مندرجات کا رخ کریں

ابوہریرہ

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 11:35، 18 مئی 2026ء از Translationbot (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (ترجمه خودکار از ویکی فارسی)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

سانچہ:جعبه اطلاعات شخصیت

ابوہریرہ نے 30 سال کی عمر میں ہجرت کے ساتویں سال پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے بیعت کی۔ وہ اصحاب صفہ میں سے تھا۔ تاریخ میں اسے کوئی مہم سپرد کرنے، جنگوں میں شرکت یا خاص مواقع پر پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے ہمراہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اس نے کل تین سال پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی صحبت پائی، لیکن اہل سنت کی کتابوں میں ابوہریرہ سے منقول روایات کی تعداد پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے دیگر اصحاب جیسے علی (علیہ السلام)، ابوبکر، عمر اور عائشہ سے منقول روایات سے کہیں زیادہ ہے۔ ابوہریرہ کی جانب سے حدیث گھڑنے کا معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ عمر نے اپنے دورِ خلافت میں اسے کوڑے مارے اور اسے پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی طرف جھوٹی حدیث منسوب کرنے سے باز رہنے کی سختی سے تاکید کی۔ ابوہریرہ سے سب سے زیادہ احادیث عثمان اور معاویہ کے دور میں نقل کی گئیں۔ اس کا نسب قبیلہ (الأزد اعظم) سے ملتا ہے جو یمن کے قبائل میں سے ایک ہے۔ وہ خیبر کی فتح کے بعد یثرب آیا اور وہاں ظاہری طور پر اسلام لایا۔


ابوہریرہ کا تعارف

عمیر بن عامر بن ذی الشری[1] یمن کے قبیلہ ازد کی شاخ دوس سے تھا[2]۔ سیرت نگاروں نے اس کے نام میں بہت زیادہ اختلاف کی وجہ سے اس کا تعارف کنیت کے تحت بیان کیا ہے۔ رجالی اور تاریخی کتابوں میں اس کے لیے 18 سے زائد نام درج کیے گئے ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

  1. عبدالرحمن بن صخر؛
  2. عبداللہ بن عامر؛
  3. عبداللہ بن عائذ؛
  4. سکین بن صخر؛
  5. عامر بن عبدشمس[3]۔

میمونہ، امیمہ[4]۔ اس کی والدہ کا نام صفیح بنت صبیح بن حارث تھا[5]، جو ابوہریرہ کی روایت کے مطابق پیغمبر کی دعا سے مسلمان ہوئی۔ چونکہ وہ 58 ہجری میں 78 سال کی عمر میں انتقال کر گیا، اس لیے اس کی پیدائش ہجرت سے تقریباً 20 سال قبل مانی جاتی ہے[6]۔

یہ ابوہریرہ کی کنیت سے مشہور ہوا۔ اپنی ہی روایت کے مطابق، چونکہ اس نے جوانی میں ایک بلی پالی تھی[7]، اس لیے اس کے والد نے یہ کنیت رکھی[8]۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ کنیت رسول اللہ نے دی تھی[9]۔ یہ بات قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ کسی کو برا لقب نہیں دیتے تھے، بلکہ برے القاب اور ناموں کو تبدیل فرماتے تھے۔ اسے شیخ المَضِیرہ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ مضیرہ (معاویہ کی ایک خاص اور لذیذ غذا) کی دسترخوان پر حاضر ہوتا تھا[10]۔ اسے شوخ طبع، گندمی رنگت، چوڑے شانوں والا، لمبے بالوں والا، کھلے دانتوں والا، زرد رنگ سے خضاب کی ہوئی لمبی داڑھی والا اور مونچھیں منڈوا ہوا بیان کیا گیا ہے[11]۔


ابوہریرہ اصحاب صفہ میں سے

ابوہریرہ اصحاب صفہ میں سے تھا، جیسا کہ ابونعیم اصفہانی نے صراحت کی ہے کہ ابوہریرہ اہل صفہ کا سب سے معروف فرد تھا اور پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی زندگی بھر وہیں سے منتقل نہیں ہوا اور تمام اہل صفہ کو اچھی طرح جانتا تھا۔

