امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026
| امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026 | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026 |
| واقعہ کی تاریخ | 2026ء |
| واقعہ کا دن | 1 مارچ |
| واقعہ کا مقام |
|
| عوامل | امریکا اور صہیونی حکومت |
| اہمیت کی وجہ | صہیونی حکومت کی جانب سے بعض فوجی اور غیر فوجی مقامات پر بین الاقوامی قوانین کے منافی کھلی جارحیت جسے امریکہ کی حمایت حاصل تھی |
| نتائج |
|
امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026، ہفتہ 1 مارچ 2026ء کو تہران کے پاستور کمپلیکس، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف، مہرآباد اور ملک کے دیگر شہروں جیسے قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ میں شروع ہوا۔ ان حملوں میں امام خامنہای، ان کے خاندان کے بعض افراد، سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف، مسلح افواجِ اسلامی جمہوریہ ایران)، سردار محمد پاکپور (کمانڈر اِن چیف، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی)، عزیز نصیرزادہ (وزیر دفاع و پشتبانیِ مسلح افواج)، امیر دریاسالار علی شمخانی (مشیرِ رہبرِ معظم اور سیکریٹری سپریم ڈیفنس کونسل)، ضلع میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور متعدد غیر فوجی ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔
ان حملوں کے نتیجے میں ایران کے مختلف شہروں اور صوبوں میں متعدد شہری، فوجی اہلکار اور امدادی ٹیموں کے افراد زخمی بھی ہوئے۔
وقت اور مقام
امریکہ اور اسرائیل کے حملے ہفتہ 1 مارچ 2026ء کی صبح شروع ہوئے۔ تہران کے متعدد مقامات جن میں پاستور کمپلیکس، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف اور مہرآباد شامل ہیں، میزائل حملوں کا نشانہ بنے۔ اسی دوران ملک کے دیگر شہروں جیسے قم، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ فوجی حملوں کے ساتھ ہی وسیع پیمانے پر سائبر حملے اور ہیکنگ کی کارروائیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کئی ملکی خبر ایجنسیاں اور اہم آن لائن پلیٹ فارم ان حملوں سے متاثر ہوئے یا ان کی خدمات میں شدید خلل پیدا ہوا۔ تہران کے بعض حصوں میں موبائل فون خدمات معطل ہوگئیں اور ملک کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔
جانی اور مالی نقصانات
ان حملوں کے نتیجے میں متعدد اعلیٰ فوجی شخصیات اور شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان واقعات میں امام خامنہای، ان کی اہلیہ اور خاندان کے بعض افراد، سید عبدالرحیم موسوی، سردار محمد پاکپور، عزیز نصیرزادہ، امیر دریاسالار علی شمخانی، میناب کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور دیگر غیر فوجی شہری جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ مختلف صوبوں میں متعدد شہری، فوجی اہلکار اور امدادی ٹیموں کے افراد زخمی بھی ہوئے۔
حملوں کے اہداف
پاستور کمپلیکس پر حملہ
پاستور کمپلیکس میں واقع رہبرِ انقلاب کی رہائش گاہ پر ہونے والے حملوں میں امام خامنہای، ان کے خاندان کے بعض افراد اور اعلیٰ فوجی حکام بشمول سید عبدالرحیم موسوی، سردار محمد پاکپور، عزیز نصیرزادہ اور امیر دریاسالار علی شمخانی کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی گئی۔
مدارس
میناب کا مدرسۂ شجرۂ طیبہ
میناب شہر میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 165 افراد ہلاک اور 96 سے زائد زخمی ہوئے۔
آبیک شہر کے امام رضا اسکول پر حملہ
قزوین کے شہر آبیک میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں امام رضا اسکول کے چند طلبہ زخمی ہوئے جبکہ ایک طالب علم ہلاک ہوا۔
طبی مراکز
گاندی اسپتال
گاندی اسپتال ان طبی مراکز میں شامل ہے جسے نمایاں نقصان پہنچا۔ اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمدحسن بنی اسد کے مطابق اتوار 3 مارچ 2026 کی شام اسپتال کے قریب ہونے والے حملے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ مریضوں کو فوری طور پر منتقل کر دیا گیا اور اسپتال کا بیشتر حصہ عارضی طور پر خدمات سے باہر ہوگیا، جبکہ ایمرجنسی اور کارڈیالوجی شعبے محدود طور پر فعال رہے۔
اسپتال کے مطابق حملے کے وقت ICU میں 8 مریض، NICU میں چند نومولود اور 32 شدید بیمار مریض موجود تھے جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اس واقعے میں ایک عملے کے رکن کو سر میں چوٹ آئی جس کا آپریشن کیا گیا اور اس کی حالت مستحکم بتائی گئی۔
ثقافتی ورثہ
اتوار 3 مارچ 2026 کو تہران کے میدان ارگ کے علاقے میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بازار کی جامع مسجد کے شیشے ٹوٹ گئے اور گلستان محل—جو یونیسکو کے عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے—کو بھی نقصان پہنچا جس میں کھڑکیوں، لکڑی کے دروازوں اور آئینہ کاری کو متاثر ہونے کی اطلاع دی گئی۔ ایران کے وزیرِ ثقافتی ورثہ سید رضا صالحی امیری نے گلستان محل کے دورے کے بعد اس واقعے کو بین الاقوامی ثقافتی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور یونیسکو کو رپورٹ پیش کرنے اور مرمتی عمل شروع کرنے کا اعلان کیا۔
ردِعمل
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ‘’‘عملیات وعدۂ صادق ۴’‘’ کے آغاز کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ آپریشن امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایرانی سرزمین پر ہونے والے حملے کے جواب میں شروع کیا گیا۔ سپاہ کے بیان کے مطابق، ایران کی مسلح افواج نے اللہ کی مدد سے اس آپریشن کا پہلا مرحلہ شروع کیا ہے، اور یہ حملے امریکہ کی مجرمانہ فوج اور صہیونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی روک تھام کے لئے کیے گئے۔ سپاہ نے مزید بتایا کہ ان کے میزائل اور ڈرونز نے بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں اور مقبوضہ سرزمین (اسرائیل) میں متعدد فوجی اور سکیورٹی مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔
