"سید عارف حسین الحسینی" کے نسخوں کے درمیان فرق

سطر 16: سطر 16:
== وطن واپسی ==
== وطن واپسی ==
وہ سنہ 1979 سے 1974 عیسوی تک مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس میں مصروف رہے۔ وہ جمعرات کے دن مدرسہ جعفریہ سے پشاور جاکر جامعۂ پشاور میں اخلاق اسلامی کی تدریس کیا کرتے تھے۔
وہ سنہ 1979 سے 1974 عیسوی تک مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس میں مصروف رہے۔ وہ جمعرات کے دن مدرسہ جعفریہ سے پشاور جاکر جامعۂ پشاور میں اخلاق اسلامی کی تدریس کیا کرتے تھے۔
== شہید قائد کا سیاسی سفر ==
شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو جو عزت، شرف،  فضیلت، حیثیت، اعتماد، عروج۔ مقبولیت اور قبولیت حاصل ہے وہ ابھی تک کسی اور پاکستانی شخصیت کو تا حال میسر نہیں ہے.
1- شہید الحسینی کو امام خمینی سے براے راست کسب فیض حاصل کرنے کا موقع ملا. آپ اپنی اکثر نمازیں امام خمینی کی اقتدا میں ادا کرتے تھے.
2-شہید کو امام خمینی نے 1973 میں  وکالت نامہ مرحمت فرمایا.
3- شہید کو امام خمینی طرف سے پاکستان میں نمائندہ ولی فقیہ کی تقرری میں  اولیت حاصل ہے.
4- امام خمینی نے پاکستان میں فقط شہید حسینی کے افکار کو زندہ رکھنے کی تلقین کی ہے .
5- امام خمینی نے فقط شہید مطہری اور شہید حسینی کا اپنا بیٹا کہہ کر خراج تحسین پیش کیا.
یہ چند سطریں لکھ کر واضح کر دیا ہے کہ شہید حسینی کے افکار و حکمت عملی کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے. اب موضوع پر بات کرتے ہیں.
گو کہ گمبٹ کے اجلاس تحریک کی مرکزی کونسل نے قرارداد منظور کر کے سیاست میں تحریک کے کردار کا تعین کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود  شہید حسینی نے مزید آراء حاصل کرنے کے لیے خصوصی سروے کروایا. اس میں متعدد سوالات پوچھے گئے. ان میں  سے بیشتر جواب کو ایک  کتابچہ " تحریک کا سیاسی سفر " میں سمو دیا گیا ہے.
اس میں اہم جواب [[سید صفدرحسین نجفی|علامہ صفدر حسین نجفی]] مرحوم  کا تھا.  انہوں نے لکھا اگر تحریک نے سیاست میں حصہ نہیں لینا تو اسے بند کر دینا چاہئے.
23 مارچ 1987 کو وفاق علماء شیعہ  پاکستان کے اجتماع  کے موقع پر علامہ صفدر حسین نجفی مرحوم  نے تجویز پیش کی کہ تحریک، وفاق، آئی ایس او، آئی او اور جمعیت طلباء جعفریہ کی جانب سے مشترکہ اجتماع منعقد ہو اور اس میں سیاسی منشور پیش  کیا جاے.  شہید نے تجویز کو سراہتے ہوے اسے 9.10 اپریل کو حیدر آباد سندھ میں ہونے  والے تحریک کے تیسرے سالانہ کنونشن میں زیر غور لانے کا وعدہ کیا. کنونشن نے اس تجویز کو اس ترمیم کے ساتھ منظور کیا کہ اجتماع فقط تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے منعقد کرنا چاہئے.
شہید نے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قرآن وسنت کانفرنس کے عنوان سے لاہور میں چھ جولائی 1987 کو منعقد  کرنے کا اعلان کر دیا اور منشور کی تیاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی. یوں منشور " ہمارا راستہ " تحریر ہوا  جسے تحریک کی سپریم کونسل کے اجلاس منعقدہ بھکر میں  منظور کیا.  یہ منشور  6 جولائی 1987 کو مینار پاکستان کے  میدان میں منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس میں اعلان کیا.   
شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی حیات طیبہ میں  ہی جنرل ضیاءالحق نے محمد خان جونیجو کی حکومت  ختم کر کے نوے دن میں  انتخاب کروانے کا اعلان کر دیا تھا. شہید نے اسی حوالے مرکزی کونسل کا اجلاس 8  جولائی 1988ء کو جامعہ اہل بیت اسلام آباد میں طلب کیا تھا جو شہید کا آخری اجلاس ثابت ہوا. اس میں  الیکشن حصہ لینے کے لیے حکمت عملی طے کرنے بر بات ہوئی. طویل  بحث کے بعد انتخاب میں حصہ لینے اور حکمت عملی طے کرنے کا  اختیار شہید کو دے دیا گیا. ( اس اجلاس کا تزکرہ شہید نے اپنی آخری  پریس کانفرنس میں جو  پارا چنار میں  منعقد ہوئی تھی, کیا تھا. یہ پریس کانفرنس شہید کی سیاسی تقاریر پر مشتمل کتاب، اسلوب سیاست، میں چھپ چکی ہے.) بندہ ناچیز کو اس اجلاس میں شرکت کی  سعادت حاصل رہی ہے. شہید نے اس پریس کانفرنس میں  الیکشن کے حوالے سے پوچھے گیے سوالات کے جوابات دیے ہیں. وہ درج زیل ہیں.
سوال: کیا عام انتخابات کے لیے آپ عوام  کو ایک منشور پیش کریں گے ؟
جواب: تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نے سال گزشتہ 6 جولائی کو مینار پاکستان پر ایک منشور عوام کو دیا تھا.  اس منشور میں نظام کے حوالے سے, اقتصاد کے حوالے سے اور جتنے بھی شعبہ ہائے زندگی ہیں,ان کے حوالے سے ہم نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے.  اب مزید دوسرے منشور کی ہمیں ضرورت نہیں ہے. البتہ ہمیں یہ احساس  ہوا کہ اس میں کچھ ترامیم کرنی ہیں یا ان میں  چیزیں زیادہ کرنی ہیں تو یہ ہم کر سکتے ہیں لیکن منشور جو ہم نے 6 جولائی کو مینار  پاکستان پر دیا ہے. اس میں  ہم نے ایک منشور کمیٹی بنائی تھی. انہوں نے قرآن وسنت اور مراجع عظام  کے فتاویٰ کو مدنظر رکھ کر یہ منشور بنایا ہے.
سوال: کیا آپ خود الیکشن میں حصہ لیں گے؟
جواب: اس سلسلے میں ابھی 8 جولائی کو گزشتہ جمعہ کو اسلام آباد,  جامعہ اہل بیت میں  مرکزی کونسل کی ایک میٹنگ ہوئی. جس میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور یہ ہم نے یہ طے کیا کہ ہم نے انتخابات میں حصہ لینا ہے لیکن ہم نے پہلے بھی ایک سیاسی سیل بنایا تھا جسے آپ الیکشن سیل کہہ سکتے ہیں. اس کو ہم نے کہہ دیا ہے کہ توسیع دیں اور اس میں کچھ اور افراد بھی لے لیں اور حالات پر کڑی نظر رکھیں. مطالعہ کرتے رہتے رہیں. پھر ہم دیکھیں گے کہ حکومت کیا اعلان کرتی ہے <ref>سید نثار علی ترمذی، شہید قائد کا سیاسی سفر</ref>۔
== پاکستان میں امام خمینی کے نمائندے ==
== پاکستان میں امام خمینی کے نمائندے ==
سید عارف حسین حسینی پاکستان میں امور حسبیہ اور وجوہات شرعیہ میں امام خمینی کے نمائندے اور وکیل تھے <ref>صحیفہ امام ج14 ص506، موضوع: مجوز استفاده از سهم امام (ع) در امور تبلیغات اسلامی در پیشاور پاکستان؛ مخاطب: سید عارف حسین، حسینی</ref>۔
سید عارف حسین حسینی پاکستان میں امور حسبیہ اور وجوہات شرعیہ میں امام خمینی کے نمائندے اور وکیل تھے <ref>صحیفہ امام ج14 ص506، موضوع: مجوز استفاده از سهم امام (ع) در امور تبلیغات اسلامی در پیشاور پاکستان؛ مخاطب: سید عارف حسین، حسینی</ref>۔
confirmed
2,364

ترامیم