"اسماعیلیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

سطر 87: سطر 87:
* ماذون :مستجیب سے عہد و میثاق لیتا ہے۔
* ماذون :مستجیب سے عہد و میثاق لیتا ہے۔
* مکاسر: ان کے باطل مذہبوں کو رد کر کے اپنا مذہب بتاتا ہے۔ مکاسر کے معنی توڑنے والے کے ہیں کیونکہ وہ باطل مذہبوں کو توڑتا ہے۔
* مکاسر: ان کے باطل مذہبوں کو رد کر کے اپنا مذہب بتاتا ہے۔ مکاسر کے معنی توڑنے والے کے ہیں کیونکہ وہ باطل مذہبوں کو توڑتا ہے۔
== عيادات کے احکام کی چند تا ویلیں: ==
== عبادات کے احکام کی چند تا ویلیں: ==
* وضو کی تاویل :گناہوں سے نفس کو پاک کرنا، حضرت علی کا اقرار کرنا کیونکہ وضو اور حضرت علی ہر ایک لفظ میں تین حروف ہیں۔
* وضو :گناہوں سے نفس کو پاک کرنا، حضرت علی کا اقرار کرنا کیونکہ وضو اور حضرت علی ہر ایک لفظ میں تین حروف ہیں۔
* کلی کرنے کی تاویل: امام کا اقرار اور اس کی اطاعت کرنا۔
* کلی کرنا: امام کا اقرار اور اس کی اطاعت کرنا۔
* منہ دھونے کی تاویل: امام اور سات ناطقوں اور سات اماموں کا اقرار کرنا کیونکہ انسان کے چہرے میں سات سوراخ ہیں ۔
* منہ دھونا: امام اور سات ناطقوں اور سات اماموں کا اقرار کرنا کیونکہ انسان کے چہرے میں سات سوراخ ہیں ۔
* سیدھا ہاتھ دھونے کی تاویل:نبی یا امام کی اطاعت کرنا ۔
* سیدھا ہاتھ دھونا:نبی یا امام کی اطاعت کرنا ۔
* بایاں ہاتھ دھونے کی تاویل: وصی یا حجت کی اطاعت کرنا۔
* بایاں ہاتھ دھونا: وصی یا حجت کی اطاعت کرنا۔
* سر کا سح کرنے کی  تاویل: رسول خدا کا اقرار کرنا اُن کی شریعت پر چلنا۔
* سر کا سح کرنا: رسول خدا کا اقرار کرنا اُن کی شریعت پر چلنا۔
* سیدھے پاؤں کا مسح کرنے کی  تاویل: امام یا داعی کا اقرار کرنا۔
* سیدھے پاؤں کا مسح کرنا: امام یا داعی کا اقرار کرنا۔
* بائیں پاؤں کا مسح کرنے کی  تاویل: حجت یا ماذون کا اقرار کرنا۔
* بائیں پاؤں کا مسح کرنا: حجت یا ماذون کا اقرار کرنا۔
* دھونا  یعنی طاعت کرنا۔
* دھونا  یعنی طاعت کرنا۔
* مسح کرنا یعنی اقرار کرنا <ref>نعیم اختر سندھو،ہند و پاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلوپیڈیا،برائٹ بکس اردو بازارلاہور</ref>۔
* مسح کرنا یعنی اقرار کرنا <ref>نعیم اختر سندھو،ہند و پاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلوپیڈیا،برائٹ بکس اردو بازارلاہور</ref>۔
سطر 142: سطر 142:
حکیم سید ناصر خسرو کہتے ہیں حق تعالی نے انسان کو خوف اور امید کے لئے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ خدا نے اس کو بہشت کے ذریعہ اُمید دلائی اور دوزخ کے ذریعہ ڈرایا ہے۔ انسان کے نفس میں جو خوف پایا جاتا ہے وہ دوزخ کا نشان ہے اور انسان میں جو امید پائی جاتی ہے وہ بہشت کا اثر ہے۔ یہ دونوں چیزیں ( یعنی جزوی خوف اور جزوی اُمید ) جو انسانی فطرت میں پوشیدہ ہیں وہ دوزخ اور بہشت ہیں۔ "وجہ دین" میں لکھا ہے کہ ہمیشہ دنیا سے آخرت اور آخرت سے دنیا پیدا ہوتی رہتی ہے اور دین کے نظریات کا مدار و محور یہی ہے۔
حکیم سید ناصر خسرو کہتے ہیں حق تعالی نے انسان کو خوف اور امید کے لئے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ خدا نے اس کو بہشت کے ذریعہ اُمید دلائی اور دوزخ کے ذریعہ ڈرایا ہے۔ انسان کے نفس میں جو خوف پایا جاتا ہے وہ دوزخ کا نشان ہے اور انسان میں جو امید پائی جاتی ہے وہ بہشت کا اثر ہے۔ یہ دونوں چیزیں ( یعنی جزوی خوف اور جزوی اُمید ) جو انسانی فطرت میں پوشیدہ ہیں وہ دوزخ اور بہشت ہیں۔ "وجہ دین" میں لکھا ہے کہ ہمیشہ دنیا سے آخرت اور آخرت سے دنیا پیدا ہوتی رہتی ہے اور دین کے نظریات کا مدار و محور یہی ہے۔
== امام مہدی ==
== امام مہدی ==
اسماعیلیوں کے ہاں حضرت علی کی نسل سے قیامت تک آئمہ قائم ہوں گے آخری امام قائم القیامہ ہوگا جو دور کشف کا پہلا امام ہوگا۔ اسماعیلیوں کے ہاں ” مہدی“ کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور ان کی نسل سے قیامت کے روز جو امام ظاہر ہوں گے وہ قائم القیامۃ ہوں گے۔ اسماعیلیوں کے لحاظ سے مہدی کی ولادت ۲۶۰ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی۔ پھر اس کا باپ اسے سلمیہ لے گیا جو ائمہ مستور ین کا مستقر تھا ( استنار الامام ص ۵۹) امام عبدالله بن الحسین المستورہی ” مہدی“ ہیں۔ جو گیارہویں امام اور فاطمین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں اسماعیلیوں کے مطابق ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ورنہ وہ منزل ہو جائے ۔  
