ایران اور عراق کی آٹھ ساله جنگ(مقدس دفاع)
ایران–عراق کی آٹھ ساله جنگ کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے شدید ترین تنازعات میں شمار کیا جاتا ہے، جس نے خطے کے استحکام، عرب–اسرائیل تنازع، مغرب کی تیل بردار شاہراہوں اور بڑی طاقتوں کے دیگر مفادات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ جنگ بالائی طاقتوں کے زوال، علاقائی طاقتوں کے ظہور اور انقلابی تبدیلیوں کے دور میں ایک نمونۂ منازعہ کے طور پر بھی دیکھی جاتی ہے اور اسی وجہ سے اسے غیر معمولی نظری اہمیت حاصل ہے۔
اس کے باوجود یہ امر باعثِ حیرت ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا میں اس جنگ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ اگرچہ اس جنگ سے متعلق خبریں امریکی ذرائع ابلاغ میں مسلسل شائع ہوتی رہیں، لیکن اس جنگ کے تجزیے، خصوصاً اس کے آغاز کے اسباب پر سنجیدہ تحقیق اور غور و فکر نہیں کیا گیا۔ اس جنگ کے آغاز کے اسباب کا مطالعہ نہ صرف اس کے حل و فصل کے طریقوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے، بلکہ مستقبل میں اسی نوعیت کی ممکنہ جنگوں کے وقوع کی پیش گوئی اور ان کی روک تھام کے طریقوں کی نشاندہی کے لیے بھی بے حد اہمیت رکھتا ہے۔
تاریخی اسباب
دہائی 1960 کے بعد سے، ایران اور عراق کے درمیان بعض امور میں شدید مشکلات پیدا ہوئیں، جن میں ایک دوسرے کے مخالفین کی تخریبی اور برانداز تحریکوں کی باہمی حمایت اور علاقائی کشمکشیں شامل تھیں۔ حیات بخش آبی گزرگاہ شطّ العرب (اروندرود) کے استعمال کے حق پر تنازعہ ان کشمکشوں میں سے ایک تھا، جو سلطنتِ عثمانیہ کے دور سے مسلسل دونوں ممالک کے درمیان اختلاف اور نزاع کا باعث چلا آ رہا تھا۔
شاہِ ایران (سابق) کے دور میں، امریکہ کی سیاسی اور فوجی حمایت کے باعث ایران خلیجِ فارس کے خطے میں ایک برتر اور بلا شرکتِ غیرے طاقت بن چکا تھا۔ شاہ ایران کے اثر و رسوخ کو پورے خطے میں وسعت دینا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے تحت خلیجِ فارس کے بعض ممالک کے متنازعہ علاقوں پر بھی فوجی اقدام کرتے رہے۔
اسی تناظر میں، سنہ 1969 میں ایران نے 1937 کے اُس معاہدے کو منسوخ قرار دے دیا، جس میں شطّ العرب (اروندرود) پر عراق کے تقریباً مکمل کنٹرول کو تسلیم کیا گیا تھا۔ اس کے دو سال بعد، ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع تین چھوٹے جزیروں (ابوموسی، تنبِ بزرگ اور تنبِ کوچک) پر بھی قبضہ کر لیا۔
بعد ازاں، عراق نے 1975 کے الجزائر معاہدے میں اس شرط پر رضامندی ظاہر کی کہ شطّ العرب (اروندرود) میں دونوں ممالک کی آبی سرحد کو اصلِ تالوِگ (Thalweg) کی بنیاد پر ازسرِ نو متعین کیا جائے، بشرطیکہ شاہ ایران عراقی کُرد باغیوں کی حمایت ترک کر دیں، جنہوں نے بغداد حکومت کے لیے ایک طویل اور نہایت مہنگا بحران پیدا کر رکھا تھا۔
اس زمانے میں عرب دنیا کی قدامت پسند بادشاہتیں خلیجِ فارس میں شاہِ ایران کے توسیع پسندانہ کردار پر سخت ناراض تھیں، لیکن چونکہ شاہ ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے تھے، اس لیے وہ نہ صرف ایران کے اقدامات کے مقابلے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے، بلکہ اپنے اپنے ممالک میں شدید داخلی مخالفت، بالخصوص مذہبی گروہوں کی شاہ مخالف تحریکوں کے مقابلے میں، شاہِ ایران کی حمایت بھی کرتے تھے۔
یہاں تک کہ عراقی حکومت نے بھی خزاں 1978ء میں شاہِ ایران کی درخواست پر، امام خمینیؒ کو تیرہ سالہ جلاوطنی کے بعد شہرِ مقدس نجف سے نکال دیا۔
شاہِ ایران کے سقوط کے بعد عرب ممالک کے رہنماؤں کو ایرانی انقلاب کے بارے میں شدید تشویش لاحق ہوئی۔ تاہم، ایران میں مہدی بازرگان جیسے معتدل مزاج شخصیت کے وزیرِاعظم بننے، اور نئے ایرانی نظام کی جانب سے اسلامی اخوت، ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، خطے کے ممالک کی علاقائی سالمیت کے باہمی احترام، قابض اسرائیلی حکومت کو تسلیم نہ کرنے، اور خلیجِ فارس میں ژاندارم کا کردار ادا نہ کرنے کے واضح اعلانات کے باعث، عرب ممالک کے خدشات کسی حد تک کم ہو گئے۔
اس کے باوجود، بعض ایرانی حکام کی جانب سے بحرین اور 1971 میں قبضے میں لیے گئے تین جزیروں سے متعلق علاقائی دعوؤں نے، نئے ایرانی نظام کے زیادہ بنیاد پرست عناصر کے عزائم کے بارے میں عربوں کی بدگمانی کو کسی حد تک ہوا دی۔
1979ء کے موسمِ بہار میں، ایران اور عراق دونوں میں نسلی و قومی تحرکات کے ابھرنے اور ایک دوسرے کے مخالف گروہوں کی باہمی حمایت کے نتیجے میں، دونوں ممالک کے تعلقات تیزی سے بگڑنے لگے۔ مزید برآں، عراق میں بعثی حکومت — جو سنی اقلیت کے زیرِ تسلط تھی — کے مخالف بعض شیعہ عراقی گروہوں کی ایران کی جانب سے حمایت نے، عراقی حکومت کو ان شیعہ تحریکوں کے خلاف سخت کارروائی پر آمادہ کیا، خصوصاً اس ملک کے مقدس شہروں میں۔
صدام حسین نے کھلے طور پر الزام ایرانی بنیاد پرستوں پر عائد کیا اور امام خمینیؒ کی آخری قیام گاہ کو منہدم کرنے، ان کے نمائندوں کو عراق سے بے دخل کرنے، اور آیت اللہ سید محمدباقر صدرؒ — جو عراقی حکومت کے سب سے نمایاں مخالف عالمِ دین تھے — کی گرفتاری کے احکامات صادر کیے۔
باوجود اس کے کہ 1979ء کے موسمِ گرما میں مہندس بازرگان کی عارضی حکومت اور بغداد نے باہمی امور کے حل و فصل کے لیے متقابل اقدامات کیے، لیکن اسی سال کے موسمِ خزاں میں خلیجِ فارس کے شمالی حصے میں عراقی شیعوں کی بدامنیوں نے بغداد کو ایک بار پھر اس دعوے کو دہرانے پر آمادہ کیا کہ ایران عرب شیعوں کو اُکسا رہا ہے۔ صدام حسین نے امام خمینی کی حکومت کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے، خلیجِ فارس کے جزیروں پر ایران کی نام نہاد بالادستی کے خاتمے اور ایران کی نسلی اقلیتوں کے ساتھ نرمی برتنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم، عراقی قونصل خانوں اور سفارت خانے پر پاسدارانِ انقلاب کے بار بار حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سرکاری مذاکرات جلد ہی ختم ہو گئے۔
نومبر کے مہینے میں اقتدار مہندس بازرگان کی حکومت سے انقلاب کونسل کو منتقل ہو گیا، جس میں زیادہ تر مذہبی شخصیات شامل تھیں، اور یوں ایران پر اسلامی جمہوری پارٹی کا کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا۔ ایران کے نئے صدر ابوالحسن بنی صدر اور ان کے وزیرِ خارجہ صادق قطب زادہ بھی اس پارٹی کے بااثر علما پر سخت انحصار رکھتے تھے۔
تہران نے خلیجِ فارس کے عرب ممالک کے شیعوں کو مخاطب بنا کر اپنی ریڈیو نشریات میں شدت پیدا کی اور عرب ممالک کی فاسد اور صہیونی نواز حکومتوں کی مذمت کرتے ہوئے ان کے خاتمے اور اسلامی جمہوریہ جیسے نظاموں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ایران کے اس اقدام کے ساتھ ہی شیعہ معاشروں میں عوامی مظاہرے اور عراق میں بار بار سیاسی تشدد کے واقعات پیش آئے، جن میں بم دھماکے، عراقی حکام پر حملے اور بالخصوص اپریل 1980 میں عراق کے نائب وزیرِ اعظم طارق عزیز کو قتل کرنے کی کوشش شامل تھی۔
