مندرجات کا رخ کریں

یومُ‌اللّٰہ 22 بہمن 1357

ویکی‌وحدت سے
22 بہمن 1357ھ ش
واقعہ کی معلومات
واقعہ کا نامیومُ‌اللّٰہ 22 بہمن 1357ھ ش
واقعہ کی تاریخ1357ھ ش
واقعہ کا دن22 بہمن
واقعہ کا مقامایران، تہران
عواملعوام — تمام سیاسی گروہ اور طبقات
اہمیت کی وجہملتِ مسلمۂ ایران کی استعمار کے چنگل سے آزادی،

ایران کی قوت، اقتدار اور خودمختاری کا مظاہرہ،

امریکہ اور اسرائیل کی ذلت کا دن
نتائج
  • ایران کے اسلامی انقلاب کی فتح، ایران میں امریکی سفارت خانے کی بندش، جاسوس اڈے کی دستاویزات کا انتشار۔

یومُ‌اللّٰہ 22 بہمن 1357ھ ش، انقلابِ اسلامی ایران کی فتح کا یادگار دن ہے۔ یہ دن ملتِ مسلمۂ ایران کی استعمار کے شکنجے سے نجات، ایران کی طاقت، اقتدار اور استقلال کے ظہور، اور امریکہ و اسرائیل کی ذلت کا دن ہے۔ اس عظیم دن، نصرتِ الٰہی، امام خمینیؒ کی تدبیر اور عوام کی میدان میں موجودگی کے باعث، بختیار کی حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی فوجی حکومت اور بغاوت (کودتا) کی آخری کوشش ناکام ہو گئی۔ عوامی قوت نے سرکاری، فوجی مراکز اور جیلوں پر قبضہ کر لیا، فوج نے غیرجانبداری کا اعلان کیا، اور بختیار فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔ امام خمینیؒ نے ایک پیغام کے ذریعے ایرانی عوام اور دنیا بھر کو شاہی نظام کے خاتمے اور ملتِ ایران کی فتح کی بشارت دی۔

تاریخی پس منظر

دنیا کے تمام معاشروں میں یہ رواج ہے کہ وہ اپنے ملک کی تاریخ کے عظیم ترین دن کو محفوظ رکھتے ہیں اور اس دن کے واقعات کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں۔ ایسے دن کو عموماً یومِ آزادی کہا جاتا ہے اور اسے خاص احترام حاصل ہوتا ہے۔

جمہوری اسلامی ایران کے تقویم میں 22 بہمن 1357ھ ش ایامُ‌اللّٰہ میں شمار ہوتا ہے۔ اس دن ملتِ ایران نے 2500 سالہ شاہی آمریت کے خلاف فتح حاصل کی اور نصرتِ الٰہی، امام خمینیؒ کی قیادت اور عوام کی ہمہ گیر شرکت سے آزادی اور خودمختاری کا ذائقہ چکھا۔

یہ دن تلوار پر خون کی فتح، استعمار سے نجات، ایران کی طاقت و اقتدار اور امریکہ و اسرائیل کی ذلت کا دن ہے۔

کودتا کی سازش

بختیار کی حکومت کے قیام کے بعد، اس نے اپنی حکومت کو قانونی قرار دیا اور 21 بہمن 1357ھ ش کو انقلاب کی کامیابی روکنے کے لیے ایک منظم کودتا کی کوشش کی۔

شام چار بجے کے بعد کرفیو اور فوجی حکومت کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تاکہ عوام کو گھروں میں محصور کیا جا سکے اور انقلاب کو کچلا جا سکے۔

کودتا کی ناکامی

جب امام خمینیؒ کو اس سازش کی خبر ملی تو آپؒ نے ایک تاریخی اعلامیہ جاری فرمایا:“کوئی شخص گھر میں رہنے کا حق نہیں رکھتا، سب کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا” اور اسے حکمِ الٰہی قرار دیا۔

ابتدا میں عوام شاہی حکومت کے قتل و غارت کے خوف سے گھروں میں محصور تھے، لیکن امام کے فرمان کے بعد یہ پیغام فوراً پورے ملک میں پھیل گیا۔

ہر شہر میں اس حکم کو ولایتی حکم سمجھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گلیاں اور سڑکیں عوام سے بھر گئیں۔

امریکہ کی سازش کی ناکامی

امام کے فرمان پر عوام کی میلیونی شرکت نے شاہی حکومت اور اس کے مغربی حامیوں کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