اسماعیلیوں کے ہاں حضرت علی کی نسل سے قیامت تک آئمہ قائم ہوں گے آخری امام قائم القیامہ ہوگا جو دور کشف کا پہلا امام ہوگا۔ اسماعیلیوں کے ہاں ” مہدی“ کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور ان کی نسل سے قیامت کے روز جو امام ظاہر ہوں گے وہ قائم القیامۃ ہوں گے۔ اسماعیلیوں کے لحاظ سے مہدی کی ولادت ۲۶۰ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی۔ پھر ان کا باپ انہیں سلمیہ لے گیا جو ائمہ مستور ین کا مستقر تھا ( استنار الامام ص ۵۹) امام عبدالله بن الحسین المستورہی ” مہدی“ ہیں جو گیارہویں امام اور فاطمیین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں۔ اسماعیلیوں کے مطابق ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے۔ زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ورنہ وہ متزلزل ہو جائے ۔  
اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہ ہی کی نسل میں جاری رہے گا باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر مں بڑا ہو یا چھوٹا بالغ ہو یا نا بالغ امام ہوتا رہے گا۔ سنی عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص قریش یا بنی فاطمہ میں سے ہوگا جس کا نام محمد جس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اور جو قیامت سے قبل نمودار ہوگا ۔ قرامطہ محمد بن اسماعیل کو زندہ خیال کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہی امام مہدی کی حیثیت میں دوبارہ نمودار ہونگے کیسانیہ حضرت محمد ابن حنفیہ کے متعلق اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے۔ امامیہ اثنا عشری کے مطابق امام حسن عسکری کے فرزند (امام محمد مہدی ) جو وفات سے قبل دشمنوں کے خوف سے مستور ہو گئے تھے امام مہدی ہیں۔
اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہ ہی کی نسل میں جاری رہے گا۔ باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر میں بڑا ہو یا چھوٹا، بالغ ہو یا نا بالغ، امام ہوتا رہے گا۔  
دولت فاطمیہ کا پہلا امام مہدی محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہے اسما عیلیہ عبداللہ کو مہدی جانتے ہیں ۔ مہدی کا نسب نامہ چونکہ عبداللہ امام مہدی کا مسئلہ اسما عیلیہ عقیدہ کی اصل بنیاد سے تعلق رکھتا ہے ان کے خاندان میں ایک شخص عبداللہ نامی تھے جن کو اسماعیلی محمد بن اسماعیل اور ان کے مخالفین میمون قداح کا فرزند بتاتے ہیں اسماعیلی اعتقاد کے لحاظ سے امام عبداللہ بن حسین المستور ہی مہدی ہیں جو دور ظہور کے پہلے امام ہیں ۔ مہدی کی ولادت ۲۶۰ ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی ( نوٹ : عسکر مکرم جگہ کا نام ہے ) عبداللہ المہدی حضرت محمد بن اسماعیل کے ایک بیٹے عبداللہ جو اسماعیلی روایت کے مطابق اپنے والد کے جانشین ہوئے ان کے بیٹے احمد بن عبد اللہ اسماعیلی جماعت کے پیشوا ہوئے پھر حسین ابن احمد کے انتقال کے بعد ان کے فرزند عبد اللہ جو بعد میں مہدی کے لقب سے ملقب ہوئے اس وقت بالغ نہ تھے ان کی پروش کی سیادت حضرت حسین کے بھائی محمد الحبیب کے حصہ میں آئی جب  عبد اللہ بالغ ہو گئے تو باپ کی وصیت کے مطابق امامت ان کو منتقل ہوگئی <ref>شیخ محمد اکرام ، آب کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ۲۔ کلب روڈ لاہور</ref>۔  
 
سنی عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص قریش یا بنی فاطمہ میں سے ہوگا جس کا نام محمد اور جس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اور جو قیامت سے قبل نمودار ہوگا ۔ قرامطہ محمد بن اسماعیل کو زندہ خیال کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہی امام مہدی کی حیثیت سے دوبارہ نمودار ہوں گے ۔کیسانیہ حضرت محمد ابن حنفیہ کے متعلق اسی قسم کا اعتقاد رکھتے تھے۔ امامیہ اثنا عشری کے مطابق امام حسن عسکری کے فرزند،امام محمد مہدی جو وفات سے قبل دشمنوں کے خوف سے مستور ہو گئے تھے امام مہدی ہیں۔
