"اسلام" کے نسخوں کے درمیان فرق

1,284 بائٹ کا اضافہ ،  31 جولائی 2022ء
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 21: سطر 21:
ہم نے کہا کہ '''اسلام''' کے لغوی معنی تسلیم اور تسلیم کے ہیں۔ قرآن پاک میں اس لفظ کا ایک ہی مفہوم مختلف آیات میں ہے جن میں البقرہ، 112 اور 131۔ آل عمران، 20 اور 83؛ نمل، 44 استعمال ہوا ہے: قرآن کریم نے لفظ '''اسلام''' کو آٹھ صورتوں میں ایک ہی لافانی شکل میں استعمال کیا ہے۔ (آل عمران 19 اور 85)؛ سورہ مائدہ، 3۔ سورہ انعام 125۔ سورہ توبہ 74۔ سورہ زمر، 22; سورہ حجرات، 17; سورہ صف، 7)۔<br>
ہم نے کہا کہ '''اسلام''' کے لغوی معنی تسلیم اور تسلیم کے ہیں۔ قرآن پاک میں اس لفظ کا ایک ہی مفہوم مختلف آیات میں ہے جن میں البقرہ، 112 اور 131۔ آل عمران، 20 اور 83؛ نمل، 44 استعمال ہوا ہے: قرآن کریم نے لفظ '''اسلام''' کو آٹھ صورتوں میں ایک ہی لافانی شکل میں استعمال کیا ہے۔ (آل عمران 19 اور 85)؛ سورہ مائدہ، 3۔ سورہ انعام 125۔ سورہ توبہ 74۔ سورہ زمر، 22; سورہ حجرات، 17; سورہ صف، 7)۔<br>
[[قرآن کریم]] کے نقطہ نظر سے ایک سے زیادہ کوئی الہامی مذہب نہیں ہے اور تمام پیغمبر اسی دین کی تبلیغ اور ترویج کے لیے آئے تھے (شوری/13)۔ اس وژن میں ہم "مذہب" کے بارے میں نہیں بلکہ "ایک مذہب" کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور انبیاء کی تعلیمات میں کوئی وقفہ، جدائی یا عدم مطابقت نہیں ہے (بقرہ/136)۔ (بقرہ/285)؛ لہٰذا جو دین انبیاء کے ذریعے سے '''حضرت آدم علیہ السلام''' سے خاتم علیہ السلام تک پہنچا، وہ ایک ہے اور اس کا جوہر خدائے تعالیٰ اور اس کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
[[قرآن کریم]] کے نقطہ نظر سے ایک سے زیادہ کوئی الہامی مذہب نہیں ہے اور تمام پیغمبر اسی دین کی تبلیغ اور ترویج کے لیے آئے تھے (شوری/13)۔ اس وژن میں ہم "مذہب" کے بارے میں نہیں بلکہ "ایک مذہب" کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور انبیاء کی تعلیمات میں کوئی وقفہ، جدائی یا عدم مطابقت نہیں ہے (بقرہ/136)۔ (بقرہ/285)؛ لہٰذا جو دین انبیاء کے ذریعے سے '''حضرت آدم علیہ السلام''' سے خاتم علیہ السلام تک پہنچا، وہ ایک ہے اور اس کا جوہر خدائے تعالیٰ اور اس کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔
= اسلام کے اصطلاحی معنی =
اصطلاح میں، اسلام آسمانی اور آسمانی مذاہب میں سے ایک ہے، اور اس سے مراد آخری نبی محمد بن عبداللہ (ص) کا مذہب ہے۔ شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کے لغوی معنی اور لغوی معنی کے درمیان مطابقت یہ ہے کہ دین اسلام ہمہ گیر ہے۔ خدا کی اطاعت و فرمانبرداری اور حکم کو ماننا اور اس پر عمل کرنا کسی قسم کے اعتراض کے بغیر ہے <ref>مبادی الاسلام، ص 7</ref>۔  اسلام کو شریعت خاتم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس دین میں بندہ خداتعالیٰ کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے <ref>طباطبائی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، اسلامی پبلیکیشنز آفس آف سیمینری ٹیچرز سوسائٹی، 1417، جلد 16، صفحہ 193</ref>۔  دین اسلام کامل ترین مذاہب میں سے آخری ہے اور چونکہ پیغمبر اسلام آخری انبیاء ہیں <ref>سورہ احزاب آیت 40</ref> یہ دنیا کے آخر تک باقی ہے۔


= حوالہ جات =
= حوالہ جات =