مندرجات کا رخ کریں

شہادت

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 15:08، 27 اپريل 2026ء از Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Sajedi نے صفحہ مسودہ:شہادت کو شہادت کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

شہادت لغت میں ’’حاضر ہونا‘‘، ’’حضور کا ادراک‘‘، ’’مشاہدہ‘‘، ’’شاہد‘‘، ’’گواہی‘‘ اور ’’راہِ خدا میں قتل ہو جانا‘‘ کے معانی میں آتی ہے۔ اصطلاح میں اس کے دو معنی ہیں: ایک گواہی دینا جو بابِ شہادات میں استعمال ہوتا ہے، اور دوسرے راہِ خدا میں قتل ہونا جو بحثِ جهاد میں آتا ہے۔ اس تحریر میں دوسرا معنی مراد ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے شہادت کے دو بنیادی رکن ہیں:

  1. اللہ کی راہ میں اور مقدس مقصد کیلئے ہونا
  2. اور اس کام کا آگاهانہ طور پر انجام پانا

اس کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں: معنیٔ خاص: اللہ کی راہ میں جنگ کے میدان میں قتل ہونا، جس کے لیے فقہی احکام خاص ہیں، جیسے شہید کو غسل اور کفن کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسی کے خون آلود لباس میں دفن کیا جاتا ہے۔ معنیٔ عام: جنگ کے میدان سے باہر اللہ کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے قتل ہو جانا۔ ایسے حالات میں بعض فقہی احکام لاگو نہیں ہوتے، مگر چونکہ انسان راہِ الٰہی میں فریضہ ادا کرتے ہوئے دنیا سے گیا ہے، اس لیے روایات میں اسے بھی شہید شمار کیا گیا ہے۔ اس کے مصادیق میں شامل ہیں:[1]

  1. علم اور دانش کی طلب

پیامبر اسلام (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: «إِذَا جَاءَ اَلْمَوْتُ طَالِبَ اَلْعِلْمِ وَ هُوَ عَلَى هَذِهِ اَلْحَالِ مَاتَ شَهِيداً؛ جو شخص طلبِ علم کی راہ میں دنیا سے جائے وہ شہید مرتا ہے» [2]

  1. ناموس کا دفاع

امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «مَنْ مَاتَ مِنْكُمْ عَلَى فِرَاشِهِ وَ هُوَ عَلَى‏ مَعْرِفَةِ حقٍّ ... مَاتَ شَهِيداً؛ جو شخص اپنی ناموس کی راہ میں قتل ہو جائے اور حقِ پروردگار، رسول اور اہل بیت کو پہچانتا ہو، وہ شہید ہے» [3]

  1. مال کا دفاع

امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ؛ جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے» [4]

  1. غصہ ضبط کرنا

روایات کے مطابق جو شخص غصہ ضبط کرے وہ شہیدوں کا ثواب پاتا ہے اور قیامت میں انبیاء کے ہم نشین ہو گا، اور اس کا دل ایمان کے نور سے بھر دیا جائے گا [5].

  1. اہل بیت سے محبت

روایت میں آیا ہے: «مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ ... مَاتَ شَهِيداً؛ جو آلِ محمد کی محبت پر مر جائے، وہ شہید مرا»

  1. گناہ چھوڑنے والا

امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا: «مَا اَلْمُجَاهِدُ اَلشَّهِيدُ ... أَنْ يَكُونَ مَلَكاً؛ راہِ خدا کا مجاہد و شہید اُس شخص سے زیادہ اجر نہیں رکھتا جو گناہ پر قادر ہو کر بھی گناہ نہ کرے؛ قریب ہے کہ پاکدامن انسان ملائکہ میں شمار ہو» [6]

  1. ابتلاء پر صبر

امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: «مَنِ ابْتُلِی مِنَ الْمُؤمِنینَ بِبَلاءٍ ... فَكَأَنَّ لَهُ أَجْرَ أَلْفِ شَهِيدٍ؛ جو مؤمن کسی بلا میں مبتلا ہو اور صبر کرے، اس کے لیے ہزار شہید کا ثواب ہے»

  1. حقیقی منتظر

روایات میں حقیقی منتظر کے بارے میں آیا ہے: «بِمَنْزِلَةِ مَنِ اُسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ الله؛ وہ ایسے ہے جیسے رسول خدا کے ساتھ شہید ہوا ہو»