دولت فاطمیہ کا پہلا امام مہدی محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہے ۔اسما عیلی حضرات عبداللہ کو مہدی سمجھتے ہیں ۔ امام مہدی کا مسئلہ اسما عیلیہ عقیدہ کی اصل بنیاد سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے خاندان میں ایک شخص عبداللہ نامی تھا جس کو اسماعیلی محمد بن اسماعیل اور ان کے مخالفین میمون قداح کا فرزند بتاتے ہیں۔ اسماعیلی اعتقاد کے لحاظ سے امام عبداللہ بن حسین المستور ہی مہدی ہیں جو دور ظہور کے پہلے امام ہیں ۔ مہدی کی ولادت ۲۶۰ ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی ( نوٹ : عسکر مکرم جگہ کا نام ہے )۔  حضرت محمد بن اسماعیل کے ایک بیٹے عبداللہ جو اسماعیلی روایت کے مطابق اپنے والد کے جانشین ہوئے ان کے بیٹے احمد بن عبد اللہ اسماعیلی جماعت کے پیشوا ہوئے پھر حسین ابن احمد کے انتقال کے بعد ان کے فرزند عبد اللہ جو بعد میں مہدی کے لقب سے ملقب ہوئے اس وقت بالغ نہ تھے ان کی پروش کا شرف حضرت حسین کے بھائی محمد الحبیب کے حصہ میں آیا۔ جب  عبد اللہ بالغ ہو گئے تو باپ کی وصیت کے مطابق امامت ان کو منتقل ہوگئی <ref>نعیم اختر سندھو،ہند و پاک میں مسلم فرقوں کا انسائیکلوپیڈیا،برائٹ بکس اردو بازارلاہور</ref>۔  
== ائمه مستورین ==
== ائمه مستورین ==
ائمه مستورین: اسماعیل بن جعفر صادق کے بعد جو ائمہ گزرے وہ ہمیشہ بنوعباس خوف سے اپنے آپ کو چھپایا کرتے تھے یہاں تک کے محمد بن اسماعیل کا نام جیسا کہ ابن خلدون نے بیان کیا بنو عباس کے خوف سے اپنے آپ کو اتنا پوشیدہ رکھا کہ ان کا نام ” محمد مکتوم“ پڑ گیا۔ میمون القداح امام محمد بن اسماعیل کا فرضی نام تھا جو صرف عباسیوں کے ڈر سے بچنے کے لئے اختیار کیا تھا میمون القداح کوئی علیحدہ شخص نہ ہے عوام الناس محمد بن اسماعیل کو میمون القداح سمجھتے ہیں لفظ قداح محمد بن اسماعیل کا بیٹا عبد اللہ نے اپنا پیشہ آنکھوں کا معالجہ اختیار کیا اس لئے یہ قداح کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ (نوٹ : مختلف فرضی ناموں کا اختیار کرنا اسماعیلیوں کے ہاں کوئی نئی بات نہیں اکثر اوقات ائمہ مستورین نے ایسا کیا ہے ) محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق اور عبد اللہ بن میمون القداح ( یعنی غیب دان کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے ) دونوں کا وجود تاریخ سے ثابت ہے اکثر مورخین نے مہدی کو عبد اللہ بنمیمون القداح کی طرف منسوب کیا ہے۔
اسماعیل بن جعفر صادق کے بعد جو ائمہ گزرے وہ ہمیشہ بنوعباس کے خوف سے اپنے آپ کو چھپایا کرتے تھے۔ یہاں تک کے محمد بن اسماعیل نے  جیسا کہ ابن خلدون نے بیان کیا، بنو عباس کے خوف سے اپنے آپ کو اتنا پوشیدہ رکھا کہ ان کا نام ” محمد مکتوم“ پڑ گیا۔ میمون القداح امام محمد بن اسماعیل کا فرضی نام تھا جو صرف عباسیوں کے ڈر سے بچنے کے لئے اختیار کیا تھا۔ میمون القداح کوئی علیحدہ شخص نہیں ہے۔ عوام الناس محمد بن اسماعیل کو میمون القداح سمجھتے ہیں۔  محمد بن اسماعیل کے بیٹے عبد اللہ نے آنکھوں کے معالجہ کا پیشہ  اختیار کیا اس لئے وہ قداح کے نام سے مشہور ہو گئے ۔ مختلف فرضی ناموں کا اختیار کرنا اسماعیلیوں کے ہاں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اکثر اوقات ائمہ مستورین نے ایسا کیا ہے۔ محمد بن اسماعیل بن جعفر صادق اور عبد اللہ بن میمون القداح ( جنہیں  غیب دان کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے ) دونوں کا وجود تاریخ سے ثابت ہے۔ اکثر مورخین نے مہدی کو عبد اللہ بن میمون القداح کی طرف منسوب کیا ہے۔


== کتامہ ==
== کتامہ ==
