوں نے [[محمد رضا مظفر|آیت اللہ شیخ محمد رضا مظفر]]، شیخ عبدالمہدی مطر اور شیخ محمد امین زین الدین جیسے عظیم استادوں کی موجودگی سے استفادہ کیا۔ اپنی جوانی کے آغاز میں عربی شعر و ادب سے بے پناہ لگن کے ساتھ عربی اشعار گائے اور مختلف مواقع پر ادبی تقاریر کیں اور شعر و ادب کے حلقوں کی طرف راغب ہوئے۔
مدرسہ نجف اشرف میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مدرسہ کے عام کورس بھی پڑھاتے تھے۔ عربی شعر و ادب کے میدان میں انہوں نے [[محمد رضا مظفر|آیت اللہ شیخ محمد رضا مظفر]]، شیخ عبدالمہدی مطر اور شیخ محمد امین زین الدین جیسے عظیم استادوں کی موجودگی سے استفادہ کیا۔ اپنی جوانی کے آغاز میں عربی شعر و ادب سے بے پناہ لگن کے ساتھ عربی اشعار گائے اور مختلف مواقع پر ادبی تقاریر کیں اور شعر و ادب کے حلقوں کی طرف راغب ہوئے۔