مندرجات کا رخ کریں

معاویہ

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 14:02، 29 اگست 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''معاویہ''' بن ابی سفیان پہلے اموی خلیفہ تھے، جنہوں نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے بعد سے سنہ 60 ہجری تک تقریباً بیس سال دمشق میں خلافت کی۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور طلقاء میں شمار ہوئے۔ وہ ابوبکر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

معاویہ بن ابی سفیان پہلے اموی خلیفہ تھے، جنہوں نے امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے بعد سے سنہ 60 ہجری تک تقریباً بیس سال دمشق میں خلافت کی۔ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا اور طلقاء میں شمار ہوئے۔ وہ ابوبکر کے زمانہ خلافت میں شام کی فتح میں شریک ہوئے اور عمر بن خطاب کے دور میں پہلے اردن کے گورنر اور پھر پورے شام کے گورنر مقرر ہوئے۔ عثمان بن عفان کے خلاف بغاوت کے دوران حضرت عثمان کی طرف سے مدد طلب کیے جانے کے باوجود معاویہ ان کی مدد کے لیے نہیں پہنچے۔ علی علیہ السلام کے زمانہ خلافت میں انہوں نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر جنگ صفین برپا کی۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے معاہدے کے ذریعے مسلمانوں کی خلافت سنبھالی اور دمشق کو اپنی حکومت کا دارالحکومت بنایا۔ ان کے دور میں فتوحات زیادہ تر مغربی اور شمالی افریقہ کے علاقوں میں ہوئیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں پہلے سے حاصل شدہ فتوحات کو مستحکم کرنے پر توجہ دی گئی۔ معاویہ نے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کیا اور اپنے بیٹے یزید کے لیے بیعت لینے کی بھرپور کوشش کی۔ ملک کے انتظام کے لیے انہوں نے نئے دیوان قائم کیے۔ انہیں خوارج اور شیعوں کی بغاوتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا اور انہوں نے ان تحریکوں کو دبایا۔

زندگی معاویہ

ابوعبد الرحمان معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی قرشی اموی سنہ پانچ قبل بعثت میں پیدا ہوئے۔ بعض تاریخی منابع میں ان کی پیدائش بعثت سے سات یا تیرہ سال پہلے بیان ہوئی ہے [1]۔

ان کی والدہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف تھیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کے جسد مبارک کو مثلہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت حمزہ کا جگر اپنے دانتوں سے چبایا، جس کی وجہ سے وہ ہند جگر خوار یعنی آکلۃ الاکباد کے نام سے مشہور ہوئیں [2]۔

تاریخی منابع کے مطابق معاویہ اپنے والد، والدہ اور بھائی کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور طلقاء میں شمار ہوئے۔ انہیں مؤلفۃ القلوب میں بھی شمار کیا گیا ہے [3]۔

بعض منابع میں معاویہ سے منقول ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن اپنے اسلام کو اپنے والدین سے چھپاتے تھے۔ بعض منابع میں معاویہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتبوں [4] میں شمار کیا گیا ہے، جبکہ بعض دیگر منابع میں انہیں قرآن کریم کے کاتبوں میں قرار دیا گیا ہے [5]۔

ان کے فضائل اور تکریم پر مشتمل بہت سی روایات کو جعلی قرار دیا گیا ہے [6]۔ معاویہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک زوجہ ام حبیبہ کے بھائی تھے۔ تاہم ازواج رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھائیوں میں صرف انہیں خال المؤمنین کہا گیا ہے [7]۔

انہوں نے ابوبکر، عمر، عثمان اور اپنی بہن ام حبیبہ سے احادیث نقل کی ہیں۔ اسی طرح صحابہ اور تابعین کے ایک گروہ نے بھی ان سے احادیث نقل کی ہیں [8]۔

معاویہ جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور اس کے بعد اپنے بھائی یزید کے ساتھ ابوبکر کے لشکر میں شام کی طرف گئے۔ انہوں نے صیدا، عرقہ، جبَیل، بیروت، عکا اور صور جیسے ساحلی شہروں کی فتوحات میں شرکت کی [9]۔

معاویہ نے عمر بن خطاب کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ عمر نے انہیں اردن کا گورنر مقرر کیا جبکہ ان کے بھائی یزید کو پورے شام کا گورنر مقرر کیا۔ طاعون عمواس کے واقعے میں ان کے بھائی کی وفات کے بعد عمر نے شام کا پورا علاقہ بھی معاویہ کے اختیار میں دے دیا۔

جب عثمان بن عفان خلیفہ بنے تو انہوں نے معاویہ کو پورے شام کا گورنر مقرر کر دیا۔ آخرکار عثمان کی شہادت کے بعد معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام سے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر حضرت علی علیہ السلام کے خلاف نزاع شروع کیا [10]۔

اہل شام نے بھی عثمان کے خون کا بدلہ لینے اور حضرت علی علیہ السلام کے خلاف جنگ کے لیے معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ یہ اختلاف حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے آخری وقت تک جاری رہا۔ حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ اور امام حسن علیہ السلام کے درمیان صلح ہوئی

اور اس صلح کے تحت امام حسن علیہ السلام معاویہ کے حق میں حکومت سے دست بردار ہوگئے۔ امام حسن علیہ السلام کے ساتھ صلح کے بعد معاویہ اپنی وفات تک مسلمانوں کے خلیفہ رہے[11]۔

  1. مبیّض، موسوعة حیاة الصحابه من کتب التراث، مکتبة الغزالی، ج۶، ص۳۴۷۸
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۹۶م، ج۴، ص۲۸۷
  3. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ش، ج۳، ص۱۴۱۶
  4. ابن اثیر، أسد الغابة، ۱۴۰۹ق، ج۴، ص۴۳۳
  5. ذهبی، سیر أعلام النبلاء، ۱۴۱۴ق، ج۳، ص۱۲۳
  6. شوکانی، الفوائد المجموعة، [۱۴۱۵ق]، ج۲، ص۴۹۶-۵۱۶
  7. اسکافی، المعیار و الموازنه، ۱۴۰۲ق، ص۲۱؛ ابن عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۵۹، ص۱۰۳
  8. عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری فی شرح صحیح البخاری، ج۸، ص۱۰۵
  9. بلاذری، ابوالعباس احمد بن یحیی بن جابر، فتوح البلدان، ص۱۷۳
  10. یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۸۶؛ طبری، تاریخ الرسل و الملوک، ج۴، ص۴۴۴
  11. ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج۸، ص۱۶