مندرجات کا رخ کریں

معاویہ

ویکی‌وحدت سے

معاویہ بن ابی سفیان پہلے اموی خلیفہ تھے، جنہوں نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے بعد سے سنہ 60 ہجری تک تقریباً بیس سال دمشق میں خلافت کی۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور طلقاء میں شمار ہوئے۔ وہ ابوبکر کے زمانہ خلافت میں شام کی فتح میں شریک ہوئے اور عمر بن خطاب کے دور میں پہلے اردن کے گورنر اور پھر پورے شام کے گورنر مقرر ہوئے۔ عثمان بن عفان کے خلاف بغاوت کے دوران حضرت عثمان کی طرف سے مدد طلب کیے جانے کے باوجود معاویہ ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچے۔ علی علیہ السلام کے زمانہ خلافت میں انہوں نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر جنگ صفین برپا کی۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے معاہدے کے ذریعے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی اور دمشق کو اپنی حکومت کا دارالحکومت بنایا۔ ان کے دور میں فتوحات زیادہ تر مغربی اور شمالی افریقہ کے علاقوں میں ہوئیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں پہلے سے حاصل شدہ فتوحات کو مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی۔ معاویہ نے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت لینے کی بھرپور کوشش کی۔ ملک کے انتظام کے لیے انہوں نے نئے دیوان قائم کیے۔ انہیں خوارج اور شیعوں کی بغاوتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا اور انہوں نے ان تحریکوں کو دبایا۔

زندگی معاویہ

ابوعبد الرحمان معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی قرشی اموی سنہ پانچ قبل بعثت میں پیدا ہوئے۔ بعض تاریخی منابع میں ان کی پیدائش بعثت سے سات یا تیرہ سال پہلے بیان ہوئی ہے [1]۔

ان کی والدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کے جسد مبارک کو مثلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر اپنے دانتوں سے چبایا، جس کی وجہ سے وہ ہند جگر خوار یعنی آکلۃ الاکباد کے نام سے مشہور ہوئیں [2]۔

تاریخی منابع کے مطابق معاویہ اپنے والد، والدہ اور بھائی کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور طلقاء میں شمار ہوئے۔ انہیں مؤلفۃ القلوب میں بھی شمار کیا گیا ہے [3]۔

بعض منابع میں معاویہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن اپنے اسلام کو اپنے والدین سے چھپاتے تھے۔ بعض منابع میں معاویہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبوں [4] میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر منابع میں انہیں قرآن کریم کے کاتبوں میں قرار دیا گیا ہے [5]۔

ان کے فضائل اور تکریم پر مشتمل بہت سی روایات کو جعلی قرار دیا گیا ہے [6]۔ معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ ام حبیبہ کے بھائی تھے۔ تاہم ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں میں صرف انہیں خال المؤمنین کہا گیا ہے [7]۔

انہوں نے ابوبکر، عمر، عثمان اور اپنی بہن ام حبیبہ سے احادیث نقل کی ہیں۔ اسی طرح صحابہ اور تابعین کے ایک گروہ نے بھی ان سے احادیث نقل کی ہیں [8]۔

معاویہ جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اس کے بعد اپنے بھائی یزید کے ساتھ ابوبکر کے لشکر میں شام کی طرف گئے۔ انہوں نے صیدا، عرقہ، جبَیل، بیروت، عکا اور صور جیسے ساحلی شہروں کی فتوحات میں شرکت کی [9]۔

معاویہ نے عمر بن خطاب کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ عمر نے انہیں اردن کا گورنر مقرر کیا جبکہ ان کے بھائی یزید کو پورے شام کا گورنر مقرر کیا۔ طاعون عمواس کے واقعے میں ان کے بھائی کی وفات کے بعد عمر نے شام کا پورا علاقہ بھی معاویہ کے اختیار میں دے دیا۔

جب عثمان بن عفان خلیفہ بنے تو انہوں نے معاویہ کو پورے شام کا گورنر مقرر کر دیا۔ آخرکار عثمان کی شہادت کے بعد معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر حضرت علی علیہ السلام کے خلاف نزاع شروع کیا [10]۔

