"اسماعیلیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

سطر 138: سطر 138:


=== بہشت ===
=== بہشت ===
بہشت حقیقت میں عقل کل ہی ہے یا عقل کل ہی در حقیقت بہشت ہے ۔اور بہشت کا دروازہ اپنے زمانے میں رسول  ہیں اور ان کے وصی اپنے مرتبے میں اسی حیثیت سے ہیں اور امام زمان اپنے عصر میں یہی درجہ رکھتے ہیں ۔اور بہشت کے دروازہ کے کلید کمہ لا الہ الا الله حمد رسول اللہ ہے ۔ پس جو شخص شہادت اخلاص ( بے رہائی ) سے کہتا ہے تو گویا اسے بہشت کا درواز و یعنی رسول مل چکا ہے پس رسول بہشت کے دروازو کی حیثیت سے ہیں اور بہشت کا دروازہ کھولنے والا ان کے دیسی علی علیہ اسلام) ہیں ۔ نیز ہر زمانے میں ) سارے مومنوں کے لئے ( دروازہ جنت کھولنے والا ) امام زمان ہیں۔
بہشت حقیقت میں عقل کل ہی ہے یا عقل کل ہی در حقیقت بہشت ہے ۔اور بہشت کا دروازہ اپنے زمانے میں رسول  ہیں اور ان کے وصی اپنے مرتبے میں اسی حیثیت سے ہیں اور امام زمان اپنے عصر میں یہی درجہ رکھتے ہیں ۔اور بہشت کے دروازہ کی کلید کلمہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے ۔ پس جو شخص شہادت اخلاص ( بے ریائی ) سے کہتا ہے تو گویا اسے بہشت کا درواز یعنی رسول مل چکا ہے۔ پس رسول بہشت کے دروازو کی حیثیت رکھتے ہیں اور بہشت کا دروازہ کھولنے والے ان کے دصی( علی علیہ اسلام) ہیں ۔ نیز ہر زمانے میں سارے مومنوں کے لئے دروازہ جنت کھولنے والا امام زمان ہیں۔
حکیم سید ناصر خسرو کہتے ہیں حق تعالی نے انسان کو خوف اور امید کے لئے پیدا کیا ہے چنانچہ خُدا نے اس کو بہشت کے ذریعہ اُمید دلائی اور دوزخ کے ذریعہ ڈرایا ہے انسان کے نفس میں جو خوف پایا جاتا ہے وہ دوزخ کا نشان ہے اور انسان میں جو امید پائی جاتی ہے وہ بہشت کا اثر ہے یہ دونوں چیزیں ( یعنی جزوی خوف اور جزوی اُمید ) جو انسانی فطرت میں پوشیدہ ہیں وہ دوزخ اور بہشت ہیں۔ وجہ دین میں لکھا ہے کہ ہمیشہ دنیا سے آخرت اور آخرت سے دنیا پیدا ہوتی رہتی ہے اور دین کے نظریات کا مدار و محمود یہی ہے۔
 