اس اطلاع میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
‘‘وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ’’ (آل عمران – 126)[1]
وزارت دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح ایران
ایران کی وزارت دفاع و پشتبانی نے اپنے بیان میں کہا: "آج امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ہماری عزیز سرزمین پر وحشیانہ حملے اور تیسری دور کے مذاکرات کے درمیان اس جارحیت سے ثابت ہوگیا کہ یہ جنگ پسند اور دہشت گرد عناصر انسانیت کے کسی بھی اصول کے پابند نہیں۔ اس جرم اور تجاوز کا نتیجہ امریکہ کی مسلسل ناکامی اور غاصب صہیونی حکومت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے فرمایا، چٹان کی طرح مضبوط جواب دیتی رہے گی، اور دفاعی کارروائیاں اور آپریشنز وعدہ صادق 4 اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دشمن کی شکست یقینی نہیں ہو جاتی۔ وزارت دفاع نے کہا کہ وہ ماضی کی طرح ایرانی فورسز کو مکمل دفاعی اور اسلحہ جاتی مدد فراہم کرتے رہیں گے۔‘‘وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ’’ (آل عمران – 126)
انصار اللہ یمن
انصار اللہ (حوثی تحریک) کے رہنما عبدالملک بدرالدین الحوثی نے کہا: “امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا مقصد اسرائیلی دشمن کو خطے پر کنٹرول دینا اور بڑے اسرائیل کے مفروضہ منصوبے کی طرف بڑھنا ہے۔ ایران اپنی جائز دفاعی ذمہ داری ادا کر رہا ہے اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم ایران اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہرطرح کے اگلے حالات کے لئے مکمل تیار ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا رخ ایران کے عوام، سرکاری اداروں اور نظامِ حکومت کی طرف ہے۔ ایران کا مؤقف، ایک جابر اور ظالم دشمن کے ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے، جو کسی صورت میں بھی یہ حق نہیں رکھتا کہ ایرانی عوام کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار کرے۔”[2]
حزب اللہ عراق
کتائب حزب اللہ عراق کی کمانڈ نے بیان دیا کہ آج کے حملے کے ردعمل میں جلد ہی امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے جائیں گے۔[2]
وزارت امور خارجہ چین
چین کی وزارت خارجہ نے ہفتہ کے روز امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام فریقین کو چاہیے کہ مزید کشیدگی سے گریز کریں اور مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔ چین کا کہنا تھا کہ ایرانی حاکمیت، سلامتی اور ارضی سالمیت کا احترام کیا جائے، اور فوری طور پر فوجی کارروائیاں روک کر مذاکرات بحال کئے جائیں۔[3]
وزارت امور خارجہ ترکیہ
ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا: “ہم امریکہ، اسرائیل اور ایران سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوراً حملے بند کریں۔ ہم اپنے علاقے کے مسائل کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں اور ترکی ضروری ثالثی کی حمایت کے لئے تیار ہے۔ ہم ہر ایسے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرے یا معصوم شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالے۔”[4]
یورپی ممالک
انگلینڈ، فرانس اور جرمنی نے ہفتہ کے روز امریکہ اور اسرائیلی حملے کے بعد اعلان کیا کہ وہ حملوں میں شریک نہیں تھے، تاہم اپنے شراکت داروں بالخصوص امریکہ اور صہیونی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان ممالک کے سربراہوں نے اپنے مشترکہ بیان میں مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔[5] [1]
الجزیرہ
الجزیرہ نے ایک اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس حملے میں ایرانی حکام کو ہدف بنایا گیا تھا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین
قومی سلامتی کمیٹیِ مجلس کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے اپنے ردِعمل میں کہا: ان حملوں کا اختتام اب آپ کے اختیار میں نہیں رہے گا۔
فراجا اطلاعاتی مرکز
فراجا کے اطلاعاتی مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ شہری اگر کسی بھی مشکوک سرگرمی کو دیکھیں تو فوری طور پر پولیس ایمرجنسی نمبر 110 پر اطلاع دیں۔ بیان کے مطابق صورتحال قابو میں ہے اور تشویش کی کوئی بات نہیں۔
رائٹرز
رائٹرز نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جنوبی تہران میں چند وزارتوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز ایک ویڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملے شروع کیے گئے ہیں۔
نیویارک ٹائمز
نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران پر امریکی فضائی حملے مشرقِ وسطیٰ میں موجود فوجی اڈوں اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز سے کیے گئے۔
اسرائیل کا چینل 12
اسرائیل کے چینل 12 نے اطلاع دی کہ اسرائیل کے شمالی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
صدر کے ایگزیکٹو نائب
محمد جعفر قائم پناہ، صدر کے ایگزیکٹو نائب نے سوشل نیٹ ورک ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ بار بار رابطوں کے جواب میں اطلاع دی جاتی ہے کہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور صہیونی حکومت کے حملوں کے باوجود صدر مسعود پزشکیان صحت مند اور محفوظ ہیں [2]
دیگر ردعمل
اسرائیلی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ ایران کے خلاف پیشگی حملہ تھا۔ عراق نے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا۔ امریکی ذرائع کے مطابق حملے خطے میں موجود فوجی اڈوں اور ایک طیارہ بردار بحری جہاز سے کیے گئے۔