یہ بدامنیوں زیادہ تر عراق کی حزب الدعوہ کی جانب سے کی جا رہی تھیں، جو ایران کی حمایت یافتہ ایک شیعہ جماعت تھی۔ اس کے جواب میں عراق نے ایرانی عرب آبادیوں کو اپنی تبلیغات کا ہدف بنایا اور شیعہ تحرکات کے خلاف ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے خلاف اجتماعی جلاوطنی، مسلسل گرفتاریاں اور سزائے موت کا سلسلہ شروع کیا، جن میں آیت اللہ سید محمدباقر صدر بھی شامل تھے۔
ایران نے بھی متقابلاً عراق پر لندن میں اپنے سفارت خانے پر قبضے اور اس وقت کے ایرانی وزیرِ اعظم صادق قطب زادہ پر قاتلانہ حملے کا الزام عائد کیا۔[1]
1980ء کے موسمِ گرما میں سرحدی جھڑپوں کے آغاز کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا۔ ستمبر کے اوائل میں ایران کی جانب سے دو عراقی دیہات پر حملے کے بعد بغداد نے مطالبہ کیا کہ ایران عراق کے حقوق اور اس کے علاقائی دعوؤں کو تسلیم کرے۔ ان مطالبات میں کرمانشاہ صوبے کے اس متنازع علاقے سے ایران کا انخلا، جس پر دونوں ممالک کے درمیان اختلاف تھا، 1975ء کے الجزائر معاہدے کی شقوں پر دوبارہ مذاکرات، اور عراقی معارض گروہوں کی سرحدی بغاوتوں اور تحرکات کی ایران کی جانب سے حمایت کا خاتمہ شامل تھا۔
17 ستمبر کو صدام حسین نے اعلان کیا کہ ایران نے 1975 کے الجزائر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور عراق اب اس معاہدے کو معتبر نہیں سمجھتا۔ ایران نے فوراً اس اقدام کی شدید مذمت کی۔ اس کے باوجود، 22 ستمبر کو عراقی افواج نے تہران کے فضائی اڈے سمیت ایران کے مختلف فضائی اڈوں پر ہوائی حملے شروع کر دیے اور اسی کے ساتھ تیل سے مالا مال صوبہ خوزستان پر ایک وسیع پیمانے کی زمینی یلغار کا آغاز کر دیا۔
عراق کا دعویٰ تھا کہ اس فوجی حملے کے ذریعے وہ ایران کے ساتھ جاری مخاصمت کے خاتمے کے لیے موزوں حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایران کو عراق کے حقوق اور اس کی علاقائی خودمختاری کو تسلیم کرنے، خلیجِ فارس کے ممالک کے ساتھ حسنِ ہمسائیگی اختیار کرنے، ان کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت ، اور ایرانیوں کی جانب سے کی جانے والی تمام (باصطلاح) جارحانہ کارروائیوں کو ختم کرنے پر مجبور کرنا مقصود ہے۔[2] عراق شطّ العرب (اروندرود) پر مکمل کنٹرول کا خواہاں تھا، تاہم خلیجِ فارس کے جزیروں کے بارے میں اس کا کوئی علاقائی دعویٰ نہیں تھا۔
اکتوبر کے مہینے میں، جب عراقی افواج ایران کی سرزمین میں مزید پیش قدمی کرتی رہیں، صدام حسین نے دعویٰ کیا کہ وہ فوجی اعتبار سے اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے اور اس نے جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز کی پیش کش کی۔ لیکن ایرانیوں نے اپنی سرزمین سے عراقی افواج کے مکمل انخلا سے قبل کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا۔
1981ء کے ابتدائی نصف میں جنگ کے جاری رہنے کے ساتھ ہی دونوں فریق عملاً ایک قسم کے تعطل (بنبست) کا شکار ہو گئے۔ تاہم اسی سال کے موسمِ خزاں میں ایران نے وسیع پیمانے پر جوابی حملے کر کے عراق کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور مارچ 1982ء میں جنگ میں واضح برتری حاصل کر لی، یہاں تک کہ جون کے مہینے میں عراقی افواج اپنی سرحدوں تک واپس چلی گئیں۔ اس کے باوجود، ایران نے جولائی کے مہینے میں جنگ کا دائرہ عراق کی جنوبی سرحدوں تک پھیلا دیا۔
نظریاتی روابط
جنگ تک لے جانے والے اہم واقعات کی اجمالی وضاحت کے بعد اب ضروری ہے کہ اس تاریخی تسلسل کی پیچیدگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جنگ کے وقوع کے بعض اسباب کو شمار کیا جائے۔ زیادہ طاقت اور حیثیت کے حصول کی کوشش، تیسری طاقتوں کی حمایت کی امید، ایک فریق کی غلط اندازہ بندی، توسیع پسند انقلابی نظریے کا ظہور اور اس کا داخلی سیاسی استحکام پر اثر، اور دوسرے فریق میں داخلی سیاسی عدم استحکام سے پیدا ہونے والا خلأِ اقتدار—یہ سب جنگ کے آغاز کے بنیادی اسباب میں شامل ہیں، جن کا ہم تفصیلی جائزہ لیں گے۔[3]
اس تحقیق میں ہم خطے میں طاقت کے توازن کے بگڑنے کے امکان سے پیدا ہونے والے خوف اور تشویش کو ایک ثانوی متغیر کے طور پر بھی زیرِ بحث لائیں گے؛ ایسا متغیر جو مذکورہ عوامل سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور انہیں مزید تقویت دیتا ہے۔ زیرِ نظر تمام عوامل صدیوں کے دوران جنگوں کے وقوع کے اہم اسباب میں شمار ہوتے رہے ہیں اور بین الاقوامی منازعات کے نظریاتی ادب میں بھی ان پر وسیع پیمانے پر توجہ دی گئی ہے۔
ایران۔عراق جنگ کے آغاز میں ان عوامل کے کردار کا جائزہ لینے سے قبل، ضروری ہے کہ ان بعض نظریاتی روابط کی طرف بھی مختصراً اشارہ کیا جائے جن کے ذریعے یہ عوامل جنگ کے اسباب بنتے ہیں۔
قدرت، توسیدید (Thucydides) کے زمانے سے ہی مغربی حقیقت پسند (Realist) بین الاقوامی نظریاتی سیاست کا مرکزی محور رہی ہے، اور توازنِ قوا اور اس سے متعلق دیگر نظریات میں بھی علاقائی یا براعظمی برتری حاصل کرنے کی محرکات کو جنگ کے بنیادی اسباب میں شمار کیا گیا ہے۔[4]
اسی تناظر میں وجهہ (prestige) اور اعتبار کا حصول بھی صاحبانِ اقتدار کے نزدیک عاملِ قدرت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور مشروعیت، عزم و ارادے اور احساسِ اقتدار کے ساتھ ایک ناقابلِ انفکاک رشتہ رکھتا ہے۔[5] حتیٰ کہ بعض مفکرین کا کہنا ہے کہ: «بین الاقوامی تعلقات کے روزمرہ معاملات میں، بعض اوقات وجهہ کا ہونا، طاقت کے ہونے سے بھی زیادہ اہم ہوتا ہے»[6]
مزید یہ کہ یہ مفروضہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ وہ ریاستیں جن کے وجهہ اور حقیقی عسکری طاقت کے درمیان کسی قسم کی عدم مطابقت پائی جاتی ہو، نسبتاً زیادہ جنگ کی طرف مائل ہوتی ہیں، کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ اپنی مفروضہ سیاسی و اقتصادی حیثیت کو اپنی عسکری طاقت کی سطح کے مطابق بلند کریں۔[7]
ایسی ریاستیں خاص طور پر اس وقت اعتبار اور وجهہ کے خلأ کے بارے میں شدید حساس ہو جاتی ہیں جب انہیں یہ احساس ہو کہ دشمنوں کی جانب سے ان کی تحقیر کی گئی ہے۔[8] چونکہ قومی غرور اور بین الاقوامی وجهہ کا عنصر حکومتوں کی داخلی سیاست اور صاحبانِ اقتدار کی ذاتی حیثیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے، اس لیے ہر ملک کے حکمران عموماً خارجی میدان میں سیاسی یا عسکری فتوحات کے حصول کے خواہاں رہتے ہیں، تاکہ ایک طرف اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر سکیں اور دوسری طرف اپنی پالیسیوں کے لیے داخلی سیاسی حمایت میں اضافہ کر سکیں۔[9]