متأخر دور میں شہادت کا مفہوم

بعد کے ادوار میں، استعمار اور دشمنانِ اسلام کے خلاف جہاد کے مباحث کے سبب "راہِ خدا میں قتل ہونا" کے معنی میں لفظِ شہادت کو نئی زندگی ملی۔ تجدد پسند مسلمان مفکرین جیسے حسن البناء مصری اور سید قطب نے اپنی تحریروں میں اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے [7]۔ عصرِ حاضر میں اس کے مفاہیم میں وسعت آچکی ہے، جس میں مدافعینِ حرم، محورِ مقاومت، اور امن و صحت کے تحفظ کی راہ میں جان نثار افراد بھی شامل ہو گئے ہیں۔

آثارِ شہادت

قرآنِ کریم میں شہادت کے متعدد روحانی و ابدی آثار بیان ہوئے ہیں:[8]

آرام و اطمینان

وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ‏ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ‏... وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ.[9] ’جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں… اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے لیے خوشخبری حاصل کرتے ہیں کہ نہ ان پر کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

امور کی درستی

وَ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ‏ سَيَهْدِيهِمْ وَ يُصْلِحُ بالَهُمْ [10] ’’جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا؛ وہ انھیں ہدایت دے گا اور ان کے حالات درست کرے گا۔‘‘

سلامتی

أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ. [11] ’ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

اللہ کی طرف لوٹنا

وَ لَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ.[12] ’’اگر تم مر جاؤ یا قتل کر دیے جاؤ تو تم اللہ ہی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔‘‘

الٰہی انتخاب

وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَداءَ .[13] ’تاکہ وہ تم میں سے بعض کو شہید بنائے۔‘‘

قربِ الٰہی

أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ.[14] ’’وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں۔‘‘

اور یہ آیت: الَّذِينَ آمَنُوا وَ هاجَرُوا وَ جاهَدُوا... أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ.[15] ’’ایمان لانے والے، ہجرت کرنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔‘‘

گناہوں کی معافی

لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئاتِهِمْ‏ ....[16] ’’یقیناً میں ان کی برائیاں ان سے دور کر دوں گا۔‘‘

ابدی زندگی

بَلْ‏ أَحْياءٌ وَ لكِنْ لا تَشْعُرُونَ.[17] ’’وہ زندہ ہیں، مگر تمہیں شعور نہیں۔‘‘

نیز: بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ.[18] ’’وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘

رحمتِ الٰہی

لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَ رَحْمَةٌ.[19] ’’(ایسی موت یا قتل) اللہ کی طرف سے مغفرت اور رحمت ہے۔‘‘

فلاح و کامیابی

أُولئِكَ هُمُ الْفائِزُونَ.[20] ’’انہی لوگو‌ں کو کامیابی نصیب ہے۔‘‘

اور: فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بايَعْتُمْ بِهِ ... [21] ’’پس اس سودے پر خوش ہو جاؤ جو تم نے اللہ سے کیا ہے۔‘‘

رضائے الٰہی

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللَّهِ [22] ’’لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی جان بیچ دیتے ہیں۔‘‘

خدا کا عطا کردہ رزق

عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ [23] ’’وہ اپنے رب کے حضور رزق دیے جاتے ہیں۔‘‘

نیز: لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقاً حَسَناً [24] ’’اللہ یقیناً انہیں بہترین رزق عطا کرے گا۔‘‘

سرور و مسرت

فَرِحِينَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ.[25] ’’وہ اللہ کے فضل سے ملنے والی چیزوں پر شاداں و فرحاں ہیں۔‘‘

صداقت و راست‌گویی

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ...[26] ’’مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا… تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے۔‘‘

فضلِ خدا

شہادت، برزخ میں شہید کے لیے فضلِ الٰہی کا سبب بنتی ہے: وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏ فَرِحِينَ بِما آتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ‏ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ فَضْلٍ وَ أَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ...[27] ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو؛ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں۔ وہ اللہ کے فضل پر شاداں ہیں… انہیں نہ خوف ہے نہ غم۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل کی بشارت پاتے ہیں، اور اللہ ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

کرامت

اللہ کی راہ میں شہادت، مرنے کے بعد شہید کے لیے کرامت و عزت کا سبب بنتی ہے: وَ جاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى‏ قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ‏ قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ قالَ يا لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُونَ‏ ... وَ جَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ.سوره يس آیه /20 و 26 و 27 ’’شہر کے آخری حصے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا… اسے کہا گیا: جنت میں داخل ہو جا۔ اس نے کہا: کاش میری قوم جان لیتی… کہ اللہ نے مجھے عزت یافتہ لوگوں میں شامل کیا ہے۔‘‘

غم سے حفاظت

اللہ کی راہ میں شہادت، برزخ میں شہید کو غم سے محفوظ رکھتی ہے: وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏ ... وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ.[28] ’’انہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

خوف سے حفاظت

اللہ کی راہ میں شہادت، برزخ میں شہید کو خوف سے نجات دیتی ہے: وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏ ... وَ يَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ.[29]

