مندرجات کا رخ کریں

مدینہ

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 00:52، 4 جولائی 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

مدینہ، مکہ کے بعد اسلامی سرزمینوں کے جغرافیے میں سب سے اہم اور مشہور شہر ہے [1]۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روضۂ مبارک اسی شہر میں واقع ہے۔ اسی طرح مشہور قبرستان جنت البقیع بھی مدینہ میں موجود ہے، جہاں شیعہ ائمہ میں سے چار حضرات؛ امام حسن مجتبیؑ، امام علی بن الحسین زین العابدینؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ مدفون ہیں، اور ایک روایت کے مطابق حضرت فاطمہ زہراؑ بھی اسی قبرستان میں مدفون ہیں۔

مدینہ کا سابقہ نام

اس شہر کا سابقہ نام "یثرب" تھا۔ رسولِ اکرم نے ہجرت کے بعد اسی مقام کو اپنی قیام گاہ اور اسلامی حکومت کے مرکز کے طور پر اختیار فرمایا، جس کے بعد اس کا نام "مدینہ" پڑ گیا۔ روایات اور تاریخی منابع میں مذکور ہے کہ نبی اکرم مدینہ کے لیے لفظ "یثرب" استعمال کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔

یہاں تک کہ براء بن عازب سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "جو شخص مدینہ کو یثرب کہے، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔" البتہ اس ممانعت کی وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ منافقین مدینہ کے لیے "مدینہ" کے بجائے "یثرب" کا لفظ استعمال کرتے تھے [2]۔

مدینہ کے نام کی وجہ تسمیہ

"مدینہ" کے معنی ایسے مرکز کے ہیں جہاں لوگ رہائش اور سکونت کے مقصد سے جمع ہوں۔ شہرِ مدینہ کا نام بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالبؑ نے نہج البلاغہ کے خطبہ 180 میں اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

"أَیْنَ الَّذِینَ... مَدَّنُوا الْمَدَائِنَ" یعنی: "کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے شہروں کو آباد کیا اور تعمیر کیا؟" [3]۔

مدینہ کا جغرافیائی محل وقوع

مدینہ سعودی عرب کے اہم علاقوں میں سے ایک ہے جو حجاز کے خطے میں مکہ مکرمہ کے شمال مشرق میں واقع ہے اور مکہ سے تقریباً 450 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے [4]۔

قرآن میں مدینہ

قرآنِ کریم میں "مدینہ" کا لفظ کبھی مطلق شہر کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسے:

"إِنَّ هَذَا لَمَكْرٌ مَكَرْتُمُوهُ فِي الْمَدِينَةِ لِتُخْرِجُوا مِنْهَا أَهْلَهَا" [5]۔

اور: "وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِينَةِ امْرَأَتُ الْعَزِيزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ" [6]۔

اور کبھی اس سے مراد رسولِ خدا کا شہر، یعنی "مدینۃ الرسول" لیا گیا ہے، جیسے: "مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ" [7]۔

اور: "يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ..." [8]۔

مدینہ کی اہمیت

اس شہر کی اہمیت کو اس کی تاریخ کے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے مدینہ کی تاریخ دو ادوار میں قابلِ مطالعہ ہے:

  1. اس شہر کی ابتدائی تاریخ اور اس کی پیدائش کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں، اور تاریخی منابع میں اس حوالے سے کوئی مضبوط اور قابلِ اعتماد دستاویز نہیں ملتی۔
  2. رسولِ خدا کی ہجرت، آپؐ کی اس شہر میں سکونت اور اسلامی حکومت کی بنیادوں کے قیام کے بعد مدینہ نے ایک نئی زندگی پائی اور وہ شہر بن گیا جو آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی توجہ اور عقیدت کا مرکز ہے۔

ہجرت کے بعد مدینہ میں رسولِ خدا کے اقدامات

رسولِ اکرم نے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد چند اہم اقدامات انجام دیے:

  1. مسجد کی تعمیر: مدینہ میں رسولِ خداکا پہلا کام مسجد کی تعمیر تھا؛ ایک ایسا مرکز جو عبادت، دینی ثقافت کی ترویج اور اسلامی پالیسیوں کے ابلاغ کا محور تھا۔ مسجد ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کا بنیادی سہارا اور مرکز رہی ہے۔
  2. عمومی معاہدے کی توثیق:آپؐ نے تمام مسلمانوں کی جانب سے ایک عمومی معاہدے کی توثیق فرمائی اور اس پر عمل درآمد کا عہد لیا۔ اس معاہدے میں حاکمیت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے مخصوص قرار دیا گیا اور اسلامی حقوقی و جزائی قوانین کے ایک حصے کو بطور قانون قبول کیا گیا۔
  3. مسلمانوں کے درمیان اخوت کا قیام:رسولِ اکرم کا تیسرا اقدام مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کا قیام تھا، جس کے نتیجے میں باہمی محبت اور جذباتی وابستگی کو فروغ ملا [9]۔

