مندرجات کا رخ کریں

حسن حسن‌زاده آملی

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 12:31، 25 جنوری 2026ء از Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (« حسن حسن‌زاده آملی (۱۳۰۷۔۱۴۰۰ شمسی) ایک ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف اور معاصر حکیم تھے، اور علامہ شعرانی اور علامہ طباطبائیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کو ادب، علومِ غریبه، ریاضیات، ہیئت (فلکیات) اور طب میں گہری مہارت اور دسترس حاصل تھی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

حسن حسن‌زاده آملی (۱۳۰۷۔۱۴۰۰ شمسی) ایک ممتاز شیعہ عالم، فقیہ، عارف اور معاصر حکیم تھے، اور علامہ شعرانی اور علامہ طباطبائیؒ کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کو ادب، علومِ غریبه، ریاضیات، ہیئت (فلکیات) اور طب میں گہری مہارت اور دسترس حاصل تھی، اسی وجہ سے آپ کو **«علامہ ذوالفنون»** کا لقب دیا گیا۔ آپ نے کئی برس تک حوزۂ علمیہ قم میں فلسفہ و عرفان کی کتب، نیز ریاضیات اور علمِ ہیئت کی تدریس کی، اور ان علوم میں گراں قدر اور بیش بها تصنیفات اپنی یادگار کے طور پر چھوڑیں۔


پیدائش

آپ ۲۱ بہمن ۱۳۰۷ شمسی (10 فروری 1929ء) کو لاریجان، آمل میں پیدا ہوئے۔ جب آپ کی عمر صرف چھ برس تھی تو مکتب میں پورا قرآن مجید اچھی طرح حفظ کر لیا۔


تعلیم و اساتذہ

علامہ حسن زادہ نے ۱۳۲۳ شمسی (مطابق ۱۹۴۴ء) میں دینی علوم کی ابتدائی کتب کی تعلیم مدرسۂ روحانی (حوزہ علمیہ) میں حاصل کی۔ اس دور میں طالب علموں میں نصاب الصبیان، آیت اللہ سید ابوالحسن اصفہانی کی رسالۂ عملیہ فارسی (کیونکہ اس زمانے میں آپ مرجع علی الاطلاق تھے)، کلیاتِ سعدی، گلستانِ سعدی، جامع المقدمات، شرح الفیہ سیوطی، حاشیہ ملا عبداللہ بر تہذیب منطق، شرح جامی بر کافیۂ نحو، شمسیہ (منطق میں)، شرح نظام (صرف میں)، مطول (معانی، بیان و بدیع میں)، معالم (اصول میں)، تبصرہ (فقہ میں)، اور قوانین (اصول میں) تا مبحث عام و خاص پڑھنا رائج تھا۔

علامہ حسن زادہ آمل میں ان کتب کی تحصیل وہاں کے علما و فضلا کی خدمت میں رہ کر کی، جن میں محمد آقا غروی، آقا عزیزاللہ طبری، آقا شیخ احمد اعتمادی، آقا عبداللہ اشراقی، آقا ابوالقاسم رجائی وغیرہ شامل ہیں۔ آپ کو خوشخطی کی تعلیم آیت اللہ عزیزاللہ طبری سے ملی، یہاں تک کہ آپ نے آمل میں کچھ ابتدائی کتب خود بھی تدریس کیں۔


تہران کی طرف ہجرت

آپ نے شہريور ۱۳۲۹ شمسی (ستمبر ۱۹۵۰ء) میں تہران کا قصد فرمایا اور چند سال تک مدرسہ حاج ابوالفتح میں قیام کیا۔ وہاں آپ نے شرحِ لمعه اور قوانین کی باقی جلدوں کا درس مرحوم آیت اللہ سید احمد لواسانی کے محضرِ شریف میں مکمل کیا۔

اس کے بعد آپ کئی برس تک مدرسہ مروی میں مقیم رہے، اور آیت اللہ شیخ محمدتقی آملی (قدس سرہ) کی رہنمائی سے علامہ میرزا ابوالحسن شعرانی (اعلی اللہ مقامہ) کی خدمت میں پہنچے۔ وہ بزرگ استاد آپ کے ساتھ نہایت شفقت و محبت سے پیش آتے تھے اور تیرہ (۱۳) برس تک ایک مہربان باپ کی طرح آپ کی تعلیم و تربیت میں مصروف رہے، اور مختلف علوم و فنون کے کئی دروازے آپ پر کھول دیے۔


علامہ شعرانیؒ سے علوم کا حصول

نقلی علوم (ظاہری علوم) نقلی علوم میں: آپ نے شیخ انصاریؒ کی مکمل مکاسب اور رسائل، آخوند خراسانیؒ کی کفایہ کی دونوں جلدیں، اس کے بعد جواہر کی کتابِ طہارت اور نماز، خمس، زکات، حج اور ارث کی کتابیں علامہ شعرانی کے زیرِ سایہ درسِ خارج اور تحقیقی انداز میں اس طرح پڑھیں کہ خود آپ کو اطمینان حاصل ہوا اور یقین ہو گیا کہ وہ اصولِ سے فروعی مسائل استنباط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور قوۂ اجتہاد کو پا گئے ہیں۔

