مندرجات کا رخ کریں

تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 21:05، 24 اگست 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے'''،(انگلش:Organization of Iranian People's Fedai Guerrillas) ایک مارکسی ـ لیننی تنظیم تھی، جو فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں بیژن جزنی اور مسعود احمدزاده کی قیادت میں قائم دو گوریلا گروہوں کے انضمام سے وجود میں آئی۔ یہ تنظیم مسلح جدوجہد...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

تنظیمِ فدائیانِ خلق کے ایرانی گوریلے،(انگلش:Organization of Iranian People's Fedai Guerrillas) ایک مارکسی ـ لیننی تنظیم تھی، جو فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں بیژن جزنی اور مسعود احمدزاده کی قیادت میں قائم دو گوریلا گروہوں کے انضمام سے وجود میں آئی۔ یہ تنظیم مسلح جدوجہد کو حکومتِ محمدرضا پہلوی کے خلاف مقابلے کی بنیادی حکمتِ عملی سمجھتی تھی اور مارکسی نظریات اور لاطینی امریکہ کی گوریلا تحریکوں کے تجربات سے متاثر ہو کر حکومتِ پہلوی کے خلاف متعدد مسلح کارروائیاں انجام دیتی رہی۔ بہمن ۱۳۴۹ شمسی کا واقعۂ سیاهکل اس تحریک کی پہلی اہم کارروائی تھی۔ اگرچہ یہ فوجی اعتبار سے ناکام رہی، لیکن اس کے نتیجے میں تنظیم طلبہ اور حکومت مخالف عناصر کے ایک حصے میں متعارف اور معروف ہوگئی۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد چریک‌های فدائیِ خلق کی سیاسی سرگرمیوں میں وسعت آئی، جس کے نتیجے میں تنظیم اندرونی اختلافات کا شکار ہوئی اور دو دھڑوں، یعنی "اکثریت" اور "اقلیت" میں تقسیم ہوگئی۔ جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ طرزِ عمل اور رویّے کے بارے میں اختلاف اس تقسیم کا سب سے اہم سبب تھا۔

تاریخچہ اور تشکیل

ایران میں مسلح جدوجہد کے تصور کے ظہور کا پس منظر ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ شمسی کی تحریک کے نتائج سے جا ملتا ہے۔ اس تحریک کو کچلنے، مخالف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے، ملکی اطلاعات و سلامتی کے ادارے ساواک کی طاقت میں اضافے اور حکومت مخالف نوجوانوں کے ایک طبقے کی جانب سے قانونی جدوجہد کے طریقوں کو غیر مؤثر سمجھنے کے نتیجے میں گوریلا جدوجہد کی طرف رجحان پیدا ہوا۔

ایسے ماحول میں دو آزاد مارکسی گروہوں نے اپنی سرگرمیاں شروع کیں، جو بعد میں سازمانِ چریک‌های فدائیِ خلقِ ایران کے بنیادی مرکز اور ہسته کی حیثیت اختیار کر گئے۔

پہلا گروہ ۱۳۴۲ شمسی میں بیژن جزنی، عباس سورکی، علی‌اکبر صفائی فراهانی، محمد آشتیانی اور حمید اشرف نے تشکیل دیا۔

یہ گروہ بعد میں **«گروہ جزنی ـ ظریفی»** یا **«گروہ سیاهکل»** کے نام سے مشہور ہوا۔ اس گروہ کا مؤقف انقلابی قوتوں کو منظم کرنے اور سوشلسٹ انقلاب کے لیے حالات سازگار بنانے کی ضرورت پر مبنی تھا۔

چند سال بعد اس گروہ کے بعض ارکان کو ساواک نے شناخت کرکے گرفتار کر لیا۔ بیژن جزنی اور عباس سورکی ۱۳۵۴ شمسی تک جیل میں رہے اور بعد ازاں دیگر چند سیاسی قیدیوں کے ساتھ قتل کر دیے گئے۔ اس دوران حمید اشرف نے باقی ماندہ نیٹ ورکس کو برقرار رکھتے ہوئے تنظیم کی سرگرمیاں جاری رکھیں اور تنظیم کی سب سے اہم عملی شخصیت بن گیا۔

دوسرا گروہ ۱۳۴۶ شمسی کے اواخر میں **مسعود احمدزاده** اور **امیرپرویز پویان** کی قیادت میں تشکیل پایا۔ یہ گروہ زیادہ تر تہران اور مشہد کی جامعات کے طلبہ پر مشتمل تھا۔ اس گروہ نے حزب تودہ ایران اور ایران کے نیشنل فرنٹ کے اصلاح پسندانہ طرزِ فکر کی مخالفت کی اور حکومتِ پہلوی کے خاتمے کا واحد راستہ **مسلح جدوجہد** کو قرار دیا۔

آخرکار، فروردین ۱۳۵۰ شمسی میں یہ دونوں گروہ آپس میں ضم ہوگئے اور **سازمانِ چریک‌های فدائیِ خلقِ ایران** کی بنیاد رکھی گئی۔ نئی تنظیمی ساخت میں **گروہِ جزنی** زیادہ تر دیہی علاقوں میں سرگرمیوں کا ذمہ دار تھا، جبکہ **احمدزاده ـ پویان گروہ** شہری علاقوں میں مسلح کارروائیوں کی قیادت اور انجام دہی کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