سید قیام الدین غازی
سانچہ:شخصیت سید قیام الدین غازی مشہور بہ «ایشان قیام الدین» تحریک اسلامی تاجیکستان کی جماعت کے رہنما اور بانی تھے۔
سوانح حیات
قیام الدین غازی سن 1952ء میں تاجیکستان کی وادی وخش میں علاقہ قاضی ملک کے مقیم مشہور «ایشانوں» کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام پہلی بار خزاں 1991ء میں دارالحکومت دوشنبہ کے اجتماعات اور جلوسوں میں زبان زد عام ہوا۔ قیام الدین اپنی پرجوش تقریروں کی بدولت فوراً 1992ء کے اجتماعات کے اولین رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ 1992ء کے اجتماعات اور ملاقاتوں کے دوران قاری محمد جان اور رحیم نور اللہ بیکوف کے ہمراہ تاجیکستان کی عوام نے قیام الدین کو «عوامی جنرل» کا لقب دیا تھا۔
سن 1972ء میں تحریک اسلامی تاجیکستان کا قیام، سن 1986ء میں ضد مذہب کمیونسٹ حکومت کے خلاف سب سے بڑے مظاہرے کا انعقاد، سن 90ء کی دہائی میں افغانستان کے علمائے اسلام کی مجلس میں رکنیت، سن 1997ء میں قومی مصالحتی کمیشن میں رکنیت سید قیام الدین غازی کی بعض سیاسی سرگرمیاں ہیں۔ ان کی سیاسی، سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں بار بار گرفتار کیا گیا اور یہاں تک کہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ان کی پہلی گرفتاری سن 1979ء کی ہے۔ سن 2006ء میں نوری کی وفات کے بعد اور حکومت کی سیاسی دباؤ کی وجہ سے ظاہری طور پر سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہو گئے، لیکن شاگردوں کی تربیت، اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔
تاجیکستان کی حکومت کی حمایت یافتہ محاذ کی خانہ جنگی میں کامیابی کے بعد، قیام الدین اور ان کے بعض پیروکار افغانستان ہجرت کر گئے۔ مخالفین کی اتحادی قوتوں (حکومتی قوتوں کے مقابلے میں) جو کہ تاجیک اسلام پسندوں، قوم پرستوں اور لبرلوں کا مجموعہ تھا، میں قیام الدین نے مہاجرین کے لیے امداد جمع کرنے کی ذمہ داری سنبھالی اور اسی لیے امداد جمع کرنے کے لیے ایران اور علاقے کے عرب اور مسلمان ممالک کے کئی دورے کیے۔ مخالفین کی اتحاد اور حکومت کے درمیان امن معاہدے کے بعد، قیام الدین سن 2000ء میں اپنے کم سن بچے کے علاج کے لیے ایران گئے جو کہ ان کے بقول پیر کی فالج کا شکار تھا۔
امام علی رحمان، صدر تاجیکستان جو کہ کچھ عرصے سے سعودیوں کے پیٹرول ڈالرز سے متاثر ہو چکا تھا اور جمهوری اسلامی ایران کے خلاف کچھ کیس سازی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیے ہوئے تھا، قیام الدین کی گرفتاری کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہمارے دوست ملک کے خفیہ ادارے کی سفارش پر ڈالروں سے بھری جیبوں کے ساتھ مذهب شیعہ قبول کر لیا ہے اور تاجیک قوم کے خلاف اقدام کیا ہے! یہ اس وقت تھا جب تاجیکستان میں تحریک اسلامی جماعت کی سرگرمیوں پر پابندی کے اعلان کے بعد جو کہ جمہوری رجحانات اور اظہار رائے کی آزادی کے خلاف تھا اور بغیر کسی قانونی جواز کے کیا گیا، قیام الدین غازی کی کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی اور وہ روس میں ملازم تھے۔
غازی کی گرفتاری اور سیاسی و میڈیائی ردعمل
شہید قیام الدین غازی کو دسمبر 1396ء میں روس کے سینٹ پیٹرز برگ کے ہوائی اڈے «پولکووا» میں گرفتار کر کے تاجیکستان منتقل کر دیا گیا۔ انہیں مئی/جون 1397ء میں شہر دوشنبہ کے ڈیٹینشن سینٹر نمبر ون میں صحافیوں کی غیر موجودگی میں اور بند دروازوں کے پیچھے ایک عدالت میں ملک سے غداری، سیاسی نظام کو گرانے کی کوشش اور مذہبی، قومی اور نسل پرستانہ اختلافات پیدا کرنے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی[1].
شہادت
بالآخر اس تاجیکستانی عالم کو داعش سے وابستہ عناصر نے اتوار کی شام 29 اردیبہشت 1398 شمسی کو شہید کر دیا۔ یہ ذکر ضروری ہے کہ تاجیکستان کے فارنسک میڈیکل کی طرف سے منتقلی کے بعد ان کا سر ان کی لاش سے سیا گیا اور اس ملک کی حکومت کی طرف سے ان کے خاندان کو کوئی خبر دیے بغیر خفیہ طور پر دفنایا گیا [2].