امین عباد بن عباس طالقانی
| امین عباد بن عباس طالقانی | |
|---|---|
| پورا نام | ابوالقاسم اسماعیل بن عبّاد |
| دوسرے نام | صاحب بن عباد، شیخ امین عباد بن عباس طالقانی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 326 ء |
| پیدائش کی جگہ | اصفہان |
| وفات | 385 ء |
| اساتذہ | احمد بن فارس رازی لغوی، ابوالفضل عباس بن محمد، نحوی ابوالفضل بن عمی ، ابوسعید سیرافی، قاضی ابی بکر بن کامل، عبدالله بن جعفر بن فارس، احمد بن کامل بن شجره |
| شاگرد | شیخ عبدالقاهر جرجانی، حسن بن قاسم بغدادی معروف به رازی نحوی، ابوبکر بن مقرئ، قاضی ابوطیب طبری، ابوبکر بن علی ذکوانی. |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
امین عباد بن عباس طالقانی (326 - 385ق)، ملقب به صاحب و مشهور به صاحب بن عَبّاد، ادیب، نویسنده، شاعر اور شیعہ مذہب وزیر دربار آل بویہ (مؤیدالدولہ و فخرالدولہ) تھے۔ ان کی سب سے مشہور ادبی کتاب «المحیط فی اللغة» ہے۔
پیدائش
وہ عباس کے بیٹے تھے جو صاحب کے لقب سے مشہور تھے اور صاحب بن عبّاد کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی پیدائش 16 ذی القعدہ سن 326 ہجری میں اصفہان میں ہوئی۔ جیسا کہ صاحب بن عباد نے اپنی بعض اشعار میں اشارہ کیا ہے، اگرچہ بعض دلائل ان کے طالقانی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس قول کے ثبوت کے لیے ثعالبی کی ایک روایت کا حوالہ دیا جاتا ہے جو عباد بن علی کی بیٹی کے حوالے سے صاحب کے بارے میں لائی گئی ہے، لیکن ان دونوں ظاہراً متضاد اقوال میں تطبیق یہ معلوم ہوتی ہے کہ اصفہان میں بھی طالقان نامی ایک مقام موجود تھا، اور یہ مقام ظاہراً ایک ایسا گاؤں ہے جو اب بھی موجود ہے اور طاخونچہ کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم دفاتر میں طاقانچہ کو چھوٹا طالقان لکھا جاتا تھا۔ طالقانچہ اب بلوک لنجان اور سمیرم کے درمیان واقع ہے[1]۔
خاندان
صاحب کے والد اور اجداد اصفہان کے بزرگان اور مشہور شخصیات تھے اور وزارت کے مرتبے پر فائز تھے۔ عباس، صاحب کے والد، بزرگی اور احترام کی اس حد تک پہنچے تھے کہ لوگ انہیں «شیخ امین» کہتے تھے۔
تعلیم
انہوں نے مقدماتی علوم حاصل کرنے کے بعد فقہ، حدیث، تفسیر، کلام اور دیگر رائج علوم کی تحصیل کی۔ کچھ عرصے بعد جب وہ اصفہان کے اساتذہ اور بزرگان سے بے نیاز ہو گئے تو وہ «رے» کی طرف ہجرت کر گئے جو اس وقت علم و ادب کا مرکز تھا، اور وہاں وہ «ابن عمید» کے حلقہ درس میں شامل ہو گئے جو آل بویہ کے دانشمند اور مشہور وزیر تھے۔ ابن عمید نے «صاحب» کی ادبی متون کی تحریر میں صلاحیت کو دیکھا اور انہیں وزارت کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا۔ صاحب کی ان امور میں مہارت اور صلاحیت نے ترقی کا راستہ ان کے لیے ہموار کر دیا یہاں تک کہ جب رکن الدولہ نے اپنے بیٹے مؤیدالدولہ کو اصفہان کا گورنر مقرر کیا تو صاحب بھی ان کے منشی اور مصنف کے طور پر اپنے آبائی شہر اصفہان واپس آ گئے۔
اساتذہ
صاحب کے تمام اساتذہ کی تفصیلات مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔ ان کے بعض اہم اساتذہ یہ ہیں:
- عبّاد (ان کے والد)، ابن عمید،
- ابن فارس،
- ابوسعید حسن بن عبدالله سیرافی،
- ابوبکر محمد بن یعقوب،
- قاضی ابوبکر احمد بن کامل،
- ابوزکریّا یحیى بن عدّى،
- ابوعمر صباغ۔
شاگرد
ان کے بعض شاگردوں کے نام درج ذیل ہیں:
- شیخ عبد القاهر جرجانی،
- ابوبکر بن مقری،
- قاضی ابوطیب طبری،
- ابوالفضل محمد بن ابراهیم نسوی شافعی،
- ابوبکر علی ذکوانی۔
مذہب