کتامہ: "کتامہ قبیلے کا نام ہے جس کے معنی چھپانے کے ہیں یہ لوگ اپنے مذہب کو بہت چھپاتے تھے کتامہ کتماں سے مشتق نہیں ہے صرف ایک قبیلے کا نام ہے جس کے اکثر افراد حلوانی فرقے کے زیر اثر اسماعیلیت اختیار کر چکے تھے۔ اسماعیلیہ کے تین ائمہ مستورین مشہور ہیں حضرت امام محمد ( المکتوم ) کے انتقال کے بعد (۱) عبد اللہ ( الرضی ) (۲) احمد ( الونی ) (۳) حسین (المتقی ) ۔ یہ تینوں ائمہ مستورین کہلاتے ہیں ان کے مستور ہونے کے یہ معنی ہیں کہ ان تینوں نے بہت پوشیدہ طور پراپنی زندگی بس کی حسین تین ائمہ مستور ین کے آخری بار مستورین کہلاتے ہیں ۔ حسین نے اپنے انتقال کے وقت یہ پیشین گوئی کی تھی کہ میرا لڑکا ( عبد اللہ ) مہدی موعود ہو گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنادین ظاہر کرے گا۔ اسماعیلیوں کی دوسری جماعت : آغا خانی خوجوں کی نسبت ان کے نظام و عقائد خاص طور پر غیر اسلامی ہیں اس جماعت کا دائرہ بڑا وسیع ہے اور ان میں کئی ایسے طبقے شامل ہیں جن کا اسلام سے بہت دور کا تعلق ہے۔ شاہ شمس سبز واری خوجوں کے دوسرے مبلغ شاہ شمس تھے جو ملتان میں مدفون ہیں انہیں عام طور پر شاہ شمس تبریز کہا جاتا ہے خواجہ روایات کے مطابق وہ ایران کے شہر سبزوار سے تشریف لائے بعض ملتان کے خوجے امام آغا خان کو اپنادیو تا تسلیم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو شاہ شمس کے نام پر کسی کہلاتے ہیں۔
کتامہ قبیلے کا نام ہے جس کے معنی چھپانے کے ہیں ۔یہ لوگ اپنے مذہب کو بہت چھپاتے تھے ۔کتامہ کتمان سے مشتق نہیں ہے صرف ایک قبیلے کا نام ہے جس کے اکثر افراد حلوانی فرقے کے زیر اثر اسماعیلیت اختیار کر چکے تھے۔ اسماعیلیہ کے تین ائمہ مستورین مشہور ہیں ۔حضرت امام محمد ( المکتوم ) کے انتقال کے بعد (۱) عبد اللہ ( الرضی ) (۲) احمد ( الوفی ) (۳) حسین (التقی ) ۔ یہ تینوں ائمہ مستورین کہلاتے ہیں۔ ان کے مستور ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان تینوں نے بہت پوشیدہ طور پراپنی زندگی بسر کی۔ حسین تین ائمہ مستور ین کے آخری امام  مستور کہلاتے ہیں ۔حسین نے اپنے انتقال کے وقت یہ پیشین گوئی کی تھی کہ میرا لڑکا ( عبد اللہ ) مہدی موعود ہو گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنادین ظاہر کرے گا۔  
== اسماعیلی خوجہ جماعت ==
 
اسماعیلی خوجہ جماعت کے سب سے بڑے داعی جنہوں نے عام نزاری عقائد کو ہندوستانی ماحول کے مطابق نئے سرے سے ترتیب دیا پیر صدرالدین جو خراسان سے پاکستان آئے اور اب ریاست بہاول پور کے ایک گاؤں ترنڈہ گور گنج میں مدفون ہیں اور وہیں پر ان کا مزار تعمیر ہوا قریب ہی پیر صدرالدین کے بیٹے پیر غیاث الدین مدفون ہیں بہاولپور میں پیر صدرالدین کو چوراسی روضہ والا بھی کہتے ہیں مشہور یہ ہے کہ ان کی اولاد میں سے چوراسی اولیاء ہوئے ۔ پیر صدرالدین کی نسبت آغا خانیوں کے مطابق آغا خان کے ایک مورث اعلیٰ شاہ اسلام نے پیر صدر الدین کو داعی بنا کر ایران سے بھیجا تھا اور بہت لوگ ان کے یا ان کی اولاد کے ہاتھوں اسماعیلی ہوئے ۔ پیر صدالدین نے ایران سے آکر ہندوستان میں  اسماعیلیوں کی تین جماعتیں منظم کیں۔
== اسماعیلیوں کی دوسری جماعت ==
پنجاب میں بھی ۔ میں مکھی سیٹھ شام داس لاہوری ۲۔ کشمیر میں لکھی سیٹھ جیسی داس سندھ میں مکھی تریکیم تھے سندھ اور مغربی پنجاب میں نجاب میں لوہا نہ قوم کے بہت سے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بعیت کی۔
آغا خانی خوجوں کی نسبت ان کے نظام و عقائد خاص طور پر غیر اسلامی ہیں۔ اس جماعت کا دائرہ بڑا وسیع ہے اور ان میں کئی ایسے طبقے شامل ہیں جن کا اسلام سے بہت دور کا تعلق ہے۔خوجوں کے دوسرے مبلغ شاہ شمس تھے جو ملتان میں مدفون ہیں۔ انہیں عام طور پر شاہ شمس تبریز کہا جاتا ہے۔ خوجہ روایات کے مطابق وہ ایران کے شہر سبزوار سے تشریف لائے۔ ملتان کے بعض خوجے امام آغا خان کو اپنادیو تا تسلیم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو شاہ شمس کے نام پر شمسی کہلاتے ہیں۔
اسماعیلیوں کا پہلا جماعت خانہ سندھ کے گاؤں ہاڑہ میں پیر صدرالدین کے ہاتھوں قائم ہوا۔ پیر صدالدین اپنا سلسلہ امام حسین سے تیسویں (۲۳) پشت سے ملاتے ہیں۔ پیر صدرالدین اور ان کے بیٹے سید کبیر الدین حسن نے اسماعیلیوں میں نئی روح پھونک دی اور اشاعت مذہب کے لئے یادگار چھوڑی۔
