"حدیث کساء" کے نسخوں کے درمیان فرق

سطر 9: سطر 9:
جابر بن عبد اللہ انصاری نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنھوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ ہیں میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔ جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک <ref>حدیث 5595 صحیح مسلم</ref>.<ref>مسند احمد بن حنبل۔ حافظ ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل شیبانی۔ جلد اول صفحہ 331 مطبوعہ مصر</ref>. <ref>الخصائص (نسائی) صفحہ 4۔ علامہ ابو عبد الرحمان احمد ابن شعیبون نسائی</ref>. <ref>تفسیر طبری جلد 22 صفحہ 5۔ مطبوعہ مصر۔ حافظ محمد ابن جریر طبری</ref>
جابر بن عبد اللہ انصاری نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے۔ وہ ایک بڑی یمنی چادر اوڑھ کر آرام فرمانے لگے۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے روایت کی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح نورانی تھا۔ تھوڑی دیر میں نواسہ رسول حضرت حسن بن علی گھر آئے تو انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ مجھے اپنے نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بعد میں انہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب دیا اور انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ کچھ دیر بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے نواسے حضرت حسین بن علی آئے۔ انہوں نے بھی نانا کی موجودگی محسوس کی سلام کیا اور چادر اوڑھ لی۔ کچھ دیر کے بعد حضرت علی ابن ابوطالب کرم اللہ وجہہ تشریف لائے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا جنھوں نے انہیں اپنے ساتھ چادر اوڑھا دی۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں بھی اجازت لے کر چادر میں داخل ہو گئی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چادر پکڑی اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اے خدا یہ ہیں میرے اہل بیت ہیں، یہ میرے خاص لوگ ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت اور ان کا خون میرا خون ہے۔ جو انہیں ستائے وہ مجھے ستاتا ہے اور جو انہیں رنجیدہ کرے وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔ جو ان سے لڑے میں بھی ان سے لڑوں گا اور جو ان سے صلح کرے میں ان سے صلح کروں گا۔ میں ان کے دشمن کا دشمن اور ان کے دوست کا دوست ہوں کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ پس اے خدا تو اپنی عنائتیں اور اپنی برکتیں اور اپنی رحمتیں اور اپنی بخشش اور اپنی خوشنودی میرے لیے اور ان کے لیے قرار دے۔ ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو پاک کر بہت ہی پاک <ref>حدیث 5595 صحیح مسلم</ref>.<ref>مسند احمد بن حنبل۔ حافظ ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل شیبانی۔ جلد اول صفحہ 331 مطبوعہ مصر</ref>. <ref>الخصائص (نسائی) صفحہ 4۔ علامہ ابو عبد الرحمان احمد ابن شعیبون نسائی</ref>. <ref>تفسیر طبری جلد 22 صفحہ 5۔ مطبوعہ مصر۔ حافظ محمد ابن جریر طبری</ref>
== حدیث کساء اهل تشیع منابع مین ==
== حدیث کساء اهل تشیع منابع مین ==
* تفسیر قمی <ref>قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۱۹۳.</ref>
* تفسیر فرات کوفی <ref>فرات کوفی، تفسیر فرات الکوفی، ۱۴۱۰ق، ص۱۱۱، ص۳۳۲-۳۳۷</ref>.
* مجمع البیان <ref>طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۸، ص۵۵۹</ref>
* البرهان فی تفسیر القرآن  <ref>بحرانی، البرهان، ۱۳۷۴ش، ج۲، ص۱۰۶</ref>
* اصول کافی <ref>کلینی،الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۲، ص۸</ref>
* امالی شیخ طوسی <ref>طوسی، الأمالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۶۸و۵۶۵.</ref>
== حدیث کساء اهل سنت منابع مین ==
== حدیث کساء اهل سنت منابع مین ==
یہ حدیث بے شمار جگہ مستند روایات کے ساتھ مروی ہے۔ یہاں صرف ان مرتبین و مصنفین ایک ایسی فہرست درج ہے جنہوں نے اس حدیث کو آیت تطہیر کی شان نزول میں لکھا ہے اور اس میں پنجتن پاک کے نام لے کر ان کے حوالے سے روایت بیان کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں ہے۔
یہ حدیث بے شمار جگہ مستند روایات کے ساتھ مروی ہے۔ یہاں صرف ان مرتبین و مصنفین ایک ایسی فہرست درج ہے جنہوں نے اس حدیث کو آیت تطہیر کی شان نزول میں لکھا ہے اور اس میں پنجتن پاک کے نام لے کر ان کے حوالے سے روایت بیان کی ہے۔ یاد رہے کہ یہ فہرست مکمل نہیں ہے۔