ریاستیں ایک طرف قدرت اور وجهہ پر مبنی جاهطلبیوں کے زیرِ اثر اور دوسری طرف بیرونی خطرات سے پیدا ہونے والی تشویش سے نجات کے لیے جنگ کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ خطرات کبھی عسکری نوعیت کے ہوتے ہیں، جو کسی ملک کی علاقائی سالمیت یا اس کے طاقت کے مقام کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں، اور کبھی سیاسی نوعیت کے، جو اس ملک کے داخلی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔
سیاسی خطرہ مختلف صورتوں میں ظاہر ہو سکتا ہے:
- ایک توسیع پسند سیاسی یا انقلابی نظریے کی شکل میں، جو اپنی اقدار کو دیگر معاشروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرے؛
- ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کی نسلی یا مذہبی اقلیتوں کی حمایت کی صورت میں؛
- ایک ملک کی نسلی گروہوں کی سرحدی ہمسائیگی کے باعث، جو دوسرے ملک کے لیے عدمِ استحکام کا سبب بن سکتی ہے؛
- اور بالآخر، ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کو براہِ راست خارجی اقدامات کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کی صورت میں۔
کسی ملک کی عسکری شکست اس ملک میں حکومت کی تبدیلی یا حتیٰ کہ انقلاب کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ داخلی سیاسی عدمِ استحکام کسی ریاست کی عسکری صلاحیت کو شدید طور پر کمزور کر دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں علاقائی یا براعظمی توازنِ قوا میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی انقلابی نظریاتی شناخت کو دیگر ممالک تک برآمد کرنا چاہے، تو وہ متعلقہ ممالک کی حکومتوں کی بقا کو خطرے میں ڈال کر، نئی سیاسی صفبندیاں تشکیل دیتا ہے، اور ان صفبندیوں کے توازنِ قوا پر اثرات، ان ممالک میں خوف اور تشویش کو جنم دیتے ہیں۔[10]
قدرت، وجهہ اور داخلی سیاسی استحکام پر مبنی قومی مفادات، اور ساتھ ہی صاحبانِ اقتدار کے ذاتی سیاسی مفادات کے تناظر میں، بعض ایسے مخصوص مواقع پیدا ہو جاتے ہیں جو جنگ کے امکان کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس ضمن میں، دو ممالک کے درمیان طاقت کے فرق میں اچانک اضافہ جنگ کے وقوع میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ فرق کسی ایک فریق کی عسکری شکست، داخلی سیاسی عدمِ استحکام، یا معاشی زوال کے نتیجے میں پیدا ہو سکتا ہے، اور یہی عنصر اکثر تصادم کو ناگزیر بنا دیتا ہے۔[11]
سیاسی، اقتصادی یا عسکری حمایت—یا کم از کم دیگر ممالک کی غیر جانبداری —کی توقع بھی جنگ کے وقوع کے بنیادی اسباب میں شمار ہوتی ہے۔ جب ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی مفادات یا عقیدتی، دینی یا ثقافتی روابط موجود ہوں تو ایسی توقعات اور رویّے غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔[12]
اسی طرح غلط ادراکات اور غلط محاسبات بھی جنگ کے آغاز میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔[13] بعض صاحبانِ اقتدار دشمن کی عسکری صلاحیتوں، یا جنگ کو جاری رکھنے کے اس کے عزم و ارادے کے بارے میں نادرست اندازے لگا لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ سنگین غلطیوں کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ بعض دیگر اس بات کے بارے میں بھی غلط فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں کہ جنگ دشمن کی آبادی کی یکجہتی پر کیا اثر ڈالے گی، یا اپنی فوجی قوت کے حوصلے، ہم آہنگی اور کارکردگی کو حد سے زیادہ خوش فہمی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیشتر جنگوں میں، جنگ کا آغاز کرنے والے فریق کا حد سے زیادہ عسکری اعتماد جنگ کے وقوع میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر، اکثر یہی فریق بالآخر جنگ میں نقصان اٹھاتا ہے۔ اس نظریاتی فریم ورک اور تاریخی پس منظر کے بیان کے ذریعے، ہم نے ایران۔عراق جنگ کے اسباب کے تجزیے اور اس کے مختلف پہلوؤں کے مطالعے کے لیے ایک مناسب فکری و تحلیلی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔
جنگ ایران اور عراق کے اسباب
صدام کی برتری کی خواہش
صدام کے اہم اہداف میں سے ایک خلیج فارس اور عرب معاشروں میں برتر مقام حاصل کرنا تھا، جسے وہ کئی برسوں سے مسلسل دنبال کر رہا تھا۔[14] عراق آبادی، معیشت اور فوجی طاقت کے مختلف پہلوؤں سے اس صلاحیت کا حامل تھا کہ وہ خطے میں ایک برتر طاقت بن سکے اور مصر کی جگہ لے سکے، جو اس وقت ایک سرکردہ عرب ملک سمجھا جاتا تھا۔ اس زمانے میں عراق کی آبادی تقریباً چودہ ملین تھی جو مصر کے علاوہ تمام تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک سے زیادہ تھی، اور اس کی اکثریت تعلیم یافتہ، متوسط طبقے، تربیت یافتہ اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل تھی۔
جنگ کے آغاز سے قبل عراق روزانہ پینتیس لاکھ بیرل تیل برآمد کرتا تھا اور اوپیک کا دوسرا بڑا پیداواری ملک تھا، جس سے اسے سالانہ تیئس ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ نیز، عراق میں تیل کی دریافتوں کی محدودیت کے باوجود، تیل کے ذخائر کے لحاظ سے یہ ملک سعودی عرب کے بعد خطے میں دوسرے نمبر پر تھا۔ عراق کی فوجی طاقت بھی خطے کے تمام عرب ممالک سے زیادہ تھی اور کسی حد تک ایران کے برابر سمجھی جاتی تھی۔
دوسری طرف، صدام نے اپنے ملک میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی تھی۔ وہ فوج پر مکمل کنٹرول رکھتا تھا اور بعثی سوشلسٹ حکومت کی داخلی پالیسیاں بھی اس کی طاقت کو محفوظ رکھنے کے لیے نافذ کی جا رہی تھیں۔ اگرچہ عراق کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، لیکن مہنگائی کی شرح بارہ فیصد پر مستحکم رہی۔ خطے کے دیگر تیل برآمد کرنے والے عرب ممالک کے برعکس، عراق میں دولت کی تقسیم کی پالیسیوں نے ایک امیر بالادست طبقہ پیدا ہونے سے روک رکھا تھا۔
اقتصادی ترقی نے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل، زرعی اصلاحات، اور پیٹروکیمیکل و فولاد کی صنعتوں کے قیام میں تیزی پیدا کر دی تھی۔ صدام نے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ایک پارلیمانی ادارہ یعنی قومی اسمبلی کے قیام کا بھی منصوبہ بنایا۔ ان تمام عوامل نے مجموعی طور پر صدام اور اس کے حامیوں کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ عراق کی طاقت میں بہت اضافہ ہو چکا ہے۔
اس بنیاد پر، کلاؤڈیا رائٹ نے 1979ء میں عراق کو خطے کی ایک "نئی طاقت" قرار دیا، اور ولیم کوآنڈٹ نے 1980ء کے اوائل میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ "عراق 1980ء کی دہائی میں یقیناً خلیج کے علاقے کی برتر طاقت بن جائے گا۔"[15]
