جمادی الاول

جمادی الاول، جسے جمادی الاولی بھی کہا جاتا ہے، قمری مہینوں میں پانچواں مہینہ ہے۔ اس مہینے اور جمادی الثانی کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ عربی مہینوں کے نام رکھنے کے وقت یہ دونوں مہینے سردی اور سخت ٹھنڈ کے موسم میں آتے تھے، اس لیے انہیں جمادی کہا گیا، جس کا مطلب جم جانا اور برف جمنا ہے۔
اس مہینے میں بہت سے اہم واقعات پیش آئے ہیں، جن میں سب سے اہم جنگ جمل ہے۔ یہ جنگ 36 ہجری میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور عائشہ، طلحہ اور زبیر کے درمیان ہوئی، جس کا انجام لشکر جمل کی شکست کی صورت میں ہوا۔
اس مہینے کے دیگر اہم واقعات میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت شیعہ روایت کے مطابق، اور اہل سنت کے مطابق بیماری کے باعث ان کا انتقال شامل ہے، جو ایک روایت کے مطابق 11 ہجری میں پیش آیا۔
اسی مہینے کے دیگر واقعات میں محمد بن ابی بکر، جو مصر کے علوی گورنر تھے، کو معاویہ کے کارندوں کے ذریعے جلایا جانا بھی شامل ہے، جو 38 ہجری میں پیش آیا۔
اصطلاحی تعریف
پانچویں مہینے کا نام جمادی الاول، جمادی خمسه، جمادی اول، جمادی یا جمادی الاولی ہے۔ اسلام سے پہلے عربستان میں اس مہینے کا نام حنتم، حنین[1] یا حنّین[2] تھا، اور اس کی مدت تیس دن سمجھی جاتی تھی۔ اور اس کی مدت انتیس دن ہوتی تھی۔[3]
آغاز اور اختتام
اسلامی شرعی تقویم کے مطابق جمادی کے ہر مہینے کا آغاز، دوسرے قمری مہینوں کی طرح، اس وقت ہوتا ہے جب غروبِ آفتاب کے بعد نئے چاند یعنی ہلال کو پہلی مرتبہ دیکھا جائے، جو ماہِ محاق کے بعد پہلی نظر آنے والی رات ہوتی ہے۔ ہر مہینے کی مدت اسی لمحے سے لے کر اگلے ہلال کے نظر آنے تک شمار کی جاتی ہے۔
مہینے کی مدت مقرر کرنے کے اس طریقے کو ہلالی طریقہ یا برحسب رؤیت کہا جاتا ہے۔ لہٰذا مہینے کا آغاز اور اختتام ہلال کی رؤیت پر موقوف ہوتا ہے، نہ کہ اس حساب پر جو منجّمین حسابی طریقہ یا امرِ اوسط کے نام سے بیان کرتے ہیں۔[4].
ہر مہینے کے آغاز کے مشترک اعمال
۱۔ دعا
نئے چاند کو دیکھنے کے وقت دعائے ہلال پڑھنا مستحب ہے۔ کم از کم یہ ہے کہ تین مرتبہ اللہ اکبر اور تین مرتبہ لا إله إلا الله کہا جائے، پھر یہ کہا جائے:
الحمد لله الذي أذهب شهر كذا وجاء بشهر كذا
ہلال دیکھنے کے وقت سب سے بہترین دعا صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 43 ہے۔[5]
۲۔ قرآن
سورہ حمد کو سات مرتبہ پڑھنا۔[6]
۳۔ روزہ
ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا ان امور میں سے ہے جن پر بہت تاکید کی گئی ہے۔ مرحوم علامہ مجلسی رحمہ اللہ نے کتاب زاد المعاد میں فرمایا ہے کہ مشہور قول کے مطابق یہ تین دن یہ ہیں:
مہینے کا پہلا جمعرات، مہینے کا آخری جمعرات، اور مہینے کے درمیانی عشرے کا پہلا بدھ۔۔[7]
۴۔ نماز
شبِ اوّل ماہ: ماہ کے پہلے شب میں دو رکعت نماز ادا کرے۔ ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ انعام پڑھے، اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اسے ہر طرح کے خوف اور ہر درد سے محفوظ رکھے۔
روزِ اوّل ماہ: ماہ کی پہلی تاریخ کو دو رکعت نماز بجا لائے۔ پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ توحید تیس مرتبہ پڑھے، اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ قدر تیس مرتبہ پڑھے۔
نماز مکمل کرنے کے بعد راہِ خدا میں صدقہ دے۔ جو شخص ایسا کرے، وہ اس مہینے کی پوری مدت کے لیے اللہ تعالیٰ سے اپنی سلامتی کا پروانہ حاصل کر لیتا ہے۔[8]
ماہِ جمادی الاول کے مخصوص اعمال
- سید بن طاؤس رحمہ اللہ نے ماہِ جمادی الاولی کا ہلال دیکھنے کے لیے یہ دعا نقل کی ہے:
اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ وَ أَنْتَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیمُ وَ أَنْتَ الْمَلِکُ الْقُدُّوسُ وَ أَنْتَ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ وَ أَنْتَ الْمُهَیْمِنُ۔ اے اللہ! تو ہی اللہ ہے، تو ہی نہایت رحم کرنے والا، بے حد مہربان ہے۔ تو ہی بادشاہ ہے، نہایت پاک ہے، سلامتی دینے والا، امن عطا کرنے والا اور پوری نگہبانی کرنے والا ہے۔ وَ أَنْتَ الْعَزِیزُ وَ أَنْتَ الْجَبَّارُ وَ أَنْتَ الْمُتَکَبِّرُ وَ أَنْتَ الْخَالِقُ وَ أَنْتَ الْبَارِئُ وَ أَنْتَ الْمُصَوِّرُ وَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ۔ اور تو ہی غالب ہے، تو ہی زبردست ہے، تو ہی بڑی شان والا ہے، تو ہی پیدا کرنے والا ہے، تو ہی عدم سے وجود میں لانے والا ہے، تو ہی صورت بنانے والا ہے، اور تو ہی عزت والا، حکمت والا ہے۔ وَ أَنْتَ الْأَوَّلُ وَ الْآخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ لَکَ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَی.اور تو ہی اوّل ہے اور تو ہی آخر، تو ہی ظاہر ہے اور تو ہی باطن۔ تمام اسماء حسنی (اچھے اور نیک نام) تیرے ہی لیے ہیں۔ أَسْأَلُکَ یَا رَبِّ بِحَقِّ هَذِهِ الْأَسْمَاءِ وَ بِحَقِّ أَسْمَائِکَ کُلِّهَا أَنْ تُصَلِّیَ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ عَلَی آلِ مُحَمَّدٍ۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے ان ناموں کے حق کے واسطے اور تیرے تمام ناموں کے حق کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ تو محمد اور آلِ محمد پر درود نازل فرما۔
وَ آتِنَا اللَّهُمَّ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَ فِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ اخْتِمْ لَنَا بِالسَّعَادَةِ وَ الشَّهَادَةِ فِی سَبِیلِکَ اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی نصیب کر، اور ہمارے انجام کو سعادت اور تیری راہ میں شہادت پر ختم فرما۔
وَ عَرِّفْنَا بَرَکَةَ شَهْرِنَا هَذَا وَ يُمْنَهُ وَ ارْزُقْنَا خَيْرَهُ وَ اصْرِفْ عَنَّا شَرَّهُ اور ہمیں اس مہینے کی برکت اور خوش بختی سے آشنا فرما، اس کی بھلائی ہمیں عطا کر، اور اس کے شر سے ہمیں محفوظ رکھ۔
وَ اجْعَلْنَا فِيهِ مِنَ الْفَائِزِينَ وَ قِنَا بِرَحْمَتِكَ عَذَابَ النَّارِ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اور ہمیں اس مہینے میں کامیاب ہونے والوں میں شامل فرما، اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُماتِ وَ النُّورَ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ قَضى أَجَلًا وَ أَجَلٌ مُسَمًّى عِنْدَهُ ثُمَّ أَنْتُمْ تَمْتَرُونَ، وَ هُوَ اللَّهُ فِي السَّماواتِ وَ فِي الْأَرْضِ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ يَعْلَمُ ما تَكْسِبُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ وَ لَمْ يَجْعَلْ لَهُ عِوَجاً قَيِّماً لِيُنْذِرَ بَأْساً شَدِيداً مِنْ لَدُنْهُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ وَ هُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ جاعِلِ الْمَلائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنى وَ ثُلاثَ وَ رُباعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ ما يَشاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَ ما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدانا لِهذا وَ ما كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْ لا أَنْ هَدانَا اللَّهُ لَقَدْ جاءَتْ رُسُلُ رَبِّنا بِالْحَقِّ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَ إِسْحاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لا يَعْلَمُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّانا مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنا عَلى كَثِيرٍ مِنْ عِبادِهِ الْمُؤْمِنِينَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آياتِهِ فَتَعْرِفُونَها وَ ما رَبُّكَ بِغافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ إِنَّ رَبَّنا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنا وَعْدَهُ وَ أَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعامِلِينَ، وَ تَرَى الْمَلائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ
فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّماواتِ وَ رَبِّ الْأَرْضِ رَبِّ الْعالَمِينَ، وَ لَهُ الْكِبْرِياءُ فِي السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَداً وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيراً
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبِي وَ تَدَارَكْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمُرِي وَ قَوِّ ضَعْفِي لِلَّذِي خَلَقْتَنِي لَهُ وَ حَبِّبْ إِلَيَّ الْإِيمَانَ وَ زَيِّنْهُ فِي قَلْبِي وَ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا أَمَرْتَنِي فَاسْتَجِبْ لِي كَمَا وَعَدْتَنِي
اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ لَكَ عَبْداً لَا أَسْتَطِيعُ دَفْعَ مَا أَكْرَهُ وَ لَا أَمْلِكُ مَا أَرْجُو وَ أَصْبَحْتُ مُرْتَهَناً بِعَمَلِي فَلَا فَقِيرَ أَفْقَرُ مِنِّي يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ أَسْأَلُكَ أَنْ تَسْتَعْمِلَنِي عَمَلَ مَنِ اسْتَيْقَنَ حُضُورَ أَجَلِهِ لَا بَلْ عَمَلَ مَنْ قَدْ مَاتَ فَرَأَى عَمَلَهُ وَ نَظَرَ إِلَى ثَوَابِ عَمَلِهِ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اللَّهُمَّ هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذَابِكَ وَ هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ غَضَبِكَ
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِمَّنْ دَعَاكَ فَأَجَبْتَهُ وَ سَأَلَكَ فَأَعْطَيْتَهُ وَ آمَنَ بِكَ فَهَدَيْتَهُ وَ تَوَكَّلَ عَلَيْكَ فَكَفَيْتَهُ وَ تَقَرَّبَ إِلَيْكَ فَأَدْنَيْتَهُ وَ افْتَقَرَ إِلَيْكَ فَأَغْنَيْتَهُ وَ اسْتَغْفَرَكَ فَغَفَرْتَ لَهُ وَ رَضِيتَ عَنْهُ وَ أَرْضَيْتَهُ وَ هَدَيْتَهُ إِلَى مَرْضَاتِكَ وَ اسْتَعْمَلْتَهُ بِطَاعَتِكَ وَ لِذَلِكَ فَرَّغْتَهُ أَبَداً مَا أَحْيَيْتَهُ فَتُبْ عَلَيَّ يَا رَبِّ وَ أَعْطِنِي سُؤْلِي وَ لَا تَحْرِمْنِي شَيْئاً مِمَّا سَأَلْتُكَ وَ اكْفِنِي شَرَّ مَا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِي الْأَرْضِ وَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الَّذِي لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا هُوَ
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَعِنِّي عَلَى الدُّنْيَا وَ ارْزُقْنِي خَيْرَهَا وَ كَرِّهْ إِلَيَّ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْيَانَ وَ اجْعَلْنِي مِنَ الرَّاشِدِينَ
اللَّهُمَّ قَوِّنِي لِعِبَادَتِكَ وَ اسْتَعْمِلْنِي فِي طَاعَتِكَ وَ بَلِّغْنِيَ الَّذِي أَرْجُو مِنْ رَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الرِّيَّ يَوْمَ الظَّمَاءِ وَ النَّجَاةَ يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَ الْفَوْزَ يَوْمَ الْحِسَابِ وَ الْأَمْنَ مِنْ يَوْمِ الْخَوْفِ وَ أَسْأَلُكَ النَّظَرَ إِلَى وَجْهِكَ الْكَرِيمِ وَ الْخُلُودَ فِي جَنَّتِكَ فِي دَارِ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِكَ وَ السُّجُودَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ ساقٍ وَ الظِّلَّ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّكَ وَ مُرَافَقَةَ أَنْبِيَائِكَ وَ رُسُلِكَ وَ أَوْلِيَائِكَ
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ مِنْ ذُنُوبِي وَ مَا أَخَّرْتُ وَ مَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ وَ مَا أَسْرَفْتُ عَلَى نَفْسِي وَ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي وَ ارْزُقْنِي التُّقَى وَ الْهُدَى وَ الْعَفَافَ وَ الْغِنَى وَ وَفِّقْنِي لِلْعَمَلِ بِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضَى
اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِيَ الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَ أَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَ أَصْلِحْ لِي آخِرَتِيَ الَّتِي إِلَيْهَا مُنْقَلَبِي وَ اجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَ اجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ سُوءٍ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا رَبَّ الْأَرْبَابِ وَ يَا سَيِّدَ السَّادَاتِ وَ يَا مَالِكَ الْمُلُوكِ أَنْ تَرْحَمَنِي وَ تَسْتَجِيبَ لِي وَ تُصْلِحَنِي فَإِنَّهُ لَا يُصْلِحُ مَنْ صَلَحَ مِنْ عِبَادِكَ إِلَّا أَنْتَ فَإِنَّكَ أَنْتَ رَبِّي وَ ثِقَتِي وَ رَجَائِي وَ مَوْلَايَ وَ مَلْجَئِي وَ لَا رَاحِمَ لِي غَيْرُكَ وَ لَا مُغِيثَ لِي سِوَاكَ وَ لَا مَالِكَ سِوَاكَ وَ لَا مُجِيبَ إِلَّا أَنْتَ أَنَا عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدِكَ وَ ابْنُ أَمَتِكَ الْخَاطِئُ الَّذِي وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ وَ أَنْتَ الْعَالِمُ بِحَالِي وَ حَاجَتِي وَ كَثْرَةِ ذُنُوبِي وَ الْمُطَّلِعُ عَلَى أُمُورِي كُلِّهَا فَأَسْأَلُكَ يَا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تَغْفِرَ لِي مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِي وَ مَا تَأَخَّرَ
اللَّهُمَّ لَا تَدَعْ لِي ذَنْباً إِلَّا غَفَرْتَهُ وَ لَا هَمّاً إِلَّا فَرَّجْتَهُ وَ لَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًى إِلَّا قَضَيْتَهَا وَ لَا عَيْباً إِلَّا أَصْلَحْتَهُ
اللَّهُمَّ وَ آتِنِي فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنِي عَذَابَ النَّارِ
اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى أَهْوَالِ الدُّنْيَا وَ بَوَائِقِ الدُّهُورِ وَ مُصِيبَاتِ اللَّيَالِي وَ الْأَيَّامِ
اللَّهُمَّ وَ احْرُسْنِي مِنْ شَرِّ مَا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ فِي الْأَرْضِ فَإِنَّهُ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَاناً ثَابِتاً وَ عَمَلًا مَقْبُولًا وَ دُعَاءً مُسْتَجَاباً وَ يَقِيناً صَادِقاً وَ قَوْلًا طَيِّباً وَ قَلْباً شَاكِراً وَ بَدَناً صَابِراً وَ لِسَاناً ذَاكِراً
اللَّهُمَّ انْزِعْ حُبَّ الدُّنْيَا وَ مَعَاصِيهَا وَ ذِكْرَهَا وَ شَهْوَتَهَا مِنْ قَلْبِي
اللَّهُمَّ إِنَّكَ بِكَرَمِكَ تَشْكُرُ الْيَسِيرَ مِنْ عَمَلِي فَاعْفُ لِيَ الْكَثِيرَ مِنْ ذُنُوبِي وَ كُنْ لِي وَلِيّاً وَ نَصِيراً وَ مُعِيناً وَ حَافِظاً
اللَّهُمَّ هَبْ لِي قَلْباً أَشَدَّ رَهْبَةً لَكَ مِنْ قَلْبِي وَ لِسَاناً أَدْوَمَ لَكَ ذِكْراً مِنْ لِسَانِي وَ جِسْماً أَقْوَى عَلَى طَاعَتِكَ وَ عِبَادَتِكَ مِنْ جِسْمِي
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَ مِنْ فَجْأَةِ نَقِمَتِكَ وَ مِنْ تَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَ مِنْ هَوْلِ غَضَبِكَ وَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَ مِنْ شَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ وَ سُوءِ الْقَضَاءِ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الْكَرِيمِ وَ عَرْشِكَ الْعَظِيمِ وَ مُلْكِكَ الْقَدِيمِ يَا وَهَّابَ الْعَطَايَا وَ يَا مُطْلِقَ الْأُسَارَى وَ يَا فَكَّاكَ الرِّقَابِ وَ يَا كَاشِفَ الْعَذَابِ أَسْأَلُكَ أَنْ تُخْرِجَنِي مِنَ الدُّنْيَا سَالِماً غَانِماً وَ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ آمِناً وَ أَنْ تَجْعَلَ أَوَّلَ شَهْرِي هَذَا صَلَاحاً وَ أَوْسَطَهُ فَلَاحاً وَ آخِرَهُ نَجَاحاً إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ .
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ تمام تعریفیں اسی اللہ کے لیے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو مقرر فرمایا، پھر اس کے باوجود کافر اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اس نے موت کی ایک مدت مقرر فرمائی، اور ایک معین وقت اس کے پاس طے شدہ ہے، اس کے باوجود تم شک کرتے ہو۔ اور وہی اللہ ہے جو آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے چھپے اور ظاہر کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کماتے ہو اس سے بھی باخبر ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کمی یا ٹیڑھ نہیں رکھی، بلکہ اسے نہایت مضبوط اور سیدھا بنایا تاکہ اس کے ذریعے اپنے سخت عذاب سے خبردار کرے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کی ملکیت ہے، اور آخرت میں بھی حمد و شکر اسی کے لیے ہے، اور وہی حکمت والا اور خوب خبر رکھنے والا ہے۔
تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے فرشتوں کو پیغام رساں بنایا، دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے، وہ اپنی مخلوق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جسے وہ روک لے اسے اس کے بعد کوئی کھولنے والا نہیں، اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس مقام تک ہدایت دی، اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم خود اس مقام تک نہ پہنچ سکتے تھے، بے شک ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، پھر تم انہیں پہچان لوگے، اور تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں۔
تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم اور رنج دور کر دیا، بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا اور قدر کرنے والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے وعدے سچ کر دکھائے اور ہمیں جنت کی سرزمین کا وارث بنایا کہ ہم جہاں چاہیں ٹھہریں، نیک عمل کرنے والوں کا اجر کتنا اچھا ہے۔ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کر رہے ہوں گے، اور مخلوق کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا، اور کہا جائے گا کا اجر کتنا اچھا ہے۔ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے اپنے رب کی تسبیح اور حمد کر رہے ہوں گے، اور مخلوق کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا، اور کہا جائے گا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
پس تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے، اور تمام جہانوں کا رب ہے۔ آسمانوں اور زمین میں بڑائی اسی کے لیے ہے، اور وہی غالب اور حکمت والا ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے نہ کوئی بیٹا بنایا، نہ اس کی بادشاہت میں کوئی شریک ہے، اور نہ اسے کمزوری کی وجہ سے کسی مددگار کی ضرورت ہے، اور اس کی بڑائی بیان کرو، بہت بڑی بڑائی۔
اے اللہ! میرے پچھلے گناہوں کو بخش دے، اور باقی ماندہ عمر میں میری خبرگیری فرما، اور جس مقصد کے لیے تو نے مجھے پیدا کیا ہے اس پر عمل کرنے کی مجھے طاقت عطا فرما، اور ایمان کو میرے لیے محبوب بنا دے اور اسے میرے دل میں سجا دے۔ میں نے تجھے اسی طرح پکارا جیسے تو نے حکم دیا تھا، پس جس طرح تو نے وعدہ فرمایا ہے اسی طرح میری دعا قبول فرما۔
