بابا فرید الدین گنج شکر
فرید الدین مسعود گنج شکر، بارہویں صدی کے مسلمان مبلغ اور صوفی بزرگ تھے اور ان کو قرون وسطی کے سب سے ممتاز اور قابل احترام صوفیا میں سے ایک کہا گیا ہے۔ ان کا مزار پاک پتن، پاکستان میں واقع ہے۔ آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ سے ہے اور آپ اہل سنت حنفی بزرگ گذرے ہیں۔ ان کا شمارر چشتیہ سلاسل کے معروف ترین بزرگان دین میں ہوتا ہے، سلسلہ چشتیہ میں سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز کے بعد سب سے زیادہ شہرت آپ ہی کے حصے میں آئی، آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں اور خلفا کی تعداد 700 ہے، چھ سو خلفا انسانوں میں اور سو خلفا جنات میں سے تھے، آپ مجذوب السالک تھے یعنی آپ کی روحانیت کے تین حصے جذب کے اور ایک حصہ سلوک پر مشتمل تھا۔
نام اور شجرہ نسب
آپ کا نام مسعود اور والدین کا نام سلیمان تھا اسی نسبت سے مسعود بن سلیمان کہلائے، آپ فاروقی ہیں، آپ کا شجرہ نسب عمر بن الخطاب سے جاملتا ہے۔
القابات
گنج شکر، شکر گنج، بابا فرید، شہباز لامکاں، باباصاحب کے القابات سے آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔
ابتدائی تعلیم
بابا فرید ملتان میں منہاج الدین کی مسجد میں زیر تعلیم تھے جہاں ان کی ملاقات جناب بختیار کاکی اوشی سے ہوئی اور وہ ان کی ارادت میں چلے گئے۔ اپنے مرشد کے حکم پر بین الاقوامی اور سماجی تعلیم کے لیے قندھار اور دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی پہنچ گئے۔
پیر طریقت
آپ نے قطب الاقطاب حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشی کے دست حق پر بیعت کی جو خواجہ معین الدین چشتی کے جانشین تھے۔
آپ کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ کو بیک وقت آپ کے پیرو مرشد خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سمیت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی المعروف خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ نے بیک وقت روحانی قوت عطا کی اس موقع پر سلطان الہند نے تاریخی الفاظ ادا کیے کہ قطب الدین تم ایک شہباز کو زیر دام لائے ہو جس کے بعد آپ کو شہباز لامکاں کا لقب عطا ہوا کہ جس کا ٹھکانہ کہیں نہیں صرف سدرۃ المنتہیٰ پر ہے۔
مریدین خاص
- قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسویؒ(محبوب ترین مرید)
- حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی (نظامی سلسلے کے بانی)
- حضرت مخدوم علاء الدین احمد صابر کلیری (صابری سلسلے کے بانی)
- حضرت خواجہ بدرالدین اسحاق (داماد)
- بابا منگھوپیرؒ(کراچی میں مدفون ہوئے)
- حضرت شمس الدین ترک پانی پتی (جنہیں آپ نے صابر کلیری کے ساتھ کردیا تھا)
- شیخ نجیب الدین متوکلؒ(بھائی)
= چار ہم عصر اولیائے کرام
حضرت شیخ بہا الدین زکریا ملتانی: آپ سہروردی سلسلے کے بزگ ہیں، ملتان میں مدفون ہوئے۔ بابا فرید الدین مسعود گنج شکر: صاحب عرس، آپ سے فریدی سلسلہ جاری ہوا، پاک پتن میں مدفون ہوئے۔ حضرت جلال الدین سرخ بخاری: نام سے ہی ظاہر ہے، آپ جلالی کیفیت کے حامل تھے حضرت عثمان بن مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندر : آپ چاروں دوستوں میں سب سے کم عمر تھے، سیہون میں آپ کا مزار مرجع الخلائق ہے۔