اہل شام نے بھی عثمان کے خون کا بدلہ لینے اور حضرت علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کے لیے معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ اختلاف حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے آخری وقت تک جاری رہا۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ اور امام حسن علیہ السلام کے درمیان صلح ہوئی

اور اس صلح کے تحت امام حسن علیہ السلام معاویہ کے حق میں حکومت سے دست بردار ہوگئے۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے بعد معاویہ اپنی وفات تک مسلمانوں کے خلیفہ رہے[11]۔ شام کی حکمرانی سے تمام مسلمانوں کی حکومت تک

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں نے رومیوں اور ایرانیوں کے ساتھ مختلف جنگیں لڑیں اور بڑی فتوحات حاصل کیں۔ اسلامی سرزمین کے مغربی علاقوں میں مسلمانوں کو بڑی فتوحات حاصل ہوئیں، جن میں شام اور بیت المقدس کی فتح بھی شامل تھی۔

یزید بن ابی سفیان بھی ان کمانڈروں میں سے تھے جنہیں شام کی جنگوں کے لیے اس علاقے میں بھیجا گیا تھا۔ اسی سلسلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے انہیں ان علاقوں کا گورنر مقرر کیا گیا، یہاں تک کہ اٹھارہ ہجری میں طاعون کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔

دوسرے خلیفہ نے یزید بن ابی سفیان کے بھائی معاویہ کو ان کا جانشین مقرر کیا اور اس طرح معاویہ نے شام کے امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی [12]۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ پہلے اسلامی حکمران تھے جنہوں نے ابتدائی اسلامی حکومت کی سادگی کو تبدیل کیا اور حکومت میں تجمل اور آسائش کو داخل کیا۔

ان سے پہلے اور حتی کہ ان کے زمانے میں بھی حکمران سادہ زندگی گزارتے تھے اور دوسرے خلیفہ بھی اس معاملے پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ اس کے باوجود معاویہ ان کی نصیحتوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے تھے بلکہ انہوں نے اپنے لیے بادشاہوں جیسا شاہانہ انتظام کر رکھا تھا یہاں تک کہ دوسرے خلیفہ نے شام کے سفر کے دوران انہیں عرب کا کسری کہا۔

جب انہوں نے معاویہ کے طرز زندگی اور ان کے تکلفات کو دیکھا تو ان سے پوچھا کیا یہ تمام مال تمہارا ہے

معاویہ نے جواب دیا ہاں

خلیفہ نے کہا تم نے یہ تمام شاہانہ انتظام کیا ہوا ہے جبکہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ ضرورت مند لوگ تمہارے دروازے پر آتے ہیں

معاویہ نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا علم ہے اور اسی وجہ سے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے جب خلیفہ نے اس کی وجہ دریافت کی تو معاویہ نے اپنے عمل کی یہ توجیہ پیش کی کہ ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں دشمن کے بہت سے جاسوس موجود ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی حکمرانی کی طاقت اس طرح ظاہر کریں کہ اس سے اسلام اور مسلمانوں کی عزت و وقار قائم رہے تاہم میں آپ کے حکم کا پابند ہوں۔

خلیفہ نے معاویہ کی طرف دیکھ کر کہا تم ہمیشہ اپنے جوابات میں ایسا طریقہ اختیار کرتے ہو کہ مجھے مشکل میں ڈال دیتے ہو اگر تمہاری بیان کردہ وجہ حقیقی ہے تو تم نے درست فیصلہ کیا ہے اور اگر یہ غیر حقیقی توجیہ ہے تو یہ تمہاری طرف سے ایک چال ہے [13]۔

دوسرے خلیفہ کے قتل اور عثمان کے اقتدار میں آنے کے بعد اسلامی معاشرے کے حالات بالکل تبدیل ہوگئے۔ معاویہ کی طرز حکمرانی جو پہلے خلیفہ کے زمانے میں ان کے ساتھ مخصوص تھی عثمان کی خلافت کے دوران عام ہوگئی اور زیادہ تر گورنر تجمل اور دنیا پرستی کی طرف مائل ہوگئے جبکہ معاویہ بھی پوری قوت کے ساتھ اپنے منصب پر کام کرتے رہے [14]۔