یہ منصوبہ دراصل امریکہ کے حکم پر بنایا گیا تھا تاکہ ٹینکوں، توپوں اور مشین گنوں کے ذریعے عوام کو کچلا جائے اور امام خمینیؒ کی رہائش گاہ سمیت حساس مقامات کو نشانہ بنایا جائے۔ عوام نے سڑکوں پر نکل کر “ہیہات منّا الذلّۃ” کا نعرہ بلند کیا۔

فوج کی غیرجانبداری کا اعلان

22 بہمن 1357ھ ش کی صبح 10 بجے، اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا اجلاس ہوا اور اس نتیجے پر پہنچا گیا کہ شاہی حکومت کا خاتمہ یقینی ہے۔

چنانچہ 10:30 بجے فوج نے باضابطہ طور پر سیاسی تنازعات میں غیرجانبداری کا اعلان کر دیا اور یونٹوں کو بیرکوں میں واپس جانے کا حکم دیا۔

یہ اعلان دوپہر ایک بجے ریڈیو سے نشر کیا گیا اور اسی کے فوراً بعد ریڈیو و ٹیلی وژن پر انقلابیوں کا قبضہ ہو گیا۔ یوں شاہی حکومت کے خاتمے کا اعلان سرکاری طور پر نشر ہوا۔[1]۔

سرکاری و فوجی مراکز پر قبضہ

22 بہمن کے دن عوام نے یکے بعد دیگرے:

  • قصر جیل
  • اوین جیل
  • ساواک
  • شہربانی
  • ژاندارمری
  • سینیٹ و قومی اسمبلی
  • فوجی چھاؤنیاں

پر قبضہ کر لیا۔ سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے مگر انقلاب ناقابلِ واپسی مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔

بختیار کا فرار

شاپور بختیار نے استعفیٰ دینے کے بہانے فرار کا راستہ اختیار کیا اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے تہران سے نکل گیا۔

چند گھنٹوں بعد تمام پولیس اسٹیشن، فوجی مراکز اور سرکاری دفاتر عوام کے قبضے میں آ چکے تھے۔

انقلاب کی آواز

22 بہمن کی شام 6 بجے، انقلابیوں نے ریڈیو و ٹیلی وژن پر قبضہ کر لیا۔ حجت الاسلام فضل اللہ محلاتی نے مائیک پر اعلان کیا:

“یہ تہران ہے، ملتِ ایران کی سچی آواز، انقلاب کی آواز… آج استبداد کے آخری قلعے بھی منہدم ہو گئے ہیں” یہ اعلان شاہی آمریت کے خاتمے کی آخری سند بن گیا۔

امام خمینیؒ کا پہلا پیغام

امام خمینیؒ نے فتح کے موقع پر ملتِ ایران کو خطاب کرتے ہوئے نظم و ضبط، اسلامی اخلاق، دشمن کی سازشوں سے ہوشیاری، اسیرانِ دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک، اور عبوری اسلامی حکومت سے تعاون کی ہدایت فرمائی، اور ملت کو ایک آزاد، خودمختار اور مثالی اسلامی ایران کی تعمیر کی دعوت دی [2]۔

22 بہمن کو اپنے عزم اور استقامت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو مایوس کریں

رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی نے آج صبح ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک پیغام میں 22 بہمن کو ملتِ ایران کی طاقت اور عزت کے اظہار کا دن قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ عوام کی ریلی میں شرکت اور اسلامی جمہوریہ سے وفاداری کا اظہار دشمن کو ایران اور قومی مفادات کے خلاف لالچ سے باز رکھنے کا سبب بنے گا.

لہذا 22 بہمن کو اپنے عزم اور استقامت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو مایوس کریں۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ معظمِ انقلابِ اسلامی نے آج صبح ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک پیغام میں 22 بہمن کو ملتِ ایران کی طاقت اور عزت کے اظہار کا دن قرار دیا

اور اس بات پر زور دیا کہ عوام کی ریلی میں شرکت اور اسلامی جمہوریہ سے وفاداری کا اظہار دشمن کو ایران اور قومی مفادات کے خلاف لالچ سے باز رکھنے کا سبب بنے گا، لہذا 22 بہمن کو اپنے عزم اور استقامت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو مایوس کریں۔