اے اللہ! میں نے اس حال میں صبح کی کہ میں تیرا بندہ ہوں، میں اس چیز کو دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا جو مجھے ناپسند ہے، اور نہ ہی اس چیز پر اختیار رکھتا ہوں جس کی میں امید کرتا ہوں، اور میں اپنے عمل کے بدلے گروی ہوں، اور مجھ سے بڑھ کر کوئی محتاج نہیں۔ اے پروردگارِ عالم! میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تو مجھے اس شخص کی طرح عمل کرنے والا بنا دے جو اپنی موت کے یقینی ہونے پر یقین رکھتا ہو، بلکہ اس شخص کی طرح جس نے گویا موت کو دیکھ لیا ہو، اپنے عمل اور اس کے انجام کو دیکھ لیا ہو، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ! یہ اس شخص کی جگہ ہے جو تیرے عذاب سے دیکھ لیا ہو، اپنے عمل اور اس کے انجام کو دیکھ لیا ہو، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔
اے اللہ! یہ اس شخص کی جگہ ہے جو تیرے عذاب سے تیری رحمت کی پناہ مانگتا ہے، اور تیرے غضب سے تیری عافیت کی پناہ چاہتا ہے۔ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جنہوں نے تجھے پکارا تو تو نے انہیں جواب دیا، تجھ سے مانگا تو تو نے عطا فرمایا، تجھ پر ایمان لائے تو تو نے انہیں ہدایت دی، تجھ پر بھروسہ کیا تو تو نے انہیں کافی ہو لیا، تیری بارگاہ میں قریب ہوئے تو تو نے انہیں قرب عطا کیا، اپنی محتاجی پیش کی تو تو نے انہیں بے نیاز کر دیا، تجھ سے مغفرت مانگی تو تو نے انہیں بخش دیا، ان سے راضی ہوا اور انہیں راضی کر دیا، اور انہیں اپنی رضا کی طرف ہدایت دی، اور اپنی اطاعت میں مشغول رکھا، اور جب تک انہیں زندہ رکھا اپنی عبادت کے لیے فارغ البال رکھا۔
اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میری دعا عطا فرما، اور جن چیزوں کا میں نے تجھ سے سوال کیا ہے ان میں سے کسی سے مجھے محروم نہ کر، اور زمین میں ظالموں کے شر سے میری حفاظت فرما۔ اور میں اس اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیونکہ گناہوں کو اس کے سوا کوئی نہیں بخشتا۔
اے اللہ! محمد اور آلِ محمد پر درود بھیج، مجھے دنیا کے معاملات میں مدد دے، دنیا کی بھلائی مجھے عطا فرما، کفر، فسق اور نافرمانی کو میرے دل میں ناپسند بنا دے، اور مجھے ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔
اے اللہ! مجھے اپنی عبادت کی طاقت عطا فرما، مجھے اپنی اطاعت میں مشغول رکھ، اور اپنی رحمت سے مجھے اس مقام تک پہنچا دے جس کی میں امید رکھتا ہوں، اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے!
اے اللہ! میں تجھ سے پیاس کے دن سیرابی، بڑے خوف کے دن نجات، حساب کے دن کامیابی، اور خوف کے دن امن مانگتا ہوں۔ میں تجھ سے تیرے کریم چہرے کی زیارت، تیری جنت میں ہمیشہ کی رہائش، اس دن سجدہ نصیب ہونے کی دعا کرتا ہوں جب پردہ ہٹا دیا جائے گا، اور اس دن اپنے سایہ کی پناہ چاہتا ہوں جب تیرے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، اور تیرے نبیوں، رسولوں اور اولیاء کی رفاقت مانگتا ہوں۔
اے اللہ! میرے پچھلے اور آنے والے، پوشیدہ اور ظاہر، اور وہ گناہ جن میں میں نے اپنے نفس پر زیادتی کی، اور وہ سب جنہیں تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، سب کو بخش دے۔ مجھے تقویٰ، ہدایت، پاکدامنی اور بے نیازی عطا فرما، اور اس عمل کی توفیق دے جو تجھے پسند ہے اور جس سے تو راضی ہوتا ہے۔
اے اللہ! میرے دین کو درست فرما جو میرے تمام معاملات کا محافظ ہے، میری دنیا کو درست فرما جس میں میری زندگی ہے، اور میری آخرت کو درست فرما جس کی طرف میرا لوٹنا ہے۔ میری زندگی کو ہر بھلائی میں اضافہ بنا دے، اور میری موت کو ہر برائی سے راحت بنا دے۔
اے اللہ! اے پرورش کرنے والوں کے رب، اے سرداروں کے سردار، اے بادشاہوں کے مالک! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھ پر رحم فرما، میری دعا قبول فرما، اور مجھے درست کر دے، کیونکہ تیرے بندوں میں سے جسے بھی درست کیا گیا ہے اسے تیرے سوا کسی نے درست نہیں کیا۔ تو ہی میرا رب، میرا بھروسہ، میری امید، میرا کارساز اور میری پناہ ہے۔ تیرے سوا کوئی مجھ پر رحم کرنے والا نہیں، تیرے سوا کوئی مددگار نہیں، تیرے سوا کوئی مالک اور دعا قبول کرنے والا نہیں۔ میں تیرا خطاکار بندہ ہوں، تیرے بندے اور بندی کا بیٹا ہوں، تیری رحمت نے مجھے گھیر رکھا ہے، اور تو میری حالت، میری حاجت، میرے گناہوں کی کثرت اور میرے تمام معاملات سے باخبر ہے۔ پس اے وہ ذات جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میرے پچھلے اور آنے والے گناہوں کو بخش دے۔
