مندرجات کا رخ کریں

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 17:31، 15 ستمبر 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم'''، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم، جسے انگریزی میں Asia Pacific Economic Cooperation اور مختصرا APEC کہا جاتا ہے ایک علاقائی اقتصادی تعاون کا فورم ہے جس میں مشرقی ایشیا، اوقیانوسیہ اور بحرالکاہل کے دونوں جانب واقع ممالک اور خطے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔ آج اس تنظیم کے 21 ارکان ہیں اور اسے ایشیا پیسیفک خطے میں اقتصادی تعاون کے اہم ترین فریم ورک میں شمار کیا جاتا ہے۔

پیدائش اور تشکیل

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے قیام کی ابتدائی بنیاد نومبر 1989 میں کینبرا میں ہونے والے مذاکرات سے پڑی۔ یہ مذاکرات مشاورتی نوعیت کے تھے اور 12 ممالک پر مشتمل ایک غیر رسمی گروپ کی جانب سے منعقد کیے گئے تھے۔

ان میں سے چھ ممالک اس وقت جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے رکن تھے جبکہ دیگر چھ ممالک بحرالکاہل کے ساحلی ممالک میں شامل تھے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کثیر الجہتی تعاون کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کرنا تھا۔

اس عمل کے نتیجے میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم وجود میں آئی اور اس کے ابتدائی 18 ارکان میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، چلی، چین، ہانگ کانگ، انڈونیشیا، جاپان، جنوبی کوریا، ملائیشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، پاپوا نیو گنی، فلپائن، سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ اور امریکہ شامل تھے۔

اس کے بعد اپیک خطے کے اہم ترین اقتصادی اداروں میں شامل ہوگئی اور اس کا جغرافیائی دائرہ شمالی و جنوبی امریکہ، مشرقی ایشیا اور اوقیانوسیہ تک پھیل گیا۔

اپیک کے ارکان دنیا کی آبادی، پیداوار اور تجارت کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہیں۔ تنظیم کا صدر دفتر سنگاپور میں واقع ہے اور اس کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اقتصادی رہنماؤں کا اجلاس، وزارتی اجلاس، سیکریٹریٹ، کمیٹیاں، ورکنگ گروپس اور مشاورتی کونسل شامل ہیں۔

اہداف

قیام کے ابتدائی مرحلے میں اپیک کا بنیادی مقصد یوروگوئے راؤنڈ کے مذاکرات کی کامیابی میں مدد کرنا تھا۔ تاہم بعد میں مالی استحکام اور علاقائی اقتصادی تعاون کی ترقی بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل ہوگئی۔

تنظیم کے اہم مقاصد درج ذیل ہیں۔

  • خطے میں علاقائی ترقی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا
  • عالمی معیشت میں زیادہ سے زیادہ شرکت اور ارکان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تبادلات میں اضافہ کرنا
  • خطے کے ممالک کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کی ترقی میں مدد کرنا
  • اشیا اور خدمات کی تجارت میں محصولات اور غیر محصولاتی رکاوٹوں کو کم کرنا
  • اشیا، خدمات اور پیداواری عوامل کی نقل و حرکت کے لیے ایک محفوظ اور مؤثر ماحول پیدا کرنا
  • تکنیکی علم اور سرمائے کے تبادلے کو فروغ دینا
  • تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا
  • اپیک کا طویل مدتی مقصد ایشیا پیسیفک خطے میں ایک مشترکہ منڈی کا قیام اور خطے میں اشیا، خدمات اور سرمایہ کاری کی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بتدریج ختم کرنا قرار دیا گیا ہے۔

ارکان

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے 21 ارکان ہیں۔ ان کے نام درج ذیل ہیں۔

  • آسٹریلیا
  • برونائی
  • کینیڈا
  • چلی
  • چین
  • ہانگ کانگ
  • انڈونیشیا
  • جاپان
  • جنوبی کوریا
  • ملائیشیا
  • میکسیکو
  • نیوزی لینڈ
  • پاپوا نیو گنی
  • فلپائن
  • سنگاپور
  • تائیوان
  • تھائی لینڈ
  • امریکہ
  • روس
  • پیرو
  • ویتنام

ماخذ کے متن کے مطابق اپیک کے ارکان دنیا کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 فیصد اور عالمی تجارت کے حجم کا تقریباً 47 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ دنیا کی اقتصادی ترقی کا ایک نمایاں حصہ بھی اسی خطے میں واقع ہوتا ہے۔