صدام کھلے طور پر مشرقِ وسطیٰ میں عراق کے مقام کو بلند کرنے اور اس کی فوجی طاقت کو مضبوط بنانے کی پالیسیاں اختیار کر رہا تھا، جن میں ایک جوہری پروگرام کی تیاری بھی شامل تھی، تاکہ عراق کو واحد عرب ریاست بنایا جا سکے جو بیت المقدس پر قابض حکومت کا مقابلہ کرنے کی جوہری صلاحیت رکھتی ہو۔ اس مقصد کے لیے اس نے دو پان عرب کانفرنسیں منعقد کیں اور عرب ممالک کو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے خلاف متحرک کیا۔
نومبر 1978ء میں ہونے والی بغداد کانفرنس نے معتدل عرب ممالک کو متحد عرب مزاحمتی صف سے الگ ہونے سے روکے رکھا، جس کے نتیجے میں عراق کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔ صدام نے تنظیم آزادی بخش فلسطین اور عرب لبریشن فرنٹ کی حمایت کے ذریعے، اور اپریل 1980ء میں مقبوضہ فلسطین کے شمال میں واقع کیبوتز مسگاو عام پر حملہ کر کے، عرب اور اسرائیل کے تنازع میں ایک مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
اس سے بھی زیادہ اہم یہ تھا کہ صدام نے عرب دنیا میں بعثی سوشلسٹ حکومت کے انتہائی سخت موقف میں نرمی پیدا کی اور عرب سلاطین کے خلاف اپنی انقلابی لفظی جنگ کو روک دیا۔ اگرچہ اس نئی پالیسی کو اپنانے کے ذریعے وہ عرب قیادت کے مقام تک پہنچنے کا خواہاں تھا، تاہم فروری 1980ء میں اس نے عرب قومی منشور کا اعلان کیا۔ اس منشور میں تمام عربوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے باہمی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز کریں، جس کے نتیجے میں بغداد کے سابقہ سخت لہجے میں نمایاں تبدیلی آئی۔
عراق کا سوویت یونین سے فاصلہ اختیار کرنا، اپنے سابقہ دہشت گرد دوستوں سے کنارہ کشی، اور بیرونی امداد خصوصاً اردن کو امداد فراہم کرنے میں شرکت، بغداد کو معتدل عرب ممالک کے درمیان تنہائی سے نکالنے کا سبب بنا۔ صدام کی اعتدال پسند پالیسی اقتصادی شعبے تک بھی پھیل گئی اور تیل کی پیداوار اور قیمت جیسے معاملات میں عراق نے خود کو سعودی عرب کی پالیسیوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ کیا۔
صدام نے یہ بھی کوشش کی کہ وہ معتدل اور سخت گیر عرب ممالک کے درمیان ایک نظریاتی پل کا کردار ادا کرے اور غیر وابستہ ممالک کے درمیان ان کی قیادت سنبھالے، لیکن اس کوشش میں وہ کامیاب نہ ہو سکا۔
ایران میں نفوذ حاصل کرنا صدام کی عرب دنیا میں اپنی ساکھ بڑھانے کی اہم خواہشات میں سے تھا اور اسے خلیج فارس میں عراق کو ایک برتر فوجی طاقت بنانے کا بنیادی عامل سمجھا جاتا تھا۔ درحقیقت، الجزایر معاہدے میں درج سرحدی مسائل پر بغداد کی لفظی کشمکش نے ابتدا میں بعض مبصرین کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ اس معاہدے کے سرحدی مفادات میں تبدیلی ہی عراق کی جانب سے جنگ شروع کرنے کی اصل محرک ہے۔
الجزایر معاہدے کے مطابق شط العرب یعنی اروندرود پر مکمل کنٹرول سے دستبرداری عراق کے لیے ایک بڑی توہین سمجھی جاتی تھی، اور عرب ممالک کے لیے بھی یہ ایک تلخ حقیقت تھی،[16] کیونکہ یہ ایران جیسے زیادہ طاقتور ہمسائے کے سامنے عربوں کی ناتوانی کی علامت تھی۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی قابض حکومت کے ہاتھوں عربوں کی مسلسل شکستوں نے اس احساسِ حقارت کو مزید گہرا کر دیا تھا۔
عراق کی ایران کے خلاف جنگ میں ابتدائی کامیابیوں پر عرب دنیا کا جوش و خروش—جو 637 عیسوی میں قادسیہ کی لڑائی کے بعد ایرانیوں پر عربوں کی سب سے بڑی فوجی فتح تصور کی گئی—اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عرب فخر اس تنازع کے بنیادی محرکات میں سے ایک تھا۔
عراق کی فتح ایران کی علاقائی بالادستی کی واپسی کو روک سکتی تھی اور عراق کو خطے اور عرب دنیا میں برتر مقام تک پہنچا سکتی تھی، لیکن صرف یہی نکتہ صدام کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کی مکمل توجیہ نہیں بنتا۔ ابتدا میں بغداد کا موقف بازرگان حکومت کے مقابلے میں بظاہر دوستانہ تھا۔
درحقیقت، جب امام خمینی کی حکومت کی مجموعی پالیسی اسلامی بنیاد پرستی کو خطے کے دیگر ممالک تک برآمد کرنے، بالخصوص عراقی شیعوں کی تحریکوں کی حمایت پر مرکوز ہوئی، تو اسی کے بعد عراق کی جانب سے سرحدی تنازعات کے حل کے مطالبات سامنے آئے۔ بغداد کی حکومت نے اعلان کیا کہ 1975ء کے الجزایر معاہدے کو منسوخ کرنے کی اصل وجہ متنازعہ سرحدی مسائل نہیں بلکہ عراق کے اندرونی معاملات میں تہران کی مداخلت ہے۔
تاہم صدام، اگرچہ ایران کی جانب سے اپنے ملک کے داخلی امور میں عدم مداخلت پر زور دیتا تھا، یہ دعویٰ بھی کرتا رہا کہ عراق کے سرحدی مطالبات ہی کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتے ہیں، جبکہ اس کی افواج ایران کی سرزمین کے اندر صوبہ خوزستان میں تعینات تھیں۔ اس طرح، سرحدی تنازعات، جن میں شط العرب یعنی اروندرود پر کنٹرول کا مسئلہ بھی شامل تھا، جنگ کی اصل وجہ کے بجائے زیادہ تر ایک بہانہ تھے۔
لہٰذا، صدام کی جانب سے جنگ کے آغاز کے محرکات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے یہ بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ انقلابی ایران کی طرف سے عراق کے اندرونی سیاسی استحکام اور خطے کی معتدل حکومتوں کے لیے ایک مفروضہ خطرہ موجود سمجھا جاتا تھا۔
عراق اور خلیج فارس ممالک کے لیے انقلابی خطرہ
ایران کا انقلاب خلیج فارس کے عرب حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی گھنٹی تھا، کیونکہ اس انقلاب کی عوامی اور شیعہ بنیادیں وہاں کی سنی حکومتوں کے لیے براہِ راست چیلنج تصور کی جاتی تھیں۔ عرب حکمرانوں، خاص طور پر قدامت پسند سلاطین کے نزدیک جن کی خودکامه حکومتیں بہت سے پہلوؤں سے شاہِ ایران کی حکومت سے مشابہ تھیں، ایرانی انقلاب ان کے اقتدار کی ممکنہ کمزوری کو اجاگر کرتا تھا اور بنیاد پرست اسلامی تحریکوں اور سماجی ناراضگی کو بڑھا سکتا تھا۔
بنیاد پرست اسلام جب انقلابی شیعیت کے ساتھ ملتا تو یہ اہلِ سنت کے حکمرانوں اور سلاطین کے ساتھ ساتھ بغداد میں موجود بعث کی سیکولر حکومت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔
خلیج فارس کے عرب ممالک میں شیعہ آبادی کی موجودہ حکومتوں سے وفاداری بذاتِ خود ایک تشویش کا باعث سمجھی جاتی تھی۔ عراق اور بحرین میں شیعہ اکثریت کی موجودگی، اور قطر، ابو ظہبی، عمان اور سعودی عرب کے مشرقی صوبے[17] میں ان کی اقلیت کے پیشِ نظر، ایران کے انقلاب سے سب سے زیادہ خوف عراق کو لاحق تھا۔ عراق کے شیعہ طویل عرصے سے اس سیاسی اور معاشی پسماندگی پر ناراضی کا اظہار کر رہے تھے جس کا انہیں زیادہ تر سنی حکمران طبقے کے زیرِ اقتدار نظام میں سامنا تھا، اور شاہِ ایران کے مخالفین کی طرح انہوں نے بھی نظریاتی اور فرقہ وارانہ گروہ تشکیل دے رکھے تھے۔[18]