بہت سے بزرگان نے تشیع اور بعض نے ان کے بارہ امامی ہونے کی تصریح کی ہے۔ سید بن طاووس، شیخ صدوق، علامہ مجلسی، شیخ حر عاملی، شیخ بہائی، اور بہت سے دیگر اسی زمرے میں آتے ہیں۔ بزرگان کی تصریحات کے علاوہ، صاحب سے باقی بچنے والی اشعار پر غور اور ان کا ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی ولایت اور دوستی کے لیے جوش و جذبہ اس عظیم شخصیت کے شیعہ ہونے کی بہترین دلیل ہے۔
عہدے
جب صاحب وزارت کے عہدے پر پہنچے تو انہوں نے امور کی اصلاح کا ارادہ کیا اور پہلے قدم کے طور پر ناپسندیدہ بدعتوں اور ظالمانہ رسومات کو ختم کر دیا۔ وہ عدالت کے نفاذ اور لوگوں پر سے ظلم کے خاتمے میں بہت کوشاں تھے۔ وزارت کے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی انہوں نے علم و معرفت کے حصول کو فراموش نہیں کیا۔ وہ چاہے اصفہان، بغداد اور رے کے شہروں میں قیام کے دوران ہوں یا سفر میں، ہمیشہ بعض علماء اور بزرگانِ علم کے ہمراہ رہتے تھے اور یہاں تک کہ فوجی مہمات کے دوران بھی بحث و گفتگو کے مجالس قائم کرتے تھے۔
توجہات
ان کی اہل قلم کی تالیفات پر خاص عنایت اور توجہ تھی اور جب بھی انہیں کسی نئی کتاب کی تالیف کا علم ہوتا تو وہ بڑی کوشش اور محنت سے اس کی ایک نسخہ حاصل کرتے اور اپنی ذاتی لائبریری میں مطالعے کے لیے رکھ لیتے۔ ان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں وہ ایک عظیم اور بے مثال لائبریری قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ صاحب کی لائبریری میں اس دور کی زیادہ تر علمی آثار اور تالیفات شامل تھیں اور بہت سے دانشوروں اور مصنفین نے اس قیمتی خزانے سے استفادہ کیا۔ چوتھی صدی ہجری کے مشہور جغرافیہ دان «مقدسی» نے خود تصریح کی ہے کہ انہوں نے صاحب کی بڑی لائبریری سے بہت زیادہ استفادہ اور فائدہ اٹھایا ہے۔
صاحب بن عبّاد اور ان کے ہم عصر بزرگان کے درمیان اچھے تعلقات کے بارے میں بہت سی حکایات اور واقعات دستاویزات اور مصادر میں نقل کیے گئے ہیں جو صاحب بن عباد کے لیے ان کے ہم عصرین کی تعظیم و تکریم اور ستائش کی عکاسی کرتی ہیں۔ صاحب نے شعر کے تمام ابواب اور فنون جیسے مدح، وصف، رثاء، ہجو، ہزل، مواعظ وغیرہ میں اشعار کہے ہیں اور ہر فن میں نئے معانی اور تازہ و دقیق مضامین لا کر اپنی طبع کی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ائمہ اور امام علی کی توصیف اور ان کے بلند مقام کے بیان میں متعدد اشعار کہے ہیں۔
صاحب بن عبّاد کی شخصیت کی عظمت کے لیے یہی کافی ہے کہ علامہ امینی ان کے بارے میں فرماتے ہیں: «وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ سیرت نگار جتنا بھی ادیب اور سخن دان ہو، ان کی فضیلتوں اور مکارم کے بیان سے قاصر رہتا ہے، اس کی زبان حلق میں خشک ہو جاتی ہے۔»
آثار
صاحب کے قلم سے مذکورہ علوم کے حوالے سے متعدد آثار باقی بچے ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے[2]:
- کتاب الابانہ (علم کلام پر)؛
- الاقناع (علم عروض پر)؛
- الامثال السائرہ (ادبی علوم پر)؛
- التذکرہ (کلام اور اصول دین پر)؛
- دیوان اشعار؛
- رسائل صاحب (اخلاقی، اعتقادی اور سماجی مباحث پر مشتمل)؛
- حضرت عبدالعظیم حسنی(علیہ السلام) کے فضائل پر ایک رسالہ؛
- علم طب پر ایک رسالہ؛
- عنوان المعارف؛
- الفرق بین الضاد والظاء؛
- المحیط (علم لغت پر)؛
- الروزنامچہ (وہ دفتر جس میں صاحب اپنے تمام سرکاری روزمرہ کے کاموں کو درج کیا کرتے تھے)[3].
وفات
زندگی کے آخری ایام میں وہ بیمار اور ناتواں ہو گئے اور بستر علالت پر گر پڑے۔ بستر بیماری پر بھی وہ مملکت کے امور سے غافل نہ رہے اور ملک کی صورت حال سے باخبر رہتے تھے۔ بالآخر جمعرات کی رات 24 صفر المظفر سن 385 ہجری کو انہوں نے اپنے پروردگار کو لبیک کہا۔