ابوہریرہ اپنے بارے میں ایک روایت میں کہتا ہے: میں اہل صفہ میں سے تھا اور روزہ دار تھا۔ جب رات ہوئی تو پیٹ درد کی وجہ حاجت کے لیے باہر نکلا اور جب واپس آیا تو کھانا ختم ہو چکا تھا۔ میں نے سوچا کہ اب کھانا ختم ہو گیا ہے تو میں کس کے پاس جاؤں؟ کسی نے کہا: عمر بن خطاب کے پاس جاؤ۔ جب میں عمر کے پاس پہنچا تو وہ نماز کے بعد تسبیح پڑھ رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہوئے تو میں نے ان سے کہا کہ میرے لیے قرآن پڑھیں، حالانکہ مجھے کھانے کے سوا کچھ نہیں چاہیے تھا۔ پھر انہوں نے سورہ آل عمران کی کچھ آیات پڑھیں۔ جب وہ گھر پہنچے تو مجھے دروازے پر چھوڑ کر اندر چلے گئے لیکن دیر کر گئے۔ میں نے سوچا شاید وہ کپڑے ہلکے کر رہے ہوں گے پھر حکم دیں گے کہ میرے لیے کھانا لایا جائے، لیکن میں نے کچھ نہ دیکھا۔ زیادہ انتظار کے بعد میں اٹھا اور چل پڑا اور رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے ملاقات ہو گئی۔ میں ان کے ساتھ چلتا ہوا گھر تک پہنچا۔ آپ نے ایک کالی لونڈی کو بلایا اور فرمایا: وہ برتن لاؤ۔ اس نے ایک برتن لایا جس میں تھوڑا سا کھانا باقی تھا۔ گویا جو کا کھانا تھا جو کھانے کے بعد برتن کے کناروں پر لگا ہوا تھا۔ میں نے اتنا کھایا کہ سیر ہو گیا[12]۔


احادیث کی کثرت

اگرچہ ابوہریرہ نے پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی صحبت کی وجہ بھوک کو بیان کیا ہے[13]، لیکن تین سال کے عرصے میں اس کی روایات کی تعداد تمام صحابہ سے زیادہ ہے۔ جیسا کہ وہ خود کہتا ہے: «پیغمبر کے اصحاب میں سے میرے سوا کسی نے اتنی احادیث نقل نہیں کیں سوائے عبداللہ بن عمرو بن العاص کے، کیونکہ وہ احادیث لکھتا تھا اور میں نہیں لکھتا تھا[14]۔» حالانکہ عبداللہ بن عمرو سے منقول تمام احادیث کی تعداد 724 حدیث ہے اور وہ بھی صرف دعا کے باب میں ہیں۔ بخاری نے عبداللہ بن عمرو سے سات احادیث اور مسلم نے 21 احادیث نقل کی ہیں، جبکہ ابوہریرہ سے منقول روایات مسانید اور صحاح میں 5374 حدیث ہیں۔ ذیل میں پیغمبر کے بعض بڑے صحابہ سے منقول روایات کی تعداد کا ذکر کیا جا رہا ہے، جس کے جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ ابوہریرہ کی روایات کی تعداد ان تمام افراد کی روایات کے مجموعے سے زیادہ ہے:

  1. ابوبکر، 142 حدیث[15]۔
  2. عمر 537 حدیث[16]۔
  3. عثمان 146 روایت[17]۔
  4. علی بن ابی طالب (علیہ السلام) 586 حدیث[18]۔
  5. عائشہ اور انس 2300 سے زائد حدیث[19]۔

حدیث کی جعل سازی

ابوہریرہ نے ایک جماعت کے سامنے نقل کیا کہ رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: «افضل الصدقات …»۔ سب نے ابوہریرہ سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) سے سنی ہے؟ ابوہریرہ نے سوال کرنے والوں کے جواب میں کہا: نہیں، یہ ابوہریرہ کے تھیلے کی برکت ہے[20]۔ ابوہریرہ نے لوگوں کے سامنے صراحت کے ساتھ حدیث بنانے کا اعتراف کیا۔ روایات کی کثرت اور اصحابِ صفہ کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ابوہریرہ کی جانب منسوب جعلی احادیث کی تعداد بہت زیادہ ہو۔

ابوہریرہ تمام صحابہ کی نسبت کہیں زیادہ احادیث نقل کرتے تھے؛ اسی وجہ سے وہ اپنے زمانے میں ہی حدیث گھڑنے اور رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) پر جھوٹ منسوب کرنے کے لیے مشہور تھے۔ سعید عقیری نقل کرتے ہیں کہ ابوہریرہ مسلسل کہتے تھے کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) پر جھوٹی حدیثیں گھڑتا ہے اور احادیث میں مبالغہ آرائی کرتا ہے…[21]۔

ابوہریرہ کی جانب سے احادیث میں مبالغہ آرائی اور جعل سازی کا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ عمر نے انہیں کوڑے مارے اور کہا: اے ابوہریرہ! تم احادیث میں مبالغہ آرائی کرتے ہو، رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) پر جھوٹ منسوب کرنے سے ڈرو[22]۔

ان کی زیادہ تر احادیث معاویہ اور عثمان کے دورِ حکومت میں مروان بن حکم اور خود معاویہ کی ترغیب پر جاری ہوئیں۔ ایک روایت میں ابوہریرہ رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) سے نقل کرتے ہیں کہ نبی نے فرمایا: «خداوند نے تین افراد کو اپنی وحی کا امین بنایا ہے: میں، جبرئیل اور معاویہ[23]۔»!