ذمہ داری

اللہ کی راہ میں شہادت، شہید کے بعد زندہ رہنے والوں کے لیے ذمہ داری اور عہد کی تجدید کا پیغام ہے: مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجالٌ صَدَقُوا ما عاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضى‏ نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْدِيلًا لِيَجْزِيَ اللَّهُ الصَّادِقِينَ بِصِدْقِهِمْ‏. [30] ’’مومنوں میں وہ مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا؛ کچھ اپنی نذر پوری کر گئے اور کچھ انتظار میں ہیں… تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کا بدلہ دے۔‘‘

مغفرت

شہادت، بندے کے لیے اللہ کی مغفرت کا موجب ہے: وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ‏. [31] ’’اگر تم اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤ یا مر جاؤ تو یہ اللہ کی طرف سے مغفرت ہے۔‘‘

و آیۀ شریفۀ: لا ضَيْرَ إِنَّا إِلى‏ رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ‏ إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنا رَبُّنا خَطايانا. [32] ’’کوئی نقصان نہیں؛ ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے گناہ معاف فرما دے…‘‘

و نیز: قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ ... بِما غَفَرَ لِي رَبِّي‏. [33] ’’(اس سے) کہا گیا: جنت میں داخل ہو جا… کیونکہ میرے رب نے مجھے بخش دیا…‘‘

نعمتوں سے بہرہ‌مندی

شہادت کے بعد اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانا: وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا ... يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ فَضْلٍ. [34]

آیۀ شریفه: الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ... وَ الشُّهَداءِ [35] و نیز: الَّذِينَ آمَنُوا وَ هاجَرُوا وَ جاهَدُوا ... جَنَّاتٍ لَهُمْ فِيها نَعِيمٌ مُقِيمٌ. [36]

’’اللہ اپنی نعمت یافتہ جماعت میں شہیدوں کو شامل کرتا ہے، اور ان کے لیے دائم نعمتوں والی جنت ہے۔‘‘

ہدایتِ الٰہی

شہادت کے بعد شہید اللہ کی خاص ہدایت سے بہرہ‌مند ہوتا ہے: وَ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَنْ يُضِلَّ أَعْمالَهُمْ‏ سَيَهْدِيهِمْ وَ يُصْلِحُ بالَهُمْ.[37] ’’جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے، اللہ ان کے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا؛ وہ انہیں راستہ دکھائے گا اور ان کے حال درست کرے گا۔‘‘

حوالہ جات

  1. بررسی مفهوم شهید و شهادت از منظر آیت الله العظمی مکارم شیرازی، وب‌سایت خبرگزاری دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی
  2. عباس قمی، سفینة البحار، ج 1، مادہ «شهد».
  3. شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج 11، ص 40.
  4. عباس قمی، سفینة البحار، ج 1، مادہ «شهد».
  5. محمد باقر مجلسی، بحار الأنوار، ج 23، ص 233.
  6. نهج البلاغہ، حکمت 474.
  7. الماس اسلامی، سیر معنای واژه شهادت در قرآن، ص 118.
  8. اکبر ہاشمی رفسنجانی، فرهنگ قرآن، ج 18، ص 57 ـ 61.
  9. سوره آل عمران آیه /169 و 170
  10. سوره محمّد آیه/4 و 5
  11. سوره آل ‏عمران آیه/169 و 170
  12. سوره آل‏ عمران آیه/158
  13. سوره آل‏ عمران آیه/140
  14. سوره آل عمران آیه /169
  15. سوره توبه آیه /20
  16. سوره آل عمران آیه /195
  17. سوره بقره آیه /154
  18. سوره آل عمران آیه /169
  19. سوره آل عمران آیه /157
  20. سوره توبه آیه /22 - 20
  21. سوره توبه آیه /111
  22. سوره بقره آیه /207
  23. سوره آل ‏عمران آیه /169
  24. سوره حج آیه /58
  25. سوره آل‏ عمران آیه /169 و 170 و 171
  26. سوره احزاب آیه /23 و 24
  27. سوره آل ‏عمران آیه /169- 171
  28. سوره آل‏ عمران آیه /169 و 170
  29. سوره=آل‏ عمران آیه /169 و 170
  30. سوره احزاب آیه / 23 و 24
  31. سوره آل ‏عمران آیه /157
  32. سوره شعراء آیه /49- 51
  33. سوره يس آیه /26 و 27
  34. سوره آل‏ عمران آیه / 169- 171
  35. سوره نساء /آیه =69
  36. سوره توبه آیه /20 و 21
  37. سوره محمد آیه / 4 و 5