اسماعیلی خوجہ جماعت کے سب سے بڑے داعی جنہوں نے عام نزاری عقائد کو ہندوستانی ماحول کے مطابق نئے سرے سے ترتیب دیا پیر صدرالدین ہیں جو خراسان سے پاکستان آئے اور اب ریاست بہاول پور کے ایک گاؤں ترنڈہ گور گنج میں مدفون ہیں اور وہیں پر ان کا مزار تعمیر ہوا۔ قریب ہی پیر صدرالدین کے بیٹے پیر غیاث الدین مدفون ہیں۔ بہاولپور میں پیر صدرالدین کو چوراسی روضہ والا بھی کہتے ہیں۔ مشہور یہ ہے کہ ان کی اولاد میں چوراسی اولیاء ہوئے ۔ آغا خانیوں کے مطابق آغا خان کے ایک مورث اعلیٰ شاہ اسلام نے پیر صدر الدین کو داعی بنا کر ایران سے بھیجا تھا اور بہت سے لوگ ان کے یا ان کی اولاد کے ہاتھوں اسماعیلی ہوئے ۔ پیر صدالدین نے ایران سے آکر ہندوستان میں  اسماعیلیوں کی تین جماعتیں منظم کیں۔1۔پنجاب میں مکھی سیٹھ شام داس لاہوری ۲۔ کشمیر میں مکھی سیٹھ تلسی داس 3۔سندھ میں مکھی تریکم تھے۔ سندھ اور مغربی پنجاب میں لوہا نہ قوم کے بہت سے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔اسماعیلیوں کا پہلا جماعت خانہ سندھ کے گاؤں ہاڑہ میں پیر صدرالدین کے ہاتھوں قائم ہوا۔ پیر صدالدین اپنا سلسلہ امام حسین سے تیئیسویں (۲۳) پشت سے ملاتے ہیں۔ پیر صدرالدین اور ان کے بیٹے سید کبیر الدین حسن نے اسماعیلیوں میں نئی روح پھونک دی اور اشاعت مذہب کے لئے یادگار چھوڑی۔
پیر صد الدین نے ایک کتاب دس او تار کے نام سے لکھی یا رائج کی اس کتاب میں رسول اکرم کو برہما کہا حضرت علی کو وشنو اور حضرت آدم علیہ سلام کو شنو سے تعبیر کیا ہے یہ کتاب خوجہ قوم کی مقدس کتاب کبھی جاتی ہے اور مذہبی تقریبوں پر اور نزاع کے وقت مریض کے بستر کے قریب پڑھی جاتی ہے ۔ موجوں کی ایک اور مقدس کتاب گنان ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کو پیر صدرالدین کے بیٹے نے مرتب کی۔ اگرچہ بعض خوبے اس کتاب کو ان کے والد پیر صدرالدین سے منسوب کرتے ہیں ) پیر صدرالدین کے پانچ بیٹے تھے حسن کبیر الدین ، ظہر الدین، غیاث الدین رکن الدین ، تاج الدین، سندھی خوبے پیر صدرالدین کے بڑے بیٹے حسن کبیر الدین کے بڑے معتقد ہیں اور انہیں ان کے والد کی طرح پیر کا خطاب دے رکھا ہے۔ پیر کبیر الدین حسن کا نام حسن دریا بھی مشہور ہے ۔ سندھی فوجوں میں اثنا عشری اور اسماعیلی رسوم پر اختلاف ہے وہاں بعض خوبے تعزیے نکالتے  ہیں آغا خان اول نے اس کی مخالفت کی اس بنا پر وہاں ایک حصہ جماعت سے اگلہ ہو گیا ان کے دو بڑے مرکز شمالی پنجاب اور چترال اور دوسرے کچھ کالی داز اور مغربی ہندوستان میں بھی ہیں ۔ پیر صدرالدین اور ان کا بیٹا پیر حسن کبیر الدین دونوں خوجے فرقے کے بانی تھے۔ پیر صدرالدین وہ واحد آدمی تھے جنہوں نے خوبہ کمیونٹی کو ایک نام دیا خوجگان دراصل، آغا خانی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد آغا خان جماعت نے کئی فلاحی ادارے قائم کئے آغا خان میڈیکل کالج ، آغا خان یونیورسٹی اور آغا خان ہسپتال قابلِ ذکر ہیں، شمالی علاقہ جات میں بھی فلاحی ادارے کھولے ہیں۔
 
اثنا عشری شیعہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں لیکن اسماعیلی جماعتوں نے امامت کو صرف سات اماموں تک محدود نہیں کیا۔ بلکہ اس سلسلہ کو جاری رکھا ہوا ہے کہ ہر زمانہ میں حاضر امام کا ہونا لازمی ہے۔ پیر صدرالدین کی ایک مذہبی کتاب جس کا نام انہوں نے دسا اوتار ( دس اوتار ) رکھا۔ اس مذہبی کتاب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دسواں اوتار مانا ۔ اسماعیلی خوجوں نے اس کتاب کو ابتداء ہی سے بطور آسمانی کتاب کے مانا اور مرنے کے وقت وہ کتاب ہمیشہ برکت کے لئے پڑھی جاتی ہے۔ اس طرح بہت سے دستورات میں اُس کو پڑھتے ہیں خوجوں نے آغا خان کو اسما عیلی خاندان کا امام اور اپنا روحانی پیشوا تسلیم کیا ہے آغا خان خود اسماعیلی نسل میں سے ہونے کی وجہ سے ان کو امام تسلیم کیا گیا ہے جب مصر میں سلاطین اسماعیلیہ کی حکومت کو زوال آیا تو آغا خان کے آباؤ اجداد ایران کے مشرقی حصہ میں آباد ہو گئے ۔ بہر صورت ایران میں سکونت اختیار کرنے کے بعد عرصہ دراز تک آغا خان کے اسلاف کے خاندان کی تاریخی حالات کا پتہ کہیں چلتا ۔ حسن علی شما و جب ہندوستان میں آئے رودی جرگے اُن کی سرعنائی کو تسلیم کرتے تھے۔