رہبرِ انقلاب کے پیغام کا متن حسبِ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہر سال 22 بہمن ملتِ ایران کی طاقت اور عزت کے اظہار کا دن ہوتا ہے۔ ایک ایسی قوم جو الحمدللہ صاحبِ حوصلہ، باارادہ، ثابت قدم، قدردان اور اپنے مفادات و نقصانات سے آگاہ ہے۔

جس دن پہلا 22 بہمن وقوع پذیر ہوا، اس دن ملتِ ایران نے ایک عظیم فتح حاصل کی۔ اس نے خود کو اور اپنے ملک کو غیر ملکی مداخلت سے نجات دلائی۔ وہ غیر ملکی طاقتیں ان تمام برسوں میں ہمیشہ یہ چاہتی رہی ہیں کہ دوبارہ سابقہ صورتِ حال کو بحال کریں۔

ملتِ ایران ڈٹی ہوئی ہے۔ اس استقامت کی سب سے بڑی علامت 22 بہمن کا دن ہے۔ یہ ریلی دنیا میں بے مثال ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ہمیں ایسی مثال نہیں ملتی کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی ہر سال یومِ آزادی اور قومی دن کے موقع پر پورے ملک میں اس قدر عظیم عوامی اجتماع منعقد ہو اور لوگ اس طرح اپنی موجودگی کا اظہار کریں۔

آج ملتِ ایران سڑکوں پر نکل کر اپنی طاقت دکھاتی ہے اور ان لوگوں کو، جو ایرانِ اسلامی، جمہوریۂ اسلامی اور اس ملت کے مفادات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، پسپائی پر مجبور کرتی ہے۔

قومی طاقت کا تعلق میزائلوں اور ہوائی جہازوں سے زیادہ اقوام کے عزم و ارادے اور ان کی استقامت سے ہوتا ہے۔ آپ نے الحمدللہ اپنی استقامت اور اپنے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ مختلف مواقع پر آئندہ بھی یہی ثابت کریں۔

دشمن کو مایوس کریں، کیونکہ جب تک دشمن مایوس نہ ہو قوم اس کی اذیت و آزار کا نشانہ بنی رہتی ہے۔ دشمن کو مایوس کرنا ضروری ہے۔

دشمن کی مایوسی آپ کے اتحاد، آپ کی فکری طاقت اور عزم، آپ کے جذبے اور دشمن کی وسوسہ انگیزی کے مقابلے میں ثابت قدمی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی چیزیں قومی طاقت کی بنیاد بنتی ہیں۔

ان شاء اللہ ہمارے نوجوان مختلف میدانوں میں، علم کے میدان میں، عمل کے میدان میں، تقویٰ اور اخلاق کے میدان میں، مادی اور معنوی ترقی کے میدان میں مزید آگے بڑھیں گے، عملی اقدامات کریں گے اور ملک کے لیے باعثِ فخر بنیں گے۔

22 بہمن ان تمام چیزوں کی علامت ہے۔ اس دن سب لوگ سڑکوں پر آتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، حقائق بیان کرتے ہیں، اپنی یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں اور جمہوریۂ اسلامی ایران کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔

ہم امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ یہ 22 بہمن بھی گزشتہ برسوں کے تمام 22 بہمن کی طرح ملتِ ایران کی عظمت کو دوچند کرے گا، اس میں اضافہ کرے گا اور دوسری قوموں، حکومتوں اور طاقتوں کو ملتِ ایران کے سامنے جھکنے اور عاجزی اختیار کرنے پر مجبور کرے گا، اور ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

20 بہمن 1404ھ ش[3]۔

متعلقہ تلاشیں

متعلقہ تلاشیں

حواله جات

  1. چهل سال پیش در چنین روزی: 22 بهمن 1357- اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 فروری 2026ء
  2. صحیفه امام، ج ۶، ص ۱۲۵
  3. [https://ur.hawzahnews.com/news/415520/22-%D8%A8%DB%81%D9%85%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%B9%D8%B2%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%AA-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D8%B8%D8%A7%DB%81%D8%B1%DB%81-%DA%A9%D8%B1%DA%A9%DB%92-%D8%AF%D8%B4%D9%85%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D8%A7%DB%8C%D9%88%D8%B3 22 بہمن کو اپنے عزم اور استقامت کا مظاہرہ کرکے دشمن کو مایوس کریں]- شا‏ئع شدہ از: 9 فروری 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 10فروری 2026ء