مندرجات کا رخ کریں

حضرت موسی

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 14:51، 21 اپريل 2026ء از Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (« ## {{جعبه اطلاعات انبیا | عنوان = حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) | تصویر = حضرت موسی-1.jpg | توضیح تصویر = | نام = موسیٰ | ولادت = فرعون کے زمانے میں | محل ولادت = مصر | وفات = | لقب = | کنیه = | پدر = عمران (عمرام) | مادر = | همسر = | فرزندان = | خویشاوندان = | قوم = | کتا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
    1. سانچہ:جعبه اطلاعات انبیا

حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) بنی اسرائیل کے عظیم انبیاء میں سے ہیں جن کا ذکر دین اسلام اور قرآن کریم کی آیات میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ‌السّلام تیسرے **پیغمبر اولوالعزم** ہیں اور یعقوب کی نسل اور بنی اسرائیل کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم علیہ‌السّلام کی نسل سے ہیں اور چھ واسطوں کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں۔ وہ صاحبِ شریعت پیغمبر تھے اور ان کی آسمانی کتاب **تورات** ہے۔

---

    1. == وجہ تسمیہ حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) ==

مشہور قول یہ ہے کہ موسیٰ دراصل عبرانی لفظ **موشہ** کی عربی صورت ہے جس کا معنی ہے: *پانی سے نکالا گیا*۔ یہ نام تورات کی کتاب خروج باب دوم آیت دہم سے لیا گیا ہے جہاں بیان ہوا ہے:

“جب بچہ بڑا ہوا تو دایہ اسے فرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی اور وہ اس کا بیٹا بن گیا۔ اس نے اس کا نام موسیٰ رکھا کیونکہ اس نے کہا: میں نے اسے پانی سے نکالا ہے۔”

ایک دوسری توجیہ ابن عباس نے بیان کی ہے:

بچے کو موسیٰ اس لیے کہا گیا کہ وہ درخت اور پانی کے درمیان پایا گیا تھا۔ قبطی زبان میں **مو** پانی کو اور **سا** درخت کو کہتے ہیں[1]۔

لیکن سید عبدالحجت بلاغی نے اس توجیہ پر اشکال کیا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں بھی اس نام کے دیگر افراد کا ذکر ملتا ہے[2]۔

---

    1. == ولادت حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) ==

حضرت موسیٰ علیہ‌السّلام ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب بنی اسرائیل پر انتہائی سخت حالات تھے، کیونکہ فرعون ان کے بیٹوں کو قتل کروا دیتا تھا اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اسی دوران حضرت موسیٰ پیدا ہوئے اور ان کی والدہ انہیں فرعونی جاسوسوں سے چھپانے کی کوشش کرنے لگیں۔

اسی وقت خداوند متعال نے ان کی والدہ کو حکم دیا کہ بچے کو دودھ پلائیں اور جب خوف محسوس کریں تو اسے دریا میں ڈال دیں اور غمگین نہ ہوں کیونکہ خدا اسے واپس لوٹا دے گا اور اسے اپنے پیغمبروں میں سے بنائے گا۔

جب موسیٰ کو پانی میں ڈالا گیا تو فرعون کے خاندان نے انہیں دریا سے نکال لیا۔ فرعون کی بیوی نے کہا: یہ بچہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، شاید یہ ہمارے لیے فائدہ مند ہو یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔

حضرت موسیٰ کی بہن بچے کے پیچھے پیچھے گئی تاکہ اس کا انجام معلوم کرے۔ وہ فرعون کے محل تک پہنچ گئی اور بغیر کسی کو خبر ہوئے کہنے لگی کہ میں تمہیں ایک ایسے گھرانے کی خبر دیتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلا سکتا ہے۔ اس طرح حضرت موسیٰ اپنی ہی والدہ کو واپس دے دیے گئے جبکہ فرعونیوں کو معلوم نہ تھا کہ وہی ان کی حقیقی ماں ہیں۔ اس طرح خدا نے ان کی والدہ کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں[3]۔

---

    1. == نسب حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) ==

موسیٰ بن عمران، حضرت یعقوب کی نسل سے ہیں۔ ان کا نسب اس طرح بیان کیا جاتا ہے:

موسیٰ بن عمران بن یصهر بن یافث بن لاوی بن یعقوب۔

وہ حضرت ابراہیم خلیل کے تقریباً پانچ سو سال بعد مبعوث ہوئے[4]۔

بعض روایات کے مطابق ان کی والدہ کا نام **یوکابد** تھا[5]۔ تورات میں بھی ان کا یہی نام مذکور ہے۔ حضرت موسیٰ کے تین بھائی تھے: ہارون جو ان سے بڑے تھے اور بشر و بشیر جو ان سے چھوٹے تھے۔

---

    1. == فرار حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) از فرعونیان ==

ایک دن حضرت موسیٰ شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک بنی اسرائیل میں سے تھا اور دوسرا فرعونی تھا۔ بنی اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے مدد طلب کی۔ حضرت موسیٰ نے اس فرعونی کو ایک مکہ مارا جس سے وہ مر گیا۔

