اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے بنیادی اداروں میں سے ایک ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ ہے۔ یہ کونسل 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔ کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس ہیں، جنہیں ویٹو کا حق حاصل ہے۔ غیر مستقل ارکان کا انتخاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دو سال کی مدت کے لیے کرتی ہے۔ سلامتی کونسل کی صدارت انگریزی حروف تہجی کے اعتبار سے رکن ممالک کو باری باری ایک ایک ماہ کے لیے سونپی جاتی ہے۔ یہ کونسل مسلسل سرگرم رہتی ہے اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ضرورت کے مطابق اجلاس منعقد کر سکتی ہے۔
تاریخچہ
سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس 17 جنوری 1946ء کو لندن میں منعقد ہوا۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ کونسل مسلسل کام کر رہی ہے اور مختلف ادوار میں اس کے اجلاس پیرس اور ادیس ابابا جیسے شہروں میں بھی منعقد ہوئے ہیں۔ کونسل کے ابتدائی اجلاس نیویارک کے علاقے لیک سکسس (Lake Success) میں منعقد ہوئے، جس کے بعد اس کا مرکزی دفتر نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔
سلامتی کونسل کے قیام کے بعد سے اس کے ارکان کی تعداد اور نمائندگی کی ساخت میں مختلف تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ 1965ء میں اقوام متحدہ کے منشور کی دفعات 23 اور 27 میں ترمیم کے ذریعے کونسل کے غیر مستقل ارکان کی تعداد چھ سے بڑھا کر دس کر دی گئی، جس کے نتیجے میں کونسل کے مجموعی ارکان کی تعداد 11 سے بڑھ کر 15 ہو گئی۔
1971ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے چین کی نمائندگی جمہوریہ چین، جو تائیوان میں قائم تھی، سے لے کر عوامی جمہوریہ چین کو دے دی۔ 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد روسی وفاق نے سلامتی کونسل میں سوویت یونین کی نشست سنبھال لی اور کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
سلامتی کونسل کے ارکان
سلامتی کونسل 15 رکن ممالک پر مشتمل ہے، جن میں پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔
مستقل ارکان
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان درج ذیل ہیں:
- ریاستہائے متحدہ امریکہ
- برطانیہ
- چین
- روس
- فرانس
ان ممالک کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کونسل کے کسی اہم یا بنیادی نوعیت کے معاملے میں مستقل ارکان میں سے کسی ایک کا منفی ووٹ بھی کسی مجوزہ قرارداد کی منظوری کو روک سکتا ہے۔ البتہ طریقۂ کار سے متعلق معاملات میں ویٹو کا حق لاگو نہیں ہوتا۔