1970ء کی دہائی میں عراق کے دسیوں ہزار شیعوں کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ ایران کے انقلاب کی نوعیت اور عراقی شیعوں کے لیے اس کے مفہوم کے بارے میں بغداد کا نقطۂ نظر سب پر واضح تھا۔ اس حوالے سے ایچ ایچ عبیدی کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت، اپنے سیکولر ہونے کے دعوے کے باوجود، ایران کی شاہی حکومت کے خلاف قومی تحریک کو ایک شیعہ بغاوت کے طور پر دیکھتی تھی جو عراق پر گہرے اثرات ڈال سکتی تھی۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag</ref>
درحقیقت، ایران کے انقلاب کی کامیابی کو امام خمینی کے حامی کارکنوں اور مخالف تحریکوں کے لیے ایک تیز رفتار محرک سمجھا جاتا تھا، اور یہ اثر صرف عراق تک محدود نہیں تھا بلکہ کویت، بحرین اور سعودی عرب تک پھیلا ہوا تھا۔ امام خمینی کی حکومت کے قیام کے بعد، ایران کے اندرونی اتحاد نے ابتدا میں ان ممالک کے رہنماؤں کو انقلابِ ایران پر کھل کر تنقید کرنے سے روکے رکھا، اگرچہ وہ پسِ پردہ اپنے خوف کا اظہار کرتے رہے۔[19]
جنگ کے آغاز کے بعد بھی اس کے پھیلنے کے خدشے، اور خاص طور پر خلیج فارس میں عرب معتدل حکومتوں کے لیے ایران کی جانب سے ان کی تیل تنصیبات پر حملوں کے خوف نے، ان ممالک کو عراق کی کھلی حمایت سے باز رکھا۔ تاہم اردن کے شاہ حسین، جو ایران کی فضائیہ سے کسی بڑے خطرے کا احساس نہیں کرتے تھے، نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ میدان میں اترے اور اعلان کیا کہ وہ اس جنگ کو تہران کی حکومت اور خلیج فارس کے تمام عرب ممالک کے درمیان ایک تنازع سمجھتے ہیں، جس میں عراقی صفِ اوّل میں لڑ رہے ہیں۔[20]
انقلابی ایران کی حکومت کی مبینہ توسیع پسندانہ نوعیت نے عرب ممالک کے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔ زیادہ دیر نہ گزری کہ انقلاب کی برآمد اور نئی اسلامی جمہوریاؤں کے قیام، بالخصوص عراق میں، کو تخریب کاری کے منصوبوں کے طور پر تعبیر کیا جانے لگا۔ 1979ء کے خزاں سے اہواز اور تہران سے ریڈیو نشریات کا آغاز ہوا اور 1980ء کے موسمِ بہار سے ایرانی حکومت نے کھلے طور پر انقلاب کی برآمد کی پالیسی اختیار کر لی۔
اسی دوران دہشت گردانہ کارروائیاں، جن میں عراق کے نائب وزیر اعظم طارق عزیز پر قاتلانہ حملہ، پولیس مراکز، سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور عراقی فوجی یونٹوں پر حملے شامل تھے، زیادہ تر حزب الدعوہ کی جانب سے انجام دیے جاتے تھے، جسے ایران کی حمایت حاصل تھی۔ عراق کے اس وقت کے وزیر خارجہ حمادی نے عراق کے حملے کو جواز فراہم کرنے کی کوشش میں، 5 اکتوبر 1980ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے، شیعہ شورشوں کو ہوا دینے میں اسلامی جمہوریہ کے کردار پر زور دیا اور ان اقدامات پر بغداد کی شدید تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: بازرگان نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا اور ابراہیم یزدی بھی ان کے ساتھ وزارتِ خارجہ سے الگ ہو گئے، اور اس طرح میدان [امام] خمینی اور ان کے حامیوں کے لیے خالی ہو گیا۔ اس مرحلے پر [امام] خمینی نے عراق اور خلیج فارس کے خطے میں انقلاب برآمد کرنے کا فیصلہ کر کے انقلابِ اسلامی کے حقیقی اہداف کو بے نقاب کر دیا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد، نام نہاد جندالامام (امام کے سپاہی) اور حزب الدعوہ کے جنگجوؤں کی جانب سے تخریبی، سبوتاژ اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی صورت میں ہوا، جو حتیٰ کہ ہماری حکومت کو گرانے کی کوششوں تک جا پہنچیں۔ ہم نے اپنے پورے ملک میں، خصوصاً مرکزی اور جنوبی علاقوں میں، تخریبی اور دہشت گردانہ اقدامات میں واضح اضافہ دیکھا۔
ڈاکٹر حمادی کے بیانات کی روشنی میں، بغداد کی جانب سے جنگ شروع کرنے کی ابتدائی محرک، ایران کی طرف سے عراقی ناراض شیعوں کی حمایت کو ختم کرانا تھا۔ اگرچہ کوئی بھی شیعہ یا بنیاد پرستانہ تحریک فوری طور پر بعثی حکومت کے زوال کا سبب نہیں بن سکتی تھی، تاہم اس حوالے سے عراق کی تشویش طویل المدت اعتبار سے درست ثابت ہو سکتی تھی، خاص طور پر 1979ء کے موسمِ گرما میں مفاہمتی اقدامات کی ناکامی اور ایران میں حزبِ جمہوری اسلامی کے غلبے کے بعد، کیونکہ اس بات کی کوئی علامت موجود نہیں تھی کہ ایران کی جانب سے حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا خطرہ کم ہو رہا ہے۔
عدید دویشہ اس بارے میں لکھتے ہیں: اگرچہ یہ گروہ اس وقت صدام کے لیے فوری خطرہ نہیں ہیں، لیکن امام خمینی کے انقلاب کے بعد شیعوں کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ایک ایسا مسئلہ پیدا کرے گا جو طویل مدت میں سنگین خطرے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔[21]
عراق میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور سیاسی و سماجی تحرکات، جو شاہِ ایران کے خلاف ایرانی عوامی تحریکوں سے مشابہ تھے، عراقی قیادت کے نزدیک انقلابِ ایران سے پیدا ہونے والے خطرات کی مزید تصدیق کرتے تھے۔ آیت اللہ روحانی کے بحرین کے الحاق اور خلیج فارس کے تمام ممالک میں انقلاب برآمد کرنے سے متعلق بیانات نے عراق کے وزیرِ دفاع کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان ممالک کا دورہ کریں اور انہیں عراق کی حمایت کا یقین دلائیں۔
اکتوبر میں، سعودی عرب، کویت اور بحرین میں شیعہ مظاہروں کے بعد، صدام نے پہلی مرتبہ تہران کو ایک سنجیدہ انتباہ دیتے ہوئے کہا: عراق اپنی تمام تر صلاحیتیں ان لوگوں کے خلاف استعمال کرے گا جو کویت یا بحرین کی خودمختاری کی خلاف ورزی کریں گے یا ان ممالک کے عوام یا سرزمین کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ یہ معاملہ پورے خلیج فارس تک پھیلا ہوا ہے۔ [22]
عراقی قونصل خانوں اور سفارت خانوں پر حملوں کے بعد، صدام نے تہران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور اس اقدام کی وجہ انقلاب کی برآمد کو قرار دیا، اور بالآخر متعدد سرحدی جھڑپوں کے بعد خوزستان کو اپنی جارحیت کا ہدف بنا لیا۔
لہٰذا، عراق کے ایران پر فوجی حملے کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ پہلا مقصد شط العرب (اروند رود) پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور خلیج فارس اور عرب دنیا میں ایک برتر علاقائی قوت بننا تھا۔ دوسرا مقصد ایران کی جانب سے عراق اور خطے کے دیگر عرب ممالک میں شیعہ تحریکوں کو بھڑکانے کی کارروائیوں کو ختم کرنا تھا۔ یہ دونوں مقاصد ایک ہی سمت میں جاتے تھے، کیونکہ اگر ایران بعث حکومت اور عراق کے داخلی استحکام کے لیے خطرہ بنا رہتا تو بغداد اپنے علاقائی مقام اور اثر و رسوخ میں اضافہ نہیں کر سکتا تھا۔
اسی طرح، اگر عراق انقلابِ ایران کی برآمد کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا، اور شاید [امام] خمینی کی حکومت کو بھی گرا دیتا، تو بلا شبہ اسے عرب دنیا میں قائدانہ مقام اور ممکنہ طور پر خلیج فارس کی غالب قوت بننے کا موقع مل جاتا۔