عثمان کے بعد امام علی علیہ السلام نے خلافت سنبھالی لیکن وہ معاویہ کی گورنری پر کبھی راضی نہیں ہوئے۔ تاہم معاویہ شام میں اپنی حکومت کی بنیادیں مضبوط کر چکے تھے اور اسی وجہ سے وہ مرکزی حکومت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اپنے اندر محسوس کرتے تھے۔

چنانچہ انہوں نے امام علی علیہ السلام کے مقابلے میں فوجی راستہ اختیار کیا اور اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ مرکزی حکومت کے ایک گورنر نے بغاوت کی۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ نے مال و دولت طاقت اور فریب کے ذریعے امام حسن علیہ السلام کے لیے حالات دشوار کردیے اور اس طرح آپ کو حکومت سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا اور اس کے نتیجے میں تمام اسلامی علاقوں کی ظاہری حکمرانی اپنے ہاتھ میں لے لی۔

معاویہ مجموعی طور پر تقریباً بیس سال شام کے گورنر رہے اور اس کے بعد مزید تقریباً بیس سال پورے اسلامی معاشرے کے حکمران رہے [15]۔ اور کسی طاقتور مخالف کے بغیر اپنی حکومت جاری رکھی [16]۔

ان چالیس سالوں کے دوران اگرچہ انہوں نے بعض سرحدی علاقوں میں رومیوں جیسے دشمنوں کے ساتھ جنگیں لڑیں اور انہیں اسلامی علاقوں پر حملے سے روکا لیکن خلافت پر قبضہ کرنے حق پر قائم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ سے جنگ کرنے عمار بن یاسر

اور حجر بن عدی جیسے جلیل القدر صحابہ کو شہید کرانے احادیث گھڑوانے کی کوشش کرنے امام حسن علیہ السلام کو زہر دلوانے اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت میں قصور وار ہونے جیسے منفی اقدامات کی وجہ سے نہ صرف شیعہ بلکہ اہل سنت کی ایک بڑی تعداد بھی ان پر سخت تنقید کرتی ہے۔ آخرکار معاویہ ساٹھ ہجری میں وفات پاگئے۔

معاویہ تین پہلے خلفاء کے دور میں

یزید بن ابی سفیان نے شام کی فتوحات میں کمانڈ کی تھی اور ابوبکر نے معاویہ کو بھی ان کے بھائی کے ساتھ ولایت دی تھی [17]۔ یزید کی وفات کے بعد عمر کے دور میں معاویہ کو شام کی ولایت سونپی گئی۔

بعض مؤرخین نے عمر کی طرف سے معاویہ کے ساتھ روا رکھے گئے نرم رویے پر تعجب کا اظہار کیا ہے [18]۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ معاویہ عمر کے زمانے ہی سے خلافت کی تیاری کر رہے تھے [19]۔

عمر نے پورا شام معاویہ کے حوالے کردیا۔ معاویہ کہا کرتے تھے کہ خدا کی قسم انہیں صرف عمر کے ہاں حاصل مقام کی وجہ سے لوگوں پر اس طرح اختیار حاصل ہوا۔

عثمان کے دور میں جب معاویہ کے بارے میں اعتراضات کیے جاتے تو وہ کہتے تھے کہ میں انہیں کیسے معزول کرسکتا ہوں جبکہ عمر نے انہیں مقرر کیا ہے۔ عثمان کے دور میں شام معاویہ کے لیے ایک محفوظ علاقہ شمار ہوتا تھا۔

انہوں نے کوفہ کے قاریوں اور ابوذر کو وہاں جلاوطن کیا اگرچہ معاویہ نے اپنی حیثیت برقرار رکھنے اور ان لوگوں کے عوام پر اثرانداز ہونے کو روکنے کے لیے انہیں شام سے باہر نکال دیا