پیر صد الدین نے ایک کتاب دس او تار کے نام سے لکھی یا رائج کی۔ اس کتاب میں رسول اکرمؐ کو برہما کہا۔ حضرت علی کو وشنو اور حضرت آدم علیہ سلام کو شنو سے تعبیر کیا ہے۔ یہ کتاب خوجہ قوم کی مقدس کتاب سمجھی جاتی ہے اور مذہبی تقریبوں پر اور نزاع کے وقت مریض کے بستر کے قریب پڑھی جاتی ہے ۔ خوجوں کی ایک اور مقدس کتاب گنان ہے۔ اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کو پیر صدرالدین کے بیٹے نے مرتب کیاہے۔ اگرچہ بعض خوبے اس کتاب کو ان کے والد پیر صدرالدین سے منسوب کرتے ہیں ۔ پیر صدرالدین کے پانچ بیٹے تھے حسن کبیر الدین ، ظہر الدین، غیاث الدین، رکن الدین ، تاج الدین۔ سندھی خوجے  پیر صدرالدین کے بڑے بیٹے حسن کبیر الدین کے بڑے معتقد ہیں اور انہیں ان کے والد کی طرح پیر کا خطاب دے رکھا ہے۔ پیر کبیر الدین حسن کا نام حسن دریا بھی مشہور ہے ۔ سندھی خوجوں میں اثنا عشری اور اسماعیلی رسوم پر اختلاف ہے۔وہاں  بعض خوبے تعزیے نکالتے  ہیں۔ آغا خان اول نے اس کی مخالفت کی۔ اس بنا پر وہاں ایک حصہ جماعت سے الگ ہو گیا۔ ان کے دو بڑے مرکز شمالی پنجاب اور چترال اور دوسرے کچھ کاٹھیاواڑ اور مغربی ہندوستان میں بھی ہیں ۔ پیر صدرالدین اور ان کا بیٹا پیر حسن کبیر الدین دونوں خوجے فرقے کے بانی تھے۔ پیر صدرالدین وہ واحد آدمی تھے جنہوں نے خوجہ کمیونٹی کو ایک نام دیا۔ خوجگان دراصل آغا خانی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد آغا خان جماعت نے کئی فلاحی ادارے قائم کئے۔ آغا خان میڈیکل کالج ، آغا خان یونیورسٹی اور آغا خان ہسپتال قابلِ ذکر ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں بھی فلاحی ادارے کھولے ہیں۔
والا شخص سے مراد امام حق ہے اس واحد شخص سے دنیا ہرگز خالی نہیںکیونکہ اس دارد مشخص (امام) حق کے بغیر مخلوق قائم نہیں رہ سکتی اور صرف واحد شخص ( امام ) حق حقوق کی معہداشت اور حفاظت کر سکتا ہے اگر وہ واحد شخص اس جہان سے چلا جائے تو لان ما تمام مخلوق کی بہتری بھی ختم ہو جائے گی امام حق درخت کے میووں کی دلیل ہے کہ میرے اپنے درخت کی زینت بھی بن سکتے ہیں اور اس کی آئیندو نوع کو بھی باتی ہیجاری رکھ سکتے ہیں امام آل رسول ( یعنی علی ابن ابو طالب اور فاطمہ زہرا کی اولاد) سے ہونا چاہئے اور وہ امام دیتی امور کے لئے زندہ اور حاضر ہونا چاہئے۔ اگر چہ ہر امام اپنے زمانے میں روئے زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں جو شخص مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جاہلانہ صورت میں مرتا ہے اور ایسا شخص دوزخ میں جا گرتا ہے پس جو شخص امام کو پہچانے تو اس پر امام کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ پیس مومن پر فرض ہے کہ اپنے امام زمان کو پہنچانے تا کہ امام کی اطاعت کرنا لازمی ہو۔ اے ایمان والوں خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان قرمان کی اطاعت کرو جو خدا کی طرف سے تمہارے درمیان ہیں۔ موت الصلاح دنیا کم ونجات اخر تحکمہ میں تمہاری دنیاوی بہتری اور آخروی
 
نجات کے لئے مامور ہوا ہوں۔" آغا خان اول تا چهارم : اسماعیلی فرقے کے امام کا اعزازی لقب جو سب سے پہلے آقائے حسن علی شاہ کو ملا سلسلہ امامت میں اب تک چار آغا خان ہو چکے ہیں <ref>نعیم اختر سندھو، مسلم فرقوں کا انسا‏ئیکلوپیڈیا، موسی کاظم ریٹی گن روڈ لاہور، 2009ء</ref>۔
اثنا عشری شیعہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔ لیکن اسماعیلی جماعتوں نے امامت کو صرف سات اماموں تک محدود نہیں کیا۔ بلکہ اس سلسلہ کو جاری رکھا ہے ۔ ہر زمانہ میں حاضر امام کا ہونا لازمی ہے۔ پیر صدرالدین کی ایک مذہبی کتاب جس کا نام انہوں نے دسا اوتار ( دس اوتار ) رکھا۔ اس مذہبی کتاب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دسواں اوتار مانا ۔ اسماعیلی خوجوں نے اس کتاب کو ابتداء ہی سے بطور آسمانی کتاب کے مانا اور مرتے وقت وہ کتاب ہمیشہ برکت کے لئے پڑھی جاتی ہے۔ اسی طرح بہت سے مواقع پر  اُس کتاب کو پڑھا جاتا ہے۔ خوجوں نے آغا خان کو اسماعیلی خاندان کا امام اور اپنا روحانی پیشوا تسلیم کیا ہے۔ آغا خان کو اسماعیلی نسل سے ہونے کی وجہ سے امام تسلیم کیا گیا ہے۔ جب مصر میں سلاطین اسماعیلیہ کی حکومت کو زوال آیا تو آغا خان کے آباؤ اجداد ایران کے مشرقی حصہ میں آباد ہو گئے ۔ بہر صورت ایران میں سکونت اختیار کرنے کے بعد عرصہ دراز تک آغا خان کے اسلاف کے تاریخی حالات کا پتہ نہیں چلتا ۔ حسن علی شاہ  جب ہندوستان میں آئے تو سرحدی جرگے اُن کی سربراہی کو تسلیم کرتے تھے۔
 
== واحد شخص ==