درگاہ خاص حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے صاحب شجرہ خواجہ امین الدین نظامی کے مطابق آپ چاروں دوست تھے، سب سے کم عمر لعل شہباز قلندر تھے، آپ چاروں سہروردی سلسلے کے بانی پیر طریقت شیخ شہاب الدین سہرودری کی خدمت میں حاضری کے لیے بغداد روانہ ہوئے، نصف شب کو پہنچے، شیخ شہاب نے حضرت عثمان کو بلایا،
ان سے خدمت لی، سینے سے لگا کر علم منتقل کیا اور انہیں لعل شہباز قلندرؒبنادیا، بعدازاں باری باری تینوں بزرگوں کو بلایا اور اپنی تصنیف عوارف المعارف(تصوف کی شہرہ آفاق کتاب) کا درس دیا اور مراتب سے نوازا۔
بابا فرید نے اپنے چھ خلفا کبیر کو چھ علاقہ ولایت عطا کیے، قطب عالم شیخ جمال الدین ہانسوی کو ہانسی، خواجہ نظام الدین اولیاء کو غیاث پور(دلی)، مخدوم صابر کلیری کو کلیر شریف، منگھوپیر بابا کو کراچی کا علاقہ عطا کیا۔
جبکہ اپنے داماد شیخ بدر الدین اسحاق کو اپنے ساتھ رکھا جب کہ لعل شہباز قلندر کو سیہون شریف بھیجا، ہر خلفا کبیر کے ماتحت سوسو خلفا رکھے جو کہ چھ سو ہوئے جب کہ سو خلفا جنات میں سے تھے یوں 700 کی تعداد پوری ہوتی ہے۔
حضرت لعل شہباز قلندر بابا فرید کا بہت احترام کرتے تھے، آپ کے حکم پر لعل شہباز قلندر بابا منگھوپیر بابا سے ملنے کراچی تشریف لائے اس وقت یہ جگہ غیر آباد تھی، آپ کا مسکن ندی کنارے تھے، لعل شہاز قلندر ندی سے آپ کے گھر تک مگرمچھ پر سفر کرکے گئے،
بعدازاں آپ کے چند خلفا منگھوپیر بابا کی خدمت میں آئے تو آپ بھی اپنے پیرو مرشد شیخ لعل شہباز کی تقلید مگر مچھ پر سواری کرکے گئے بعدازاں وہ سارے مگر مچھ منگھوپیربابا کے مزار پررہ گئے اور انہیں وہاں کے مجاوروں نے باقاعدہ خوراک دی، ان ہی مگرمچھوں کی نسل کے مگر مچھ آج تک مزار کے احاطے میں موجود ہیں۔
اولادیں
آپ نے دو شادیاں کی، چھ اولاد نرینہ اور تین اولاد زرینہ پائیں
- شیخ بدرالدین سلیمان
- شیخ شہاب الدین گنج علم
- شیخ نظام الدین شہید
- شیخ یعقوب
- شیخ عبداللہ
- شیخ نصراللہ
- بی بی فاطمہ
- بی بی شریفہ
- بی بی مستورہ۔
گنج شکر کی وجہ تسمیہ
اس ضمن میں کتب تصوف میں چار روایتیں ہمیں ملتی ہیں۔ اول: روایت یہ ہے کہ بچپن میں آپ کی نماز کی عادت کوبرقرار کھنے کے لیے آپ کی والدہ قرسم خاتون آپ کے مصلے کے نیچے چپکے سے شکر رکھ دیا کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ جو بچہ نماز پڑھتا ہے اسےاللہ تعالیٰ شکر عطا کرتا ہے
ایک دن شکر رکھنا بھول گئیں لیکن غیب سے مصلے کےنیچے سے پھر بھی شکر نکل آئی جس پر قرسم خاتون کی آنکھیں بھر آئیں اور انہوں نے لاج رکھنے کا خدا کا شکر ادا کیا۔
دوسری: روایت یہ ہے کہ آپ درخت کےنیچے آرام فرما تھا کچھ تاجر چینی لے کر گزرے آپ کے استفسار کہہ دیا کہ یہ تو نمک ہے تو آپ نے فرمایا کہ نمک ہی ہوگا، بعد ازاں تاجر وں نے بازار پہنچ کر بوریاں کھولیں تو نمک ملا، واپس آکر معافی کے طلب گار ہوئے تو آپ نے فرمایا بوریوں میں چینی ہے تو چینی ہی ہوگی، بوریاں کھولی گئیں تو چینی نکلی۔