شام معاویہ کی تربیت یافتہ سرزمین تھی اور یہ بات بنی امیہ کی حکومت کے دوران شام کے لوگوں کی ان کے ساتھ مکمل وفاداری سے ظاہر ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بنی امیہ کے سرداروں نے سفاح کے سامنے گواہی دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ داروں میں بنی امیہ کے علاوہ کسی اور خاندان کو نہیں جانتے تھے

معاویہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا تھا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شجرہ ہیں

انہوں نے کاتب وحی اور خال المؤمنین جیسے القاب کے ذریعے اپنی دینی حیثیت کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بعض حدیث کے راویوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ ان کی فضیلت میں درجنوں احادیث گھڑیں اور انہیں لوگوں میں رائج کریں

عثمان کے خلاف بغاوت

معاویہ نے عثمان کے خلاف بغاوت کے آغاز ہی سے اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ایک موقع پر انہوں نے عثمان سے کہا کہ وہ شام میں ان کے پاس آجائیں تاکہ مخالفین سے محفوظ رہیں لیکن عثمان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی

بعد میں جب بغاوت شدید ہوگئی تو معاویہ نے یہ سمجھا کہ عثمان کا قتل ہی واحد راستہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے عثمان کی کوئی مدد نہیں کی یہاں تک کہ عثمان نے اپنی شدید مشکلات کے دوران اس بات کو محسوس کیا اور معاویہ کو ملامت بھرا خط لکھا

بعد میں معاویہ بنی امیہ کو عثمان کا وارث سمجھنے لگے اور ان کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر امام علی علیہ السلام کے خلاف بغاوت کی۔ عثمان کے قتل کے بعد جب ان کی اہلیہ شام کی طرف فرار ہوگئیں تو معاویہ نے ان سے نکاح کی درخواست کی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا

معاویہ نے امام علی علیہ السلام کو اپنے خطوط میں اس بات پر زور دیا کہ ہمارا خلیفہ عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیا گیا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مظلوم قتل کیا جائے ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے لہذا ہم عثمان اور ان کی اولاد کے زیادہ حق دار ہیں۔ معاویہ اپنی بھرپور تبلیغات کے ذریعے خود کو عثمان کا وارث قرار دیتے تھے

  1. مبیّض، موسوعة حیاة الصحابه من کتب التراث، مکتبة الغزالی، ج۶، ص۳۴۷۸
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۹۶م، ج۴، ص۲۸۷
  3. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ش، ج۳، ص۱۴۱۶
  4. ابن اثیر، أسد الغابة، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۴۳۳
  5. ذهبی، سیر أعلام النبلاء، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۱۲۳
  6. شوکانی، الفوائد المجموعة، [۱۴۱۵ق]، ج۲، ص۴۹۶-۵۱۶
  7. اسکافی، المعیار و الموازنه، ۱۴۰۲ق، ص۲۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۵۹، ص۱۰۳
  8. عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، ج۸، ص۱۰۵
  9. بلاذری، ابوالعباس احمد بن یحیی بن جابر، فتوح البلدان، ص۱۷۳
  10. یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۸۶؛ طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج۴، ص۴۴۴
  11. ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج۸، ص۱۶
  12. ابن قتیبة، عبدالله بن مسلم، المعارف، تحقیق، ثروت عکاشة، ص 345، قاهره، ‌ الهیئة المصریة العامة للکتاب، چاپ دوم، 1992م؛ الطبقات الکبری‏، ج 7، ص 285
  13. الاستیعاب، ج ‏3، ص 1417
  14. انساب الاشراف، ج 5، ص 13
  15. الطبقات الکبری‏، ج 7، ص 285
  16. الإصابة، ج ‏6، ص 121؛ هاشمی بغدادی، محمد بن حبیب بن امیة، المحبر، تحقیق، ایلزة لیختن شتیتر، ص 20، بیروت، دار الآفاق الجدیدة، بی‌تا
  17. رسائل جاحظ، الرسائل السیاسیه، ص ۳۴۴
  18. مختصر تاریخ دمشق، ج ۲۵، ص ۲۴
  19. تثبیت دلائل النبوه، ص ۵۹۳