مندرجات کا رخ کریں

بینک عالمی

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 16:50، 20 ستمبر 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''بینک عالمی'''، جسے انگریزی میں(World Bank) ورلڈ بینک کہا جاتا ہے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا مشاورت پیش کرنا اور تحقیق انجام دینا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی حمایت اور غربت میں کمی لائ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

بینک عالمی، جسے انگریزی میں(World Bank) ورلڈ بینک کہا جاتا ہے ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے جس کا بنیادی کام ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا مشاورت پیش کرنا اور تحقیق انجام دینا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کی حمایت اور غربت میں کمی لائی جا سکے۔

بینک عالمی دنیا کے ایک سو تیس سے زائد ممالک میں موجود ہے اور اس کا مرکزی دفتر واشنگٹن ڈی سی میں واقع ہے بینک عالمی کی اصطلاح بنیادی طور پر بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی اور بین الاقوامی ترقیاتی ادارے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو گروپ بینک عالمی کے پانچ اداروں میں سے دو ادارے ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بینک عالمی کی قرضہ دینے کی حکمت عملی ماحولیاتی اور سماجی ملاحظات سے متاثر رہی ہے اور غیر سرکاری تنظیموں اور ماحولیاتی گروہوں کے ساتھ تعاون بھی اس کے پروگراموں میں بڑھا ہے۔

تاریخچہ

بینک عالمی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جولائی انیس سو چوالیس میں برٹن وڈز کانفرنس کے دوران وجود میں آئے اس کانفرنس میں چوالیس ممالک کے نمائندے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر کے علاقے برٹن وڈز میں جمع ہوئے تاکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقتصادی تعاون اور بین الاقوامی معیشت کی تعمیر نو کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔

اس کانفرنس کے اہم فکری رہنماؤں میں برطانیہ کے خزانے کے مشیر جان مینارڈ کینز اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے محکمہ خزانہ کے معاون وزیر ہری ڈیکسٹر وائٹ شامل تھے۔

برٹن وڈز کانفرنس کے نتیجے میں دو بڑے ادارے وجود میں آئے جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور بین الاقوامی بینک برائے تعمیر نو و ترقی شامل ہیں۔

بینک عالمی کے ابتدائی مقاصد میں جنگ سے متاثرہ ممالک کی معیشتوں کی تعمیر نو اور ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کی حمایت شامل تھی۔

نومبر انیس سو سینتالیس میں اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد بینک عالمی کا قیام باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا اور یہ ادارہ اقوام متحدہ سے متعلق خصوصی اداروں میں شامل ہو گیا۔

بینک عالمی کی ابتدائی سرگرمیاں

بینک عالمی نے اپنا پہلا قرض فرانس کو دیا اور اس کے بعد دیگر یورپی ممالک کو بھی مالی امداد فراہم کی گئی۔ انیس سو سینتالیس میں مارشل پلان کے آغاز کے بعد بینک عالمی نے دنیا کے مختلف علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی مالی معاونت پر زیادہ توجہ مرکوز کی ان منصوبوں میں توانائی آبپاشی اور نقل و حمل جیسے شعبے شامل تھے۔

انیس سو اڑتالیس میں کسی غیر یورپی ملک کو دیا جانے والا بینک عالمی کا پہلا قرض چلی کو دیا گیا جس کی مالیت تیرہ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر تھی اور یہ رقم آبی بجلی کی پیداوار کے لیے مختص کی گئی تھی۔

بینک عالمی نے اپنی فنی معاونت کے پروگرام کو بھی وسعت دی اور انیس سو پچپن میں اقتصادی ترقی کا ادارہ قائم کیا تاکہ رکن ممالک کے حکام کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

چھبیس جنوری انیس سو ساٹھ کو بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ بینک عالمی سے وابستہ اداروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا گیا تاکہ آسان شرائط پر قرض اور مالی سہولیات فراہم کرکے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد دی جا سکے۔

بین الاقوامی تنازعات میں بینک عالمی کا کردار

بینک عالمی نے بعض ایسے بین الاقوامی تنازعات میں بھی ثالث یا سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جن کے اقتصادی پہلو موجود تھے۔

استعمال کیے گئے ماخذ میں تین معاملات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں ایران کی تیل کی صنعت کو قومیانے کا مسئلہ دریائے سندھ کے آبی نظام کی ترقی اور دریائے نیل پر بلند اسوان ڈیم کی مالی معاونت شامل ہیں۔

بینک عالمی کے مقاصد

بینک عالمی کا بنیادی مقصد رکن اور ترقی پذیر ممالک کے ترقیاتی اور پیداواری منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔

یہ قرضے اور مالی سہولیات پینے کے صاف پانی کی فراہمی تعلیم ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ اور صنعتی اشیا کی درآمد جیسے منصوبوں کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔

بینک عالمی نے شدید غربت کے خاتمے اور قابل رہائش سیارے پر مشترکہ خوشحالی کے فروغ کو اپنے بنیادی مقاصد میں شامل کیا ہے۔

یہ ادارہ ایسی پائیدار اور مؤثر ترقی پر بھی زور دیتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی حیاتیاتی تنوع میں کمی اور وباؤں جیسے بحرانوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہو۔

بینک عالمی کی جانب سے اعلان کردہ اہم ترجیحات درج ذیل ہیں

  • عالمی صحت کی بہتری جامع تعلیم اور سماجی تحفظ کی حمایت
  • ایسے منصوبوں پالیسیوں حکمرانی اور نظاموں میں سرمایہ کاری جو مواقع اور خوشحالی پیدا کریں
  • پائیدار غذائی آبی اور اقتصادی نظام کا قیام
  • محفوظ اور پائیدار توانائی نقل و حمل اور شہری آمد و رفت کی ترقی
  • اقتصادی مواقع پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل رسائی کو وسعت دینا