تیسری: روایت یہ ہے کہ آپ ضعف کے سبب رات کے اندھیرے میں ذکر الٰہی کرتے ہوئے گزرے اور گرپڑے ، منہ میں جو مٹی آئی وہ شکر بن گئی تو آپ کے پیرو مرشد نے آپ کو شکر گنج قرار دیا
چوتھی: روایت ہے کہ آپ نے پیرومرشد کے کہنے پر طے کے روزے رکھے، آپ پانچ سے چھ دن سے روزے سے تھے محض پانی سے روزہ رکھ رہے تھے، ضعف اور مدہوشی میں آپ نے مٹی اٹھا کر منہ میں ڈال لی جو چینی بن گئی[1]۔
خاندانی پس منظر
فرید الدین گنج شکر کا اصل نام مسعود اور لقب فرید الدین تھا۔ آپ کی ولادت 1173ء بہ مطابق 589ھ میں ہُوئی اور وصال1265ء بہ مطابق 666ھ میں ہوا۔ آپ کا خاندانی نام فرید الدین مسعود ہے اور والدہ کا نام قرسم خاتون اور والد محترم قاضی جلال الدین ہیں۔
بابا فرید پانچ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے تھے آپ بغیر کسی شک و شبہ کے پنجابی ادب کے پہلے اور پنجابی شاعری کی بُنیاد مانے جاتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے مُشہور بزرگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اسلام کی شمع جلائی اور صرف ایک اللہ کی دُنیا کی پہچان کروائی۔
بابا فرید584/ 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ کہتے ہیں کہ بابا فرید کے والد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔
بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔
شاعری
ان کی شاعری میں فارسی، عربی، سنسکرت کے الفاظ ملتے ہیں۔ وہ پنجابی شاعری کے پہلے شاعر ہیں۔
چشتیہ سربراہ
مرشد کی وفات پر ان کو چشتیہ سنگت کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کاکی کے بعد اس کے تیسرے سربراہ تھے۔ اور حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرشد تھے۔
عظیم صوفی بزرگ تھے جنھوں نے جاگیر ہونے کے باوجود اجودھن (پاکپتن) جو اس وقت کفرستان تھا، قبرستان میں اگنے والی جھاڑی (کری) سے ڈیلے حاصل کر کے پانی میں ابال کر کھاتے لیکن کبھی کسی سے مستعار شے لے کر نہ کھائی۔
انھوں نے دیگر علما کرام، صوفیا کرام، مشائخ اور درویشوں کی طرح محبت، بھائی چارے، امن و امان اور باہمی میل جول کا درس دیا جس سے متاثر ہو کر لوگوں نے اسلام قبول کیا۔
وصال
سلسلہ چشتیہ کے یہ آفتاب ولایت 95 سال کی عمر میں 5محرم الحرام 690ہجری کو علالت کے سبب دنیا سے پردہ فرما گئے، آپ کے وصال کے وقت آپ کے عزیز ترین محبوب خواجہ نظام الدین اولیاؒ آپ کے پاس نہ تھے جس طرح آپ اپنے پیرومرشد قطب الدین بختیار کاکی کے وصال کےوقت موجود نہ تھے۔
آپ کا مزار مبارک ملتان کے قریب پاک پتن شریف میں واقع ہے جہاں عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے[2]۔
- ↑ آفتاب ولایت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کی زندگی پر ایک نظر-شائع شدہ از: 7 اکتوبر 2016ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 3 جولائی 2026ء
- ↑ مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے مدد لی گئی، سیرالاولیاء: مولف حضرت امیر خورد کرمانیؒ،فوائدالفواد: مولف حضرت امیر العلا سنجریؒ،خیر المجالس: ملفوظات خواجہ نصیر الدین چراغ دہلی ؒ، کتاب سیرالاقطاب، شیخ اللہ دیا چشتی ،مترجم محمد علی جویا مراد آبادی، اللہ کے سفیر: تصنیف خان آصف