عقلی علوم (باطنی و فلسفی علوم) معقول علوم میں: آپ نے علامہ خواجہ نصیرالدین طوسیؒ کی شرح بر اشارات ابن سیناؒ، ملاصدرا کی اسفار کا بیشتر حصہ، اور شیخ الرئیس ابن سیناؒ کی شفا کے کتاب نفس، حیوان، نبات اور طب کی تشریح (جو کتاب نفس سے شفا کی طبیعیات کے آخر تک ہے) علامہ شعرانیؒ سے حاصل کیے۔



تفسیر

تفسیر کے میدان میں: آپ نے تفسیر مجمع البیان از تالیف طبرسی کا پورا دورہ ابتدا سے انتہا تک مکمل طور پر پڑھا۔

قرائت و تجوید کی کتب

قرائت اور تجوید کی کتب میں: شرح شاطبیہ جس کا نام «سراج المبتدی و تذکار المقری المنتهی» ہے، جو علامہ شیخ علی بن قاصح عذری کی جانب سے علمِ قراءات میں قصیدۂ لامیہ کی شرح ہے۔ یہ قصیدہ علامہ شیخ قاسم بن فِیرہ رعینی شاطبی کی منظوم تصنیف ہے۔

یہ قصیدہ ۱۳۷۵ اشعار پر مشتمل ہے، اور اس کے تمام اشعار کی قافیہ صرف حرف «لام» پر ختم ہوتی ہے۔ شرح شاطبیہ (علمِ قراءات اور قرّاء کی معرفت میں) اُن درسی کتب میں شامل تھی جو علمی مراکز میں پڑھائی جاتی تھیں، اور خود علامہ شعرانیؒ نے بھی اسے اپنے والدِ محترم کے سامنے پڑھا تھا۔


ریاضیات اور علمِ نجوم

ریاضیات اور علمِ نجوم کی کتب میں: ملا علی قوشچی کی فارسی رسالہ بر علمِ ہیئت، قاضی‌زادہ رومی کی الملخّص الہیئہ پر شرح (جو محمد بن محمود خوارزمی چغمینی کی تصنیف ہے اور شرح چغمینی کے نام سے معروف ہے)، شیخ بہائی کی تشریح الافلاک پر علامہ شعرانی کی تحریر کردہ استدراک، اور کتاب الاصول (جو اصولِ اقلیدس کے نام سے مشہور ہے) خواجہ نصیرالدین طوسی کی تحریر میں، جو حساب اور ہندسہ پر مشتمل پندرہ مقالات پر مبنی ہے اور جس کے تمام مسائل ریاضیاتی براهین سے ثابت کیے گئے ہیں۔

اسی طرح علامہ خَفری کی تذکرہ فی الہیئہ (محقق طوسی کی تصنیف) پر شرح، جو علمِ ہیئت کے مسائل پر ایک استدلالی شرح ہے، کا بھی مطالعہ کیا۔

شرحِ خفری بر تذکرہ کی تعلیم کے بعد، آپ نے زیجِ بہادری کا درس لیا، جو زیجات میں سب سے زیادہ مکمل، دقیق اور جدید شمار کی جاتی ہے۔

اس کے بعد کتابِ کبیر مجسطی (بطلیموس قلوذی کی تصنیف) جو خواجہ نصیرالدین طوسی کی تحریر میں علمِ ہیئت کی سب سے معتمد اور شریف ترین کتاب سمجھی جاتی ہے، کا درس حاصل کیا۔ یہ کتاب ہیئتِ استدلالی میں اعلیٰ ترین مقصد اور غایتِ غایات کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی طرح شرحِ خفری، اُکَرِ ثاؤدوسیوس، اُکَرِ مالاناوؤس، اور کتاب الکرۃ المتحرکۃ (اوطوقوس کی تصنیف، بتحریرِ خواجہ طوسی)، نیز قسطا بن لوقا کی رسالہ *عمل بالکرۃ ذات الکرسی* اور ان جیسی دیگر کتب متوسطات، اصولِ اقلیدس، اور ان سے نچلے درجے کی حساب، ہندسہ اور ہیئت کی کتب—یہ سب علمِ ہیئت میں رائج مدارج و مراتب کے مطابق ابتدائی نصاب میں شامل ہیں۔

نجومی تقویم کی تیاری

نجومی تقویم کے استخراج کی تعلیم میں چار برس علامہ شعرانیؒ کے محضر میں صرف ہوئے۔ علامہ حسن زادہ اس علم کی باریکیوں میں اس قدر مہارت حاصل کر گئے کہ استخراجِ تقویم میں کامل دسترس پیدا کر لی اور اس پر ایک مکمل شرح بھی تحریر کی، جو تاحال شائع نہیں ہوئی۔ اسی زیج کی بنیاد پر نو برس تک تقاویم استخراج کی گئیں جو طبع ہو کر شائع ہوئیں۔

رصدی آلات میں مہارت

رصدی آلات کے استعمال میں، خصوصاً اسطرلاب اور ربعِ مجیب پر کامل مہارت حاصل کی، نیز اُن تمام آلات کا عملی علم حاصل کیا جن کا ذکر مذکورہ کتب میں آیا ہے۔