حکیم سید ناصر خسرو کہتے ہیں حق تعالی نے انسان کو خوف اور امید کے لئے پیدا کیا ہے۔ چنانچہ خدا نے اس کو بہشت کے ذریعہ اُمید دلائی اور دوزخ کے ذریعہ ڈرایا ہے۔ انسان کے نفس میں جو خوف پایا جاتا ہے وہ دوزخ کا نشان ہے اور انسان میں جو امید پائی جاتی ہے وہ بہشت کا اثر ہے۔ یہ دونوں چیزیں ( یعنی جزوی خوف اور جزوی اُمید ) جو انسانی فطرت میں پوشیدہ ہیں وہ دوزخ اور بہشت ہیں۔ "وجہ دین" میں لکھا ہے کہ ہمیشہ دنیا سے آخرت اور آخرت سے دنیا پیدا ہوتی رہتی ہے اور دین کے نظریات کا مدار و محور یہی ہے۔
== امام مہدی ==
== امام مہدی ==
امام مہدی: اسماعیلیوں کے ہاں حضرت علی کی نسل سے قیامت تک آئمہ قائم ہوں گے آخری امام قائمہ القیامہ ہوگا جو دور کشف کا پہلا امام ہوگا۔ اسماعیلیوں کے ہاں ” مہدی“ کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور ان کی نسل سے قیامت کے روز جو امام ظاہر ہونگے وہ قائم القیامتہ ہوں گے۔ اسماعیلیوں کے لحاظ سے مہدی کی ولادت ۲۶۰ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی پھر اس کا باپ اسے سلمیہ لے گیا جو ائمہ مستور ین کا مستقر تھا ( استنار الامام ص ۵۹) امام عبدالله بن الحسین المستورہی ” مہدی“ ہیں۔ جو گیارہویں امام اور فاطمین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں اسماعیلیوں کے مطابق ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ورنہ وہ منزل ہو جائے ۔  
اسماعیلیوں کے ہاں حضرت علی کی نسل سے قیامت تک آئمہ قائم ہوں گے آخری امام قائم القیامہ ہوگا جو دور کشف کا پہلا امام ہوگا۔ اسماعیلیوں کے ہاں ” مہدی“ کا ظہور ہو چکا ہے۔ اور ان کی نسل سے قیامت کے روز جو امام ظاہر ہوں گے وہ قائم القیامۃ ہوں گے۔ اسماعیلیوں کے لحاظ سے مہدی کی ولادت ۲۶۰ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی۔ پھر اس کا باپ اسے سلمیہ لے گیا جو ائمہ مستور ین کا مستقر تھا ( استنار الامام ص ۵۹) امام عبدالله بن الحسین المستورہی ” مہدی“ ہیں۔ جو گیارہویں امام اور فاطمین کے ظہور کے پہلے خلیفہ ہیں اسماعیلیوں کے مطابق ہر زمانے میں ایک امام کا وجود ضروری ہے زمین کبھی امام سے خالی نہیں رہ سکتی ورنہ وہ منزل ہو جائے ۔  
اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہ ہی کی نسل میں جاری رہے گا باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر مں بڑا ہو یا چھوٹا بالغ ہو یا نا بالغ امام ہوتا رہے گا۔ سنی عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص قریش یا بنی فاطمہ میں سے ہوگا جس کا نام محمد جس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اور جو قیامت سے قبل نمودار ہوگا ۔ قرامطہ محمد بن اسماعیل کو زندہ خیال کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہی امام مہدی کی حیثیت میں دوبارہ نمودار ہونگے کیسانیہ حضرت محمد ابن حنفیہ کے متعلق اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے۔ امامیہ اثنا عشری کے مطابق امام حسن عسکری کے فرزند (امام محمد مہدی ) جو وفات سے قبل دشمنوں کے خوف سے مستور ہو گئے تھے امام مہدی ہیں۔
اماموں کا سلسلہ روز قیامت تک حضرت فاطمہ ہی کی نسل میں جاری رہے گا باپ کے بعد بیٹا خواہ وہ عمر مں بڑا ہو یا چھوٹا بالغ ہو یا نا بالغ امام ہوتا رہے گا۔ سنی عقیدہ یہ ہے کہ ایک شخص قریش یا بنی فاطمہ میں سے ہوگا جس کا نام محمد جس کے والد کا نام عبداللہ ہوگا اور جو قیامت سے قبل نمودار ہوگا ۔ قرامطہ محمد بن اسماعیل کو زندہ خیال کرتے تھے اور یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہی امام مہدی کی حیثیت میں دوبارہ نمودار ہونگے کیسانیہ حضرت محمد ابن حنفیہ کے متعلق اس قسم کا اعتقاد رکھتے تھے۔ امامیہ اثنا عشری کے مطابق امام حسن عسکری کے فرزند (امام محمد مہدی ) جو وفات سے قبل دشمنوں کے خوف سے مستور ہو گئے تھے امام مہدی ہیں۔
دولت فاطمیہ کا پہلا امام مہدی محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہے اسما عیلیہ عبداللہ کو مہدی جانتے ہیں ۔ مہدی کا نسب نامہ چونکہ عبداللہ امام مہدی کا مسئلہ اسما عیلیہ عقیدہ کی اصل بنیاد سے تعلق رکھتا ہے ان کے خاندان میں ایک شخص عبداللہ نامی تھے جن کو اسماعیلی محمد بن اسماعیل اور ان کے مخالفین میمون قداح کا فرزند بتاتے ہیں اسماعیلی اعتقاد کے لحاظ سے امام عبداللہ بن حسین المستور ہی مہدی ہیں جو دور ظہور کے پہلے امام ہیں ۔ مہدی کی ولادت ۲۶۰ ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی ( نوٹ : عسکر مکرم جگہ کا نام ہے ) عبداللہ المہدی حضرت محمد بن اسماعیل کے ایک بیٹے عبداللہ جو اسماعیلی روایت کے مطابق اپنے والد کے جانشین ہوئے ان کے بیٹے احمد بن عبد اللہ اسماعیلی جماعت کے پیشوا ہوئے پھر حسین ابن احمد کے انتقال کے بعد ان کے فرزند عبد اللہ جو بعد میں مہدی کے لقب سے ملقب ہوئے اس وقت بالغ نہ تھے ان کی پروش کی سیادت حضرت حسین کے بھائی محمد الحبیب کے حصہ میں آئی جب  عبد اللہ بالغ ہو گئے تو باپ کی وصیت کے مطابق امامت ان کو منتقل ہوگئی <ref>شیخ محمد اکرام ، آب کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ۲۔ کلب روڈ لاہور</ref>۔  
دولت فاطمیہ کا پہلا امام مہدی محمد بن اسماعیل کی نسل سے ہے اسما عیلیہ عبداللہ کو مہدی جانتے ہیں ۔ مہدی کا نسب نامہ چونکہ عبداللہ امام مہدی کا مسئلہ اسما عیلیہ عقیدہ کی اصل بنیاد سے تعلق رکھتا ہے ان کے خاندان میں ایک شخص عبداللہ نامی تھے جن کو اسماعیلی محمد بن اسماعیل اور ان کے مخالفین میمون قداح کا فرزند بتاتے ہیں اسماعیلی اعتقاد کے لحاظ سے امام عبداللہ بن حسین المستور ہی مہدی ہیں جو دور ظہور کے پہلے امام ہیں ۔ مہدی کی ولادت ۲۶۰ ھ میں عسکر مکرم میں ہوئی ( نوٹ : عسکر مکرم جگہ کا نام ہے ) عبداللہ المہدی حضرت محمد بن اسماعیل کے ایک بیٹے عبداللہ جو اسماعیلی روایت کے مطابق اپنے والد کے جانشین ہوئے ان کے بیٹے احمد بن عبد اللہ اسماعیلی جماعت کے پیشوا ہوئے پھر حسین ابن احمد کے انتقال کے بعد ان کے فرزند عبد اللہ جو بعد میں مہدی کے لقب سے ملقب ہوئے اس وقت بالغ نہ تھے ان کی پروش کی سیادت حضرت حسین کے بھائی محمد الحبیب کے حصہ میں آئی جب  عبد اللہ بالغ ہو گئے تو باپ کی وصیت کے مطابق امامت ان کو منتقل ہوگئی <ref>شیخ محمد اکرام ، آب کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ۲۔ کلب روڈ لاہور</ref>۔  
confirmed
821

ترامیم