ابوحمزہ ثمالی
| ابوحمزه ثمالی | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | ثابت بن دینار ثُمالی (ابوحمزہ ثمالی) |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 65 ق |
| پیدائش کی جگہ | کوفہ |
| وفات | 150 ق |
| وفات کی جگہ | مدینہ |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب | راوی دعائے ابوحمزہ ثمالی |
ثابت بن دینار معروف بہ ابوحمزہ ثمالی کوفہ کے بزرگوں اور علی بن الحسین کے اصحاب میں سے ایک مشہور شخصیت تھے۔ وہ علم حدیث، فقہ اور تفسیر کے استاد تھے اور اہلبيت (علیهالسّلام) کے معارف شیعیان کو سکھاتے تھے۔ انہوں نے امام سجاد (علیهالسّلام) سے ایک بہت ہی فضیلت والی دعا سیکھی اور روایت کی جو ماہ رمضان کی سحریوں میں پڑھی جاتی ہے اور دعائے ابوحمزہ کے نام سے مشہور ہو گئی ہے۔
سوانح حیات
ان کی سال پیدائش بالکل معلوم نہیں ہے، لیکن چونکہ انہوں نے ذاذان کِندی (متوفی 82) سے روایت نقل کی ہے، اس لیے وہ 82 ہجری سے پہلے پیدا ہوئے ہوں گے۔ ابوحمزہ کوفہ کے رہنے والے تھے۔
ابوحمزہ ثمالی متدین اور امام زینالعابدین (علیهالسّلام) کے نیک ساتھی تھے۔ وہ امام محمد باقر اور امام جعفر صادق (علیهماالسّلام) کے ساتھیوں میں سے بھی تھے۔
نجاشی نے کہا: "وہ ہمارے بہترین اصحاب اور روایت و سنت میں سب سے زیادہ قابل اعتماد تھے۔" علی الرضا سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا: "ابوحمزہ اپنے زمانے میں ویسے ہی تھے جیسے اپنے زمانے میں سلمان فارسی تھے۔" ان کی دعا قبول ہوتی تھی۔
ابوحمزہ کے تین بیٹے، یعنی حمزہ، نوح اور منصور، بھی زیدبن علی کی قیام میں شہید ہوئے۔ ان کا انتقال 150 ہجری قمری میں ہوا۔
قبیلہ
آل مہلب انہیں اپنا غلام سمجھتے تھے، لیکن نجاشی نے اس دعویٰ کی تردید کی ہے۔ ابن بابویہ نے انہیں قبیلہ طی اور شاخ بنوثُعَل سے بتایا ہے اور ابوحمزہ کے ثمالی کہلانے کی وجہ ان کا قبیلہ ثُمالہ (شاخ اَزْد) کے محلے میں رہنا بتایا ہے۔ ابوحمزہ کا کوفہ میں زیدبن علی سے رابطہ تھا اور انہوں نے کوفہ میں ان کی دعوت اور شہادت کو دیکھا۔
ابوحمزہ ثمالی کا امام زینالعابدین (علیهالسّلام) سے تعارف
ابوحمزہ ثمالی نے پہلی بار امام سجاد (علیهالسّلام) سے اس وقت ملاقات کی جب وہ مدینہ سے کوفہ تشریف لائے اور ان کے دیوانے اور ان سے محبت کرنے والے ہو گئے۔
وہ کہتے ہیں: "حضرت کے مسجد کوفہ میں نماز ادا کرنے کے بعد، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں تشریف لائے؟ حضرت نے فرمایا: نماز ادا کرنے کے لیے؛ اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ مسجد کوفہ میں نماز پڑھنے کی کتنی فضیلت ہے، تو وہ چار ہاتھ پاؤں کے بل بچوں کی طرح اس کی طرف دوڑتے"۔
پھر دونوں نے مل کر امیرالمومنین علی (علیهالسّلام) کے مزار کی زیارت کی۔ راستے میں انہوں نے علی بن الحسین (زین العابدین) کے معارف کے خزانے سے فیض حاصل کیا۔
زیارت کے بعد، امام مدینہ واپس تشریف لے گئے اور ابوحمزہ کوفہ لوٹ آئے۔ اس کے بعد ابوحمزہ کئی بار فقیهان شیعه کے ایک گروہ کے ساتھ امیرالمومنین علی (علیهالسّلام) کے مزار کی زیارت کے لیے گئے۔ ان سفروں میں وہ ہم سفروں کو اہلبیت کے معارف، تفسیر، حدیث اور فقہ سکھاتے تھے۔
اہل تسنن کے نزدیک ابوحمزہ کی اعتباریت
اگرچہ اہلسنت شیعہ راویوں سے، خاص طور پر جب وہ اس مذهب کی خاص توجہ کا مرکز ہوں، کم روایت نقل کرتے ہیں، لیکن ابوحمزہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی روایات ان کے ہاں بہت زیادہ مقبول ہیں، یہاں تک کہ ابن عساکر نے مختلف مقامات پر اور ابن کثیر نے بہت سے مواقع پر ان کی اخبار اور روایات سے استدلال کیا ہے،
اور ابوالفرج اصفهانی نے بھی الأغانی میں ان سے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ شیعہ رجالیوں کے ہاں بھی ابوحمزہ کی تعریف اور تعدیل کی گئی ہے اور نجاشی نے انہیں ثقہ افراد میں شمار کیا ہے۔