واحد شخص سے مراد امام حق ہے۔ اس واحد شخص سے دنیا ہرگز خالی نہیں ۔کیونکہ اس واحد شخص (امام حق) کے بغیر مخلوق قائم نہیں رہ سکتی اور صرف واحد شخص ( امام حق ) مخلوق کی نگہداشت اور حفاظت کر سکتا ہے ۔اگر  واحد شخص اس جہان سے چلا جائے تو لازماً تمام مخلوق کی بہتری بھی ختم ہو جائے گی۔ امام حق درخت کے میووں کی دلیل ہے کہ میوے اپنے درخت کی زینت بھی بن سکتے ہیں اور اس کی آئندہ  نوع کو بھی باتی و جاری رکھ سکتے ہیں۔ امام آل رسول ( یعنی علی ابن ابی طالب اور فاطمہ زہرا کی اولاد) سے ہونا چاہئے اور وہ امام دینی امور کے لئے زندہ اور حاضر ہونا چاہئے۔ اگر چہ ہر امام اپنے زمانے میں روئے زمین پر خدا کا خلیفہ ہے ۔جو شخص مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے تو وہ جاہلانہ موت  مرتا ہے اور ایسا شخص دوزخ میں جا گرتا ہے۔ پس جو شخص امام کو پہچانے تو اس پر امام کی اطاعت واجب ہوتی ہے۔ پس مومن پر فرض ہے کہ اپنے امام زمان کو پہچانے تا کہ امام کی اطاعت کرسکے۔ اے ایمان والو! خدا کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان فرمان کی اطاعت کرو جو خدا کی طرف سے تمہارے درمیان ہیں۔ "امرت لصلاح دنیا کم ونجاۃ آخر تکم" یعنی میں تمہاری دنیاوی بہتری اور اخروی نجات کے لئے مامور ہوا ہوں۔
 
== آغا خان اول تا چهارم ==
آغا خان  اسماعیلی فرقے کے امام کا اعزازی لقب ہے  جو سب سے پہلے آقائے حسن علی شاہ کو ملا۔ سلسلہ امامت میں اب تک چار آغا خان ہو چکے ہیں <ref>نعیم اختر سندھو، مسلم فرقوں کا انسا‏ئیکلوپیڈیا، موسی کاظم ریٹی گن روڈ لاہور، 2009ء</ref>۔


== آغا خان اول ==
== آغا خان اول ==
[[فائل:آقا خان اول.jpg|200px|تصغیر|بائیں|آغا خان اول]]
[[فائل:آقا خان اول.jpg|200px|تصغیر|بائیں|آغا خان اول]]
آغا خان اول : ۱۸۰۰ تا ۱۸۸، پورا نام حسن علی شاہ ہے فتح علی شاہ کا چار کے منظور نظر داماد تھے ان کے والد شاہ جلیل صوبہ کرمان کے گورنر تھے ان کی وفات کے بعد شہنشاہ ایران فتح علی شاہ نے آغا حسن علی شاہ کو کرمان کا گورنر مقرر کیا اور ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ۔ اس وقت سے دربار ایران میں ان کے خاندان کا نام آغا خان پڑ گیا جو آگے چل کر خاندانی لقب بن گیا آغا خان کا لقب نہ تو امام یا پیر کی مانند کوئی مذہبی لقب ہے اور نہ ہی اسم معرفہ بلکہ محض ایک عرف ہے جو ان کے خاندان کے لئے مخصوص ہوا ۱۸۳۸ء میں کرمان میں بغاوت ہوگئی اور آغا حسن علی شاہ سندھ چلے آئے۔ آغا خان دوم: آغا خان اول کے بعد اُن کے بیٹے آغا علی شاوان کے جانشین ہوئے وہ اپنی خُدا ترسی اور علمیت کی وجہ سے اپنے وقت کے ایک مشہور شخصیت تھے آغا علی شاہ ۱۸۸۵ء میں فوت ہوئے انہوں نے صرف چار برس اسماعیلی
آغا خان اول : 1800ء تا 1881ء پورا نام حسن علی شاہ ہے۔ فتح علی شاہ قا چار کے منظور نظر داماد تھ۔ے ان کے والد شاہ جلیل صوبہ کرمان کے گورنر تھ۔ے ان کی وفات کے بعد شہنشاہ ایران فتح علی شاہ نے آغا حسن علی شاہ کو کرمان کا گورنر مقرر کیا اور ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ۔ اس وقت سے دربار ایران میں ان کے خاندان کا نام آغا خان پڑ گیا جو آگے چل کر خاندانی لقب بن گیا۔ آغا خان کا لقب نہ تو امام یا پیر کی مانند کوئی مذہبی لقب ہے اور نہ ہی اسم معرفہ بلکہ محض ایک عرف ہے جو ان کے خاندان کے لئے مخصوص ہوا۔ ۱۸۳۸ء میں کرمان میں بغاوت ہوگئی اور آغا حسن علی شاہ سندھ چلے آئے۔
 
== آغا خان دوم ==
آغا خان اول کے بعد اُن کے بیٹے آغا علی شاہ ان کے جانشین ہوئے۔ وہ اپنی خُدا ترسی اور علمیت کی وجہ سے اپنے وقت کی ایک مشہور شخصیت تھے۔ آغا علی شاہ ۱۸۸۵ء میں فوت ہوئے۔ انہوں نے صرف چار برس اسماعیلی(آغا خانی) فرقے کی امامت کی۔
 
== آغا خان سوم ==
سلطان محمد شاہ ۲۰ نومبر ۱۸۷۷ء کو کراچی میں پیدا ہوئے جو تاریخ میں سر آغا خان کے لقب سے مشہور ہوئے۔ اسماعیلیہ فرقے کے اڑتالیسویں امام ہوئے۔ ۱۹۴۹ء میں حکومت ایران نے انہیں ایرانی قومیت عطا کی اور " والا حضرت ہمایوں“ کا اعزار بخشا۔۱۹۵۱ء میں حکومت شام نے انہیں " شان بنوامیہ " عطا کیا۔ ۱۹۵۳ء میں انڈو نیشیا نے" گل سرخ و گل سفید" سے نوازا۔ سر آغا خان فرقہ اسما عیلیہ کے پہلے امام تھے جو اپنے مریدوں میں ہیرے، جواہرات ، سونے، اور پلاٹینم میں تو لے گئے ۔ ۱۹۳۵ ء اور ۱۹۴۵ ء میں ان کی قیمت ایک کروڑ ۶۵ لاکھ روپے کے  قریب تھی ۔ پہلی شادی ۲۸ برس میں چچازاد بہن سے ہوئی۔ دوسری شادی تھرسیا میلیانو اور تیسری آندرے جوزفین لیونی کاغوں سے ہوئی۔ ان کا اسلامی نام ام حبیبہ تھا اور عام طور پر "ماتا سلامت" کے لقب سے مشہور تھیں۔ سر آغا خان 11 جولائی ۱۹۵۷ ، کو سوئٹزر لینڈ میں درسوا کے مقام پر فوت ہوئے۔ اسوان ( مصر ) میں دفن ہوئے۔ سلطان محمد شاہ اسما عیلیه آغا خانی فرقے کے ۴۸ ویں امام ہوئے ہیں۔