اگرچہ دونوں اہداف ایک دوسرے کی تکمیل کرتے تھے، لیکن مجموعی تجزیہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ شیعہ بغاوت کو ختم کرنا اور بعث حکومت کو مستحکم کرنا، بغداد کی اولین ترجیح تھی۔ جیسا کہ عدید دویشہ کا کہنا ہے:
عراقی قیادت کی ایران کی جانب سے مسلسل طور پر عراقی شیعوں کو حکومتِ بعث کے خلاف اُکسانے کی کوششوں پر ناراضی ہی جنگ کی بنیادی وجہ تھی۔[23]
خلیج فارس کے خطے کی سیاسی، سفارتی اور فوجی صورتِ حال اس انداز کی تھی کہ اس نے صدام کو اپنے اہداف کے حصول کی راہ ہموار کر دی۔ خطے کے دیگر عرب ممالک بھی انقلابِ ایران سے خوف زدہ تھے، لیکن اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے پاس ضروری ذرائع موجود نہیں تھے۔ اس کے برعکس، عراق یہ صلاحیت رکھتا تھا اور اپنی سابقہ انتہاپسندی میں کمی لا کر سیاسی تنہائی سے باہر آ چکا تھا۔ عرب ممالک کو بھی اسلامی انقلاب کو قابو میں رکھنے اور خطے میں اعتدال پسندی کو فروغ دینے کے لیے عراق کی ضرورت تھی۔
دوسری جانب، عراق کو ایران کے خلاف اقدامات کرنے اور علاقائی قیادت کے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے عرب ممالک کی سفارتی اور معاشی حمایت درکار تھی۔ اسی بنا پر صدام نے ابتدا ہی سے عرب مؤقف کا دفاع کرنا شروع کیا اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر تہران کی انقلابی حکومت کی بنیاد پرستانہ دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج فارس کے حکمرانوں کو منظم کرنے اور ان کے لیے اجتماعی سلامتی کی بنیادیں فراہم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
جب 1979ء کے موسمِ گرما میں خلیج فارس کے عرب بادشاہتوں کے نظام باہمی سلامتی کے معاہدات کی تیاری میں مصروف تھے، تو عراق اور سعودی عرب کے درمیان تعاون نے عراق اور خلیج فارس کے دیگر ممالک کے درمیان سلامتی کے تعلقات کے قیام کی راہ ہموار کر دی۔ عراق اور سعودی عرب نے تیزی سے اپنے سرحدی تنازعے کو، جو ان کے قریبی تعلقات میں رکاوٹ بنا ہوا تھا، حل و فصل کر لیا۔ اس کے بعد عراقیوں نے خلیج فارس میں دہشت گردوں کے تعاقب سے متعلق ایک معاہدے کا مسودہ تیار کیا، اور اس ملک کے فوجی حکام نے 1979ء کے موسمِ گرما اور خزاں میں دو طرفہ تفصیلی سلامتی معاہدات کی تدوین کے لیے سعودی عرب کے دورے کیے۔[24]
1980ء کے موسمِ بہار میں، ایران کے ساتھ تعلقات کے مزید بگڑنے کے بعد، عراق نے دیگر عرب ممالک کے ساتھ اپنے سلامتی تعلقات کو مزید مضبوط کیا۔ مئی کے مہینے میں کویت کے شیخ صباح، اردن کے شاہ حسین بغداد آئے، اور ان کے بعد رأس الخیمہ کے امیر اور متحدہ عرب امارات کے خصوصی نمائندے عراق پہنچے۔ اس کے ساتھ ہی بغداد کے خصوصی ایلچیوں نے عرب خطے کے ممالک کے ساتھ عراق کے سلامتی معاہدوں کو حتمی شکل دی۔
اگست میں صدام نے، عراق کے صدر کی حیثیت سے، پہلی بار سعودی عرب کا دورہ کیا اور اس سفر کے سرکاری اعلامیے میں “عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال” پر زور دیا، جس میں واضح طور پر ایران کو ایک خطرہ قرار دیا گیا۔
اس کے بعد سیاسی سرگرمیاں مزید وسعت اختیار کر گئیں۔ اگرچہ بعض خلیجی عرب ممالک نے بظاہر خاموشی اختیار کیے رکھی، تاہم ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ممالک عراق کے فوجی منصوبوں سے پیشگی آگاہ تھے اور انہوں نے ان کی منظوری بھی دی تھی۔ اس ضمن میں کلاڈیا رائٹ لکھتی ہیں:
1980ء میں عراقی سفارت کاری نے ایک طرح کا عربی اتفاقِ رائے پیدا کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب، اردن اور خطے کے چھوٹے عرب ممالک نے ایران کے خلاف عراق کے فوجی اقدام کی حمایت کی۔ [25]
جنگ کے آغاز کے بعد، دیگر عرب ممالک نے بھی عراق کو سیاسی، معاشی اور رسدی معاونت فراہم کرنے کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کر دیا۔
ان ممالک کی جانب سے دی گئی یقین دہانیاں، یا کم از کم عرب سیاسی و معاشی اتحاد کی حمایت کے بارے میں صدام کی توقعات، عراق کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے میں نہایت اہم ثابت ہوئیں۔ اگر یہ حمایت موجود نہ ہوتی تو عراق کی فتح کا امکان اور ایران پر مؤثر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت بہت حد تک کمزور پڑ جاتی، اور عرب دنیا میں برتری حاصل کرنے کا صدام کا خواب محض ایک سیاسی وہم بن کر رہ جاتا۔ اسی وجہ سے صدام نے ایک مضبوط سیاسی اتحاد قائم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔
لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ عراق کی جانب سے تیسرے ممالک کی حمایت پر انحصار، یا کم از کم اس حمایت کے بارے میں اعتماد، ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کی ایک اہم وجہ تھا۔
کمزوری اور موقع
کمزوری اور موقع دو ایسے عوامل تھے جو باہم مل کر جنگ کے امکانات کو مزید بڑھا رہے تھے اور طاقت کے استعمال کی صورت میں عراق کی ممکنہ شکست کی لاگت کو کم دکھا رہے تھے۔ پہلا عامل ایران کی فوجی کمزوری کا تصور اور اس کمزوری کے نتیجے میں خلیج فارس کے خطے میں پیدا ہونے والا طاقت کا خلا تھا۔ ایران کی فوج، جو انقلابی حکومت کے تحت ایک سیاسی نوعیت اختیار کر چکی تھی، تطہیری کارروائیوں، ازسرِنو تنظیم، بعض اہلکاروں کے مستعفی ہونے اور امریکی اسلحہ جاتی امداد کے خاتمے کے باعث بڑی حد تک کمزور ہو چکی تھی۔
اس کے برعکس، 1979ء میں عراق کے فوجی اخراجات بڑھ کر 2 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، جو اس کے مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 13 فیصد بنتے تھے۔ عراقی حکمرانوں کو ایک طرف یہ یقین تھا کہ ان کے پاس خطے کی سب سے مضبوط فوجی طاقت موجود ہے، اور دوسری طرف وہ یہ سمجھتے تھے کہ خوزستان کی تیل آمدنی کے بغیر ایران کسی فوجی کارروائی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
ایران، جو انقلاب کی کامیابی کے بعد اپنی تیل کی آمدنی میں نمایاں کمی کا سامنا کر رہا تھا اور جسے اپنے 40 ارب ڈالر کے قومی بجٹ کا نصف سے زیادہ حصہ خسارے کے ذریعے پورا کرنا پڑ رہا تھا، ستمبر 1980ء میں صرف 12 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ کے ذخائر رکھتا تھا۔ اس کے مقابلے میں، عراق جنگ کے آغاز پر اپنے 35 ارب ڈالر کے مالی ذخائر پر فخر کر رہا تھا؛ ایسے ذخائر جو تیل کی آمدنی کے بغیر بھی کئی برس تک اس کے سماجی اور معاشی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے کافی سمجھے جاتے تھے۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے، صدام کو اپنے قدامت پسند ہمسایہ ممالک کی جانب سے مالی اور رسدی امداد پر بھی مکمل اعتماد تھا، جس کی مالیت 20 سے 30 ارب ڈالر کی بلاعوض امداد اور بغیر سود کے قرضوں پر مشتمل تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ، وہ اپنی فوجی اور مالی صلاحیتوں کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کافی سمجھتا تھا۔