جب موسیٰ کو معلوم ہوا کہ وہ مر چکا ہے تو خوفزدہ ہوگئے۔ اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہا: فرعون کے لوگ تمہیں قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لہٰذا شہر سے نکل جاؤ۔ چنانچہ موسیٰ خوف کی حالت میں شہر چھوڑ کر **مدین** کی طرف روانہ ہوگئے جہاں حضرت شعیب علیہ‌السّلام رہتے تھے[6]۔

---

    1. == ازدواج حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) با دختر شعیب ==

حضرت موسیٰ مدین پہنچے تو دیکھا کہ لوگ ایک کنویں پر اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں جبکہ دو لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہیں۔ موسیٰ نے ان کی مدد کی اور ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر خدا سے دعا کی:

“پروردگار! جو بھی خیر تو مجھے دے میں اس کا محتاج ہوں۔”

لڑکیوں نے یہ واقعہ اپنے والد کو بتایا۔ انہوں نے موسیٰ کو بلایا اور ان کی امانت و ایمان دیکھ کر اپنی ایک بیٹی کا نکاح ان سے کرنے کی پیشکش کی، اس شرط پر کہ موسیٰ آٹھ یا دس سال تک ان کے لیے کام کریں۔ موسیٰ نے یہ شرط قبول کر لی اور مدین میں شعیب کی بیٹی سے شادی کر لی[7]۔

مدت پوری ہونے کے بعد موسیٰ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے اور اسی سفر میں خدا نے انہیں نبوت عطا کی اور فرعون کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا[8]۔

---

    1. == نبوت حضرت موسیٰ (علیہ‌السّلام) ==

خداوند نے موسیٰ کو حکم دیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے خدا کی طرف دعوت دیں۔ اس مقصد کے لیے انہیں معجزات عطا کیے گئے جن میں:

- عصا کا اژدہا بن جانا - ہاتھ کا روشن ہو جانا (ید بیضاء)

شامل تھے۔

موسیٰ نے دعا کی کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا مددگار بنایا جائے کیونکہ وہ بہتر گفتگو کرتے ہیں۔ خدا نے ان کی دعا قبول کی اور ہارون کو ان کا وزیر اور مددگار قرار دیا۔ لیکن فرعون اور اس کی قوم نے ان کی نبوت قبول نہ کی بلکہ انہیں جادوگر کہا۔ آخرکار خدا نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت دریا میں غرق کر دیا[9]۔

اس داستان کے اہم واقعات میں شامل ہیں:

1. موسیٰ کا بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلانا اور دریا کا معجزہ[10]. 2. طور سینا پر موسیٰ کی عبادت اور قوم کا سامری کے فریب میں آ کر بچھڑے کی پرستش کرنا[11]. 3. بنی اسرائیل کی بار بار نافرمانی اور بہانہ تراشی[12]. 4. موسیٰ کی خدا کے ایک برگزیدہ بندے سے ملاقات[13]۔

---

    1. == معجزه ید بیضاء حضرت موسیٰ ==

معجزہ **ید بیضاء** حضرت موسیٰ کے نو معجزات میں سے ایک تھا[14]۔

قرآن میں اس کا ذکر متعدد سورتوں میں آیا ہے اور فرمایا گیا:

“اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وہ بغیر کسی بیماری کے سفید اور روشن نکل آئے گا”[15]۔

یہ معجزہ ایک بار فرعون کے پاس جانے سے پہلے اور ایک بار فرعون کے دربار میں ظاہر ہوا[16]۔

---

    1. == قرآن کریم و حضرت موسیٰ ==

قرآن کریم نے سابقہ اقوام کی تاریخ کو انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ قرار دیا ہے:

“کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا؟”[17]

حضرت موسیٰ کا ذکر قرآن میں تقریباً **136 مرتبہ** آیا ہے۔ فرعون کا ذکر **74 مرتبہ**، بنی اسرائیل کا ذکر **33 مرتبہ**، اور اہل کتاب کا ذکر **31 مرتبہ** آیا ہے۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ موسیٰ کی داستان انسانی ہدایت کے لیے بہت اہم ہے۔

  1. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، بلاغی سید عبدالحجت، جلد اول، ص248
  2. حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر، بلاغی سید عبدالحجت، جلد اول، ص249
  3. قصص / 3ـ13؛ نجفی خمینی، محمد جواد، تفسیر آسان، ج15، ص136
  4. طبرسی، مجمع البیان، ج1، ص210
  5. طبری، تاریخ طبری، ج1، ص274
  6. قصص / 15ـ22؛ المیزان، ج16، ص21
  7. قصص / 28 ـ 23؛ اطیب البیان، ج10، ص221
  8. تفسیر نمونه، ج6، ص69
  9. قصص / 29ـ45؛ یونس / 75ـ86؛ اعراف / 103ـ126؛ البرهان فی تفسیر القرآن، ج4، ص624
  10. طه / 77ـ79؛ بقره / 49ـ50
  11. طه / 83ـ99؛ بقره / 51ـ54؛ اعراف / 148
  12. بقره / 55ـ74؛ مائده / 20ـ26
  13. کهف / 60ـ82
  14. سوره نمل، آیه 12
  15. سوره قصص، آیه 32
  16. سوره طه، آیه 22؛ سوره شعراء، آیه 33
  17. طه / 128