ان کے مقام کے بیان میں، ان کے لیے ایک کرامت بھی ذکر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے امام سجاد (علیهالسّلام) سے سیکھی ہوئی دعا اپنے بیٹے کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ پر پڑھی تو وہ فوراً ٹھیک ہو گیا، یہاں تک کہ یحییٰ بن عبداللہ ہڈی جوڑنے والا یہ نہیں بتا سکا کہ ان کا کون سا ہاتھ ٹوٹا تھا۔
دعائے ابوحمزہ ثمالی
ابوحمزہ عرفانی مناجاتوں، عاشقانہ عبادتوں، شبانہ ترنمات، خالقِ یکتا کی اطاعت اور مکتبِ ائمہ (علیہم السلام) کی شاگردی کی بدولت صاحبِ کرامت بنے۔
ابوحمزہ ثمالی نے علم و حکمت کے حصول میں دن رات کی جانکاہ کوششوں اور سرگرمیوں کے نتیجے میں اس مقام کو پایا کہ وہ علمِ حدیث، فقہ اور تفسیر کے استاد کے طور پر مسندِ تدریس پر فائز ہوئے اور شیعیانِ اہل بیت کو معارفِ اہل بیت (علیہم السلام) سے آگاہ کیا۔
ابوحمزہ ثمالی اپنا زیادہ تر وقت عبادت اور علوم اسلامی کی تدریس میں صرف کرتے تھے۔ وہ ائمہ (علیہم السلام) کے حضور، خاص طور پر امام زین العابدین (علیہ السلام) سے روحانی فیوض اور تربیت حاصل کرنے سے غافل نہ تھے۔ مشہور دعائے «ابوحمزہ ثمالی» کی سند سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوحمزہ ان نورانی راتوں میں چوتھے پیشوا امام سجاد (علیہ السلام) کے ہم نشین، ہم راز اور خادمِ دربار تھے۔
وہ اس سلسلے میں بیان کرتے ہیں: امام سجاد (علیہ السلام) ماہِ مبارک رمضان کی راتیں سحر تک نماز میں مشغول رہتے تھے اور جب سحر کا وقت ہوتا تو دعائے ابوحمزہ پڑھتے تھے: « اِلٰہِی لَا تُؤَدِّبْنِی بِعُقُوبَتِکَ، وَلَا تَمْکُرْ بِی فِی حِیلَتِکَ، مِنْ أَیْنَ لِیَ الْخَیْرُ یَا رَبِّ وَلَا یُوجَدُ إِلَّا مِنْ عِنْدِکَ ... »۔ دعائے ابوحمزہ طویل ہے اور قرآن کریم کے دو پاروں کے برابر ہے۔ دعا کے آخری فقرات ان عرفانی مضامین پر ختم ہوتے ہیں: « ... اللّٰهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَاناً تُبَاشِرُ بِهِ قَلْبِی، وَیَقِیناً صَادِقاً حَتَّیٰ أَعْلَمَ أَنَّهُ لَنْ یُصِیبَنِی إِلَّا مَا کَتَبْتَ لِی، وَرَضِّنِی مِنَ الْعَیْشِ بِمَا قَسَمْتَ لِی، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ»۔
دعائے ابوحمزہ ثمالی
ابوحمزہ ثمالی نے نقل کیا ہے کہ ماہِ رمضان میں علی زین العابدین زیادہ تر رات نماز میں گزارتے تھے اور جب روزہ شروع کرنے کا وقت ہوتا تو ایک دعا پڑھتے تھے جو بعد میں دعائے ابوحمزہ ثمالی (دعائے ابی حمزہ ثمالی) کے نام سے معروف ہوئی۔ یہ دعا کتاب مصباح المتهجد میں شیخ طوسی نے درج کی ہے۔
آثار
- کتاب تفسیر القرآن الکریم (قرآن کی ایک تفسیر)۔
- کتاب النوادر (نادر مسائل پر ایک کتاب)۔
- کتاب الزہد (زہد پر کتاب)۔
- رسالة الحقوق عن علی بن الحسین۔
خصوصیاتِ تفسیرِ ابوحمزہ
بعض کتب میں اسے «تفسیر ابوحمزہ» اور بعض میں «تفسیر القرآن الکریم» کہا گیا ہے۔ ابوحمزہ کی تفسیر میں دیگر مأثور تفاسیر کے برعکس مرسل احادیث کم پائی جاتی ہیں۔ ابوحمزہ نے اسبابِ نزول پر توجہ دی ہے اور فضائلِ اہل بیت (علیہم السلام) کو ملحوظ رکھتے ہوئے تفسیرِ قرآن بالقرآن کا طریقہ اپنایا ہے۔ نیز انہوں نے اجتہاد، قراءت، لغت، نحو اور آیات کے معانی میں مختلف آراء کی نقل پر خاص توجہ مبذول کی ہے۔
ابوحمزہ کے مقامِ عظمت کے بارے میں چند روایات
- ایک دن حضرت صادق (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا: «جب بھی میں تمہیں دیکھتا ہوں تو سکون محسوس کرتا ہوں۔»
- امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: «ابوحمزہ اپنے زمانے میں ویسے ہی تھے جیسے اپنے زمانے میں سلمان تھے۔»
- امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا: «ابوحمزہ ثمالی اپنے زمانے میں ویسے ہی تھے جیسے اپنے زمانے میں لقمان حکیم تھے۔»
مزید دیکھیے
حوالہ جات
ماخذ
- ابوحمزہ ثمالی کی سوانح حیات، امام سجاد (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے ایک - سایت بیتوته سے ماخوذ، تاریخِ درج: نامعلوم، تاریخِ مشاہدہ: 24 اسفند 1400 ہجری شمسی۔