عراق کا منصوبہ خوزستان کی تیل تنصیبات پر قبضہ کرنے، تہران کی حکومت کو اس کے حیاتی وسائل سے محروم کرنے اور اسے مذاکرات پر مجبور کرنے یا ممکن ہو تو اسے گرا دینے پر مبنی تھا۔ کلاڈیا رائٹ کے مطابق، بغداد کے مقاصد کچھ اس طرح تھے کہ عراق نے بیک وقت مذاکرات کی پیشکش کے ساتھ اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود رکھا اور کبھی بھی ایران پر مکمل حملے کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ خوزستان پر قبضے کا منصوبہ، جس سے عرب ممالک بھی متفق تھے، جنگ کے بڑھتے ہوئے مراحل کا آخری مرحلہ تصور کیا گیا تھا۔
عراق کے اعلیٰ فوجی افسران نے اپنی گفتوگوؤں میں کلاوزویتس کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ “یہ جنگ دراصل سرحدی مذاکرات کی پالیسی کا تسلسل ہے، جو فوجی قبضے کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔”
ایران کی فوجی کمزوری اور اس کے نتیجے میں خلیج فارس میں پیدا ہونے والے طاقت کے خلا نے عراق کو موقع دیا تھا کہ وہ سرحدی تنازعات کو حل کر کے اور شیعہ تحریکوں کو روک کر علاقے میں برتر مقام حاصل کرے۔ جنگ کا لالچ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا، کیونکہ صدام کو یقین نہیں تھا کہ یہ موقع ہمیشہ برقرار رہے گا۔
جب ایران میں اسلامی جمہوری پارٹی کے روحانی رہنما اقتدار میں آئے اور تہران میں اپنی طاقت کو مزید مستحکم کیا، صدام اور دیگر خلیجی عرب رہنما اس امکان سے مایوس ہو گئے کہ ایران میں اگر نسبتاً معتدل عناصر اقتدار میں آ بھی جائیں، تو شیعہ تحریکوں کی حوصلہ افزائی ختم نہیں ہوگی۔
جولائی 1980ء میں ایران میں ایک فوجی بغاوت ناکام ہونے کے بعد، وہاں کے انقلابی نظام کو لاحق چند ماہ کی بڑی داخلی مشکل ختم ہو گئی۔ اس صورتِ حال نے عراق اور دیگر خلیجی عرب رہنماؤں کو یہ باور کرایا کہ داخلی مخالفین، بغیر بیرونی مداخلت کے، [امام] خمینی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے قابل نہیں ہیں۔
دوسری طرف، ایران کے قومی و عسکری ڈھانچے کی کمزوری، جو اندرونی خلفشار کا نتیجہ تھی، آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی۔ اس لیے عراق کے نزدیک، ایران کے خلاف فوجی اقدام میں تاخیر صرف جنگ کی لاگت اور خطرات کو بڑھا سکتی تھی۔
لیکن صدام اور اس کی حکومت کی بدقسمتی یہ تھی کہ ان کے یہ بظاہر منطقی اندازے دراصل غلط ثابت ہوئے۔ یہ غلط فہمیاں بالآخر ایک تباہ کن جنگ کی صورت میں ظاہر ہوئیں، جس نے نہ صرف ایران و عراق کو بھاری نقصان پہنچایا بلکہ آنے والے برسوں میں پورے خطے کی عدمِ استحکام کو اور بھی گہرا کر دیا۔
غلط اندازے
عراق نے ایران کی فوجی طاقت، اس کے ممکنہ عسکری امکانات کے مقابلے میں اپنی صلاحیتوں، ابتدائی ناکامیوں کے باوجود حکومتِ امام خمینی کے جنگ جاری رکھنے کے عزم، اور جنگ کے ایرانی معاشرے اور سیاست پر اثرات کے بارے میں غلط اندازے قائم کیے تھے۔ یہ غلط اندازے صدام کے فیصلے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور اگر یہ تخمینے درست اور حقیقت پسندانہ ہوتے تو اس بات کا امکان بہت کم تھا کہ صدام جنگ کا آغاز کرتا۔
عراق اسی حد سے زیادہ فوجی اعتماد کا شکار تھا جس میں تاریخ کے بہت سے ممالک جنگ کے آغاز سے قبل مبتلا رہے ہیں۔ عراقی قیادت نے ایران کی فضائیہ کی قابلیت اور اس کی صلاحیت کو، کہ وہ عراق کے اہم اور اسٹریٹجک اہداف پر حملہ کر سکتی ہے، بہت محدود سمجھا تھا۔ اس کے علاوہ صدام نے ایران کی فوج، اس کے جنگی حوصلے، سازوسامان اور طویل مدتی جنگ کے لیے موجود ذخائر کو بھی سختی سے کم تر اندازہ کیا تھا۔
فوجی غلطیوں کے ساتھ ساتھ عراق کی سیاسی حکمت عملی کے اندازے بھی غلط ثابت ہوئے۔ عراقیوں نے پیش گوئی کی تھی کہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی ایران کا منتشر معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا، فوج کا حوصلہ پست ہو جائے گا، اور شاید امام خمینی کی حکومت بھی گر جائے گی۔ لیکن جنگ نے اس کے بالکل برعکس اثر ڈالا: اس نے ایرانی معاشرے کو متحد کر دیا اور اس انقلابی جذبے کو دوبارہ زندہ کیا جس نے امام خمینی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔
عراق کو بھی، تاریخ کے دیگر بیرونی حملہ آوروں کی طرح، ایک بیدار اور برانگیختہ فوج کا سامنا کرنا پڑا جو اپنی سرزمین اور انقلاب کے دفاع کے لیے جان تک قربان کرنے کو تیار تھی۔ مزید یہ کہ خوزستان کے عرب، جن سے عراقیوں کو امید تھی کہ وہ ان کا استقبال کریں گے اور ان کا ساتھ دیں گے، نہ صرف ان سے بے تعلق رہے بلکہ کسی قسم کی مدد یا تعاون پر آمادہ بھی نہ ہوئے۔
اسی طرح عراق جس سیاسی دباؤ کی امید رکھتا تھا کہ ایرانیوں کو جھکنے اور امتیاز دینے پر مجبور کرے گا، اس نے الٹا ایرانی قوم کے عزم اور ارادے کو مضبوط کر دیا۔ یہ عزم صرف حملہ آوروں کو پیچھے دھکیلنے تک محدود نہ رہا بلکہ عراق کی حکومت کو گرانے تک کے ارادے کو مزید تقویت دینے لگا۔
مجموعی طور پر یہ تمام غلط فوجی اور سیاسی اندازے عراق کو ایک ایسی جنگ میں دھکیلنے کا باعث بنے جس نے نہ اس کے ابتدائی مقاصد پورے ہونے دیے اور نہ ہی کسی طرح اسے فائدہ پہنچایا، بلکہ اس کے برعکس ایران کی داخلی یکجہتی کو مضبوط کیا اور بیسویں صدی کی طویل ترین اور تباہ کن جنگوں میں سے ایک کو جنم دیا۔
عراق کی اپنی فوجی صلاحیتوں کے بارے میں حد سے زیادہ بلند اندازہ بھی جنگ کے وقوع کا ایک اہم سبب تھا، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ عراقی افواج کے پاس عملی فوجی تجربہ نہایت محدود تھا اور انہیں کمزور تربیت دی گئی تھی۔ مزید برآں، ایک شیعہ ملک کی سرزمین پر اور ایک شیعہ انقلاب کے خلاف جنگ میں شیعہ سپاہیوں کی سنی کمانڈروں اور افسروں کی اطاعت بھی ایک مشتبہ اور غیر یقینی امر تھا۔
وہ حربی حکمتِ عملیاں جو عراق نے کردوں سے نمٹنے کے لیے اختیار کی تھیں، ایران جیسی ایک منظم قومی فوج کے مقابلے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی تھیں، لیکن عراق کی انتہائی سیاست زدہ اور سخت مرکزیت کی حامل حکومت اور فوج نے ان خامیوں اور محدودیتوں کو نظرانداز کر دیا۔
اس حوالے سے انتھونی کورڈزمین لکھتے ہیں: “عراق ایک ایسے حریف کے ساتھ جنگ میں داخل ہوا جسے وہ اس کی شدید سیاسی کمزوری کے باعث مفلوج اور زمین گیر سمجھتا تھا۔”
متعلقه تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ Statement by Deputy Prime Minister Tareq Aziz, Christian Science Monitor (September 26, 1980).