== آغا خانی فرقے کی امامت کی ==
== آغا خان چهارم ==
آغا خان سوم : سلطان محمد شاہ ۲۰ نومبر ۱۸۷۷ء کو کراچی میں پیدا ہوئے جو تاریخ میں سر آغا خان کے لقب سے مشہور ہوئے اسماعیلیہ فرقے کے اڑتالیسویں امام ہوئے ۱۹۴۹ء میں حکومت ایران نے انہیں ایرانی قومیت عطا کی اور " والا حضرت ہمایوں“ کا اعزار بخشا ۱۹۵۱ء میں حکومت شام نے انہیں " شان بنوامیہ " عطا کیا ۱۹۵۳ء میں انڈو نیشیا نے گل سرخ و گل سفید سے نواز ا سر آغا خان فرقہ اسما عیلیہ کے پہلے امام تھے جو اپنے مریدوں میں ہیرے، جواہرات ، سونے، اور پلاٹینم میں تو لے گئے ۔ ۱۹۳۵ ء اور ۱۹۴۵ ء میں ان کی قیمت ایک کروڑ ۶۵ لاکھ روپے کے  قریب تھی ۔ پہلی شادی ۲۸ برس میں چازاد بہن سے ہوئی دوسری شادی تھر یا میلیانو اور تیسری آندرے جوزفین لیونی کاغوں سے ہوئی۔ ان کا اسلامی نام ام حبیبہ تھا اور عام طور پر ما تا سلامت" کے لقب سے مشہور تھیں سر آغا خان ( جولائی ۱۹۵۷ ، کو سوئٹزر لینڈ میں درسوا کے مقام پر فوت ہوئے اسوان ( مصر ) میں دفن ہوئے سلطان محمد شاہ اسما عیلیه آغا خانی فرقے کے ۴۸ ویں امام ہوئے ہیں۔ آغا خان چهارم: شہزاده کریم آغا خان ۱۳ دسمبر ۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے ۱۳ جولائی ۱۹۵۷ء کو دنیا بھر کے اسماعیلی فرقے کے انچاسویں حاضر امام چنے گئے امامت پر فائز ہونے کی پہلی رسم ( ۱۳ جولائی ۱۹۵۷ء ) کو جینوا میں ادا ہوئی (۲۶ اکتوبر ) کو نیروبی میں ( ۲۳ جنوری ) کو کراچی میں (۲۱ مارچ ) کو بمبئی میں ان کی گدی نشینی کی رسوم ادا کی گئی۔
شہزاده کریم آغا خان ۱۳ دسمبر ۱۹۳۶ء کو پیدا ہوئے ۱۳ جولائی ۱۹۵۷ء کو دنیا بھر کے اسماعیلی فرقے کے انچاسویں حاضر امام چنے گئے امامت پر فائز ہونے کی پہلی رسم ( ۱۳ جولائی ۱۹۵۷ء ) کو جینوا میں ادا ہوئی (۲۶ اکتوبر ) کو نیروبی میں ( ۲۳ جنوری ) کو کراچی میں (۲۱ مارچ ) کو بمبئی میں ان کی گدی نشینی کی رسوم ادا کی گئی۔
نزاری خوجے اور شمسی ہندو ان کو اپنا معبود تصور کرتے ہیں اور مختلف ناموں حاضر امام، خداوند ، شاه پیر، گور پیر ) وغیرہ سے اپنی دُعاؤں میں مخاطب کرتے ہیں پرنس کریم آغا خان چہارم دنیا بھر کے اسماعیلی فرقے کے انچاسویں (۴۹) حاضر امام ہیں پرنس کریم آغا خان کے تین بچے ہیں شہزادہ رحیم، شہزادی ذہرہ اور شہزادہ حسن ہیں اب موجودہ آغا خان کے پیروکار امامی اسماعیلی اور عرف عام میں آغا خانی کہلاتے ہیں ہندو پاک میں دس لاکھ سے زیادہ ہیں ۔ گلگت چترال میں اسما عیلیہ فرقے کی کافی آبادی موجود ہے چوغان کے نواح میں اور افغانستان ، ترکستان کوہ پامیر کی وادیوں میں اب بھی موجود ہیں ۔ اسماعیلیہ بوہروں اور خوجوں سے زیادہ منظم اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں <ref>اسلامی انسائیکلو پیڈیا ص ۴۸</ref>۔
نزاری خوجے اور شمسی ہندو ان کو اپنا معبود تصور کرتے ہیں اور مختلف ناموں حاضر امام، خداوند ، شاه پیر، گور پیر ) وغیرہ سے اپنی دُعاؤں میں مخاطب کرتے ہیں پرنس کریم آغا خان چہارم دنیا بھر کے اسماعیلی فرقے کے انچاسویں (۴۹) حاضر امام ہیں پرنس کریم آغا خان کے تین بچے ہیں شہزادہ رحیم، شہزادی ذہرہ اور شہزادہ حسن ہیں اب موجودہ آغا خان کے پیروکار امامی اسماعیلی اور عرف عام میں آغا خانی کہلاتے ہیں ہندو پاک میں دس لاکھ سے زیادہ ہیں ۔ گلگت چترال میں اسما عیلیہ فرقے کی کافی آبادی موجود ہے چوغان کے نواح میں اور افغانستان ، ترکستان کوہ پامیر کی وادیوں میں اب بھی موجود ہیں ۔ اسماعیلیہ بوہروں اور خوجوں سے زیادہ منظم اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں <ref>اسلامی انسائیکلو پیڈیا ص ۴۸</ref>۔
(1) پہلے فرقے نے امام موسی کاظم کو امام مانا جو امام جعفر کے بیٹے تھے۔  
(1) پہلے فرقے نے امام موسی کاظم کو امام مانا جو امام جعفر کے بیٹے تھے۔  
confirmed
821

ترامیم