اے اللہ! میرے لیے کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ مگر یہ کہ تو اسے بخش دے، کوئی غم باقی نہ چھوڑ مگر یہ کہ اسے دور کر دے، کوئی ایسی حاجت نہ چھوڑ جو تیری رضا کے مطابق ہو مگر یہ کہ پوری کر دے، اور کوئی عیب نہ چھوڑ مگر یہ کہ اسے درست فرما دے۔
اے اللہ! مجھے دنیا کی بھلائی عطا فرما اور آخرت کی بھلائی بھی، اور مجھے آگ کے عذاب سے بچا۔ اے اللہ! دنیا کے ہولناک حالات، زمانے کی سختیوں، اور دن رات کی آفتوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ اے اللہ! زمین میں ظالموں کے برے اعمال سے میری حفاظت فرما، کیونکہ تیرے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں۔
اے اللہ! میں تجھ سے مضبوط ایمان، قبول شدہ عمل، قبول ہونے والی دعا، سچا یقین، پاکیزہ کلام، شکر گزار دل، صبر کرنے والا جسم، اور تجھے یاد کرنے والی زبان مانگتا ہوں۔ اے اللہ! دنیا کی محبت، اس کے گناہوں، اس کے ذکر اور اس کی خواہشات کو میرے دل سے نکال دے۔ اے اللہ! تو اپنے کرم سے میرے تھوڑے سے عمل پر بھی قدردانی فرماتا ہے، پس میرے بہت سے گناہوں کو معاف فرما، اور تو ہی میرا سرپرست، مددگار، محافظ اور سہارا بن جا۔
اے اللہ! مجھے ایسا دل عطا فرما جو تجھ سے میرے دل سے زیادہ ڈرنے والا ہو، ایسی زبان عطا فرما جو میری زبان سے زیادہ تیرا ذکر کرنے والی ہو، اور ایسا جسم عطا فرما جو میری طاقت سے بڑھ کر تیری اطاعت اور عبادت پر قادر ہو۔
اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال، تیرے اچانک عذاب، تیری عافیت کے بدل جانے، اور تیرے غضب کی ہولناکی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں سخت آزمائش، بدبختی کے آ جانے، دشمنوں کی خوشی، اور دنیا و آخرت میں برے انجام سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اے اللہ! میں تجھ سے تیرے عظیم نام، تیرے بڑے عرش، اور تیری قدیم بادشاہت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں، اے عطا فرمانے والے، اے قیدیوں کو آزاد کرنے والے، اے جہنم سے گردنیں چھڑانے والے، اے عذاب کو دور کرنے والے! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا سے سلامتی کے ساتھ، فائدہ اٹھاتے ہوئے نکالے، اور اپنی رحمت سے مجھے جنت میں امن کے ساتھ داخل فرما، اور اس مہینے کے آغاز کو میرے لیے صلاح، اس کے وسط کو کامیابی، اور اس کے آخر کو کامرانی بنا دے۔ بے شک تو تمام پوشیدہ باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔۔[9].
۲. شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس ماہ کی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو حضرت صدیقۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھنے کو مستحب اور مناسب قرار دیا ہے۔[10]
حوالہ جات
- ↑ ابوریحان بیرونی، الاثار الباقیة عن القرون الخالیة، ج۱، ص۶۱، چاپ ادوارد زاخاو، لایپزیگ ۱۹۲۳
- ↑ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۱، ص۲۲۸
- ↑ ابوریحان بیرونی، کتاب التفهیم لاوائل صناعة التنجیم، ج۱، ص۲۲۷ـ ۲۲۸ پانویس ۵، چاپ جلالالدین همائی، تهران ۱۳۶۲ ش
- ↑ امین، اعیان الشیعة
- ↑ وقایع الایّام، صفحه ۱۱٫
- ↑ مفاتیح نوین، صفحه ۵۷۹
- ↑ مفاتیح نوین، صفحه ۵۸۰
- ↑ مفاتیح نوین، صفحه ۵۷۹٫
- ↑ الاقبال بالاعمال الحسنه، ج۳، ص ۱۵۱
- ↑ مفاتیحالجنان؛ اعمال ماهها