مدینہ کے مقدس مقامات

مدینہ مسلمانوں کی موجودگی کا مرکز اور تاریخِ اسلام کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اسی وجہ سے رسولِ اکرم کی اس شہر میں موجودگی کے دوران متعدد مقدس مقامات تعمیر کیے گئے، جن کا محور مسجد تھی۔

مسجد النبی

اس مسجد کی تعمیر مدینہ کے اندر رسولِ خدا کا پہلا اقدام تھا، اگرچہ اس سے پہلے مدینہ سے باہر واقع قبا کے علاقے میں آپؐ اور آپ کے اصحاب کے ہاتھوں اسلام کی پہلی مسجد ایک اسلامی مرکز کے طور پر تعمیر کی جا چکی تھی۔

مسجدِ نبوی، مسجدِ حرام کے بعد دوسرا سب سے مقدس مسجد ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ:

"میری مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد کی دس ہزار نمازوں کے برابر ہے، سوائے مسجدِ حرام کے، جہاں ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔" [10]۔

جنت البقیع

بقیع اسلامی جغرافیے کے مشہور اور محترم قبرستانوں میں سے ایک ہے، جہاں رسولِ اکرم کے زمانے میں بہت سے صحابہ دفن کیے گئے۔ آپؐ کے وصال کے بعد شیعہ ائمہ میں سے چار امام، بعض جلیل القدر تابعین اور بعد کے ادوار میں مدینہ میں وفات پانے والے بہت سے نامور مسلمان بھی اسی قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔

رسولِ خدا جب بھی اس قبرستان کے قریب سے گزرتے تو فرماتے: "تم پر سلام ہو، اے وہ مؤمنو جو اپنے گھروں (قبروں) میں آرام کر رہے ہو، اور ہم بھی ان شاء اللہ جلد تم سے آ ملیں گے۔" [11]۔

مدینہ کی دیگر مساجد

مدینہ میں بہت سی مساجد موجود ہیں، جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

  1. مسجدِ قبا
  2. مسجدِ شجرہ (ذوالحلیفہ یا آبارِ علی)
  3. مسجدِ ذوقبلتین
  4. مسجدِ جمعہ
  5. مسجدِ فضیخ
  6. مسجدِ فتح
  7. مسجدِ علی
  8. مسجدِ غمامہ
  9. مسجدِ اجابہ (مسجدِ مباہلہ)
  10. مسجدِ فاطمہ الزہراؑ
  11. مسجدِ امام علی بن ابی طالبؑ
  12. مسجدِ سلمان
  13. مسجدِ معرس
  14. مسجدِ ثنیۃ الوداع
  15. مسجدِ ابوذر
  16. مسجدِ سقیا
  17. مسجد و مشربۂ اُمِ ابراہی[12]۔

کوہِ اُحد

مدینہ کے اطراف کے مشہور مقامات میں سے ایک کوہِ اُحد ہے۔ اسے "اُحد" اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ پہاڑ مدینہ کے دوسرے پہاڑوں سے الگ اور منفرد ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ مدینہ کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔

حوالہ جات

  1. قاموس قرآن، ج ۶، ص: ۲۴۴
  2. مکه و مدینه، کردی عبیدالله محمدامین، ص 212، با تصرف اندک در عبارت
  3. قاموس قرآن، ج 6، ص 244
  4. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، جلد دوم، مقدمه، ص: ۱۰۶۴
  5. سوره اعراف، آیه 123
  6. سوره یوسف، آیه 30
  7. سوره توبه، آیه 120
  8. سوره منافقون، آیه 8
  9. جعفریان رسول، آثار اسلامی مکه و مدینه، ص ۳۶ با تصرف اندک در عبارت
  10. مسجد النبی، انتشارات مرکز تحقیقات حج، ص ۳
  11. بقیع: نوشته مرکز تحقیقات حج، ص ۳
  12. م مکه و مدینه، نشر مرکز تحقیقات حج، ص ۲۸