کروشیا
کروشیا، یورپ کے جنوب اور جزیرہ نما بلقان میں واقع ایک ملک ہے۔ اس کا سرکاری نام جمہوریہ کروشیا ہے۔ کروشیائی زبان میں اسے Hrvatska اور انگریزی میں Croatia کہا جاتا ہے۔ اس ملک کی سرحدیں شمال میں سلووینیا اور ہنگری، مشرق میں سربیا اور بوسنیا و ہرزیگووینا، جبکہ جنوب میں مونٹی نیگرو سے ملتی ہیں۔ مغرب اور جنوب مغرب میں اسے بحیرہ ایڈریاٹک تک رسائی حاصل ہے۔ زاگرب کروشیا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ ۲۰۲۱ء کی مردم شماری کے مطابق اس ملک کی آبادی ۳۸۷۱۸۳۳ افراد پر مشتمل تھی۔ تقریباً ۹۱٫۶ فیصد آبادی نے اپنی قومی شناخت کروشیائی بتائی، جبکہ سرب تقریباً ۳٫۲ فیصد آبادی کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت ہیں۔ کروشیائی ملک کی سرکاری زبان اور یورو اس کی سرکاری کرنسی ہے۔ کروشیا ۲۰۱۳ء سے یورپی یونین کا رکن ہے اور ۲۰۲۳ء سے یورو زون میں بھی شامل ہے۔
ترقیاتی اشاریے
انسانی ترقی کی رپورٹ کے مطابق کروشیا ان ممالک میں شامل ہے جہاں انسانی ترقی کی سطح بہت بلند ہے۔ اس کی معیشت سیاحت، خدمات، صنعت اور بیرونی تجارت سمیت مختلف شعبوں پر انحصار کرتی ہے۔
بحیرہ ایڈریاٹک تک وسیع رسائی، تاریخی شہروں اور قدیم عمارتوں کی موجودگی کے باعث سیاحت اس ملک کی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔ کروشیا میں پارلیمانی جمہوری نظام رائج ہے اور یہ ۲۰۱۳ء سے یورپی یونین کا رکن چلا آ رہا ہے۔ یہ ملک ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بھی رہا۔
نام کی وجہ تسمیہ
یورپی زبانوں میں کروشیا کا نام لاطینی شکل Croatia سے ماخوذ ہے، جبکہ کروشیائی زبان میں اس ملک کو Hrvatska کہا جاتا ہے۔ لفظ کروات کی تاریخی اصل کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض نظریات کے مطابق اس نام کا تعلق قرون وسطیٰ کے تاریخی مآخذ میں مذکور کروات قوم کے نام سے ہے۔
تاریخ
کروشیا کا علاقہ تاریخ کے مختلف ادوار میں متعدد اقوام کی رہائش گاہ اور مختلف ریاستوں اور سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ مختلف زمانوں میں موجودہ کروشیا کے بعض علاقے رومی سلطنت، مقامی سلاوی ریاستوں، مملکت ہنگری، سلطنت ہیبسبرگ اور بعد ازاں آسٹریا ہنگری سلطنت کے زیر اقتدار رہے۔
پہلی جنگ عظیم کے اختتام اور آسٹریا ہنگری سلطنت کے خاتمے کے بعد کروشیا ۱۹۱۸ء میں مملکت سرب، کروات اور سلووین میں شامل ہو گیا، جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے مملکت یوگوسلاویہ رکھ دیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کروشیا، وفاقی عوامی جمہوریہ یوگوسلاویہ کی تشکیل کرنے والی جمہوریاؤں میں سے ایک بن گیا، جسے بعد میں وفاقی سوشلسٹ جمہوریہ یوگوسلاویہ کہا جانے لگا۔
۲۵ جون ۱۹۹۱ء کو کروشیا کی پارلیمان نے ملک کی خودمختاری اور آزادی کا فیصلہ کیا۔ اسی سال ۸ اکتوبر کو یوگوسلاویہ کے ساتھ اس کے قانونی اور سیاسی تعلقات ختم ہو گئے۔ اس عمل کے دوران کروشیا جنگ آزادی میں داخل ہو گیا، جو ۱۹۹۱ء سے ۱۹۹۵ء تک جاری رہی۔ ۱۵ جنوری ۱۹۹۲ء کو یورپی برادری کے رکن ممالک نے کروشیا کی آزادی کو تسلیم کر لیا۔
جنگ کے آخری دور کے اہم واقعات میں اگست ۱۹۹۵ء میں شروع ہونے والا آپریشن طوفان شامل ہے۔ اس کارروائی کے دوران کروشیائی افواج نے کروشیا کی سرب افواج کے زیر کنٹرول علاقوں کے ایک بڑے حصے پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس دوران سرب نسل سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں شہری متاثرہ علاقوں سے نکل گئے یا بے گھر ہو گئے۔
سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں آنتے گوتووینا اور ملادن مارکاچ کو ۲۰۱۱ء میں آپریشن طوفان سے متعلق جرائم کے الزام میں سزا سنائی گئی۔ تاہم، ۱۶ نومبر ۲۰۱۲ء کو ٹریبونل کے اپیلیٹ چیمبر نے اکثریتی فیصلے کے ذریعے ان کی سزائیں منسوخ کر دیں اور دونوں کو بری کر دیا۔