دوسروں کی نظر میں ابوہریرہ

شمس‌الدین ذہبی، جو اہلِ سنت کے بڑے ترین علمائے رجال میں سے ہیں، لکھتے ہیں: «سائب بن یزید نے عمر سے سنا کہ وہ ابوہریرہ سے کہہ رہے تھے: یا تو رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) سے حدیث نقل کرنا چھوڑ دو گے یا میں تمہیں دوس کی سرزمین (ابوہریرہ کی مادر وطن) میں تبعید کر دوں گا[24]۔»

اگر ابوہریرہ کی منقولہ احادیث واقعی رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) سے ہوتیں، تو عمر انہیں اس کام سے کیوں روکتے اور حتیٰ انہیں تبعید کی دھمکی کیوں دیتے؟ کیا ممکن ہے کہ عمر آنحضرت کے صحابہ کو بغیر کسی وجہ کے سزا دیں؟ شاید اسی لیے ایک اور روایت میں خود ابوہریرہ اعتراف کرتے ہیں کہ جو احادیث میں اب بیان کرتا ہوں، اگر عمر کے زمانے میں بیان کرتا تو وہ میرا سر پھاڑ دیتے: «ابوہریرہ کہتے تھے: میں ایسی احادیث بیان کرتا ہوں کہ اگر میں انہیں عمر کے زمانے میں بیان کرتا تو وہ یقیناً میرا سر پھاڑ دیتے[25]۔»

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے نزدیک ابوہریرہ سب سے زیادہ جھوٹا شخص:

ابن ابی الحدید جو شافعی اور معتزلی تھے، اپنے استاد ابوجعفر اسکافی سے نقل کرتے ہیں: «علی (علیہ‌السلام) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: خبردار! رسول اللہ (صلّی‌اللہ علیہ وآلہ) پر سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا شخص، یا یوں کہا جائے کہ زندہ لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا ابوہریرہ دوسی ہے[26]۔»

روایت نقل کرنے میں ابوہریرہ کی تدلیس اور فریب کاریاں:

روایات نقل کرنے میں ابوہریرہ کی تدلیس اور فریب کاریاں ان مسائل میں سے ہیں جن پر اہلِ سنت کے علمائے رجال متفق ہیں؛ جیسا کہ شمس الدین ذہبی ابوہریرہ کے ترجمۂ حال میں لکھتے ہیں: «یزید بن ہارون کہتے ہیں: میں نے شعبہ سے سنا کہ وہ کہتے تھے: ابوہریرہ روایات نقل کرنے میں تدلیس کرتا تھا[27]۔»

عمر بن خطاب کے نقطہ نظر سے ابوہریرہ کی خدا سے دشمنی:

مورخین نے نقل کیا ہے کہ عمر بن خطاب نے 21 ہجری میں ابوہریرہ کو بحرین کا گورنر مقرر کیا۔ کچھ عرصے بعد انہیں خبر دی گئی کہ ابوہریرہ نے بہت زیادہ مال و دولت جمع کر لی ہے۔ اسی لیے انہوں نے 23 ہجری میں ابوہریرہ کو مدینہ بلوایا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کے بعد مخاطب کرتے ہوئے کہا: «اے خدا کے دشمن اور خدا کی کتاب کے دشمن! کیا تو نے خدا کا مال چوری کیا ہے؟» ابوہریرہ نے جواب دیا: «میں نے چوری نہیں کی، یہ وہ تحائف ہیں جو لوگوں نے مجھے دیے ہیں[28]۔»

اگرچہ یہ فطری ہے کہ ابوہریرہ اپنے عمل کی توجیہ پیش کرے، لیکن فرض کریں کہ ایسا ہی ہے، تو پھر ان سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ اگر وہ گورنر نہ ہوتے، تو کیا لوگ انہیں یہ تحائف دیتے؟ اور آخر میں یہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ شاید کہا جائے کہ اہل سنت کی کتابوں کی اکثریت روایات ابوہریرہ سے منقول ہیں، لہٰذا ابوہریرہ کی وثاقت میں شک کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں: نہ صرف روایات کی کثرت وثاقت کی دلیل نہیں ہے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ یہی موضوع روایت میں تدلیس (فریب) کے وقوع پذیر ہونے کے شبہات اور امکانات کو بڑھا دے۔


