مندرجات کا رخ کریں

تناسخیہ

ویکی‌وحدت سے
تناسخیہ
نامتناسخیہ
عام نامتناسخیہ
نظریہغلات شیعہ، مشبہہ، اماموں کا خدا سے تشبیہ دینا۔

}} تناسخیہ، شیعہ فرقوں کے غالیان کے ایک گروہ کو کہا جاتا ہے۔ عبدالکریم شهرستانی کے بیان کے مطابق غالیان، اماموں کا خدا سے تشبیہ دیتے ہیں اور انہیں انسانوں کے جسم میں حلول کرنے والا مانتے ہیں اور «تناسخیوں» اور نصاریٰ کی طرح خدا کے «تجسیم» کے قائل ہیں۔

تاریخ

اعتقاد به تناسخ پیشینه ای قبل از اسلام دارد۔ عبدالکریم شهرستانی اس بارے میں لکھتے ہیں: «ما من ملة من الملل و إلاّ و للتناسخ فیها قدم راسخ و إنّما تختلف طرقهم فی تقریر ذلک[1]۔ یعنی کوئی بھی ملت ایسی نہیں ہے جس میں تناسخ کی جڑیں مضبوط نہ ہوں اور ان کا اختلاف صرف اسے بیان کرنے کے طریقے میں ہے۔


تناسخ در لغت

لغت میں تناسخ کی جڑ نسخ ہے۔ راغب اصفہانی نسخ کی تعریف میں لکھتے ہیں: نسخ یعنی کسی چیز کو اس چیز کے ذریعے ختم کرنا جو اس کے بعد آتی ہے، جیسے سورج سایہ کو اور سایہ سورج کی روشنی کو یا بڑھاپا جوانی کو ختم کر دیتا ہے[2]۔


تناسخ در اصطلاح

اصطلاح میں تناسخ سے مراد روح کا جسم سے الگ ہو کر کسی دوسرے جسم میں منتقل ہونے کا عقیدہ ہے۔ اس عمل کو نسخ کہا جاتا ہے۔ جبکہ روح کا جانور میں منتقل ہونا مسخ، حقیر اور چھوٹے جانوروں کے جسم میں منتقل ہونا فسخ اور پودوں اور جمادات میں منتقل ہونا رسخ کہلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ چاروں مراحل میں انسانی روح حس برتری طلبی اور اپنے گناہوں کی توبہ کرنا فراموش نہیں کرتی جیساکہ وہ تزکیہ نفس اور نیکی کے اثر سے حیوانی کے پست ترین مقام سے انسانی کے بالاترین مقام تک عروج کر سکتی ہے۔ ملطی لکھتے ہیں: «تناسخیہ» کا عقیدہ ہے کہ انسان صرف روح ہے اور اس کا بدن ایک لباس ہے جسے وہ مسلسل پہنتا اور بدلتا رہتا ہے اور وہ نجاسات جو منہ، ناک، معدہ، پیشاب، منی اور پسینے سے بدن سے خارج ہوتی ہیں، پاک اور صاف ہیں اور حتیٰ کہ انہیں کھایا بھی جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک صوفی شخص جس کا نام منیر تھا اور 545 ہجری قمری میں زندگی گزارتا تھا، اپنے شیخ (مرشد) کا غائط (پاخانہ) کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ پاک ہے[3]


اسلام میں تناسخ کے قائل فرقے

اس عقیدے کے پیروکاروں نے ہر سرزمین میں اپنے لیے ایک نام منتخب کیا ہے۔ اصفہان میں خرمیہ یا کودکیہ، ری میں مزدکیہ اور سنباذیہ اور آذربائیجان میں ذقولیہ اور ماوراء النہر میں، مُبیضہ یا سفید جامگان اور بعض دیگر مقامات پر، سرخ جامگان کہلاتے ہیں[4]


مزید دیکھیے


حوالہ جات

  1. عبدالکریم شهرستانی، الملل والنحل، ج 2 ص 255۔
  2. راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، تہران، انتشارات مرتضویہ، ص 490۔
  3. محمد‌جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، چ دوم، ص 124۔
  4. همان۔


مصادر

  • عبدالکریم شهرستانی، الملل والنحل، درج مواد کی تاریخ: نامعلوم، مواد دیکھنے کی تاریخ: 16 اسفند 1404 ہجری شمسی۔
  • راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، تہران، انتشارات مرتضویہ، درج مواد کی تاریخ: نامعلوم، مواد دیکھنے کی تاریخ: 16 اسفند 1404 ہجری شمسی۔
  • محمد‌جواد مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، انتشارات آستان قدس رضوی، سن 1372 ہجری شمسی، چ دوم، درج مواد کی تاریخ: نامعلوم، مواد دیکھنے کی تاریخ: 16 اسفند 1404 ہجری شمسی۔

سانچہ:فرق و مذاہب