- ↑ Statement by Deputy Prime Minister Tareq Aziz, Christian Science Monitor (September 26, 1980).
- ↑ There are other theoretical causes of war, of course, but only those important in the Iran-Iraq War are treated here.
- ↑ For leading exponents of the realist perspective see Thucydides, The Peloponnesian War (New York: Penguin, 1954); Hans 1. Morgenthau, Politics among Nations, 4th ed. (New York: Knopf, 1967); Arnold Wolfers, Discord and Collaboration (Baltimore: Johns Hopkins University Press, 1962); Raymond Aron, Peace and War, trans. Richard Howard and Annette Baker Fox (Garden City, N.Y. : Doubleday, 1966); Edward Vose Gulick, Europe’s Classical Balance 0/ Power(New York: Norton, 1955); Inis L. Claude, Jr. , Power and International Politics (New York: Wiley, 1957).
- ↑ The concept of prestige has received inadequate attention in the theoretical literature. Some discussion can be found in Morgenthau, ch. 6; Robert Gilpin, War and Change in World Politics (New York: Cambridge University Press, 1981), pp. 30-34; Klaus Knorr, Military Power and Potential (Lexington, Mass. : D.C. Heath, 1970). On the importance of credibility and resolve see Thomas C. Schelling, Arms and In}1uence(New Haven: Yale University Press, 1966).
- ↑ Gilpin, p. 31.
- ↑ Johan Galtung, “A Structural Theory of Aggression,” Journal 0/ Peace Research (I 964);95-119; Geoffrey Blainey, The Causes 0/ War (New York: Free Press, 1973), ch. 8; Michael Wallace, War and Rank amcng ‘valiolls(Lexington, Mass. : D.C. Heath, (973). This theory is applied to domestic conflict by Ted Robert Gurr, Why Men Rebel (Princeton: Princeton University Pres;. 1970).
- ↑ The importance of humiliation is not generally recognized in the theoretical literature, though the role of face-saving devices in conflict resolution is emphasized in Glenn H. Snyder and Paul Diesing, Conflict among Sa tio I! I (Princeton: Princeton University Press, 1977).
- ↑ This well-known “scapegoat theory” is treated extensively by Blarney, ch. 5 In the Iran-Iraq case it applies more 10 the conduct of [he war by both silks than to its causes.
- ↑ Destabilization and other forms of intervention in the domestic affairs of others is widely recognized in the theoretical literature as a means of maintaining the balance of power or of enhancing one’s own power (Gulick. ch, 3). The destabilizing elTect of revolutionary states on the balance of power IS ernphasized by Stanley Hoffmann, The Stale 0/ War (New York: Praeger, 1965), ch. 4; Henry A. Kissinger, A World Restored (New York: Grosset & Dunlap, 1964); Morgenthau, ch. 14.
- ↑ The tendency for revolutionary or dynastic change and its associated political uncertainty or instability to increase the likelihood of aggression from abroad is treated by Blainey, ch. 5.
- ↑ Blainey, ch. 4; Bruce Bueno de Mesquita, The War Trap (New Haven; Yale University Press, 1981); Richard Smoke, War: Controlling Escalation (Cam-bridge, Mass. : Harvard University Press, 1977).
- ↑ Theoretical and empirical analyses of misperceptions in crisis decision making include Robert Jervis, Perception and Misperception in International Politics (Princeton: Princeton University Press, 1976); Oli R Holsti, Crisis, Escalation, War (Montreal: McGill-Queen’s University Press, 1972); Michael Brecher, Dec/suns in Crisis (Berkeley: University of California Press, 1980). Specific analysis of misperception and the causes of war include Richard Ned Lebow, Between Peace and War (Baltimore: Johns Hopkins University Press, 1981); Ralph K. White, Nobody Wanted War (New York: Anchor, 1968); John G. Stoessinger, Why Nations Go to War, 2nd ed. (New York: St. Martin’s Press); Arthur A. Stein, “When Misperception Matters,” World Politics 34 (July 1982): 505-26; Jack S. Levy, “Misperception and the Causes of War,” World Politics 35 (October 1983). Historians emphasizing the importance of misperceptions in the outbreak of major wars include Donald Kagan, The Outbreak of the Peloponnesian War (Ithaca, N.Y. : Cornell University Press, 1969) and Barbara Tuchman, The Guns of August (New York: Dell, 1962).
- ↑ Richard W. Cottam argues that this was the primary cause of the war. See “Revolutionary Iran and the War with Iraq,” Current History 80 (January 1981)41.
- ↑ Claudia Wright, “Iraq: New Power in the Middle East,” Foreign Affairs 58 (Winter 1979-80):257-77; William B. Quandt, Setting National Priorities: Agenda for the I 980s (Washington, D.C. : Brookings, 1980), p. 319.
- ↑ This point is also made by Stephen R. Grummon, The Iran-Iraq War. The Washington Papers 92 (New York: Praeger, 1982), p. 10.
- ↑ For a recent assessment of the Shi’ite populations’ potentially destabilizing effects see Middle East Economic Digest (June II, 1982):30-32.
- ↑ For an analysis of Iraqi Shi’ite organizations see Hanna Batatu, “Iraq’s Under-ground Shia Movements: Characteristics, Causes, and Prospects,” Middle East Journal 35 (Autumn 1981):578-94.
- ↑ Ibid. , pp. 70, 145.
- ↑ Interview with David Brinkley on “This Week” (ABC), February 28, 1982.
- ↑ Adeed 1. Dawisha, “Iraq: The West’s Opportunity,” Foreign Policy 41 (Winter 1980-81): 142. Further evidence that Saddam Hussein feared continuing efforts by the Khomeini regime to topple his own was suggested by Raymond Habiby at the conference on The Three Wars of 1982: Lessons to be Learned (Southern Methodist University, Dallas, Texas, April 15-16, 1983).
- ↑ Quoted in Claudia Wright, “Implications of the Iraq-Iran War,” Foreign Affair: 59 (Winter 1980-81):278.
- ↑ Dawisha, p. 146.
- ↑ Wright, “Iraq-New Power,” p. 259.
- ↑ Claudia Wright, “Implications of the Iraq-Iran War,” p. 285. An explicit admission by a senior Jordanian official of prior notification by Iraq is given in the Christian Science Monitor (October 17, 1980). Further evidence of cooperation and encouragement by certain Arab states has been suggested by James A. Bill (private conversations). More complete evidence regarding the precise degree of collaboration among Arab states in the decision for war is not yet available. Nevertheless, the parallel with the rise of the First Coalition in a counterrevolutionary war against France in 1792 i, quite striking. For further parallels between the Iranian and French revolutions see James A. Bill, “The Unfinished Revolution in Iran,” International Insight 2 (NovemberDecember 1981)6-9.