مزید دیکھیے


حوالہ جات

  1. سیر اعلام النبلاء، ج2، ص578؛ تہذیب الکمال، ج34، ص366۔
  2. الطبقات، ابن سعد، ج5، ص196؛ جمہرہ انساب العرب، ص381-382؛ البدایۃ و النہایۃ، ج8، ص103۔
  3. الاستیعاب، ج4، ص1768-1769؛ اسد الغابہ، ج5، ص319؛ الاصابہ، ج7، ص352۔
  4. المعارف، ص277؛ الاصابہ، ج8، ص32۔
  5. المعارف، ص227؛ سیر اعلام النبلاء، ج2، ص579۔
  6. الاصابہ، ج7، ص362۔
  7. الطبقات، ابن سعد، ج4، ص245؛ اسد الغابہ، ج5، ص320۔
  8. تاریخ دمشق، ج67، ص298؛ البدایۃ و النہایۃ، ج8، ص103۔
  9. الاستیعاب، ج4، ص1770؛ البدایۃ و النہایۃ، ج8، ص103۔
  10. ربیع الابرار، ج3، ص227؛ الکنی و الالقاب، ج1، ص181۔
  11. المعارف، ص278؛ سیر اعلام النبلاء، ج2، ص586۔
  12. حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۳۷۸، ابونعیم اصفہانی، دارالکتب العلمیہ بیروت، ط اول، ۱۴۰۹ ہـ، متوفی ۴۳۰۔
  13. حلیۃ الاولیاء، ج۱، ص۳۷۸، ابونعیم اصفہانی، دارالکتب العلمیہ بیروت، ط اول، ۱۴۰۹ ہـ، متوفی ۴۳۰۔
  14. اضواء علی السنۃ المحمدیہ ص۲۰۱، محمود ابوریہ، داراکتب اسلامی۔
  15. تاریخ الخلفاء ص۸۱، جلال الدین سیوطی، دارالفکر بیروت، ط ۱۴۲۱ ہ۔
  16. تاریخ الخلفاء، ص۱۰۲۔
  17. تاریخ الخلفاء، ص۱۳۹۔
  18. تاریخ الخلفاء، ص۱۵۷۔
  19. نظرہ عابرہ الی صحاح الستہ، عبدالصمد شاکر۔
  20. صحیح بخاری، ج۷، ص۱۲۰، رقم۲۶۹، دارالقلم بیروت، ط اول، ۱۴۰۷ق، بخاری۔
  21. اسدالغابہ، ج۵، ص۳۲۰، ابن اثیر علی بن محمد جزری، دارالفکر بیروت، ط ۱۴۰۹ق۔
  22. سیر اعلام النبلاء، ج۴ ص۱۸۸، محمدبن احمد ذہبی، م ۷۴۸، دارالفکر بیروت، ط اول، ۱۴۱۷ق۔
  23. سیر اعلام النبلاء، ج۴، ص۲۱۰۔
  24. «عن السّائب بن یزید: سمع عمر یقول لأبی هریرة: لتترکنّ الحدیث عن رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) أو لألحقنّک بأرض دوس۔» تاریخ أبی رزعة الدمشقی، شیخ الشباب، دارالنشر، بیروت، ج 1، ص 73۔
  25. «عن إبن عجلان: أنّ أبا هریرة کان یقول: إنّی لأحدّث أحادیث، لو تکلّمت بها فی زمن عمر، لشجّ رأسی۔» تاریخ مدینة دمشق، إبن ہبة الله شافعی، دار الفکر، بیروت، ج 67، ص 343۔
  26. «و قد روی عن علیّ (علیہ السّلام) أنّہ قال: ألا إنّ إکذب النّاس، أو قال: أکذب الأحیاء، علی رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) أبوهریرة الدوسی۔» شرح نہج‌البلاغہ، إبن أبی الحدید، دار الکتب العلمیة، بیروت، ج 4، ص 40۔
  27. «قال یزید بن ہارون: سمعت شعبة یقول: کان أبوهریرة یدلّس۔» سیر أعلام النبلاء، ذہبی، مؤسسة الرسالة، بیروت، ج 2، ص 608۔
  28. «یا عدوّ الله و عدوّ کتابه، أسرقت مال الله؟! لم أسرق و إنّما عی عطایا النّاس لی۔» الطبقات الکبری، بصری زہری، دار صادر، بیروت، ج 4، ص 335۔

سانچہ:علمائے اسلام